میکسم گورکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
میکسم گورکی

Maxim Gorky

ماکسم گورکی.jpg
پیدائش الیکسی میکسیمووچ پیشکوف28 مارچ 1868 (1868-03-28)نیزنی نوف گورود، روسی سلطنت
وفات 18 جون 1938 (1938-06-18)ماسکو اوبلاست، سویت یونین
قلمی نام میکسم گورکی
پیشہ ناول نگار، افسانہ نگار، مترجم، ڈراما نویس
زبان روسی
قومیت Flag of Russia.svg روس
صنف ناول ، افسانہ، ترجمہ، ڈراما
نمایاں کام ماں
انسان کی پیدائش
اطالوی کہانیاں
تین راہی

دستخط

میکسم گورکی روسی: Макси́м Го́рькій, نقل حرفی Maxim Gorky (پیدائش: 28 مارچ 1868ء - وفات: 28 جون 1936ء) روس کے مشہور انقلابی شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں سے دنیا کے بہت بڑے حصے کو متاثر کیا، انقلاب میں ایک نئی روح پھونک دی اور دنیا کے مظلوم طبقے و پسے ہوئے لوگوں میں امید کی ایک نئی لہر پیدا کردی جس کی بازگشت آج تک جاری ہے۔

حالاتِ زندگی و تخلیقی دور[ترمیم]

میکسم گورکی نیزنی نوف گورود، روسی سلطنت میں 28 مارچ 1868ء کو پیدا ہوئے[1]۔میکسم گورکی کا اصل نام الیکسی میکسیمووچ پیشکوف تھا۔ گورکی کا باپ معمولی حیثیت سے رفتہ رفتہ جہازران کمپنیوں‌ کا ایجنٹ ہوگیا تھا۔ گورکی چار پانچ سال کا تھا جب اس کے باپ کا انتقال ہوگیا اور اس کی ماں اسے لے کر باپ کے یہاں چلی گئی، جو نیزنی نوف گورود میں رنگریزی کا کام کرتا تھا۔ اس وقت سے جو انی تک کی سرگذشت گورکی نے دو ناولوں میں بیان کی ہے، "بچپن" اور "منزل کی تلاش" اور ایسے ناولوں کے لئے اس کی سرگذشت سے بہتر موضوع ملنا بہت مشکل ہے۔ گورکی کے نانا کی حالت اس وقت اچھی نہ تھی، افلاس کے ساتھ اس کی بد مزاجی اور طبیعت کے اور بہت سے عیب اُبھر آئے تھے اور جن لوگوں پر اس کا بس چلتا ان پر وہ اپنا غصہ اتارتا تھا۔ لیکن گورکی کے لئے اس کا نواسا ہونا سراسر بدقسمتی نہ تھی، کہ اگر اسے ایک طرف نانا کی کمینی باتیں سننا اور سختیاں برداشت کرنا پڑتا تھا تو دوسری طرف نانا کی محبت میں اس کے لئے ایک ایسا ٹھکانا تھا جہاں پہنچے ہی دل کا دکھ اور ظلم کا خوف اسی طرح دور ہو جاتا جیسے ڈراؤنے خوابوں کی وحشت آنکھ کُھل جانے سے۔ باپ کے یہاں تھوڑے دنوں رہنے کے بعد گورکی کی ماں نے دوسری شادی کرلی اور پھر جلد ہی دق کا شاکار ہوئی۔ نانا نے موقع غنیمت جانا اور گورکی کو گھر سے نکال دیا۔ پہلے گورکی کو جوتے والی دکان پر نوکری ملی، جہاں طرح طرح کے گاہک آیا کرتے تھے۔ یہاں اس نے پہلے پہل دنیا کا حال دنیا والوں کی زبانی سنا، عیاشی اور بدکاری کی داستانیں سنیں اور جیسے کتے گلی کوچوں میں غلیط چاٹتے پرتے ہیں ویسے آدمیوں کو دوسروں کی گنہگاری کا ٍفضلہ مزے لے لے کر کھاتے دیکھا۔ دکان چھوڑنے کے بعد کئی مہینے تک ایک جہاز کے باورچی خانے میں برتن دھو کر پیٹ پالتا رہا۔ باورچی پہلا شخص تھا جس نے نوجون گورکی کی تعلیم پر توجہ کی اور یہ اسی کا احسان تھا کہ گورکی نے ذرا پڑھنا لکھنا سیکھ لیا۔ مگر برتن دھونے کا کام ایسا تھا کہ گورکی سے ہوتا نہ تھا، وہ اس کام سے پیچھا چھڑا کر کسی شہر میں ایک آوارہ عورت کے پاس نوکر ہوگیا جہاں شعر و شاعری اور موسیقی کا خاصا چرچا رہتا تھا اور اسے ادب سے ایک لگاؤ ہوگیا جس نے تعلیم کے شوق کو بہت بڑھادیا[2]۔

پندرہ برس کی عمر میں گورکی نے شہر کازان کے ایک اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ناکام رہا اور تعلیم سے مایوس ہوکر اس نے ایک نان بائی کے یہاں ملازمت کرلی۔ جن لوگوں میں وہ یہاں رہتا تھا انھیں تو بھوک اور محنت کی زیادتی نے بے جان کردیا تھا، لیکن گورکی کو چند ایسے طالب علموں سے ملنے کا اتفاق ہوا جنھوں نے اس کے ذہن میں انقلاب پسندی کے بیج بو دیے۔ گورکی نے نان بائی کی دکان کو خیرباد کہی اور جنوب اور جنوب مشرقی روس میں دو تین سال تک پھرتا رہا۔ 1890ء میں وہ نووگورود کے ایک وکیل کا محرر ہوگیا اور وکیل کی ہمدردی اور ہمت افزائی کی بدولت اس کی علمی اور ادبی قابلیت اتنی ہو گئی کہ وہ افسانے لکھنے لگا۔ 1892ء میں اس کا پہلا افسانہ شائع ہوا اور اگرچہ اس وقت وہ پھر آوارہ گردی کرنے لگا تھا، اس نے افسانہ نویسی بھی جاری رکھی۔ تین سال کے اندر اسے اس ذریعے سے خاصی آمدنی ہونے لگی۔ 1898ء میں اس کے افسانوں کا مجموعہ دو جلدوں مین شائع ہوا اور تھوڑے دنوں کے اندر وہ روس ہی میں نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ غیر ممالک میں مشہور اور ہر دل عزیز ہوگیا[3]۔

ادبی حیثیت بڑھی تو گورکی پیٹرز برگ میں آکر رہنے لگا۔ یہاں اس کے انقلاب پسندوں سے تعلقات ہوگئے۔ وہ خود کارل مارکس اور اشتراکیت کی تعلیم کا معتقد ہوگیا اور اس کی آمدنی کا بشتر حصہ سیاسی کاموں اور انقلاب انگیز خیالات کی اشاعت میں صرف ہونے لگا۔ 1900ء میں شہر بدر کرکے نووگورود بھیج دیا گیا، مگر اس سزا کا اس کے طرزِعمل پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ 1902ء میں شاہی اکادمی کا رکن منتخب ہوا اور سرکار کے حکم سے انتخاب منسوخ کردیا گیا تو چیخوف کو جو خود کچھ عرصہ پہلےمنتخب ہوا تھا، اتنا غصہ آیا کی اس نے رکنیت سے استعفا دے دیا۔

تین سال بعد، جب پہلے انقلاب کی تحریک اُٹھ رہی تھی تو گورکی قید کردیا گیا، لیکن اس پر یورپ بھر میں ایسی نارضگی کا اظہار کیا گیا کہ حکومت کو مجبوراً اسے چھوڑنا پڑا اور اس نے انقلابی کاروائیوں میں پوری شرکت کی۔ انقلاب کا خاتمہ کردیا گیا تو گورکی فنستان ہوتے ہوئے امریکہ چلا گیا۔ امریکہ میں ہر جگہ اس کا بڑی دوم دھام سے استقبال کیا گیا۔ امریکہ میں بھی کچھ عرصے تک اس کی بڑی قدر رہی، لیکن جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ وہ بیوی جو گورکی کے ساتھ آئی ہے بیوی نہیں خالی "دوست" ہے تو سب اس سے خفا ہوگئے۔ گورکی کو اپنی طرف یہ "قدامت پرستی" اتنی بُری لگی کی اس نے امریکہ والوں کے خلاف ایک کتاب لکھ ماری۔ امریکہ سے گورکی روس واپس نہیں گیا بلکہ چند سال اطالیہ کے جزیرہ کیپری میں صحت کے خیال سے رہا۔ ادبی دنیا میں وہ کافی سراہا جا چکا تھا اور لوگ اس کے خاص طرز کے عادی ہوچکے تھے اور اس کی اب وہ دھوم نہیں رہی تھی۔ اس دور کی ممتاز تصنیفیں "بچپن" اور "زندگی کی شاہراہ پر" اس کا چرچا بڑھا نہ سکیں، اگرچہ وہ پہلے کے ناولوں سے بہت بہتر ہیں۔

1914ء مین یورپ کی جنگ عظیم شروع ہوئی۔ اس وقت گورکی کو رویہ وہی تھا جو اکثر تعلیم یافتہ روسیوں کا، یعنی وہ کشت و خون پر افسوس کرتا تھا، دونوں فریق میں سے کسی کے ساتھ اسے اخلاقی ہمدردی نہ تھی اور لڑائی کے انجام سے کوئی سروکار نہ تھا۔ البتہ جب 1917ء میں انقلاب کے آثار نظر آئے تو گورکی جاگ اُٹھا اور انقلاب کو کامیاب بنانے کی کوشش میں لگ گیا۔ لیکن انقلاب کے فلسفے کا وہ اتنا شیدائی نہ تھا اور انقلابیوں کی سیاست سے اس کو ایسا اتفاق نہ تھا کہ وہ اس تحریک میں اپنی شخصیت کو محو کردے اور اس کی حیثیت ایک اعلیٰ مرتبہ سرپرست اور نکتہ بین ہمدرد کی سی رہی۔ انقلاب کے رہبروں کو یہ بات پسند نہ تھی اور وہ اس پر اکثر اُلجھتے تھے لیکن اس نے روسی ادب اور تہذیب کی آبرو رکھ لی اور ترجمے کے ان اداروں نے جو گورکی نے اپنا اثر ڈال کر قائم کرائے، بہت سے انشا پردازوں کو فاقے سے بچا لیا۔ تصنیف کے لئے تو ظاہر ہے یہ زمانہ موزوں نہ تھا، گورکی نے صرف تین کتابیں اور لکھیں جن میں سے ایک میں تالستائی،کورولینکو، چیخوف اورآندریئف وغیرہ سے اس کی جو ملاقاتیں ہوئیں ان کے کچھ حالات ہیں، دوسری کتاب "زندگی کی شاہراہ پر" اور تیسری "روزنامچہ" ہے۔ ان میں جگہ جگہ پر افسانے اور ناول کا رنگ دکھائی دیتا ہے، لیکن وہ متفرق مضامین، جن میں کمال دکھایا گیا ہے تو بڑھاپے کے آثار بھی بہت صاف نظر آتے ہیں۔

گورکی کے ابتدائی افسانے روس کے جاہل اور غریب طبقے کا حال اسی طرح بتاتے ہیں جیسےدریا کی تہ سے مٹی اور گھونگھے جو جال کے ساتھ نکل آتے ہیں۔ چلکاش (1895ء)، "ہم سفر" (1896ء) اور "مالوا" (1897ء) گورکی کے پہلے افسانوں کے مجموعے ہیں اور یہ زیادہ تر اس آوارہ گردی کی یادگار ہیں جو گورکی نے اوڈیسہ اور جنوبی روس میں کی تھی۔ گورکی کا ناول "ماں" (1907ء) ایک زمانے میں انقلابی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔ لیکن جب انقلاب واقعی عمل میں آیا تو اندھا بھی دیکھ سکتا تھا کی گورکی کے تخیل کو اس راستے کی منزلوں کا اور نشیب و فراز کا کچھ اندازا ہی نہ تھا اور اب یہ ناول استاد کی غلطیوں میں شمار ہوتا ہے۔

سوویت ادیبوں کی انجمن[ترمیم]

1934ء میں میکسم گورکی "سوویت ادیبوں کی انجمن" کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے اور اپنی وفات (1936ء) تک اس عہدہ پر فائز رہے۔

تخلیقات[ترمیم]

  • ماں
  • انسان کی پیدائش
  • اطالوی کہانیاں
  • تین راہی
  • بچپن
  • زندگی کی شاہراہ پر
  • میری تعلیم گاہیں

وفات[ترمیم]

دنیائے ادب کے عظیم ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی میکسم گورکی ماسکو اوبلاست، سویت یونین میں 68 سال کی عمر میں 28 جون 1936ء میں کروڑوں انسانوں کو سوگوار چھوڑ کر دارِفانی سے کوچ کرگئے [4]۔

مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.britannica.com/biography/Maksim-Gorky
  2. روسی ادب (جلد دوم)، محمد مجیب، انجمن ترقیٔ اُردو پاکستان، ص345-346
  3. روسی ادب (جلد دوم)، محمد مجیب، انجمن ترقیٔ اُردو پاکستان، ص347
  4. http://www.biography.com/people/maxim-gorky-9316265#synopsis