رسول حمزہ توف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
رسول حمزہ توف

Rasul Gamzatovich Gamzatov

رسول حمزہ توف.jpg
پیدائش رسول حمزہ تووچ حمزہ توف
8 اگست 1923(1923-08-08)
سدا، داغستان، سوویت یونین
وفات 3 نومبر 2003(2003-11-03)ماسکو، روس
قلمی نام رسول حمزہ توف
پیشہ مصنف
زبان آوار، روسی
قومیت Flag of Russia.svg روس
نسل آوار
صنف شاعری، خودنوشت
نمایاں کام میرا داغستان
میری پیدائش کا سال
اہم اعزازات ہیرو آف سوشلسٹ لیبر
اسٹالن انعام
لینن انعام
آرڈر آف سینٹ اینڈریو

رسول حمزہ تووچ حمزہ توف روسی: Расу́л Гамза́тович Гамза́тов, نقل حرفی Rasul Gamzatovich Gamzatov (پیدائش:28 ستمبر 1923ء - وفات: 3 نومبر 2003ء ) روسی جمہوریہ داغستان کے عوامی شاعراور نثرنگار ہیں۔

پیدائش[ترمیم]

رسول حمزہ توف سوویت یونین کی جمہوریہ داغستان کے آوار گاؤں سدا میں مشہور شاعر حمزہ سداسا کے گھر 28 ستمبر 1923ء پیدا ہوئے[1]۔

تخلیقی دور[ترمیم]

رسول حمزہ توف نے اپنے پہلے اشعار گیارہ سال کی عمر میں لکھے۔ ایک حیرت انگیز واقعے نے ان کی دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ 1934ء میں داغستان کے اس بلند پہاڑ ی گاؤں سدا میں جہاں وہ پیدا ہوئے تھے، تاریخ میں پہلی بار ایک ہوائی جہاز اترا تھا۔ اور مشہور شاعر حمزہ سداسا کے بیٹے نے اس عجوبے کو دیکھ کر شاعری کے میدان میں پہلا قدم اتھایا[2] 241۔

ہائی اسکول کی تعلیم، استادوں کی تربیت کا کالج، آوار زبان کا سفری تھیٹر، ریڈیو نامہ نگار۔ یہ تھے مرحلے ان کی جوانی کے سوانح کے۔ صحت کی حالت ایسی تھی کہ انھوں نے فوجی خدمات انجام نہیں دیں لیکن جب داغستان کی سرحد ہی پر جنگ ہورہی تھی تو شاعر کے شاعر بیٹے نے دشمن پر اپنی نظموں اور گیتوں کے وار کیے، سوویت فوج کی فتوحات سے خود وجدان حاصل کیا اور اپنے ہم وطنوں کو کانامے انجام دینے کا ہمت و حوصلہ عطا کیا[3]۔ جنگ کے بعد انھوں نے ماسکو میں ادبیات کے انسٹی ٹیوٹ موسوم بہ گورکی سے 1950ء میں اپنی تعلیم مکمل کی[4]۔ یہیں بہت سے ادیبوں سے ان کی دوستی ہوئی، یہیں ان کی نظموں کے مجموعے یکے بعد دیگرے شائع ہوئےجنہیں سوویت یونین میں اور دنیا کے دوسرے ملکوں کے قارئین میں شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی۔

ان کی شاعری وطن دوستانہ اور صدیوں پرانی عوامی دانش سے مملو ہے۔ کردار کی جرات، لوگوں کے باہمی رشتوں میں دلی تعلق، بلند ترین انقلابی آدرشوں کی خاطر کارنامے انجام دینے پر آمادگی نے رسول حمزہ توف کی شاعری کو لوگوں کے لئے ضروری بنا دیا ہے[5]۔ رسول حمزہ توف داغستانی ادیبوں کی انجمن کےچیئرمیں رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ رسول حمزہ توف نے الیکزاندر پشکن، لیرمونتوف اور مایاکوفسکی کی تخلیقات آوار زبان میں ترجمہ کیں۔

تخلیقات[ترمیم]

مجموعہ نثر[ترمیم]

  • میرا داغستان (1968ء)

مجموعہ نظم[ترمیم]

  • میری پیدائش کا سال

نظمیں[ترمیم]

  • ماں اور بیٹا
  • نوکِ شمشیر
  • سالگرہ
  • نسخہ الفت

اعزازات[ترمیم]

  • 1952ء - سوویت ریاستی" اسٹالن انعام" Flag of Russia.svg روس
  • 1963ء - لینن انعام Flag of Russia.svg روس
  • 1974ء - ہیرو آف سوشلسٹ لیبر Flag of Russia.svg روس
  • 2003ء - آرڈر آف سینٹ اینڈریو Flag of Russia.svg روس
  • چیئرمین انجمن مصنفین داغستان Flag of Russia.svg روس
  • 2014ء - رسول حمزہ توف انعام کا اجراء Flag of Russia.svg روس
  • داغستان کا عوامی شاعر
  • جواہر لال نہرو انعام Flag of India.svg بھارت
  • لیرموتوف انعام
  • فردوسی انعام

وفات[ترمیم]

رسول حمزہ توف 80 سال کی عمر میں 3 نومبر 2003ء میں ماسکو، روس میں وفات پا گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.gamzatov.ru/bioeng.html
  2. موج ہوائے عصر، ظ انصاری، تقی حیدر، مطبع "رادوگا" اشاعت گھر، ماسکو، سوویت یونین، 1985 ،ص
  3. موج ہوائے عصر، ظ انصاری، تقی حیدر، مطبع "رادوگا" اشاعت گھر، ماسکو، سوویت یونین، 1985 ،ص242
  4. http://www.encyclopedia.com/doc/1G2-2506300070.html
  5. موج ہوائے عصر، ظ انصاری، تقی حیدر، مطبع "رادوگا" اشاعت گھر، ماسکو، سوویت یونین، 1985ء،ص242