بریس پاسترناک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بریس پاسترناک
Boris Leonidovich Pasternak
بریس پاسترناک.jpg
پیدائش بریس لیانیدووچ پاسترناک10 فروری 1890 (1890-02-10)ءماسکو، روسی سلطنت
وفات 30 مئی 1960 (1960-05-30)ءماسکو، سویت یونین
قلمی نام بریس پاسترناک
پیشہ مصنف،شاعر، ناول نگار
زبان روسی
قومیت Flag of Russia.svg روس
صنف شاعری، ناول، ترجمہ
نمایاں کام ڈاکٹر ذواگو
منتخب نظمیں
بچپن
منتخب تخلیقات
اہم اعزازات ادب کا نوبیل انعام (1958ء)

دستخط

بریس لیانیدووچ پاسترناک روسی: Бори́с Леони́дович Пастерна́к, نقل حرفی Boris Leonidovich Pasternak (پیدائش: 10 فروری، 1890ء - وفات: 30 مئی، 1960ء) روس کا نوبل انعام یافتہ شاعر، ناول نگار اور مترجم ہیں۔

حالاتِ زندگی[ترمیم]

پیدائش و تعلیم[ترمیم]

پاسترناک کے والد کی بنائی ہوئی پینٹنگ

بریس پاسترناک ماسکو، روسی سلطنت کے مہذب یہودی خاندان میں 10 فروری, 1890ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کے والد "لیانید" ماسکو اسکول آف پینٹنگ میں پروفیسر اور لیو ٹالسٹائی کی کتابوں کے مصور تھے اور والدہ "روسا کافمان" کنسرٹ پیانوسٹ تھیں۔ پاسترناک کے والدین کا ماسکو کے مصنفین، موسیقاروں، شاعروں اور ناول نگاروں کے ہاں مستقل آنا جانا تھا جن میں مشہور روسی شاعر اور ڈراما نویس الکساندربلوک بھی شامل تھے جنہوں نے بعد میں پاسترناک کے فن پر گہرے اثرات مرتب کئے[1]۔ پاستر ناک کی پہلی محبت نباتیات اور دوسری موسیقی تھی۔ پاسترناک نے چھ سال موسیقی کی تعلیم حاص کی[1]۔ 1909ء میں پاسترناک موسیقی کا کیرئیر چھوڑ کر ماسکو یونیورسٹی کے شعبۂ قانون میں داخل ہوئے[2] اور جلد قانون چھوڑ کر فلسفہ میں تبادلہ کرالیا۔ بریس پاستر ناک 1912ء میں جرمنی چلے گئے اور ماربرگ یونیورسٹی میں فلسفہ کی تعلیم حاصل کی[3]۔

ملازمت[ترمیم]

پاستر ناک نے 1914ء سے 1917ء تک ماسکو کی کیمیکل ورکس میں کلرک کے طور پر خدمات انجام دیں۔

تخلیقی دور[ترمیم]

بریس پاستر ناک اپنے دوست شاعرولادیمیرمایاکوفسکی کے ساتھ

پاسترناک کی زندگی کا راستہ پیچیدہ اور پرتضاد تھا۔ انقلاب اکتوبر سے پہلے کے برسوں میں ان کی شاعری انتہائی داخلیت پسندانی تھی۔ ان کی تخلیقات پر عظیم انقلاب اکتوبر نے بڑا گہرا اثر ڈالا۔ حب الوطنی کی جنگ کے برسوں میں بریس پاسترناک محاذِ جنگ پر گئے اور انھوں نے بہت سی وطن دوستانہ نظمیں لکھیں جن میں وطن سے محبت اور فاشزم سے نفرت رچی بسی ہوئی ہے[4]۔ پاسترناک نے جارجیائی شاعری کے تراجم کیے۔ اس کے علاوہ شیکسپیئر کے ڈراموں کے تراجم بھی کئے[2]۔ نومبر 1957ء میں "ڈاکٹر ذواگو" اٹلی سے شائع ہوا۔ پاسترناک نے اپنی آخری مکمل کتاب "جب موسم صاف ہوتا ہے" 1959ء کے گرما میں لکھی۔

تخلیقات[ترمیم]

نظم[ترمیم]

  • 1917ء - موضوعات اور تغیرات
  • 1922ء - میری بہن، زندگی
  • 1946ء - منتخب نظمیں
  • 1954ء - نظمیں
  • 1959ء - جب موسم صاف ہوتا ہے
  • 1962ء - وقفہ میں:نظمیں 1945-1960

نثر[ترمیم]

  • 1932ء - دوسری پیدائش
  • 1934ء - پچھلی گرمیاں
  • 1941ء - بچپن
  • 1945ء - مجموعہ تصانیف
  • 1949ء - منتخب تخلیقات)
  • 1952ء - گوئٹے کی فاؤسٹ
  • 1956ء - خودنوشت سوانح میں مضمون
  • 1957ء - ڈاکٹر ذواگو

اعزازات[ترمیم]

بریس پاستر ناک کی ادبی خدمات کے صلے میں 1958ء میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا[3]۔

وفات[ترمیم]

روس کے عظیم ناول نگار اور شاعر بریس پاسترناک پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو کر 30 مئی 1960ء کو ماسکو، سوویت یونین میں انتقال کرگئے[2]۔

مزید دیکھئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 http://www.pbs.org/wgbh/masterpiece/zhivago/ei_pasternak.html
  2. ^ 2.0 2.1 2.2 http://www.poets.org/poetsorg/poet/boris-pasternak
  3. ^ 3.0 3.1 بریس پاسترناک، نوبل پرائز، نوبل فاؤنڈیشن، سویڈن
  4. موج ہوائے عصر، ظ انصاری، تقی حیدر، مطبع "رادوگا" اشاعت گھر، ماسکو، سوویت یونین، 1985ء ،ص143