سال بیلو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

پیدائش: 1915ء

انتقال:2005ء

سال بیلو

امریکی نوبل انعام یافتہ ناول نگار۔ مانٹریال کے علاقے کیوبک میں ہوئی۔ 1924 میں ان کا خاندان شکاگو منتقل ہو گیا۔ سترہ سال کی عمر میں والدہ کا سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا- 1933 میں بیلو نے شکاگو یونیورسٹی میں داخلہ لیا لیکن دو ہی سال میں دوسری جگہ نارتھ وسٹرن میں اس لیے چلے گیئے کہ یہ جگہ نسبتاً سستی تھی۔ وسکونسن یونیورسٹی میں گریجویشن ادھوری چھوڑ دی۔

سال بیلو کا شمار جنگ عظیم کے بعد کے عظیم دانشوروں میں ہوتا ہے۔ سال بیلو کا تصنیفی سفر تقریباً آدھی صدی پر محیط ہے۔ شاید یہ بھی ایک سبب ہے کہ وہ اپنے ہم عصر ناول نگاروں میں کافی نمایاں رہے۔ سال بیلو کی تخلیقات کے تنوع کو دیکھتے ہوئے 1976 میں انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا۔ انہوں نے اپنے ناول ’آگی مارچ کی مہمات‘ (1953)، ’ہینڈرسن دی رین کنگ‘ ( 1959) اور ’ہرزوگ‘ (1964) کے ذریعے بڑے کرداروں کو جنم دیا اور ان کے ذریعے وسیع موضوعات اور تھیم پر لکھا۔

ان کی تخلیق کی سب سے نمایاں بات ان کے ناولوں کے کردار ہیں۔ جن میںہرزوگ کو خاص مقام حاصل ہے۔ ہرزوگ ایک ایسا دانشور کردار ہے جسے بیلو سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ہرزوگ کے ذریعے بیلو نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اس ’ہی مین‘ والے عہد میں ایک دانشور نامرد کی طرح ہے جو سوچتے رہنے کی علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتا۔ بیلو کے بیشتر کردار دانشوروں کے اسی قبیلے سے ہیں۔ جن میں ایک خاص قسم کا مزاح بھی ہے۔ ناقدین کی ایک بڑی تعداد نے بیلو کے ناولوں کو مختلف پیرائے، بیانیہ اور مابعد جدیدیت کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے، لیکن ایڈورڈ سعید اور چامسکی جیسے قد آور ناقدوں اور دانشوروں نے بیلو کے فکشن اور غیر فکشن دونوں طرح کی تخلیق میں ان کے سیاسی نظریے کو کھول کر رکھ دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ بیلو مشرق وسطی کے مسئلے پر کسی حد تک صیہونیت کے حامی اور علم بردار ہیں۔ ایک زمانے تک سال بیلو نے خود کو ’یہودی-امریکی ادیب‘ کے لیبل سے آزاد اور الگ رکھنے کی ناکام کوشش کی۔ تاہم یہ اب ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ان کے ناولوں میں یہودیت ایک عام بحث کا موضوع ہے۔ معرف ادبی نظریہ دان اور ادبی نقاد احمد سہیل { Ahmed Sohail} نے سال بیلو کے ادبی اور فکری مزاج اور ان کے فکشن کی ماہیت کے متعلق لکھتے ہیں۔"اصل میں ان کی تحریریں یہودی اساطیر میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ کافکا سے بہت زیادہ متاثر ہیں اور آپ کی افسانوی فضا کافکاہی افسانوی فضا ہی لگتی  ہے  تو وہ اس بات سے بھی انکار کرتے رہے۔ حالانکہ ان کا امریکا میں گم شدہ انسان جس کی وہ افسانوی وجودی تشریح کرتے ہیں جو مکمل طور پر امریکا میں گمشدہ انسان کا اضطراب اور ہیجان  ہے اور یہی فضا حاوی طور پر قاری محسوس کرلیتا ہے ۔

سال بیلو بنیادی طور پر ” وجودی فکشن نگار ہیں۔جس وقت بیسویں  صدی کے ادبا اور دانشور اسرئیل کے مظالم پر احتجاج کر رہے  تھے ۔ وہ خاموشی اختیار کیے ہوئے اس کو جائز  قرار دے رہے تھے۔ سال بیلو کے سفر نامے/ یادوں پر مبنی کتاب ۔۔” یورشلم اور اس سے واپسی”۔۔ چھپی تو اس کو پڑھ کر محسوس ہوا کہ وہ عبرانی اور یہودی تہذیب و تمدن کی شان و شوکت اور اسے دنیا کی دیگر تہذہبوں سے ارفع محسوس کرتے ہیں۔

سال بیلو نے جدید تہذیب کے انتشار اور نراجیت کو اپنی تحریروں میں کلیدی نکتہ بنایا ۔ وہ جدید تمدن میں بہت جھول جھال دیکھتے ہیں ۔ جس کے سبب فرد نیم پاگل، مادیت پرست اور عدم آگاہی کے سبب اپنے وجود کو بے شناخت کرچکا ہے اور معاشرے کے  منفی کرداروں کی بھی انھوں نے نشان دہی کی  ہے۔ ان کے زیادہ ترکردار یہودی ہیں ۔ جو ایک دوسرے سے مغائرت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ امریکا میں یہودی شناخت کا بحران سال بیلو کا اصل مسئلہ  ہے۔ یہی ان کا امریکی تجربہ بھی  ہے۔ ان پر مارسل پرواست اور ہنری جیمس کے گہرے اثرات ہیں۔ مگر وہ اس سے انکاری ہیں۔ اور وہ اسے لطیفہ قرار دیتے ہیں ۔

سال بیلو   اپنے ناولز میں سوانحی واردات و بشریاتی عوامل کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ جس میں ان کی اپنی اصل شکل عموما ً نظر آجاتی   ہے۔ ان کے فکشن کا ڈھانچہ قدامت پسندانہ ہے ۔ ان کا کہنا  ہے”حقیقت پسندی مظاہر کے تجربات میں مہارت کا اظہار ہوتا ہے ۔ اور خواہشات کا ابھار تصور کی حد تک ناول میں نفوذ کرتا  ہے” فلپ روتھ نے کہا تھا کہ ” بیسویں صدی کے ناول نگاری کے صرف دو  ناول نگار ہیں۔۔۔ ایک ولیم فاکنر اور سال بیلو ۔۔۔۔جو میلول، ہارتھان اور مارک ٹوین کے ساتھ کھڑے ہیں۔”۔۔

بیلو کے ہم عصر مالکیم بریڈبری کا خیال ہے کہ ’بیلو کی علمی، ادبی اور اخلاقی شہرت کا دارو مدار ان کے بڑے خیالات اور موضوعات پر ہے جسے انہوں نے آگی مارچ، ہینڈرسن، ہرزوگ اور ہمبولٹس جیسے کرداروں کے ذریعے پیش کیا، جو اپنے شعور، خودی اور انسانی برتری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بروکلین میں ان کا انتقال ہوا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]