یاکوب کولاس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یاکوب کولاس
Yakub Kolas
Yakub Kolas.jpg
پیدائش کنستنتین میتسکیویچ
3 نومبر 1882(1882-11-03)
منسک، بیلاروس،روسی سلطنت
وفات 13 اگست 1956(1956-08-13)
منسک، بیلا روس، سویت یونین
قلمی نام کولاس
پیشہ شاعر، نثرنگار، ڈراما نویس، مترجم، معلم
زبان بیلاروسی
قومیت Flag of Belarus.svg بیلاروس
اصناف شاعری، ڈراما
نمایاں کام قید کے نغمے
نغمۂ غم
اہم اعزازات اسٹالن انعام

یاکوب کولاس بیلاروسی: Яку́б Ко́лас (پیدائش: 3 نومبر 1882ء- وفات: 13 اگست 1956ء) سوویت بیلاروس کے عوامی شاعر، جدید بیلاروسی ادب کے بانی، نثرنگار، ڈراما نویس، مترجم، معلم اور رکن (1928ء) اور نائب صدر(1929ء) بیلاروسی سائنس اکادمی ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

یاکوب کولاس جنگلات کے نگران میخائیل میتسکیویچ کے گھر 3 نومبر 1882ء میں پیدا ہوئے[1]۔ ان کا اصل نام کنستنتین میتسکیویچ تھا۔ پہلے روسی انقلاب (1905ء تا 1907ء) کے برسوں میں انھوں نے انقلابی راستہ اختیار کیا۔ اس وقت وہ جنگلات کے علاقے میں ایک گمنام مدرس تھے۔ تبھی انھوں نے اپنی پہلی نظمیں لکھیں جن میں مطلق العنان حکومت کی سخت مذمت کی۔ انھیں ملازمت سے برطرف کر دیا گیا، جس اخبا میں ان کی نظم چھپی تھی اسے ضبط کر لیا گیا اور ان پر مقدمہ چلا کر تین سال کی سزا دی گئی اور منسک کے قلعے میں قید کر دیا گیا۔[2] اس طرح یاکوب کولاس، مستقبل کے بیلاروسی عوام کے عظیم شاعر کی شہرت و عظمت کا راستہ شروع ہوا۔ قید کے بعد انھیں سامراجی جنگ کے محاذ پر بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد وہ پھر کرسک صوبے میں مدرس کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔

ادبی و فنی خدمات[ترمیم]

یاکوب کولاس نے اپنی نظم "آزادی کی راہ پر" میں عظیم انقلاب اکتوبر کا خیر مقدم کیا[3]۔ انقلاب کے بعد کے برسوں میں یاکوب کالاس نے بے شمار نظمیں لکھیں جن میں "مچھیرے کا چھونپڑا" کو ریاستی انعام ملا۔ شاعر اور اکیڈمیشین، سماجی اور ریاستی کارکن کی حیثیت سے وہ ہمیشہ زندگی کی ہماہمی میں رہے۔ ان کی کتابیں "زمین کی آواز" اور دشمن سے انتقام" اور طویل نظمیں "جنگل میں عدالت" اور "حساب کی چکتائی" کا روئے سخن اپنے عوام کی طرف ہے جو ہٹلر کے جابرانہ قبضے کی صعوبتیں جھیل رہے تھے۔ ہر روز یاکوب کولاس نظموں اورمضامین کے ذریعے اپنی قوم سے خطاب کرتے تھے، فاشزم کے جرئم کی شدید مذمت اور سوویت فوجیوں اور چھاپے ماروں کے لازوال کارناموں کے گن گاتے تھے[3]۔

1954ء میں اپنا پہلا ناولٹ "چوراہے پر" مکمل کیا جس میں 1905ء سے 1911ء تک کے حالات کا احاطہ کیا گیا ہے۔[1]۔

1956ء میں یاکوب کولاس نے حکومت کو خط کے ذریعے بیلاروسی زبان کے حالات کے اور قومی زبان کے دفاع میں مجوزہ اقدامات بارے میں آگاہ کیا[1]۔

اداروں سے وابستگی[ترمیم]

  • رکن و نائب صدر بیلاروسی سائنس اکادمی
  • نائب سپریم سوویت برائے سوویت یونین و بیلاروس
  • رکن مرکزی کمیٹی برائے 21، 22 اور 23 ویں کانگریس برائے کمیونسٹ پارٹی بیلاروس
  • رکن یونین کمیٹی اسٹالن پرائز برائے ادب
  • ڈپٹی چیئرمین پین سلافی کمیٹی برائے انسدادِفاشزم
  • چیئرمین بیلاروس کمیٹی برائے امن
  • رکن سوویت کمیٹی برائے امن

تخلیقات[ترمیم]

مجموعہ شاعری[ترمیم]

  • قید کے نغمے (1908ء)
  • نغمۂ غم (1910ء)
  • دشمن سے انتقام (1942ء)
  • زمین کی آواز (1943ء)

نظمیں[ترمیم]

  • نئی زمین (1923ء)
  • سائمن موسیقار (1925ء)
  • آزادی کی راہ پر (1926ء)
  • مچھیرا کا جھونپڑا (1947ء)
  • جنگل میں عدالت
  • حساب کی چکتائ

ناولٹ[ترمیم]

  • چوراہے پر (1954ء)

اعزازات[ترمیم]

یاکوب کولاس کا یادگار مجسمہ منسک بیلاروس

یاکوب کولاس کو 1946ء میں جنگی شاعری پر اور 1949ء میں نظم "مچھیرا کا جھونپڑا" پر سوویت ریاستی" اسٹالن انعام"دیا گیا۔ آپ کی گرانقدر ادبی خدمات کے صلے میں منسک، بیلاروس میں "چوراہا" اور آپ کے گھر کے پاس "سڑک" کا نام آپ کے نام پر رکھا گیا ہے[1]۔

وفات[ترمیم]

سوویت بیلاروس کے عوامی شاعراور جدید بیلاروسی ادب کے بانی "یاکوب کولاس" اپنی لکھنے کی میز پر 13 اگست 1956ء میں منسک، بیلا روس، سویت یونین میں وفات پا گئے[1]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ http://archives.gov.by/eng/index.php?id=527368
  2. موج ہوائے عصر، ظ انصاری، تقی حیدر، مطبع "رادوگا" اشاعت گھر، ماسکو، سوویت یونین، 1985 ،ص128-129
  3. ^ ا ب موج ہوائے عصر، ظ انصاری، تقی حیدر، مطبع "رادوگا" اشاعت گھر، ماسکو، سوویت یونین، 1985 ،ص129