چنگیز اعتماتوف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
چنگیز اعتماتوف

Chinghiz Aitmatov

Tschingis Ajtmatow.jpg
پیدائش 12 دسمبر 1928ء(1928ء-12-12)
شیکر، کرغیزستان، روسی سلطنت
وفات 10 جون 2008ء(2008ء-06-10)نورنبرگ، جرمنی
قلمی نام چنگیز اعتماتوف
پیشہ مصنف، صحافی، سفارت کار
زبان کرغیز، روسی
قومیت Flag of Kyrgyzstan.svg کرغیزستان
نسل کرغیز
مادر علمی گورکی انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی ادب، ماسکو
اصناف ناول، افسانہ، ترجمہ، صحافت
نمایاں کام جمیلہ
پہلا استاد
سفید دخانی کشتی
اہم اعزازات لینن انعام
سوویت ریاستی انعام

چنگیز اعتماتوف (کرغیز: Чыңгыз Айтматов روسی: Чинги́з Тореку́лович Айтма́тов) (پیدائش: 12 دسمبر، 1928ء - وفات: 10 جون، 2008ء) سوویت اور کرغیزستان کے نامور مصنف، مترجم، سیاستدان، سفارت کار اور کرغیز و روسی ادب کی مشہور شخصیت تھے جو اپنے ناول "جمیلہ" کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔[1]

حالات زندگی و تخلیقی دور[ترمیم]

چنگیز اعتماتوف سوویت یونین میں کرغیزستان کے ایک گاؤں شیکر میں 12 دسمبر، 1928ء کو کرغیز باپ اور تاتار ماں کے گھر پیدا ہوئے۔ والد کو جوزف اسٹالن کی طرف سے 1938ء میں پھانسی دی گئی۔ چنگیز اعتماتوف نے ادبی زندگی کا آغاز 1952ء میں کیا اور 1959ء سے روسی اخبار "پرودا" کے لیےبطور کرگیز نامہ نگار لکھنا شروع کیا۔ انہیں اہم شناخت اپنی نصنف "پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں" 1963ء سے حاصل ہوئی ۔ اس تصنیف پر انہیں سال 1963ء کا لینن انعام دیا گیا۔ چنگیز اعتماتوف نے اپنی تخلیقات میں محبت، دوستی، جنگی ہیروازم اور کرغیز نوجوانوں کی سماجی و روایتی پابندیوں کو موضوع بنایا ہے۔ چنگیز اعتماتوف کی اہم تخلیقات میں "دشوار راستہ" 1958ء ، "روبرو" 1957ء ، "جمیلہ" 1958ء ، "پہلا استاد" 1967ء ، "سفید دخانی کشتی" 1970ء شامل ہیں۔[1]

سیاست و سفارت[ترمیم]

چنگیز اعتماتوف ادیب کے علاوہ سیاست دان اور سفارت کار ہونے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ انہیں 1966ء میں سوویت یونین کی اعلیٰ سوویت کا رکن بنایا گیا۔ 1967ء میں اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین کے رکن ، مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف، سوویت سفیر برائے لکسمبرگ اور 1990ء میں کرغیزستان کے سفیر برائے یورپی یونین مقرر ہوئے۔[1]

تخلیقات[ترمیم]

ناول و افسانے[ترمیم]

  • 1956ء - دشوار راستہ
  • 1957ء - روبرو
  • 1958ء - جمیلہ
  • 1962ء - پہلا استاد
  • 1963ء - پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں
  • 1970ء - سفید دخانی کشتی
  • 1977ء - سمندرکے کنارے دوڑتا ہوا چتکبری کتا
  • 1986ء - تختۂ دارا
  • 1986ء - جب پہاڑ گرتے ہیں

انگریزی تراجم[ترمیم]

  • 1964ء - Short Novels
  • 1970ء - Farewell Gul'sary
  • 1972ء - White Steamship
  • 1972ء - The White Ship
  • 1973ء - Tales of the Mountains and the Steppes
  • 1975ء - Ascent of Mount Fuji
  • 1983ء - Cranes Fly Early
  • 1988ء - The Day Lasts More Than a Hundred Years
  • 1989ء - The Place of the Skull
  • 1989ء - Time to Speak
  • 1988ء - The time to speak out
  • 1990ء - Mother Earth and Other Stories
  • 2008ء - Jamila

اعزازات[ترمیم]

اداروں سے وابستگی[ترمیم]

وفات[ترمیم]

چنگیز اعتماتوف 79 سال کی عمر میں 10 جون ،2008ء کو نورنبرگ، جرمنی میں وفات پاگئے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]