یانکا کوپالا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یانکا کوپالا

Yanka Kupala

یانکا کوپالا.jpg
پیدائش ایوان دمینیکووچ لتسیوچ7 جولائی 1882 (1882-07-07)منسک، بیلاروس،روسی سلطنت
وفات 28 جون 1942 (1942-06-28)ماسکو ، سویت یونین
قلمی نام یانکا کوپالا
پیشہ مصنف
زبان بیلاروسی
قومیت  بیلارس
دور 1903ء - 1942ء
صنف شاعری
نمایاں کام دل سے
دھندلاہٹ
اہم اعزازات لینن انعام
اسٹالن انعام
بیلاروسی عوامی شاعر

یانکا کوپالا بیلاروسی: Я́нка Купа́ла (پیدائش: 7 جولائی 1882ء - وفات: 28 جون 1942ء) بیلاروسی عوامی شاعراورجدید بیلاروسی ادب کے بانیوں میں سے ایک ہیں[1]۔

حالاتِ زندگی[ترمیم]

یانکا کوپالا 7 جولائی 1882ء میں منسک، روسی سلطنت میں پیدا ہوئے[1]۔

تخلیقی دور[ترمیم]

عظیم بیلاروسی شاعر اور انقلابی یانکا کوپالا کو یاکوب کولاس کے ساتھ بیلاروسی شاعری کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنی تخلیقی سرگرمی عظیم اکتوبر انقلاب سے پہلے ہی شروع کردی تھی۔ ان کی شاعری کو حب الوطنی اور جمہوریت پسندی کا شعلۂ جوالہ تسلیم کیا جاتا ہے[2]۔ کوپالا کو بیلاروس کی ثقافت کے نشان کے طور پر جانا جاتا ہے۔[3]

تخلیقات[ترمیم]

مجموعہ شاعری[ترمیم]

  • دل سے
  • نامعلوم
  • دھندلاہٹ

نظمیں[ترمیم]

  • ماں نے بیٹے کو رخصت کیا
  • ابدی نغمہ
  • میرے وطن کے لئے
  • شاہراہ پر
  • میرے لوگوں کے نام

اعزازات[ترمیم]

  • 1925ء - بیلاروسی عوامی شاعر  بیلارس
  • 1925ء تکنیکی مدیر برائے بیلاروسی ریاستی اشاعتی ادارہ  بیلارس
  • 1928ء رکن بیلاروسی سائنسز اکادمی  بیلارس
  • 1929ء رکن یوکرینی سائنسز اکادمی  یوکرین
  • گرودنو اسٹیٹ یونیورسٹی بیلاروس کو کوپالا کے نام سے "یانکا کوپالا اسٹیٹ یونیورسٹی" کے نام سے منسوب کیا گیا  بیلارس
  • 1939ء - آرڈرآف لینن  روس
  • 1941ء - شاعری کے مجموعے "دل سے" پرسوویت ریاستی اسٹالن انعام  روس
  • 1944ء بیلاروسی قومی تھیٹر کا نام یانکا کوپالا کے اعزاز میں "یانکا کوپالا قومی اکادمی تھیٹر" رکھا گیا  بیلارس
  • 1966ء یانکا کوپالا ادبی انعام کا اجراء بیلارس
  • 1996ء یانکا کوپالا بین الاقوامی فنڈ کا اجراء
  • 1934ء رکن انجمن سوویت مصنیفین  روس
  • رکن ایگزیکٹیو کمیٹی برائے پین سلافی کمیٹی برائے انسدادِفاشزم

وفات[ترمیم]

بیلاروسی عوامی شاعر یانکا کوپالا 28 جون 1942ء کو 59 سال کی عمر میں ماسکو، سوویت یونین میں پر اسرار طور پر ہوٹل کی دسویں منزل سے گر کر وفات پا گئے[1]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 http://archives.gov.by/eng/index.php?id=951386
  2. موج ہوائے عصر، ظ انصاری، تقی حیدر، مطبع "رادوگا" اشاعت گھر، ماسکو، سوویت یونین،1985 ،ص131
  3. http://www.belarus-misc.org/writer/ykupala.htm