غفور غلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
غفور غلام
Gʻafur Gʻulom
Gafur Gulom
Gafur Gulyam
Stamps of Uzbekistan, 2003-24.jpg
غفور غلام کے 100 سالہ جشن پیدائش پر 2003ء میں ازبکستان کا جاری کیا گیا ڈاک ٹکٹ
پیدائش 10 مئی 1903ء(1903ء-05-10)ء
تاشقند، ازبکستان
وفات 10 جولائی 1966ء(1966ء-07-10)
تاشقند، ازبکستان، سوویت یونین
قلمی نام غفور غلام
پیشہ مصنف
زبان ازبک
قومیت Flag of Uzbekistan.svg ازبکستان
نسل ازبک
اصناف شاعری، ناول، ترجمہ
ادبی تحریک حقیقت پسندی
نمایاں کام Shum bola
اہم اعزازات لینن انعام
ریاستی اسٹالن انعام
آرڈر آف میرٹ

غفور غلام (ازبک: Gʻafur Gʻulom, Ғафур Ғулом) (پیدائش: 10 مئی 1903ء - وفات: 10 جولائی 1966ء) ازبکستان کے قومی شاعر، ناول نگاراور مترجم تھے۔ انہیں ناول Shum bola کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔

غفور غلام مترجم کے طور پر مشہور و معروف ہیں۔ انہوں نے ملکی اور غیر ملکی ادیبوں خاص کر الیکزاندرپشکن، شیکسپیئر، سعدی شیرازی، ولادیمیرمایاکوفسکی کی تخلیقات کو ازبک زبان کا جامہ پہنایا۔ اس کے علاوہ آپ حمزہ حکیم زادہ نیازی کے ساتھ جدید ازبک شاعری کے بانی کہلائے جاتے ہیں۔ آپ کو ریاستی اسٹالن انعام اور ازبکستان کے قومی شاعر کے خطاب سے نوازا گیا۔

حالات زندگی[ترمیم]

غفور غلام ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں 10 مئی 1903ء کو غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ 9 سال عمر میں والد کا انتقال ہو گیا۔ ابتدائی تعلیم نام نہاد قدیم اسکول میں حاصل کی۔ بعد ازاں غیر روسیوں کے لیے ترکستان میں قائم روسی اسکول میں داخل ہوئے۔ اساتذہ کا ٹریننگ کورس مکمل کرنے کے بعد استاد مقرر ہوئے۔ 1923ء میں یتیم خانے کے شعبۂ نصاب کے سربراہ مقرر ہوئے[1]۔

غفور غلام کی شاعری نے ازبک ادب کو سب سے زیادہ متاثر کیا۔ ان کی نظمیں "Sen yetim emassan", "Men yahudiy", "Soginish", "Bizning ko'chada ham bayram bo'lajak", "Yigitlarga", "Vaqt", "Suv va nur", "Kani mening yulduzim" ازبک ادب میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ غفور غلام بحیثیت ناول نگار ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کے ناول Tirilgan Murda", "Netay", "Yodgor", "Shum bola" ازبک ادب کے پہچان ہیں۔ خاص کر "Shum bola" کو عالمی شہرت حاصل ہے۔[1] اس کے علاوہ آپ نے الیکزاندرپشکن، شیکسپیئر، سعدی شیرازی اور ولادیمیرمایاکوفسکی کی تخلیقات کو ازبک زبان میں ترجمہ کیا۔

غفور غلام کو 1943ء میں ازبکستان سائنس اکادمی کا رکن اور 1963ء میں ازبکستان کے قومی شاعر کے خطاب سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ آپ کو لینن انعام، آرڈر آف میرٹ اور ریاستی اسٹالن انعام اور بہت سے دوسرے انعامات و اعزازات سے نوازا گیا۔

تخلیقات[ترمیم]

نظمیں[ترمیم]

  • Sen yetim emassan
  • Men yahudi
  • Soginish
  • Bizning ko'chada ham bayram bo'lajak
  • Yigitlarga
  • Vaqt
  • Suv va nur
  • Kani mening yulduzim

ناول[ترمیم]

  • Tirilgan Murda
  • Netay
  • Yodgor
  • Shum bola

اعزازات[ترمیم]

وفات[ترمیم]

غفور غلام 63 سال کی عمر میں 10 جولائی 1966ء کو تاشقند، ازبکستان، سوویت یونین میں وفات پا گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]