صمد ورگون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صمد ورگون
Samad Vurgun
Samad Vurgun20.jpg
پیدائش صمد وکیلوف
21 مارچ 1906ء(1906ء-03-21)ء
قازاخ، آذربائیجان
وفات 27 مئی 1956ء(1956ء-05-27)
باکو، آذربائیجان، سوویت یونین
قلمی نام صمد ورگون
پیشہ مصنف
زبان آذربائیجانی
قومیت Flag of Azerbaijan.svg آذربائیجان
نسل آذربائیجانی
مادر علمی ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی
اصناف شاعری، ڈراما
نمایاں کام

فرہاد اور شیریں

آدمی
گاؤں کی صبح
بہار
حلفِ شاعر
طلوعِ آفتاب
اہم اعزازات لینن انعام
سوویت ریاستی اسٹالن انعام

صمد ورگون آذربائیجانی: Səməd Vurğun (پیدائش: صمد وکیلوف، 21 مارچ 1906ء - وفات: 27 مئی 1956ء) آذربائیجان کے قومی شاعر، ڈراما نویس، رکن آذربائیجان سائنس اکادمی، رکن کمیونسٹ پارٹی آف سوویت یونین، لینن انعام یافتہ اور عوامی کارکن ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

صمد ورگون آذربائیجان کے قازاخ ضلع کے گاؤں سلاہلی میں 21 مارچ 1906ء کو زمیندار کے گھر پیدا ہوئے۔ صمد ورگون ابھی صرف 6 سال کا تھا کہ 28 سالہ ماں کا انتقال ہو گیا۔ باپ یوسف آغا اور نانی عائشہ خانم نے صمد کی پرورش کی۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل۔ 1922ء میں باپ یوسف آغا اور بعد ازاں نانی عائشہ خانم کا انتقال ہو گیا۔ 1929ء ماسکو یونیورسٹی کے ادبی اسکول میں داخل ہوئے۔[1]

ادبی خدمات[ترمیم]

صمد ورگون آذربائیجان کے ممتاز شاعر ہیں جن کا شمار سوویت شاعری کے اساتذہ میں ہوتا ہے۔[2] 1930ء میں صمد کی سیاسی اور غنائی نظموں کی کتاب "حلفِ شاعر" شائع ہوئی۔ 1930ء - 1940ء کا دور صمد کی شاعرانہ زندگی میں جوش و خروش کا دور تھا۔ 1936ء - 1937ء میں صمد ورگون نے نہ صرف نئی شاعرانہ تخلیقات کیں بلکہ تراجم کی طرف بھی رجحان ہوا اور الیکزاندرپشکن کا مشہور و معروف منظوم ناول " ایوگنی اونیگن" کا روسی سے آذربائیجانی میں ترجمہ کیا۔ اس ترجمہ پر صمد ورگون کو "پشکن کمیٹی" کے جانب سے "پشکن انعام" دیا گیا۔ انہوں نے تاراس شیوچنکو، میکسم گورکی، جمبول جبائیف اور بہت سے دوسرے ادیبوں کی تخلیقات آذربائیجانی زبان میں ترجمہ کیں۔ 1937ء میں منظوم ڈراما "واقف" تخلیق کیا۔ جس سے انہیں عالمی شہرت ملی۔ 1939ء میں صمد ورگون نے نظامی گنجوی کے 800 سالہ جشن میں فعال طور پر حصہ لیا، نظامی گنجوی پر مضمون شائع کیا، تقریر کی اور نظامی گنجوی کی مشہور تخلیق "لیلی مجنوں" کا منظوم ترجمہ بھی کیا۔ 1939ء میں شاعری کی کتاب "آزاد الہام" اور 1941ء میں "شیریں اور ف رہاد" شائع ہوئی۔ 1941ء میں صمد ورگون کو ان کے ڈراما "واقف" پر "اسٹالن انعام" سے نوازا گیا۔ 1945ء میں صمد ورگون کو "آذربائیجان سائنس اکادمی" کا مکمل رکن منتخب کیا گیا۔ اسی سال باکو میں "ثقافتی روابط کی سوسائٹی برائے ایران" قائم کی گئی، صمد کو اس سوسائٹی کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ 1945ء میں فلسفیانہ ڈراما "انسان" تخلیق کیا۔ 1947ء میں صمد ورگون سوویت یونین کی اعلیٰ سوویت کے وفد کے ہمراہ برطانیہ سے ہوتے ہوئے برلن گئے۔ 1948ء میں صمد نے "عالمی کانگرس برائے ثقافتی کارکنان" منعقدہ پولینڈ میں شرکت کی۔ 1951ء میں "سوویت-بلغاریہ فرینڈشپ سوسائٹی" کی طرف سے بلغاریہ کا دورہ کیا۔ 1953ء میں "آذربائیجان کی سائنس اکادمی" کے نائب صدر منتخب ہوئے۔[1]

آذربائیجان میں 70 سڑکیں، 7 کتب خانے، 20 اسکول، 5 ثقافتی مراکز، 5 پارک، 4 سنیما صمد ورگون کے نام منسوب ہیں۔

تخلیقات[ترمیم]

شاعری[ترمیم]

  • حلفِ شاعر
  • آزاد الہام

نظمیں[ترمیم]

  • گاؤں کی صبح
  • بہار
  • طلوعِ آفتاب

تراجم[ترمیم]

  • ایوگنی اونیگن
  • لیلی مجنوں

ڈراما[ترمیم]

  • خانلار
  • واقف
  • شیریں ف رہاد
  • انسان

اعزازات[ترمیم]

وفات[ترمیم]

صمد ورگون کا 50 سال کی عمر میں 27 مئی 1956ء کو آذربائیجان کے سب سے بڑے شہر اور دارالحکومت باکو میں انتقال ہو گیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ سوانح، صمد ورگون ویب
  2. موج ہوائے عصر، ظ انصاری / تقی حیدر، رادوگا اشاعت گھر ماسکو،سوویت یونین، 1985ء، ص 71، آئی ایس بی این نمبر5-05-000346-6