کھاتہ کرنسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مالیاتی معاشیات میں کھاتہ کرنسی سے مراد وہ رقم ہوتی ہے جو بینک جاری کرتے ہیں۔ اسے بینک منی یا لیجر منی یا Scriptural منی یا انسائیڈ منی بھی کہتے ہیں۔ یہ کریڈٹ یعنی قرض کی شکل میں ہوتی ہے۔ یہ قرض کھاتے داروں کی جمع کردہ رقومات کو بنیاد بنا کر دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس سونے کو آوٹ سائیڈ منی سمجھا جاتا ہے۔[1]

1971ء میں سونے کا کرنسی سے تعلق ٹوٹنے کے بعد انڈیا کی مختلف طرح کی 'منی سپلائی' میں بےتحاشہ اضافہ ہوا لیکن غربت میں کمی نہ ہوئی۔
سابقہ امریکی صدارتی امیدوار Ron Paul جو سونے سے غیر منسلک کرنسی کا سخت مخالف تھا کیونکہ ایسی کرنسی قرضوں میں بے انتہا اضافہ کرتی ہے۔[2]

کیش (نوٹ، سکے) سینٹرل بینک کی طرف سے جاری ہوتے ہیں۔ لیکن چیک، ڈرافٹ، بل آف ایکسچینج، ٹیلیگرافک ٹرانسفر وغیرہ کھاتہ کرنسی کی چند مثالیں ہیں جو ماتحت بینکوں کی طرف سے جاری ہوتے ہیں اور کرنسی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ کسی ملک کی 'منی سپلائی' کا بڑا حصہ ہوتے ہیں۔[3]
بینک منی کو آپ چھو نہیں سکتے کیونکہ یہ حساب کتاب کے کھاتوں یا کمپیوٹر میں ریکارڈ کی شکل میں موجود ہوتی ہے لیکن باآسانی کیش میں تبدیل کی جا سکتی ہے جسے چھوا جا سکتا ہے۔

"Bank money is a record of debt-credit relations."[4]

کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ، ڈیجیٹل منی، بٹ کوائن وغیرہ کھاتہ کرنسی کی چند نئی مثالیں ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

لگ بھگ ہزار سال پہلے جاپان کے گاوں دیہات میں رواج تھا کہ لوگ ایک دوسرے کے کاموں میں مدد کیا کرتے تھے اور ان کی محنت کا گھنٹوں میں حساب رکھا جاتا تھا۔ گاوں کا منشی اپنے کھاتے میں درج کرلیتا تھا کہ کس نے کس کے لیے کتنے گھنٹے کام کیا ہے۔ سال کے آخر میں حساب کیا جاتا تھا کہ کس پر کسی دوسرے کا کتنے گھنٹے کا کام واجب الادا ہے اور یہ ادا کیا جاتا تھا۔ کسی لڑکے کے دو گھنٹوں کا کام جوان مرد کے ایک گھنٹے کے کام کے برابر مانا جاتا تھا۔[5]

اقتباس[ترمیم]

  • جون 2000ء میں ایلن گرین اسپان نے بتایا تھا کہ نقدی (کرنسی) کی بےشمار قسمیں ہیں اور مزید بنتی جا رہی ہیں۔ ایسے فیصلے جو کرنسی کی مقدار پر ہوتے ہیں ان کے لیے کرنسی کی مقدار جاننا ضروری ہے۔ اور کرنسی کی مقدار جاننا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔
"The problem is that we cannot extract from our statistical database what is true money conceptually, either in the transactions mode or the store-of-value mode. One of the reasons, obviously, is that the proliferation of products has been so extraordinary that the true underlying mix of money in our money and near money data is continuously changing. As a consequence, while of necessity it must be the case at the end of the day that inflation has to be a monetary phenomenon, a decision to base policy on measures of money presupposes that we can locate money. And that has become an increasingly dubious proposition."[6][7]
  • آپ کا بینک بیلنس بینک کے کھاتے میں درج محض ایک اندراج ہے۔ یہ صرف یہ بتاتا ہے کہ آپ بینک پر کچھ کلیم رکھتے ہیں۔
"Your bank balance is nothing more than an accounting entry on a bank’s ledger. It’s a technically a claim– an amount that the bank owes you,"
"Create something out of nothing. Fear, law, custom, religion, paper currency"
  • دو جلدوں پر مشتمل اپنی 1930ء کی کتاب میں جان مینارڈ کینز نے بڑی تفصیل سے بینک کے کردار اور ان کی کاغذی کرنسی کی تخلیق کی نہایت اہم ذمہ داری کا ذکر کیا ہے۔ کینیز نے خاص طور پر کرنسی کی دو قسمیں بتائی ہیں۔ ایک حکومتی کرنسی اور دوسری بینک کی کرنسی (یعنی کھاتہ کرنسی)۔ حکومتی کرنسی بڑی طاقتور ہوتی ہے اور مرکزی بینک سے برآمد ہوتی ہے (کیش یعنی بینک نوٹ اور سکے)۔ جبکہ بینک کرنسی (چیک، ڈرافٹ، پے آرڈر، کریڈٹ کارڈ وغیرہ) کمرشیئل بینک (فریکشنل ریزرو بینکنگ کے ذریعے) کھاتوں میں جمع شدہ رقم سے تخلیق کرتے ہیں۔[8]
اس کتاب میں کینز نے کئی صفحے بینک کرنسی کے بارے میں لکھے ہیں۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ کینز نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ 1930ء میں بینک کرنسی کی مقدار حکومتی کرنسی سے بہت زیادہ تھی۔ اور اب تک زیادہ کچھ نہیں بدلا۔ آج بھی برطانیہ میں کل کرنسی کا 82 فیصد بینک کرنسی پر مشتمل ہے۔
Then, in his two-volume 1930 work, A Treatise on Money, Keynes devotes a great deal of space to banks and their important role in creating money. In particular, Keynes separates money into two classes: state money and bank money. State money is the high-powered money that is produced by central banks. Bank money is produced by commercial banks through deposit creation.
Keynes spends many pages in The Treatise dealing with bank money. This isn’t surprising because, as Keynes makes clear, bank money was much larger than state money in 1930. Well, not much has changed since then. Today, bank money accounts for almost 82 percent of the broad money supply (M4) in the United Kingdom.[9]
  • یورپ میں پہلے کھاتہ کرنسی (اور بل آف ایکسچینج) کا انقلاب آیا جس کی دولت بعد میں صنعتی انقلاب کی وجہ بنی۔ [10]
the evidence indicates that the supply of high-powered money started to grow at an accelerated rate at some point after 1630. Equally important was the emergence of nonmetallic money as a means of exchange. Here one should count as money not only the notes issued by the bank of Stockholm, the Bank of England, and the American Colonies, but also bills of exchange which were increasingly made negotiable. The latter, especially, provided a true source of inside money, making the money supply more responsive to the needs of the economy.[11]
  • "The growth of shadow money, since the 1980s, has implications for both central bank policy and the theorization of money. However, modern shadow money has a historical analogue in the private bill market of 19th century England."[12]
  • بظاہر بریٹن اوڈز کے معاہدے کے بعد ڈالر اسٹینڈرڈ وجود میں آیا لیکن درحقیقت یوروڈالر اسٹینڈرڈ بنا یعنی بینکوں کے درمیان ایسی صورت حال پیدا ہو گئی جہاں یوروڈالر کی قیمت اگرچہ ڈالر میں طے کی جاتی تھی مگر ادائیگی کسی اور کرنسی میں ہوتی تھی۔ اس وجہ سے یوروڈالر سسٹم کی جڑیں کمزور ہیں۔
"What followed Bretton Woods was not a dollar standard but a eurodollar one....interbank eurodollar situation where the deposit is nothing more than the exchange of numbers on a computer screen....eurodollar is a promised liability denominated in dollars though settled not by dollars instead through other means based almost entirely on the instrument through which the liability is traded....The eurodollar was always unstable, owing to the nature of its origins."[13]
  • the global reserve currency system ... needs banks, not central banks, to create monetary resources and then redistribute them all over the world. We cannot directly observe these monetary resources because they are bank liabilities...I call this currency a eurodollar ... an offshore, dark shadow money system. Credit-based money.
  • بریٹن اوڈز کانفرنس کے اختتام کی چالیسویں سالگرہ پر بریٹن اوڈز میں منعقد تقریب میں امریکی ٹریژری کے انڈر سیکریٹری روبرٹ روزا نے کہا کہ " لیکن یہ اصلاحات ناکافی ثابت ہوئیں اور درحقیقت انہوں نے آف شور امریکی ڈالر کی مارکیٹ میں بے انتہا اضافہ کیا۔ بینکوں کے باہمی روابط کا نیا نیٹ ورک وجود میں آیا جس سے یہ ممکن ہو گیا کہ امریکی ڈالر امریکی سرحدوں کے باہر تخلیق کیے جائیں جن پر فیڈرل ریزرو کنٹرول نہ کر سکے۔ یہ آف شور کرنسی مارکیٹ جلد ہی سیکیوریٹیز (بونڈز) مارکیٹ میں تبدیل ہو گئی۔ چونکہ امریکا کیپیٹل ایکسپورٹ کو کنٹرول میں لانا چاہتا تھا اس سے (امریکی ڈالر کی مانگ میں مزید اضافہ ہوا اور) یوروڈالر مارکیٹ تیزی سے پرورش پانے لگی۔"
"But this combination of improvisation could not cope with, and indeed may have contributed to, the enormous expansion in markets for U. S. dollars offshore, and the new networks of interbank relations that made possible the creation of additional supplies of dollars outside the United States and beyond the control of the Federal Reserve. The 'offshore' currency markets soon became securities market and, spurred by the U. S. effort to maintain control over capital export from the United States, markets in Eurodollar flourished." Robert Roosa, May 1984.[14]
  • 2008ء کے گریٹ فائینینشیئل کرائیسس کا مرکز لندن تھا لیکن دھچکا ڈالر کو لگا۔
the Panic of 2008 was centered in London. But it was still a “dollar” problem[15]
  • "فریکشنل ریزرو سسٹم کی وجہ سے بینک سرمایہ کاری کر کے اور قرضے دے کر ہماری 'منی سپلائی' کئی گنا بڑھا سکتے ہیں" "جب بھی کمرشیئل بینک قرض جاری کرتے ہیں تو وہ قرض کی دستاویز کے عوض کھاتوں میں اندراج کر کے 'چیک بُک منی' تخلیق کرتے ہیں"
"Because of 'fractional' reserve system, banks, as a whole, can expand our money supply several times, by making loans and investments." "Commercial banks create checkbook money whenever they grant a loan, simply by adding new deposit dollars in accounts on their books in exchange for a borrower's IOU." - Federal Reserve Bank, New York[16]
  • Shadow money arise from credit creation through capital markets, funding securities continuously re- priced via repo transactions. - money hierarchy approach ...
  • by giving a loan to a customer.....From an economic standpoint, the bank has essentially created economic money (although not legal tender). The customer's checking account balance has no dollar bills in it, as a demand deposit account is simply a liability owed by the bank to its customer. In this way, commercial banks are allowed to increase the money supply (without printing currency, or legal tender). [17]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]

  • [https://www.zerohedge.com/news/2019-07-08/workings-gold-standard The Workings Of The Gold Standard ]
  • Ron Paul (12 ستمبر 2003)۔ "Fiat Paper Money"۔ LewRockwell.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 جولا‎ئی 2012۔
  • Joan Bardina Studies Center.
  • Real role of banks
  • The Theory of Value and Surplus Value
  • The Global Economy Hasn't Recovered Since Lehman
  • Eurodollar University: Part 3, The Real Science of Money
  • Where Does Money Come From?
  • Monetary Policies Misunderstood
  • THE THEORY AND PRACTICE OF BANKING, 1883
  • The Economics of the Industrial Revolution edited by Joel Mokyr
  • Shadow Money in the 19th Century: Is Marx Relevant for Understanding Contemporary Shadow Money?
  • The Eurodollar Never Really Made Sense to Begin With
  • Eurodollar University: Part 3, The Real Science of Money
  • Understanding Eurodollars, Part 1
  • Banker Quotes...
  • Deposit account