جوزف اسٹگلیز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Joseph Stiglitz
Joseph E. Stiglitz - cropped.jpg
پیدائش Joseph Eugene Stiglitz
ویب سائٹ http://www.josephstiglitz.com/
شعبہ کلیاتی معاشیات، public economics، information economics
مکتب فکر یا
روایت
New Keynesian economics
متاثر جان مینارڈ کینز، رابرٹ سولو، جیمز مرلیس
شراکتیں Screening، taxation, unemployment
جوزف اسٹگلیز
(انگریزی میں: Joseph Stiglitz خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Empfang Joseph E. Stiglitz im Rathaus Köln-1473.jpg 

World Bank Chief Economist
مدت منصب
1997 – 2000
17th Chair of the Council of Economic Advisors
مدت منصب
28 جون 1995 – 13 فروری 1997
صدر بل کلنٹن
Fleche-defaut-droite-gris-32.png Laura Tyson
Janet Yellen Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 9 فروری 1943 (75 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
گری، انڈیانا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش گری، انڈیانا
نیویارک شہر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا[2][3][4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت ڈیموکریٹک پارٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
رکن رائل سوسائٹی،قومی اکادمی برائے سائنس،امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون،سائنس کی روسی اکادمی،امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی فٹز ولیم
میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی (1966–1967)
یونیورسٹی آف شکاگو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تخصص تعلیم معاشیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد پی ایچ ڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
ڈاکٹری مشیر رابرٹ سولو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈاکٹورل مشیر (P184) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ماہر معاشیات،استاد جامعہ،سائنسی مصنف،غیر فکشن مصنف،پروفیسر[5][6][7]،ناقد،مصنف[8][9][10]،سائنس دان[11][12][13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[14]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل معاشیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ اوکسفرڈ،جامعہ پرنسٹن،جامعہ مانچسٹر،جامعہ سٹنفورڈ،عالمی بنک،ییل یونیورسٹی،جامعہ کولمبیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر پاؤل سیمیولسن،رابرٹ سولو،جان مینارڈ کینز  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

جوزف اسٹگلیز (Joseph Eugene Stiglitz) ایک یہودی امریکی ماہر معاشیات ہے۔ وہ کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہے۔ اسے 2001 میں معاشیاتی سائنس میں نوبل انعام مل چکا ہے۔ جوزف اسٹگلیز ورلڈ بینک میں چیف اکونومسٹ کے عہدے پر کام کر چکا ہے اور امریکی صدر کلنٹن کی کونسل آف اکونومک ایڈوائزر کا چیئرمین بھی رہ چکا ہے۔ وہ بہت ساری کتابوں کا مصنف ہے۔ 2009 ء میں اس نے بیان دیا تھا کہ امریکی وزیر خزانہ Geithner کا منصوبہ toxic asset plan دراصل امریکی عوام کی دولت پر ڈاکہ ہے۔ [16]

ورلڈ بینک کے بارے میں وہ بتاتا ہے کہ مختلف ممالک کو بینکوں کا غلام بنانے کے لیے ورلڈ بینک کا چار مرحلوں پر مشتمل یہ منصوبہ ہوتا ہے۔

پہلا مرحلہ۔ نج کاری[ترمیم]

اس مرحلے میں اس ملک کے لیڈروں کو رشوت دے کر اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے اثاثے کئی ارب ڈالر کم قیمت پر ورلڈ بینک کے ہاتھوں بیچ دیں۔ اس کے لیے ان بددیانت لیڈروں کو دس فیصد کمیشن دیا جاتا ہے جو ان کے سوئیس بینک کے خفیہ اکاونٹ میں جمع ہو جاتا ہے۔[17]

دوسرا مرحلہ۔ سرمائے کی آزادانہ منتقلی[ترمیم]

اس مرحلے میں وہ سارے قوانین منسوخ کرائے جاتے ہیں جو سرمایہ بیرون ملک بھیجنے میں آڑے آتے ہیں یا ان پر ٹیکس کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر باہر سے بڑی مقدار میں سرمایہ اس ملک میں داخل ہوتا ہے اور جائیدادوں کی قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس ملک کی کرنسی کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ ملک بہت تیزی سے ترقی کرنے والا ہے۔ عین اس موقع پر بیرونی سرمایہ اچانک ملک سے باہر چلا جاتا ہے اور معیشت بُری طرح بیٹھ جاتی ہے۔
اب اس ملک کو آئی ایم ایف کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے اور آئی ایم ایف اس شرط پر مدد فراہم کرتا ہے کہ شرح سود میں 30 سے 80 فیصد تک اضافہ کیا جائے۔ یہ سب انڈونیشیا اور برازیل میں ہو چکا ہے اور اس کے علاوہ ایشیا اور جنوبی امریکا کے کئی ممالک میں بھی ہوا ہے۔ بلند شرح سود کی وجہ سے اس ملک پر غربت چھا جاتی ہے، جائیدادوں کی قیمتیں بہت زیادہ گر جاتی ہیں، صنعتی پیداوار صفر کی سطح پر آ جاتی ہے اور حکومتی ادارے مفلس ہو جاتے ہیں۔

تیسرا مرحلہ۔ مہنگائی اور بے امنی[ترمیم]

خراب معیشت اور کرنسی کی گرتی ہوئی قیمت کی وجہ سے اس ملک میں مہنگائی بہت بڑھ جاتی ہے۔ جب غذائی اجناس، پانی اور گھریلو استعمال کی بجلی گیس کی قیمت بڑھتی ہے تو اس ملک میں عوامی بے چینی بڑھتی ہے اور پہلے سے لگائے ہوئے اندازے کے مطابق جرائم اور فسادات شروع ہو جاتے ہیں۔ امن و امان کی بگڑتی صورت حال دیکھ کر اس ملک کے سرمایہ دار اپنے پیسے دوسرے ممالک جنہیں وہ محفوظ تصور کرتے ہیں وہاں منتقل کر دیتے ہیں۔ اس طرح حکومت کے بینک کنگال ہو جاتے ہیں۔

چوتھا مرحلہ۔ آزاد تجارت[ترمیم]

اب وہ وقت ہوتا ہے جب بین الاقوامی کارپوریشنیں ان ممالک کا رخ کرتی ہیں اور مقامی صنعت کو کچل دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکا اور یورپ ان بیچارے ممالک کی زراعتی پیداوار کی اپنے ہاں درآمد پر پابندی لگا دیتے ہیں۔ اب ان ممالک کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا جسے بیچ کر وہ کما سکیں۔ امیر ممالک اپنی دوائیں تک اتنی مہنگی کر دیتے ہیں کہ ان غریب ممالک میں بیماری اور موت کی شرح بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس میں کتنے ہی لوگوں کا نقصان کیوں نہ ہو، بینکار ہمیشہ نفع میں رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے قرضہ لینے والے ہر ترقی پزیر ملک پر قرضہ لینے کی شرط ہی یہ رکھی ہے کہ بجلی پانی ٹیلیفون اور گیس کے نظام پر آئی ایم ایف کا کنٹرول ہو گا۔ اندازہ ہے کہ عوام کی اس دولت کی مالیت 4000 ارب ڈالر ہے۔[18]

اقتباس[ترمیم]

  • کینیڈا کے شہر کیوبک میں اکتوبر 2016 میں ہونے والی ایک کانفرنس میں جوزف اسٹگلیز نے بتایا کہ پچھلی تین یا چار دہائیوں سے دنیا کے امیر ترین ایک فیصد افرادکی آمدنی انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ 90 فیصد غریب افراد کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا۔ اعلیٰ ترین طبقہ کی دولت میں بہت اضافہ ہوا ہے،مڈل کلاس ختم کی جا رہی ہے اور غریبوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
“Incomes of the top 1% of the population have been growing exponentially for the past three or four decades, while those of the bottom 90% have stagnated. We have more money at the top, more people in poverty and the middle class is being eviscerated.” [19]
  • جوزف اسٹگلیز نے بتایا کہ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ ریگولیٹڈ بینکنگ کی موجودگی میں غیر ریگولیٹڈ بینکنگ کو کام کرنے کی اجازت ملی ہوئی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ چند مالدار یہی چاہتے ہیں۔ G7 ممالک کے بینک اگر ایسے آف شور بینکوں سے ڈیل کرنا بند کر دیں تو ایسے بینک خودبخود ختم ہو جائیں گے۔ لیکن وہ اس لیے قائم ہیں کیونکہ معیاری بینک ان سے لین دین کرتے ہیں۔

You ask why, if there's an important role for a regulated banking system, do you allow a non-regulated banking system to continue? It's in the interest of some of the moneyed interests to allow this to occur. It's not an accident; it could have been shut down at any time. If you said the US, the UK, the major G7 banks will not deal with offshore bank centers that don't comply with G7 banks regulations, these banks could not exist. They only exist because they engage in transactions with standard banks.[20]

مزید دیکھیے[ترمیم]

انگریزی ویکی پیڈیا پر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. http://www.nytimes.com/2004/02/24/business/un-study-finds-global-trade-benefits-are-uneven.html
  3. http://www.nytimes.com/2009/09/15/business/15views.html
  4. http://www.nytimes.com/gwire/2009/09/09/09greenwire-at-long-last-environmental-supplement-to-gdp-t-49456.html
  5. http://www.huffingtonpost.com/joseph-e-stiglitz/the-innovation-enigma_b_4937492.html
  6. http://www.tandfonline.com/doi/abs/10.1080/08913810902934133
  7. http://news.bbc.co.uk/2/hi/south_asia/6195617.stm
  8. http://www.linkedin.com/groups/Peoples-Economics-Alternative-Solutions-4878927
  9. http://www.forbes.com/sites/davos/2009/01/29/where-do-bankers-smile-on-the-davos-party-circuit/
  10. http://www.jstor.org/stable/2296910
  11. http://www.prospect.org/csnc/blogs/ezraklein_archive?month=01&year=2009&base_name=pharmaceutical_innovation
  12. http://www.deccanherald.com/content/305418/indian-farmers-better-scientists-nobel.html
  13. http://www.nature.com/articles/454373b
  14. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12278641d — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  15. http://www.nobelprize.org/nobel_prizes/economic-sciences/laureates/2001/
  16. Elites Get the Stimulus … and the Little Guy Gets the Austerity
  17. Privatization – which Stiglitz said could more accurately be called, Briberization.’
  18. The History of the "Money Changers"
  19. Sprott Money
  20. "Offshore banking, the secret threat to America"۔ Dissent Magazine۔ Spring 2003۔ اصل سے جمع شدہ July 23, 2012 کو۔