جوزف اسٹگلیز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Joseph Stiglitz
New Keynesian economics
Joseph E. Stiglitz - cropped.jpg
شعبہ کلیاتی معاشیات، public economics، information economics
اثرات جان مینارڈ کینز، رابرٹ سولو، جیمز مرلیس
متاثر پاول کرگمین، Jason Furman، Stephany Griffith-Jones، Huw Dixon
شراکتیں Screening، taxation, unemployment
World Bank Chief Economist
عہدہ سنبھالا
1997–2000
پیشرو Michael Bruno
جانشین Nicholas Stern
17th Chair of the Council of Economic Advisors
عہدہ سنبھالا
28 جون 1995 – 13 فروری 1997
صدر Bill Clinton
پیشرو Laura Tyson
جانشین Janet Yellen
ذاتی تفصیلات
پیدائش Joseph Eugene Stiglitz
9 فروری 1943 (1943-02-09) ‏(74)
گری، انڈیانا
قومیت United States
سیاسی جماعت ڈیموکریٹک
شریک حیات جین ہناوے (1978–?; طلاق)
Anya Schiffrin (شادی۔ 2004)
مادر علمی Amherst College
میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ برائے ٹیکنالوجی

جوزف اسٹگلیز (Joseph Eugene Stiglitz) ایک یہودی امریکی ماہر معاشیات ہے۔ وہ کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ہے۔ اسے 2001 میں معاشیاتی سائینس میں نوبل انعام مل چکا ہے۔ جوزف اسٹگلیز ورلڈ بینک میں چیف اکونومسٹ کے عہدے پر کام کر چکا ہے اور امریکی صدر کلنٹن کی کونسل آف اکونومک ایڈوائزر کا چیئرمین بھی رہ چکا ہے۔ وہ بہت ساری کتابوں کا مصنف ہے۔ 2009 ء میں اس نےبیان دیا تھا کہ امریکی وزیر خزانہ Geithner کا منصوبہ toxic asset plan دراصل امریکی عوام کی دولت پر ڈاکہ ہے۔ [1]

ورلڈ بینک کے بارے میں وہ بتاتا ہے کہ مختلف ممالک کو بینکوں کا غلام بنانے کے لیے ورلڈ بینک کا چار مرحلوں پر مشتمل یہ منصوبہ ہوتا ہے۔

پہلا مرحلہ۔ نج کاری[ترمیم]

اس مرحلے میں اس ملک کے لیڈروں کو رشوت دے کر اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے اثاثے کئی ارب ڈالر کم قیمت پر ورلڈ بینک کے ہاتھوں بیچ دیں۔ اس کے لیے ان بددیانت لیڈروں کو دس فیصد کمیشن دیا جاتا ہے جو انکے سوئیس بینک کے خفیہ اکاونٹ میں جمع ہو جاتا ہے۔[2]

دوسرا مرحلہ۔ سرمائے کی آزادانہ منتقلی[ترمیم]

اس مرحلے میں وہ سارے قوانین منسوخ کرائے جاتے ہیں جو سرمایہ بیرون ملک بھیجنے میں آڑے آتے ہیں یا ان پر ٹیکس کا تقاضا کرتے ہیں۔ پھر باہر سے بڑی مقدار میں سرمایہ اس ملک میں داخل ہوتا ہے اور جائیدادوں کی قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس ملک کی کرنسی کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ ملک بہت تیزی سے ترقی کرنے والا ہے۔ عین اس موقع پر بیرونی سرمایہ اچانک ملک سے باہر چلا جاتا ہے اور معیشت بُری طرح بیٹھ جاتی ہے۔
اب اس ملک کو آئی ایم ایف کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے اور آئی ایم ایف اس شرط پر مدد فراہم کرتا ہے کہ شرح سود میں 30 سے 80 فیصد تک اضافہ کیا جائے۔ یہ سب انڈونیشیا اور برازیل میں ہو چکا ہے اور اس کے علاوہ ایشیا اور جنوبی امریکا کے کئی ممالک میں بھی ہوا ہے۔ بلند شرح سود کی وجہ سے اس ملک پر غربت چھا جاتی ہے، جائیدادوں کی قیمتیں بہت زیادہ گر جاتی ہیں، صنعتی پیداوار صفر کی سطح پر آ جاتی ہے اور حکومتی ادارے مفلس ہو جاتے ہیں۔

تیسرا مرحلہ۔ مہنگائی اور بد امنی[ترمیم]

خراب معیشت اور کرنسی کی گرتی ہوئی قیمت کی وجہ سے اس ملک میں مہنگائی بہت بڑھ جاتی ہے۔ جب غذائی اجناس، پانی اور گھریلو استعمال کی بجلی گیس کی قیمت بڑھتی ہے تو اس ملک میں عوامی بے چینی بڑھتی ہے اور پہلے سے لگائے ہوئے اندازے کے مطابق جرائم اور فسادات شروع ہو جاتے ہیں۔ امن و امان کی بگڑتی صورتحال دیکھ کر اس ملک کے سرمایہ دار اپنے پیسے دوسرے ممالک جنہیں وہ محفوظ تصور کرتے ہیں وہاں منتقل کر دیتے ہیں۔ اس طرح حکومت کے بینک کنگال ہو جاتے ہیں۔

چوتھا مرحلہ۔ آزاد تجارت[ترمیم]

اب وہ وقت ہوتا ہے جب بین الاقوامی کارپوریشنیں ان ممالک کا رخ کرتی ہیں اور مقامی صنعت کو کچل دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امریکا اور یورپ ان بیچارے ممالک کی زراعتی پیداوار کی اپنے ہاں درآمد پر پابندی لگا دیتے ہیں۔ اب ان ممالک کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا جسے بیچ کر وہ کما سکیں۔ امیر ممالک اپنی دوائیں تک اتنی مہنگی کر دیتے ہیں کہ ان غریب ممالک میں بیماری اور موت کی شرح بہت بڑھ جاتی ہے۔ اس میں کتنے ہی لوگوں کا نقصان کیوں نہ ہو، بینکار ہمیشہ نفع میں رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے قرضہ لینے والے ہر ترقی پزیر ملک پر قرضہ لینے کی شرط ہی یہ رکھی ہے کہ بجلی پانی ٹیلیفون اور گیس کے نظام پر انکا کنٹرول ہو گا۔ اندازا ہے کہ عوام کی اس دولت کی مالیت 4000 ارب ڈالر ہے۔[3]

اقتباس[ترمیم]

کینیڈا کے شہر کیوبک میں اکتوبر 2016 میں ہونے والی ایک کانفرنس میں جوزف اسٹگلیز نے بتایا کہ پچھلی تین یا چار دہائیوں سے دنیا کے امیر ترین ایک فیصد افرادکی آمدنی انتہائی تیزی سے بڑھ رہی ہے جبکہ 90 فیصد غریب افراد کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہو رہا۔اعلیٰ ترین طبقہ کی دولت میں بہت اضافہ ہوا ہے،مڈل کلاس ختم کی جا رہی ہے اور غریبوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

“Incomes of the top 1% of the population have been growing exponentially for the past three or four decades, while those of the bottom 90% have stagnated. We have more money at the top, more people in poverty and the middle class is being eviscerated.” [4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

انگریزی ویکی پیڈیا پر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]