امرتیہ سین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(امرتیاسین سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
امرتیاسین
অমর্ত্য সেন
Sen in 2010
Sen in 2010

معلومات شخصیت
پیدائش 3 نومبر 1933 (85 سال)[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
رہائش نیو یارک، امریکا
قومیت Indian
رکن امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون،  امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ Nabaneeta Dev (1958–1976)
Eva Colorni (1978–1985)
Emma Rothschild (m. 1991)
اولاد انترا دیو سین(بیٹی)
Nandan Sen(بیٹی)
اندرانی(بیٹی)
کبیر (بیٹا)
عملی زندگی
مادر علمی پریزیڈنسی یونیورسٹی، کولکاتا (BA)،
ٹرینیٹی کالج، کیمبرج (BA, MA, PhD)
پیشہ ماہر معاشیات،  استاد جامعہ،  فلسفی،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ ہارورڈ،  لندن اسکول آف اکنامکس،  دہلی یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر
متاثر
اعزازات
نوبل میموریل انعام برائے معاشیات (1998)
بھارت رتن (1999)
National Humanities Medal (2012)[6]
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

امرتیا کمار سین (پیدائش :3 نومبر، 1933ء ) ریاست مغربی بنگال میں جنم لینے والے امرتیا سین نے قحط کی وجوہات، اس کے سدباب یا اس کے اثرات کو کم تر کرنے، خوراک کی حقیقی قلت یا جعلی بحران سے متعلق امور پر تحقیق کی اور عملی حل پیش کیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے شماریے برائے انسانی ترقی United Nations Human Development Index کی تیاری میں اہم کردار نبھایا۔ ان دنوں پروفیسر امرتیا سین لندن کی ہارورڈ یونیورسٹی میں اقتصادیات اور فلسفے کے مضامین پڑھاتے ہیں۔ وہ غربت کے بنیادی اسباب پر کی گئی اپنی تحقیق کے حوالے سے اقتصادیات کا نوبل انعام اپنے نام کرچکے ہیں۔ انہیں 1998ء میں نوبل انعام دیا گیا تھا اور اب انہیں انسانیت کی خدمت کے زمرے میں امریکا کا نیشنل میڈل دیا گیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6cz3zhb — بنام: Amartya Sen — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. Amartya Sen (2010)۔ The idea of justice۔ London: Penguin۔ آئی ایس بی این 978-0-14-103785-1۔ 
  4. Deneulin، Séverine (2009). "Book reviews: Intellectual roots of Amartya Sen: Aristotle, Adam Smith and Karl Marx". Journal of Human Development and Capabilities (Taylor and Francis) 10 (2): 305–306. doi:10.1080/19452820902941628. http://dx.doi.org/10.1080/19452820902941628۔ 
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12041027j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. "President Obama Awards 2011 National Humanities Medals"۔ National Endowment for the Humanities۔ 13 دسمبر 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 جون 2014۔