آدم سمتھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آدم سمتھ
آدم سمتھ

آدم سمتھ (Adam Smith) ایک برطانوی ماہر معاشیات اور فلسفی تھا۔ 1723ء سکاٹ لینڈ میں پیدا ہوا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ گلاسگو یونیورسٹی میں فلسفے کا استاد رہا۔ اس کی وجہ شہرت اس کی کتاب The Wealth of Nations ہے جو پہلی دفعہ 1776ء میں چھپی تھی۔ سمتھ نے شادی نہیں کی۔

سمتھ نے سونے کے بجاۓ تعلیم یافتہ، ہنر مند اور محنتی افراد کو کسی ملک کی اصل دولت قرار دی۔ اس نے پرانے دور کی پابندیوں کی محالفت کی جو صنعتی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ تھیں۔ اس نے کہا کہ اگر کام کو تقسیم کر دیا جائے تو پیدوار زیادہ ہو سکتی ہے۔

تنقید[ترمیم]

ناقدوں کا کہنا ہے کہ اس نے معیشت دانوں میں کنفیوژن پھیلایا۔

اس نے بینک نوٹ، کریڈٹ، ڈیٹ اور بل آف ایکسچینج وغیرہ کو زیر گردش سرمائیہ (Circulating Capital) کہا جبکہ یہ بینکوں کو عطا شدہ حقوق (rights) ہیں۔

اسی طرح اس نے محنت مزدوری اور مہارت کو Fixed Capital بتایا جبکہ یہ تجارتی دولت میں شمار ہوتے ہیں۔

اس نے intrinsic cost کو intrinsic value کہا جو ممکن نہیں ہے۔ value ہمیشہ extrinsic ہوتی ہے۔

اسمتھ نے خریداری (purchase) کو صرف کرنا (consume) کہا۔

فکسڈ کیپیٹل اور فلوٹننگ کیپیٹل کے بارے میں بھی اس نے غلطیاں کیں۔

اس نے قدر (value) کا تعلق طلب (demand) کی بجائے مزدوری (labour) بتایا۔ [1]

مزید دیکھیئے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. THE THEORY AND PRACTICE OF BANKING, 1883