خام مال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ایک روسی زبان میں چھپے ورقیے کی تصویر۔ اس تصویر یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح خام پھلوں سے رس تیار کیا جاتا ہے۔

خام مال سے مراد وہ اشیاء ہیں جن کو کسی مخصوص مصنوع کی تیاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً کپاس کو کپڑا بنانے کے لیے اور گاڑی کے مختلف پرزوں کو گاڑی بنانے کے لیا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک صنعت کا تیار مال دوسری صنعت کے لیے خام مال کا کام دے سکتی ہے۔

مثالیں[ترمیم]

1۔ گنے کو خام مال کے طور استعمال کرتے ہوئے گنے کا رس، گڑ اور شکر کی تیاری ممکن ہو سکتی ہے۔
2۔ درختوں کی لکڑی سے کاغذ کی تیاری ممکن ہے۔
3۔ مٹی کو خام مال کے طور استعمال کرتے ہوئے گھڑے، صراحی، مٹی کے برتن اور مورتیاں بنائی جا سکتی ہیں۔
4۔ درختوں کی لکڑی سے فرنیچر کا کافی سامان تیار ہو سکتا ہے۔

خام مال کی اہمیت[ترمیم]

دنیا کے کئی ممالک میں خام مال کی اپنی الگ ہی اہمیت ہے۔ مثلًا جاپان جیسا ملک 70 فی صد پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے۔ پھر بھی کئی ترقی پزیر ممالک سے خام مال حاصل کر کے مکمل اشیا یا مصنوعات بناکر دنیا میں فروخت کرتا ہے۔ ایسے میں 2017ء میں پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن ( پی سی ڈی ایم اے ) کے چیئرمین محمد عارف لاکھانی نے اپنے ملک کی وزارت تجارت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے 250 درآمدی آئٹمز پر ممکنہ ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کے فیصلے کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے درآمدی آئٹمز پر اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کیے جانے کی زیر غور تجویز کو ملکی معیشت کی ترقی میں رکاوٹ کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے کسی بھی فیصلے سے پہلے وزارت تجارت اور ایف بی آر کو اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضرور کرنی چاہیے تاکہ ملکی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیے بغیر اتفاق رائے سے فیصلہ کیاجاسکے۔ مزید تفصیلات کا تجزیہ کرتے ہوئے اس تجویز میں یہ بات پائی گئی تھی کہ 250 درآمدی آئٹمز میں ایسے آئٹمز بھی شامل کیے گئے ہیں جو روز مرہ کی گھریلو استعمال کی اہم غذائی اشیا ہیں جن میں دالیں اور پھل بھی شامل ہیں جب کہ زرعی شعبے کے 100 کے قریب آئٹمز پر آر ڈی عائد کرنے کی تیاری کی جارہی ہے جو کسی بھی صورت دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]