کیلانتن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کیلانتن
State
Kelantan Darul Naim
کیلانتن
پرچم
نعرہ: Berserah kepada Tuhan Kerajaan Kelantan
ترانہ: Selamat Sultan
   Kelantan in    Malaysia
   Kelantan in    Malaysia
Capitalکوتا بھرو
Royal capitalکوتا بھرو
حکومت
 • SultanSultan Muhammad V
 • Menteri BesarNik Abdul Aziz Nik Mat (PAS)
رقبہ[1]
 • کل15,099 کلو میٹر2 (5,830 مربع میل)
آبادی (2010)[2]
 • کل1,459,994
 • کثافت97/کلو میٹر2 (250/مربع میل)
Human Development Index
 • HDI (2010)0.659 (medium) (13th)
ملائیشیا میں ڈاک رموز15xxx to 18xxx
ملائیشیا میں ٹیلیفون نمبر09
گاڑی کی نمبر پلیٹD
صوبہ پاتانی control[حوالہ درکار]1603
Siamese control1842
Japanese occupation1942-1945
Accession into Federation of Malaya1948
ویب سائٹhttp://www.kelantan.gov.my

کیلانتن ملائیشیا کی ایک ریاست ہے۔ عربی میں اسے دار لنعیم کہتے ہیں۔

کیلنٹن ملائیشیا کی ایک ریاست ہے[3] یہ شمال مشرقی ملیشیا میں واقع ہے اور اس کی شمالی سرحد تھائی لینڈ کے ساتھ مشترک ہے ۔ یہ ریاست ملائشیا کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ دیہی اور کم ترقی یافتہ ہے ، جس کی وجہ سے یہاں کی ثقافت بھی خاص ہے۔ یہاں مالائی زبان بھی کچھ مختلف ہے ، حالانکہ دیگر مالائی بولی بولنے والے اسے کافی حد تک سمجھ سکتے ہیں۔ اورنگ اسلی نامی ملانیہ میں قبائلی برادری کیلنٹن میں بھی پائی جاتی ہے ۔


شاہی کنبہ اور رسمی نام[ترمیم]

ملائشیا میں ، مختلف ریاستوں کے پرانے شاہی خاندانوں کو آئینی حیثیت حاصل ہے۔ کیلنٹن کے آئینی صدر کو سلطان کہا جاتا ہے ، حالانکہ یہ عہدہ کسی حقیقی انتظامی اختیار کے ساتھ نہیں آتا ہے۔ ملائیشیا میں کچھ ریاستوں کو عربی زبان کے رسمی نام بھی دیے جاتے ہیں اور کیلنٹن کا نام "کیلنٹن دار النعیم" (کلتنتن دار النّعیم) رکھا جاتا ہے ، یعنی "کیلنٹن ، خوشی کا گھر"۔

مذید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Laporan Kiraan Permulaan 2010". Jabatan Perangkaan Malaysia. صفحہ 27. 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 24 جنوری 2011. 
  2. "Laporan Kiraan Permulaan 2010". Jabatan Perangkaan Malaysia. صفحہ iv. 07 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 24 جنوری 2011. 
  3. https://hi.wikipedia.org/wiki/%E0%A4%95%E0%A5%87%E0%A4%B2%E0%A4%82%E0%A4%A4%E0%A4%A8#cite_note-1