ملاکا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ملاکا
Malacca

Melaka
ریاست
Melaka Negeri Hang Tuah
Melaka Negeri Bersejarah
ملاکا Malacca
پرچم
ملاکا Malacca
قومی نشان
نعرہ: "Bersatu Teguh"
ترانہ: Melaka Maju Jaya
Map showing the location of the state of Malacca within Malaysia
   ملاکا    ملائیشیا میں
دارالحکومت ملاکا شہر
حکومت
 • سپیکر ریاست محمد خلیل یعقوب
 • وزیر اعلی محمد علی رستم
رقبہ[1]
 • کل 1,664 کلو میٹر2 (642 مربع میل)
آبادی (2010)[2]
 • کل 788,706
 • کثافت 470/کلو میٹر2 (1,200/مربع میل)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
 • 2010 0.742 (اعلی) (چوتھا)
رمزِ ڈاک 75xxx تا 78xxx
رمز بعید تکلم 06
گاڑی کی نمبر پلیٹ M
سلطنت ملاکا پندھرویں صدی
پرتگالی کنٹرول 24 اگست 1511
ڈچ کنٹرول 14 جنوری 1641
برطانوی تسلط 17 مارچ 1824
جاپانی قبضہ 11 جنوری 1942
مالایان یونین میں شمولیت 1 اپریل 1946 ء
ملایا کے وفاق میں شمولیت 1 فروری 1948 ء
ملایا کے فیڈریشن کے حصے کے طور پر آزادی 31 اگست 1957 ء
ویب سائٹ http://www.melaka.gov.my

ملاکا (Malacca) (مالے: Melaka) پرلس اور پینانگ کے بعد تیسری سب سے چھوٹی ملائیشیائی ریاست ہے۔ یہ آبنائے ملاکا کے ساتھ مالے جزیرہ نما کے جنوبی علاقے میں واقع ہے۔

ملاکا عالمی ثقافتی ورثہ کے طور پر 7 جولائی 2008 ء کے بعد سے یونیسکو کی طرف سے درج ہوتا ہے ۔ [3]

آبادیات[ترمیم]

ملاکا کی آبادی 2010 کے مطابق 788،706 ہے

  • مالے: 57%
  • چینی: 32%,
  • ہندوستانی
  • کرستانگ
  • ڈچ
ملاکا میں مذہب - 2010 مردم شماری[4]
مذہب فیصد
اسلام
  
66.1%
بدھ مت
  
24.2%
ہندو مت
  
5.7%
مسیحیت
  
3.0%
چینی نسلی مذہب
  
0.2%
دیگر
  
0.6%
لادین
  
0.2%

نگارخانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Laporan Kiraan Permulaan 2010"۔ Jabatan Perangkaan Malaysia۔ صفحہ 27۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جنوری 2011۔
  2. "Laporan Kiraan Permulaan 2010"۔ Jabatan Perangkaan Malaysia۔ صفحہ iv۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جنوری 2011۔
  3. https://www.star2.com/culture/2018/07/05/making-melaka-liveable/
  4. "2010 Population and Housing Census of Malaysia" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Department of Statistics, Malaysia۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-06-17۔ p. 13