کوالا لمپور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کوالا لمپور
Kuala Lumpur
وفاقی علاقہ اور شہر
  • Wilayah Persekutuan Kuala Lumpur
  • وفاقی علاقہ کوالا لمپور
دیگر نقل نگاری
 • چینی 吉隆坡
 • تمل கோலாலம்பூர்
 • جاوی کوالا لومڤور
گھڑی وار اوپر بائیں سے: پیٹروناس ٹوئن ٹاور، پیٹلنگ اسٹریٹ، جامع مسجد کوالا لمپور اور گومباک/دریائے کلانگ کا ملاپ، قومی یادگار، قومی مسجد، کوالا لمپور کی عمارات۔ وسط: کوالا لمپور ٹاور
کوالا لمپور
پرچم
کوالا لمپور
مہر
عرفیت: کے ایل، روشنیوں کا باغ شہر
نعرہ: Bersedia Menyumbang Bandaraya Cemerlang
(انگریزی: Ready to Contribute towards an Excellent City)
کوالا لمپور is located in ملائیشیا
کوالا لمپور
کوالا لمپور
کوالا لمپور is located in ایشیا
کوالا لمپور
کوالا لمپور
متناسقات: 03°08′52″N 101°41′43″E / 3.14778°N 101.69528°E / 3.14778; 101.69528متناسقات: 03°08′52″N 101°41′43″E / 3.14778°N 101.69528°E / 3.14778; 101.69528
ملک ملائیشیا
انتظامی علاقے
قیام 1859[1]
شہر کا درجہ 1 فروری 1972
وفاقی علاقہ کا درجہ 1 فروری 1974
حکومت
 • میئر نور ہاشم احمد
رقبہ[2]
 • وفاقی علاقہ اور شہر 243 کلو میٹر2 (94 مربع میل)
 • میٹرو 2,243.27 کلو میٹر2 (866.13 مربع میل)
بلندی[4] 66 میل (217 فٹ)
آبادی (2017 اندازاً)[5]
 • وفاقی علاقہ اور شہر 1,790,000 (اول)
 • کثافت 6,891/کلو میٹر2 (17,310/مربع میل)
 • میٹرو 7,200,000[3]
 • میٹرو کثافت 6,581/کلو میٹر2 (17,040/مربع میل)
 • نام آبادی کے ایل لائٹ / کوالا لمپورین
انسانی ترقیاتی اشاریہ
 • انسانی ترقیاتی اشاریہ (2017) 0.857 (انتہائی اعلی) (اول)
منطقۂ وقت ملائیشیا میں وقت (UTC+8)
ڈاک رمز 50000 تا 60000
شمسی تقویم UTC + 06:46:46
علاقہ کوڈ 03
گاڑیوں کا اندراج V اور W (ٹیکسی کے سوا تمام گاڑیوں کے لئے)
HW (ٹیکسیوں کے لیے)
آیزو 3166-2 MY-14
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ

کوالا لمپور (انگریزی: Kuala Lumpur) (جاوی: کوالا لومڤور؛ ملائیشیائی تلفظ: [ˈkualə, -a ˈlumpo(r), -ʊ(r)]), رسمی طور پر وفاقی علاقہ کوالا لمپور (Federal Territory of Kuala Lumpur) (مالے: Wilayah Persekutuan Kuala Lumpur) جسے مقامی طور پر اس کے مخفف کے ایل (KL) کے نام سے جانا جاتا ہے ملائیشیا کا قومی دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ ملائیشیا کے عالمی شہر کے طور پر اس کا رقبہ 243 مربع کلومیٹر (94 مربع میٹر) اور 2016ء کے مطابق اس کی آبادی تقریباً 1.73 ملین تھی۔ [6] کوالا لمپور عظمی جسے وادی کلانگ بھی کہا جاتا ہے ایک شہری علاقہ ہے جس کی آبادی 2017ء میں 7.25 ملین افراد تھی۔ [7] آبادی اور اقتصادی ترقی دونوں میں یہ جنوب مشرقی ایشیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرتے ہوئے میٹروپولیٹن علاقوں میں سے ایک ہے۔

کوالا لمپور ملائیشیا کا ثقافتی، مالیاتی اور اقتصادی مرکز ہے۔ یہاں پارلیمان ملائیشیا اور شاہ ملائشیا (یانگ دی‌ پرتوان آگونگ) کی سرکاری رہائش گاہ استانا نگارا بھی موجود ہے۔ شہر میں پہلے ایگزیکٹو اور وفاقی حکومت کی عدلیہ کی شاخوں دفاتر بھی موجود تھے تاہم 1999ء کے آغاز میں یہ ملائیشیا کے وفاقی انتظامی مرکز پتراجایا منتقل کر دیے گئے ہیں۔ [8] تاہم سیاسی اداروں کے بعض حصے اب بھی کوالا لمپور میں موجود ہیں۔ کوالا لمپور ملائیشیا کے تین وفاقی علاقہ جات میں سے ایک ہے [9] جو کہ جزیرہ نما ملائیشیا کے وسطی مغربی ساحل پر ریاست سلنگور میں واقع ہے۔ [10]

1990ء کے دہائی سے شہر نے بہت سے بین الاقوامی کھیلوں، سیاسی اور ثقافتی تقریبات کی میزبانی کی ہے جن میں 1998ء کے دولت مشترکہ کھیل اور 2017ء کے جنوب مشرقی ایشیائی کھیل بھی شامل ہیں۔ کوالا لمپور حالیہ دہائیوں میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کر چکا ہے۔ پیٹروناس ٹوئن ٹاورز جو کہ 1998ء سے 2004ء تک دنیا کی طویل ترین عمارت تھی جو کہ اب بھی دنیا کی طویل ترین جڑواں عمارتیں ہیں کا گھر ہے۔ پیٹروناس ٹوئن ٹاورز جو کہ ملائیشیا ترقی کی ایک مشہور علامت بن گئے ہیں۔

کوالا لمپور میں ایک سڑکوں کا نظام موجود ہے جبکہ یہاں وسیع پیمانے پر عوامی نقل و حمل کی سہولیات بھی موجود ہیں جو کہ وادی کلانگ مربوط ٹرانزٹ نظام ہے۔ ان میں ماس ریپڈ ٹرانزٹ (ایم آر ٹی)، لائٹ میٹرو (ایل آر ٹی)، بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی)، کے ایل مونوریل، تیز رفتار مسافر ریل اور ایئرپورٹ ریل لنک شامل ہیں۔ کوالا لمپور سیاحت اور خریداری کے لئے دنیا کے معروف شہروں میں سے ایک ہے، 2017ء میں یہ دنیا میں دسواں سب سے زیادہ سیاحوں کی میزبانی کرنے والا شہر تھا۔ [11] شہروں کے دنیا دس بڑے شاپنگ مالوں میں سے تین شہر میں موجود ہیں۔ [12]

کوالا لمپور اکنامسٹ انٹیلیجنس یونٹ کی عالمی قابل سکونت درجہ بندی میں دنیا میں 70ویں نمبر پر اور جنوب مشرقی ایشیا میں سنگاپور کے بعد دوسرے نمبر پر تھا۔ [13] اکنامسٹ انٹیلیجنس یونٹ کے 2017ء کے محفوظ شہر اشاریہ میں کوالا لمپور دنیا میں 60 شہروں میں سے 31ویں نمبر پر تھا جو کہ بیجنگ اور شنگھائی سے بہتر ہے۔ [14] کوالا لمپور کا شمار نئے 7 عجائبات شہر میں کیا گیا ہے، [15] اور یونیسکو کی عالمی کتاب دار الحکومت میں 2020ء میں اسے المی دار الحکومت کا درجہ دیا گیا ہے۔ [16][17]

فہرست

تاریخ[ترمیم]

کوالا لمپور ملائیشیا کا سب سے بڑا شہر اور ملک کا قومی دار الحکومت بھی ہے۔ کوالا لمپور کی تاریخ انیسویں صدی کے وسط میں شروع ہوتی ہے جب قلعی کی کان کنی کی صنعت میں اضافہ ہوا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں سلنگور میں ربڑ کے پودوں کی کاشت سے شہر کی ترقی میں نمایاں اضافہ ہوا۔ یہ سلطنت سلنگور کا دار الحکومت بنا، بعد میں یہ وفاقی مالے ریاستیں، اتحاد ملایا اور آخر کار ملائیشیا کا بھی دار الحکومت بنا۔

اشتقاقیات[ترمیم]

جامع مسجد کوالا لمپور کے مقام پر دریائے گومباک اور دریائے کلانگ کا سنگم۔ ابتدائی طور پر کوالا لمپور دریائے کلانگ کے مشرقی طرف آباد ہوا تھا۔

مالے زبان میں کوالا لمپور کے معنی "گدلا سنگم" کے ہیں۔ کوالا کے معنی دو دریاوں کا سنگم جبکہ لمپور کے معنی گدلا یا کیچڑ سے لت پت کے ہیں۔ [18][19] ایک خیال یہ ہے کہ اس کا نام 1820ء کی دہائی میں دریائے کلانگ پر سب سے اہم قلعی کان کن آبادی سونگائی لمپور (لفظی معنی گدلا دریا) کے نام پر ہے۔ [20] تاہم اس نظریے پر یہ سوالات اٹھائے گئے کہ کوالا لمپور دریائے گومباک اور دریائے کلانگ ککے سنگم پر واقع ہے تو اس کا نام کوالا گومباک ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس مقام پر دریائے گومباک دریائے کلانگ میں شامل ہوتا ہے اور کوالا آبی سنگم کو کہا جاتا ہے۔ [21] کچھ لوگ دلیل یہ بھی دیتے ہیں کہ سونگائی لمپور دراصل دریائے گومباک کا ہی نام ہے لہذا مقام کو اسی مناسبت سے یہ نام دیا گیا ہو گا۔ [22] تاہم کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ سونگائی لمپور (دریائے لمپور) ایک اور دریا تھا جو دریائے کلانگ میں اس مقام سے ایک میل قبل غالباً باتو غاروں کے شمال میں اس میں شامل ہوتا تھا۔ [21] یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ کوالا لمپور پرانا نام اصل میں پینگکالان لمپور (Pengkalan Lumpur) ("گدلا مقام نزول") بالکل اسی طرح جیسے کہ کلانگ کا قدیم نام پینگکالان باتو (Pengkalan Batu) ("پتھر مقام نزول") جو کہ وقت کے ساتھ بگڑ کر کوالا لمپور بن گیا۔ [22] ایک اور تجویز یہ بھی ہے ابتدائی طور پر ایک کینٹنی لفظ لام-پا تھا جس کے لفظی معنی "سیلابی جنگل" یا "بوسیدہ جنگل" کے ہیں۔ تاہم ان مفروضوں کے حکایات اور روایات کے علاوہ کوئی ٹھوس معاصر ثبوت نہیں ہیں۔ [23] یہ بھی ممکن ہے کہ نام کسی اور لفظ کا بگاڑ ہو جو کہ تاریخ کے اوراق میں گم ہو چکا ہے۔ [21]

ابتدائی دور[ترمیم]

تاریخی وابستگی
Flag of Selangor.svg سلنگور 1857–1974

Flag of the Federated Malay States (1895–1946).svg وفاقی مالے ریاستیں 1895–1942; 1945–1946
سلطنت جاپان 1942–1945
Flag of the Federated Malay States (1895–1946).svg اتحاد ملایا 1946–1948
Flag of Malaya.svg ملایا وفاق 1948–1963

Flag of Malaysia.svg ملائیشیا 1963–تاحال
1884ء میں کوالا لمپور، بائیں طرف پادانگ

موجودہ کوالا لمپور کے مقام پر آبادی کا آغاز 1857ء میں ہوا جو کہ دریائے گومباک اور دریائے کلانگ کے سنگم کا مقام تھا۔ مالے زبان میں کوالا لمپور کے لفظی معنی "گدلا سنگم" کے ہیں۔ اس مقام کی قسمت اس وقت جاگی جب سلطنت سلنگور کے شاہی خاندان کے ایک فرد نے وادی کلانگ میں قلعی کی کانوں کی کھدائی کا کام شروع کیا۔ 87 چینی کانوں کی تلاش کرنے والے ماہرین امپانگ کے علاقے میں آئے جو کہ اس وقت جنگل تھا۔ باوجود اسے کے کہ 69 کان ماہریں نا مناسب حالات کی وجہ سے مر گئے تاہم یہاں قلعی کی کان کنی کا مرکز قائم ہو گیا۔ [24] اس نے قدرتی طور پر قلعی کے تاجروں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اس وقت ماندایلینگ قوم سے تعلق رکھنے والے سماٹرا کے سلطان پواسا پہلے ہی امپانگ کے قریب تجارت کر رہے تھے۔ لوکوت میں دو چینی تاجر ہیو سیئو (Hiu Siew) اور یاپ اہ سزے (Yap Ah Sze) کان کنوں کو اپنی دکانوں سے اشیائے خوردونوش فراہم کر رہے تھے، انہوں نے کوالا لمپور میں بھی کان کنوں کے لیے اپنی دکانیں قائم کیں۔ [25][26] کوالا لمپور دریائے کلانگ پر وہ آخری نقطہ تھا جہاں کشتی سے سامان آسانی سے لایا جا سکتا تھا۔ اسی وجہ سے یہ سامان کی درامد اور برامد کا مرکزی نقطہ بن گیا۔ [27]

کان کنی کے مرکز کے طور پر بننے والا قصبہ دریائے کلانگ کے سنگم پر ترقی پاتا رہا اور میدان پاسار (Medan Pasar) (مرکزی بازار) اس کا تجارتی مرکز بن گیا۔ زیادہ تر چینی میدان پاسار کے قریب رہائش پذیر ہوئے، جبکہ مالے، چھتیار ہندوستانی اور مسلم ہندوستانی قصبے کے مزید شمالی علاقے گاؤں راوا میں رہائش پذیر ہوئے۔ جاوا اسٹریٹ (موجودہ جالان تن پیراک) چینی اور مالے علاقوں کے درمیان سرحد تھی۔ قصبے کے مرکز سے کئی سڑکیں نکلیں جو امپانگ (جالان امپانگ)، پودو (جالان پودوباتو (باتو روڈ)، پیٹلنگ (پیٹلنگ اسٹریٹ) اور دامانسارا (جالان دامانسارا) تھیں جہاں کان کن رہائش پذیر ہونا شروع ہوئے۔ [28]

یاپ اہ لوئے[ترمیم]

Yap Ah Loy
کاپیتان یاپ اہ لوئے، کوالا لمپور کے تیسرے کاپیتان سینا اور
Frank Swettenham
فرینک سویٹنہیم،
کوالا لمپور کی تیزی سے ترقی میں بنیادی کردار مانے جاتے ہیں۔

چینی کمیونٹی کے رہنما جو چینی آبادی کا انتظام دیکھتے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بناتے تھے انہیں مقامی مالے سردار کی طرف سے کاپیتان سینا لکا لقب دیا جاتا تھا۔ ہیو سیئو لوکوت میں ایک کان کے مالک اور کوالا لمپور میں ابتدائی دکانوں کے مالک تھے کو پہلا کاپیتان سینا منتخب کیا گیا۔ [29] تاہم یہ تیسرے کاپیتان سینا یاپ اہ لوئے تھے جنہوں نے کوالا لمپور کے ابتدائی سالوں میں قصبے کی ترقی کے حوالے سے ایک گہرا اثر چھوڑا۔ انہوں نے کوالالمپور میں پہلا اسکول اور بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہ قائم کی۔ یاپ نے کوالا لمپور مؤثر طریقے سے امن و امان کو برقرار رکھا اور سرحدی انصاف کا نظام بھی قائم کیا۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ کوالا لمپور سلنگور کا تجارتی مرکز بنے۔ کاپیتان یاپ اہ لوئے ابتدائی کوالا لمپور کی تجارتی سرگرمیوں کے تمام پہلوؤں میں شامل تھے جس میں مارکیٹیں بشمول قحبہ خانے، جوئے خانے اور شراب خانے بھی شامل تھے۔

یاپ کے دور میں کوالا لمپور ایک خطرناک سرحدہ قصبہ تھا، یاپ جو خود بھی ہائی سان خفیہ سوسائٹی کا رکن تھا اور اس دور میں سرحدی لڑائیاں عام تھیں خاس طور پر ہائی سان اور گھی ہن گروہوں کے درمیان جو کہ کانچینگ اور راوانگ کے علاقوں سے تھے۔ 1870ء یاپ اہ سزے (کوالا لمپور کے ابتدائی سرخیل) کو یاپ اہ لوئے کا خاص دوست کل قتل ہو گیا جو ممکنہ طور پر چونگ چونگ نے کیا جو کانچینگ کا سردار تھا اور کوالا لمپور کا کاپیتان سینا بننا چاہتا تھا۔ [30]

سونگائی بیسی میں قلع کی کان کنی، 1910ء

کوالا لمپور سلنگور خانہ جنگی کا حصہ تھا جو سلنگور کے شہزادوں کے درمیان سیاسی اقتدار اور قلع کی سرنگوں کی آمدنی کے بارے میں تھی۔ چونگ چونگ نے راجا مہدی کا ساتھ دیا جبکہ یاپ اہ لوئے نے راجہ عبد اللہ اور تینگکو کودین کا ساتھ دیا۔ یاپ نے کوالا لمپور پر راجہ مہدی اور چونگ چونگ کی افواج کے حملوں کو ناکام بنایا۔ 1872ء میں راجا اسال اور سلطان پواسا جو ماندایلینگ قوم سے تعلق رکھتے تھے راجا مہدی کے حمایتی بن گئے، نے تینگکو کودین کے علاقے بوکیت ناناس کا محاصر کر لیا۔ تینگکو کودین کے جوانوں بشمول یورپی کرائے کے سپاہیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن وہ پیٹلنگ میں پکڑے گئے اور قتل کر دے گئے۔ کوالا لمپور کو جلا کر خاک کر دیا گیا۔ یاپ کلانگ کو فرار ہونے میں کامیاب ہوا جہاں اس نے ایک لڑاکا قوت کو دوبارہ اکھٹا کیا۔ یاپ اور تینگکو کودین نے 1873ء میں پاہانگ مالے لوگوں کی مدد سے کوالا لمپور کو دوبارہ حاصل کیا۔ [31]

خانہ جنگی کے دوران شہر کی تباہی کے باوجود یاپ کو کوالا لمپور نے دوبارہ تعمیر اور آباد کیا۔ یاپ نے شہر کو مشکل دور کے دوران بھی برقرار رکھا جب قلع کی قیمت 1870ء کی دہائی کے وسط میں کافی کم ہو گئی۔ اسے اس صورت حال سے شدید نقصان اٹھانا پڑا، تاہم 1879ء میں قلع کی قیمت میں دوبارہ اضافے نے کوالا لمپور کا مستقبل محفوظ کر دیا۔ [32]

برطانوی انتظامیہ[ترمیم]

1874ء میں سلطنت سلنگور کے سلطان عبد الصمد نے ایک برطانوی رہائشی نظام کی اجازت دی جس میں سلطان سربراہ ریاست رہیں گے۔ 1880ء میں کوالا لمپور سلنگور کا دار الحکومت بنا اور برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ کلانگ سے کوالا لمپور منتقل ہو گئی، اور تب کے برطانوی رہائشی منتظم ولیم بلوم فیلڈ ڈگلس نے فیصلہ کیا کہ حکومتی عمارتیں اور رہائش گاہیں دریا کے مغرب میں واقع ہونا چاہئے، جو کہ دریائے کلانگ مشرقی کنارے پر موجود چینی اور مالائی بستیوں سے الگ ہوں۔ سرکاری دفاتر اور ایک نیا پولیس ہیڈکوارٹر بوکیت امان پر تعمیر کیے گئے اور پادانگ ابتدائی طور پر پولیس کی تربیت کے لئے تیار کیا گیا۔ [33] برطانوی انتظامیہ کی طرف سے دو سو سے تین سو افراد پر مشتمل ایک پولیس فورس قائم کی گئی، ان میں سے اکثر مالے تھے جو دیہی ملاکا سے تھے بھرتی کیے گئے۔ اس کے علاوہ کچھ سکھ اور پنجابی بھی اس میں شامل تھے جنہیں ان کے خاندانوں سمیت یہاں لایا گیا اور ان میں سے بہت سے لوگ اپنے خاندان کو یہاں لایا اور یہ کوالا لمپور کے ابتدائی آبادی کا ایک اہم حصہ بنے۔ [34] سرکاری دفاتر بعد میں بوکیت امان سے ایک بہتے جگہ پر سلطان عبد الصمد عمارت میں منتقل ہو گئے جس کا رخ پادانگ کی طرف تھا جو کہ اب مردیکا چوک (آزادی چوک) ہے۔ یہ برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ کا مرکز بن گیا۔ [35][36]

سلطان عبد الصمد عمارت اور مردیکا چوک، کوالا لمپور، سنہ 1900۔ پیش منظر میں قدیم شاہی سلنگور کلب، بعد میں دوبارہ تعمیر کیا گیا

فرینک سویٹنہیم جو 1882ء میں رہائشی منتظم مقرر ہوئے انہیں کوالا لمپور کی تیزی سے ترقی اور قبصے کی ایک اہم شہری مرکز میں تبدیلی کا مرکزی کردار تسلیم کیا جاتا ہے۔ [37] ابتدائی کوالا لمپور ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جس کے بہت سے سماجی اور سیاسی مسائل تھے۔ عمارتیں لکڑی اور پرال سے بنائی گئیں جس کی وجہ سے پورا قصبہ آسانی سے آگ کا شکار ہو سکتا تھا، غیر مناسب نکاسی آب اور مناسب حفظان صحت کی کمی کی وجہ سے شہر بیماریوں سے دوچار تھا، اور اسے مسلسل سیلاب کا خطرہ رہتا تھا۔ 1870ء کی دہائی کے اواخر میں ہیضہ کی وبا پھیلنے سے شہر ایک بڑی تباہی سے دوچار ہوا اور بہت سے لوگ شہر سے نقل مکانی کر گئے۔ 4 جنوری 1881ء کو پورا شہر جل گیا اور اسی سال بعد میں شہر ایک بڑے سیلاب سے دوچار ہوا۔ فرینک سویٹنہیم نے برطانوی رہائشی منتظم بننے پر شہر کو گلیوں کی صفائی سے بہتر بنانا شروع کیا۔ اس نے ایسی شرائط مقرر کیں کہ عمارتوں کی تعمیر اینٹوں اور ٹائلوں سے کی جائے تا کہ وہ آسانی سے جلنے سے محفوظ رہیں۔ [37][38] اس نے کوالا لمپور کی وسیع سڑکوں کے ساتھ دوبارہ تعمیر اور سڑک با سڑک گھروں کو اینٹوں اور ٹائلوں سے بنی عمارتوں میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ یہ تعمیراتی پروگرام تقریباً پانچ سال تک جاری رہا۔ [38]

کاپیتان سینا یاپ اہ لوئے نے کوالا لمپور کی تعمیر نو کے لیے ایک بڑا وسیع علاقہ خریدا جہاں اس نے اینٹیں بنانے کی صنعت قائم کی یہ علاقہ برک فیلڈز آج بھی اسی نام سے موسوم ہے۔ [39] پرال سے بنی تباہ شدہ عمارتوں کی دوبارہ تعمیر اینٹوں اور ٹائلوں سے کی گئی، اور نئی اینٹوں سے بنی عمارتوں میں سے اکثر "پانچ پاؤں راستے" کے ساتھ ساتھ چینی بڑھئی کے کام سے خاص طور پر آراستہ تھیں۔ اس کے نتیجے میں اس علاقے میں مخصوص طرز تعمیر کی دکان-گھر کی تعمیرات سامنے آئیں۔

کوالا لمپور ریلوے اسٹیشن شہر کی تیزی سے ترقی کرنے کی ایک علامت تھی

فرینک سویٹنہیم نے کلانگ اور کوالا لمپور کے درمیان ریلوے لائن کی تعمیر کا آغاز کیا جس کا افتتاح 1886ء میں ہوا۔ اس کی وجہ سے کوالا لمپور تک رسائی میں اضافہ ہوا اور شہر نے تیز رفتاری سے ترقی کی۔ آبادی جو 1884ء میں 4،500 تھی 1890ء میں بڑھ کو 20,000 ہو گئی۔ [40] 1896ء میں وفاقی مالے ریاستیں بھی فرینک سویٹنہیم کے ساتھ شامل ہو گئیں اور سویٹنہیم نیا رہائشی جنرل بنا۔ اس کے بعد اس نے کوالا لمپور کو دار الحکومت بنایا۔

جیسا کہ زیادہ تر مرکزی کوالا لمپور ابتدائی برسوں میں یک نامیاتی انداز میں بغیر اہم منصوبہ بندی کے بنا اس لیے شہر کے پرانے حصوں میں سڑکیں تنگ، منحنی اور پیچیدہ ہیں۔ اس حصے میں فن تعمیر ایک منفرد نوآبادیاتی قسم کا ہے جو کہ یورپی اور چینی طرز تعمیر کا ایک امتزاج ہے۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ حفظان صحت، کچرے کے ضائع کرنے اور دیگر صحت کے معاملات کے انتظام پر گہرا دباؤ آیا۔ اسی وجہ سے 14 مئی 1890ء کو ایک صحت کاری بورڈ بنایا گیا جو شہر میں حفظان صحت، سڑکوں کی دیکھ بھال، سڑکوں کی روشنی، منصوبہ بندی اور دیگر افعال کا ذمہ دار تھا۔ یہ آخر کار "کوالا لمپور میونسپل کونسل" بن گیا۔ [41]

بیسویں صدی میں توسیع[ترمیم]

1910ء میں ملایا میں ربڑ کے درختوں کی کاشت
بیسویں صدی میں دکان-گھر طرز تعمیر نے ترقی پائی

کوالا لمپور بیسویں صدی میں ایک چھوٹی آبادی سے ملائیشیا کا سب سے بڑا شہر بنا۔ کوالا لمپور کا رقبہ 1895ء میں صرف 0.65 مربع کلو میٹر تھا جو 1903ء میں بڑھ کر 20 مربع کلومیٹر تک پہنچ گیا۔ 1948ء میں جب یہ بلدیہ بنا تو یہ 93 مربع کلومیٹر تک پھیل چکا تھا اور آزادی کے بعد سے 1974ء میں بطور وفاقی علاقہ اس کا رقبہ 243 مربع کلومیٹر ہے۔ [42] بیسویں صدی کی ابتدا میں گاڑیوں کے پہیوں کی بے انتہا طلب کی وجہ سے سلنگور ربڑ کی صنعت میں ترقی ہوئی جس کا براہ راست اثر شہر پر بھی پڑا۔ کوالا لمپور کی آبادی جو کہ 1900ء میں 30,000 تھی 1920ء بڑھ کر 80,000، [43] اور 1931ء میں 110,000 سے زائد ہو گئی۔ [44] انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں تجارتی سرگرمیوں بنیادی طور پر چینی تاجروں کے ہاتھ میں تھیں جو کہ کوالا لمپور کی امیر ترین اورمؤثر شخصیات تھیں۔ ربڑ کی صنعت کی ترقی کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کی آمد میں اضافہ ہوا کوالا لمپور میں کئی غیر ملکی نئی کمپنیاں اور صنعت قائم ہوئی۔ کئی کمپنیاں جو قریبی علاقوں مثلاً سنگاپور میں قائم تھیں انہوں نے یہاں قیام کی راہ تلاش کرنا شروع کر دی۔ [43] تاہم ربڑ کی صنعت کی نوعیت کی وجہ سے – ربڑ کے درختوں کی کاشت کے کچھ سال بعد ہی ربڑ حاصل کیا جا سکتا ہے، زیادہ درختوں سے ربڑ حاصل ہونے مدت میں صنعت میں تیزی آ جاتی تھی تاہم دیگر سالوں میں جب پیداور کم ہوتی تھی تو صنعت میں مندی کا رجحان ہوتا تھا، اس تیزی اور مندی کی وجہ سے 1920ء کی دہائی کے آغاز میں بے روزگاری میں وسیع پیمانے پر اضافہ ہوا۔ [45]

1926ء میں ایک بڑے سیلاب کے بعد گومباک-کلانگ سنگم کو سیدھا کیا گیا تا کہ سیلاب کے خطرے کو کم کیا جائے۔ سیلاب سے بچاو کے لیے ایک نہر بھی بنائی گئی تا کہ اجافی پانی کو دریا سے منتقل کیا جا سکے، یہ 1932ء میں مکمل ہوئی۔ [46]

جاپانی قبضہ[ترمیم]

1946ء میں کوالا لمپور میں جاپانی افواج کے ہتھیار ڈالنے کی رسمی تقریب
جاپانی افواج کوالا لمپور میں

کوالا لمپور 11 جنوری 1942ء سے 15 اگست 1945ء تک جاپانی قبضے میں رہا، اس دور کو "3 سال اور 8 ماہ" کہا جاتا ہے۔ کوالا لمپور کی معیشت اس دور میں تقریباً رک گئی۔ شہر پر قبضے کے نتیجے میں بہت زیادہ جانی نقصان ہوا، جاپانی افواج کے قبضے کے چند ہفتوں میں کوالا لمپور میں کم سے کم 5،000 چینی ہلاک ہوئے اور ہزاروں بھارتیوں کو زبردستی برما ریلوے پر کام کرنے کے لئے بھیج دیا گیا جہاں وہ بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے۔ [47] جاپانی قبضے کے دوران فوج نے مخنتخب پالیسیاں بنائی جن میں کئی خاص طور پر نسلی چینی لوگوں کے لیے تھیں جن میں ان سے بہت ناروا سلوک کیا جاتا تھا کیونکہ انہوں نے 1895ء میں پہلی چین جاپانی جنگ اور 1937ء میں دوسری چین-جاپانی جنگ کے دوران چینی حکومت کی حمایت کی تھی۔ دوسری طرف نسلی مالے لوگوں سے اچھا سلوک کیا جاتا تھا اور جنگ کے بعد آزادی کے وعدہ بھی کیا گیا تھا تاکہ وہ کوالا لمپور میں جاپانی انتظامیہ سے تعاون کریں۔ [47] جاپانی فوجی انتظامیہ کے دوران جاپانی سماجی پالیسی نافذ کی گئی تھی، اس پالیسی میں تمام انگریزی اور چینی اسکولوں کو بند کر دیا گیا اور دیگر اسکولوں میں ہر صبح کی می گائیو (جاپان کا قومی ترانہ) کانے کا حکم جاری کیا گیا تا کہ جاپانی شہنشاہ سے وفاداری کا اظہار کیا جائے۔

جاپانی فوجی کے کوالا لمپور پر قبضہ کے دوران جاپانی فوجی ین یا جنہیں عام طور پر "بنانا نوٹ" (Banana notes) کہا جاتا تھا متعارف کرایا گیا۔ جاپانی شاہی فوجی انتظامیہ کی طرف سے بغیر ذخائر کے جاری جاپانی فوجی ین اور اضافی کرنسی پرنٹنگ کی وجہ سے افراط زر میں انتہائی اضافہ ہوا اور خوراک کی راشننگ روز مرہ زندگی کا معمول بن گیا.

ریاستہائے متحدہ فوجی فضائیہ نے 18 فروری اور 10 مارچ 1945ء کو مرکزی ریلوے کی ورکشاپ پر شدید بمباری کی۔ اگست 1945ء میں ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹمی بمباری کے بعد 29 ویں فوج کے کمانڈر نے 13 ستمبر 1945ء کو برطانوی فوج کے سامنے ہتھار ڈال دیے۔ [48] 22 فروری 1946ء کو کوالا لمپور میں ایک رسمی تقریب منعقد کی گئی جس میں جاپانی ساتویں فوج کے کمانڈر ان چیف سئیشیرو ایتاگاکی نے شہر برطانوی انتظامیہ کے حوالے کر دیا۔

اتحاد ملایا[ترمیم]

اتحاد ملایا کا پرچم

جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد، برطانوی فوجی انتظامیہ کوالا لمپور میں واپس آ گئی۔ 1 اپریل 1946ء میں برطانیہ نے سرکاری طور پر اتحاد ملایا کا اعلان "شاہی گھر" (کارکوسا سری نگارا) میں کیا۔

ملایائی ہنگامی حالات کے دوران جب ملایا کی نوآبادیاتی حکومت اشتمالی شورش سے نمٹنے میں مصروف تھی، 1950ء کے دہائی میں شہر کے مضافات میں نئے گاؤں قائم کیے گئے جو کہ گوریلا جنگ کو کنٹرول کرنے کی خفیہ کوشش تھی۔ [37] ان میں سے سب سے بڑا کوالا لمپور کے شمال میں کیپونگ میں جنجانگ تھا۔ جیسے جیسے لوگ اولو کلانگ اور زیریں امپانگ سے نئے گاؤں میں منتقل ہونے لگے اس پالیسی نے کوالا لمپور کی آبادی بھی بڑھا دی۔

قبل از آزادی انتخابات[ترمیم]

کوالا لمپور ملایا پہلے شہروں میں سے تھا جہاں انتخابات منعقد ہوئے۔ سب سے پہلے بلدیاتی انتخابات 16 فروری 1952 کو منعقد ہوئے۔ متحد مالے قومی تنظیم اور ملائیشیائی چینی ایسوسی ایشن نے انتخابات کے لئے ایک مشترکہ اتحاد قائم کیا اور 12 نشستوں میں سے 9 نشستیں جیتیں۔

یوم آزادی[ترمیم]

کوالا لمپور کو 1957ء میں ایک بار پھر تاریخی اہمیت حاصل ہوئی جب ملائیشیا کا پرچم پہلی بار کرکٹ میدان (مردیکا چوک) میں بلند کیا گیا جو کہ برطانوی حکومت سے ملک کی آزادی کی علامت ہے۔ 1974ء میں کوالا لمپور کو اس کی ریاست سلنگور سے الگ کر کے اسے وفاقی علاقہ کا درجہ دیا گیا، اور شاہ عالم ریاست سلنگور کا نیا دار الحکومت بنا۔ 14 مئی 1990ء کو کوالا لمپور نے مقامی کونسل کا 100 سال کا جشن منایا۔ نئے وفاقی علاقے کوالا لمپور کا پرچم اور ترانہ بھی بنایا گیا۔ 1 فروری، 2001ء کو پتراجایا بھی وفاقی علاقہ بنا اور اسے وفاقی حکومت کی نشست ہونے کا اعلان کیا گیا۔ [49] حکومت کے انتظامی اور عدالتی افعال کو کوالا لمپور سے پتراجایا منتقل کردیا گیا، تاہم کوالالمپور اب بھی قانون سازی افعال کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ [50] یہ یانگ دی‌ پرتوان آگونگ (آئینی بادشاہ) کی سرکاری رہائش گاہ کوالا لمپور میں ہی موجود ہے۔

بعد از آزادی دور (1957ء-1990ء)[ترمیم]

ملائیشیا کے آزادی میں مرنے ہونے والوں کی قومی یادگار

1957ء میں آزادی کے بعد کوالا لمپور وفاق ملایا کا دار الحکومت بنا اور 1963ء میں یہ مزید بڑے وفاق ملائیشیا کا دار الحکومت بنا۔ آزادی کے موقع کے لئے ایک بڑا اسٹیڈیم مردیکا اسٹیڈیم (آزادی اسٹیڈیم) تعمیر کیا گیا جہاں پہلے وزیر اعظم تونکو عبدالرحمان نے ایک بڑے ہجوم کے سامنے میں ملایا کی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ یونین جیک کو مردیکا چوک (آزادی چوک) میں علم چوب سے اتارا گیا اور مالائی پرچم بلند کیا گیا۔ 13 مئی 1969ء کو ملائیشیا کی تاریخ کے بدترین نسلی فسادات میں شہر کے ایک حصے کو شدید نقصان پہنچا۔ تشدد کی بنیادی وجہ ملائیشیا میں مالے لوگوں کا ان کی سماجی، سیاسی حیثیت سے غیر مطمئن ہونا تھا۔ فسادات میں 196 افراد ہلاکت ہوئے ان میں سے اکثر چینی تھے۔ [51] پارلیمان ملائیشیا 1971ء تک دو سال لے لیے معطل رہی اور اس کے نتیجے میں مالے لوگوں کو دیگر قوموں کے مقابلے میں اقتصادی اور معاشی پالیسی میں ترجیح دی گئی۔

1 فروری 1972ء کو کوالا لمپور کو شہر کی حیثیت دی گئی۔ 1 فروری 1974ء کو کوالا لمپور کو ملائیشیا کی ریاست سلنگور سے الگ کر کے وفاقی علاقہ بنایا گیا، جبکہ شاہ عالم کوالا لمپور کی جگہ سلنگور کا نیا دار الحکومت بنا۔

5 اگست 1975ء کو "جاپانی سرخ فوج" نامی دہشت گرد تنظیم نے اے آئی اے عمارت جس میں کئی سفارت خانے واقع تھے، میں 50 سے زیادہ لوگوں کو یرغمال بنا لیا۔ یرغمالیوں میں ریاستہائے متحدہ اور سویڈن کے قونصل خانے کے افراد شامل تھے۔ مسلح افراد نے 5 قیدی ساتھیوں کی رہائی حاصل کی اور ان کے ساتھ لیبیا کو پرواز کر گئے۔ اس تنظیم نے 1970ء کے دہائی میں دنیا میں بہت سے حملے اور قتل عام کیا، جس تین برس قبل تل ابیب میں لد ہوائی اڈے پر قتل عام بھی شامل ہے۔ [52]

معاصر دور (1990-تاحال)[ترمیم]

1990ء کی دہائی کے آغاز سے ایشیائی اقتصادی تیزی کی وجہ سے کوالا لمپور کی معیشت (معاشی ترقی کی شرح 10٪ سے زیادہ تھی) نے بھی تیزی سے ترقی کی۔ عالمگیریت کی طرف وزیر اعظم مہاتیر محمد اقدامات کی وجہ سے وادی کلانگ کہ شہری ترقی کی وجہ سے کوالا لمپور عظمی وجود میں آیا۔ [53][54] یہ علاقہ مغرب کی طرف وفاقی علاقہ کوالا لمپور سے کلانگ بندرگاہ تک، مشرق میں سلسلہ کوہ تیتیوانگسا تک، شمال اور جنوب میں دیگر علیحدہ انتظامی قصبے اور شہر مثلاً کلانگ، شاہ عالم اور پتراجایا بھی شامل ہیں جنہیں مجموعی طور پر کوالا لمپور عظمی کہا جاتا ہے۔ [55][56]

کوالا لمپور کے اندر کئی قابل ذکر منصوبے شروع ہوئے کس میں سے ایک کوالا لمپور سٹی سینٹر ہے جو کہ جالان امپانگ کر ارد گرد کا علاقہ ہے۔ کوالا لمپور میں بے شمار فلک بوس عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں، اور ایک نوآبادی دور کا ایک سرحدی قصبہ جنوب مشرقی ایشیا کے سب سے جدید اور تیزی سے ترقی کرنے والا شہر بن گیا ہے۔ ٹریفک جام ایک روز مرہ کا معمول ہے جسے مسافر روزانہ برداشت کرتے ہیں، حالانکہ شہر بھر میں 6 لین ہائی ویز (بشمول دو مرتفع ہائی ویز) بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔ بس سروس کافی بدنام، بے قاعدہ اور ناکافی ہے۔ وادی کلانگ مربوط ٹرانزٹ نظام کے تحت شہر بھر میں میٹرو ریل کا جال بچھا ہوا ہے جو کہ عام لوگوں کی پسندیدہ سواری ہے۔

مردیکا چوک کے سامنے کی سڑک غالباً کوالا لمپور کی سب سے مشہور سڑک ہے۔ موری طرز تعمیر کی سلطان عبد الصمد عمارت کے عالی شاہ تانبے کے گنبد یہیں واقع ہیں، اس کے علاوہ دنیا کے بلند ترین علم چوبوں میں سے ایک بھی اس جگہ مردیکا چوک میں واقع ہے۔ 2004ء تک وفاق کی اعلیٰ عدالتیں (اپیل کی عدالت اور وفاقی عدالت) سلطان عبد الصمد عمارت میں واقع تھیں، تاہم اس کے بعد اپیل کی عدالت اور وفاقی عدالت پتراجایا میں انصاف محل میں منتقل کر دی گئی ہیں۔ دیابومی کمپلیکس بھی اسی سڑک سے نظر آتا ہے۔ یہ علاقے میں ملائیشیا کے یوم آزادی کے دن کی پریڈ کا مرکزی نقطہ ہوتا تھا جو پورے ملائیشیا میں ٹیلی ویژن پر دکھایا جاتا تھا، تاہم 2003ء میں یہ پریڈ پتراجایا بلیوارڈ پر منتقل کر دی گئی ہے جو کہ ملائیشیا کا نیا انتظامی دار الحکومت ہے۔ بوکیت امان (لفظی "امن کا پہاڑ") کا مرکزی دفتر بھی یہیں واقع ہے۔

دیگر ممالک دار الحکومت شہروں کی طرح، شہر کا باقی زیادہ تر حصہ معیاری انداز بنایا گیا ہے۔ اس کی قابل ذکر مثالوں دیابومی عمارت، کوالا لمپور کی پہلی فلک بوس عمارت، تابونگ حاجی عمارت، برج ٹیلیکوم، کوالا لمپور ٹاور اور پیٹروناس ٹوئن ٹاورز ہیں۔ شہر کی تیز رفتار ترقی نے شہر کے کئی قدیم ڈھانچوں کو یا تو مسمار کر دیا یا ان میں تبدیلی کی گئی ہے تا کہ جدید طرز کے شاپنگ مراکز، دفاتر اور رہائش گاہیں بنائی جا سکیں۔ شہر میں ورثہ عمارتوں کو بچانے کے لئے کوششیں موجود تو ہیں تاہم یہ کافی محدود ہیں۔ تاہم کوالا لمپور کی اہم نشانیوں کے طور پر جانی جانے والی عمارتیں مثلاً سلطان عبد الصمد عمارت، کوالا لمپور ریلوے اسٹیشن، کارکوسا سری نگارا، سنٹرل مارکیٹ اور ان جیسی چند عمارتیں محفوظ ہیں۔ 1990ء اور 2000ء کی دہائیوں میں علاقے کی قبل از آزادی دور کی کئی عمارتیں غیر توجہ، غلط استعمال، نظر انداز یا آگ لگنے سے تباہ ہو چکی ہیں۔ حالیہ تنازع (منصوبہ متروک) اس وقت سامنے آیا جب حکومت نے وسط 2006ء میں کولیسیم تھیٹر کو ایک ثقافتی ورثہ مرکز میں تبدیل کرنے کی تجویز دی، اس کے علاوہ 2006ء کے آخر میں حکومت کا بوک ہاؤس کو منہدم ہونے سے بچانے میں سستی ایک قابل ذکر امر ہے۔

نومبر 2007ء میں 1998ء کے بعد شہر میں دو بڑی سیاسی ریلیاں منعقد ہوئیں، 10 نومبر کو برسیہ ریلی اور 25 نومبر کو ہندراف ریلی۔ [57] کوالالمپور کو ایشیا ویک میگزین میں ایشیا کے دس بہترین شہروں میں سے ایک کے طور پر ووٹ دیا گیا تھا۔ [58]

جغرافیہ[ترمیم]

کوالا لمپور کا مصنوعی سیارے سے نظارہ

کوالا لمپور کی جغرافیائی خصوصیات بڑی وادی کلانگ کے لیے مشہور ہیں۔ وادی کے مشرق میں سلسلہ کوہ تیتیوانگسا، شمال اور جنوب میں کئی معمولی سلاسل کوہ اور مغرب میں آبنائے ملاکا واقع ہے۔ مالے زبان میں کوالا لمپور کے معنی "گدلا سنگم" کے ہیں کیونکہ یہ دریائے کلانگ اور دریائے گومباک کا سنگم ہے۔ [59]

کوالا لمپور ملائیشیا ریاست سلنگور کے وسط میں واقع ہے اور یہ ریاست کا ایک علاقہ تھا۔ 1974ء میں کوالا لمپور کو سلنگور سے علیحدہ کیا گیا تاکہ اسے پہلا وفاقی علاقہ بنایا جائے جو کہ براہ راست ملائیشیا کی وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہو۔ اس کا مقام جزیرہ نما ملائیشیا کے مغربی ساحل پر سب سے زیادہ ترقی یافتہ ریاست کے اندر ہے، جو کہ مشرقی ساحل کے مقابلے میں وسیع مسطح زمین ہے۔ اسی وجہ سے اسے ملائیشیا کے دوسرے شہروں کے مقابلے میں تیزی سے ترقی میں مدد ملی ہے۔ [60] شہر کی بلدیہ کا رقبہ 243 مربع کلومیٹر (94 مربع میٹر) پر مشتمل ہے، [2] جبکہ اس کی اوسط بلندی 81.95 میٹر (268.9 فٹ) ہے۔ [61]

موسم اور آب و ہوا[ترمیم]

کوالا لمپور میں بارش روزمرہ کا معمول ہے

کوالا لمپور کے مشرق میں سلسلہ کوہ تیتیوانگسا اور مغرب میں جزیرہ سماٹرا واقع ہے۔ کوالا لمپور تیز ہواؤں سے محفوظ اور استوائی برساتی جنگل آب و ہوا (کوپن موسمی زمرہ بندی) رکھتا ہے جو گرمی اور دھوپ کے ساتھ زیادہ بارش والا علاقہ جے خاص طور پر شمال مشرقی مون سون میں جو کہ اکتوبر سے مارچ تک ہوتا ہے۔ کوالا لمپور میں درجہ حرارت عموماؑ ایک جیسا ریتا ہے- زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت عموماؑ 32 اور 35 ° س (90 اور 95 ° ف) کے درمیان میں ہوتا ہے، کبھی کبھار یہ 40 °س (104.0 °ف) تک جا پہنچتا ہے، جبکہ کم سے کم درجہ حرارت عموماؑ 23.4 اور 24.6 °س (74.1 اور 76.3 °ف)کے درمیان میں ہوتا ہے، کبھی کبھار یہ 14.4 °س (57.9 °ف) تک بھی کم ہو جاتا ہے۔ [62][63] کوالالمپور میں عام طور پر سالانہ کم از کم 2،600 ملی میٹر (100 انچ) بارش ہوتی ہے۔ جون اور جولائی نسبتاً خشک ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی ہر ماہ بارش 131 ملی میٹر (5.2 انچ) سے زیادہ ہوتی ہے۔

شدید بارشوں کے بعد کوالا لمپور میں سیلاب ایک متواتر واقعہ ہے، خاص طور پر شہر کے مرکز میں کیونکہ شہر میں معماری نکاسی کے نظام کا فقدان ہے۔ [64] قریبی سماٹرا کے جنگلوں میں لگنے والی آگ سے اٹھنے والا دھواں بعض اوقات خطے میں کی فضا میں دھندلا پن پیدا کرتا ہے۔ یہ کھلی فضا میں جلانے کے عمل، موٹر گاڑیوں اور تعمیراتی کاموں سے دھویں کے اخراج کے ساتھ شہر میں آلودگی کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔ [65]

آب ہوا معلومات برائے کوالا لمپور
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
بلند ترین °س (°ف) 38.0
(100.4)
36.2
(97.2)
36.7
(98.1)
37.2
(99)
38.5
(101.3)
36.6
(97.9)
36.3
(97.3)
38.0
(100.4)
35.8
(96.4)
37.0
(98.6)
36.0
(96.8)
35.5
(95.9)
38.5
(101.3)
اوسط بلند °س (°ف) 32.0
(89.6)
32.8
(91)
33.1
(91.6)
33.1
(91.6)
33.0
(91.4)
32.8
(91)
32.8
(91)
32.3
(90.1)
32.1
(89.8)
32.0
(89.6)
31.7
(89.1)
31.5
(88.7)
32.4
(90.3)
یومیہ اوسط °س (°ف) 27.7
(81.9)
28.2
(82.8)
28.6
(83.5)
28.7
(83.7)
28.8
(83.8)
28.6
(83.5)
28.1
(82.6)
28.1
(82.6)
28.0
(82.4)
28.0
(82.4)
27.8
(82)
27.6
(81.7)
28.2
(82.8)
اوسط کم °س (°ف) 23.4
(74.1)
23.6
(74.5)
24.0
(75.2)
24.3
(75.7)
24.6
(76.3)
24.3
(75.7)
23.8
(74.8)
23.9
(75)
23.8
(74.8)
24.0
(75.2)
23.8
(74.8)
23.6
(74.5)
23.9
(75)
ریکارڈ کم °س (°ف) 17.8
(64)
18.0
(64.4)
18.9
(66)
20.6
(69.1)
20.5
(68.9)
19.1
(66.4)
20.1
(68.2)
20.0
(68)
21.0
(69.8)
20.0
(68)
20.7
(69.3)
19.0
(66.2)
17.8
(64)
اوسط عمل ترسیب مم (انچ) 193
(7.6)
198
(7.8)
257
(10.12)
290
(11.42)
197
(7.76)
131
(5.16)
148
(5.83)
162
(6.38)
214
(8.43)
265
(10.43)
321
(12.64)
252
(9.92)
2,628
(103.49)
اوسط بارش ایام 17 17 19 20 18 14 16 16 19 21 24 22 223
اوسط اضافی رطوبت (%) 80 80 80 82 81 80 79 79 81 82 84 83 81
ماہانہ اوسط دھوپ ساعات 185.0 192.4 207.9 198.8 206.8 194.4 200.2 189.0 163.8 169.1 152.3 162.6 2,222.3
ماخذ#1: Pogodaiklimat.ru[66]
ماخذ #2: NOAA (دھوپ گھنٹے، 1961–1990)[67]
کوالالمپور کے موسمیاتی اعداد و شمار
ماہ جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
روزانہ دن کی روشنی کے اوقات 12.0 12.0 12.0 12.0 12.0 12.0 12.0 12.0 12.0 12.0 12.0 12.0 12.0
اوسط بالائے بنفشی انڈیکس 11+ 11+ 11+ 11+ 11+ 11+ 11+ 11+ 11+ 11+ 11+ 11+ 11
ماخذ: موسم اٹلس[68]

حکومت[ترمیم]

کوالا لمپور 1 اپریل 1961ء کو وفاقی دار الحکومت کمشنر نامی ایک وحدانی کارپوریشن کے زیر انتظام تھا، یہاں تک کہ 1972ء میں اسے شہر کا درجہ ملا، جس کے بعد ایگزیکٹو پاور کو لارڈ میئر (داتوک بندر) کو منتقل کر دیا گیا۔ [69] اس کے بعد نو میئرز کا تقرر کیا گیا ہے۔ موجودہ میئر نور ہشام احمد دہلان ہیں جو 18 جولائی 2015ء سے عہدے پر فائز ہیں۔ [70]

مقامی حکومت[ترمیم]

مقامی انتظامیہ کوالا لمپور سٹی ہال سے افعال سر انجام دیتی ہے جو کہ وزارت علاقہ جات کے تحت ایک محکمہ ہے۔ [69] یہ صحت عامہ اور صفائی ستھرائی ، کچرے کو ہٹانے اور انتظام، شہر کی منصوبہ بندی، ماحولیاتی تحفظ اور بلڈنگ کنٹرول، سماجی اور معاشی ترقی اور شہری بنیادی ڈھانچے کے عمومی بحالی کے کاموں کے لئے ذمہ دار ہے۔ ایگزیکٹو پاور سٹی ہال کے میئر کے پاس ہے جسے وفاقی وزیر علاقہ جات تین سال کے لئے مقرر کرتا ہے۔ میئر کی تقرری کا یہ نظام 1970ء میں بلدیاتی انتخابات معطل ہونے کے بعد سے نافذ ہے۔ [71]

اضلاع[ترمیم]

کوالا لمپور کے گیارہ اضلاع اور تخمینہ آبادی مع فیصد مندرجہ ذیل ہے۔ کوالا لمپور سٹی ہال کے ماتحت یہ انتظامی ذیلی تقسیمات ہیں۔ [72]

کوالا لمپور کے اضلاع
  1. بوکیت بینتانگ (103,820 - 5.8%)
  2. تیتیوانگسا (198,690 - 11.1%)
  3. سیتیاوانگسا (179,000 - 10.0%)
  4. وانگسا ماجو (227,330 - 12.7%)
  5. باتو (91,290 - 5.1%)
  6. کیپونگ (10,740 - 0.6%)
  7. سیگامبوت (125,300 - 7%)
  8. لیمباہ پانتای (189,740 - 10.6%)
  9. سیپوتیہ (230,910 - 12.9%)
  10. بندر تن رزاق (273,870 - 15.3%)
  11. چیراس (159,310 - 8.9%)

سیاست[ترمیم]

ڈیموکریٹک ایکشن پارٹی
5 / 11
پیپلز جسٹس پارٹی
5 / 11
ملائیشیائی متحدہ دیسی پارٹی
1 / 11

کوالا لمپور ملائیشیائی ایوان پارلیمان کا گھر ہے ملائیشیا میں اتھارٹی کی درجہ بندی وفاقی آئین کے مطابق تین شاخوں میں منقسم ہے۔ حکومت ملائیشیا کی یہ تین شاخیں ایگزیکٹو ، عدلیہ اور مقننہ پر مشتمل ہیں۔

پارلیمان ملائیشیا[ترمیم]

پارلیمان ملائیشیا ملائیشیا کی قومی مقننہ ہے۔ دو ایوانی پارلیمان دیوان رعیت (ایوان نمائندگان - ایوان زیریں) اور دیوان نگارا (سینیٹ - ایوان بالا) پر مشتمل ہے۔ یانگ دی‌ پرتوان آگونگ (بادشاہ) سربراہ ریاست پارلیمان کے تیسرا جزو ہے۔ پارلیمان کا اجلاس ملائیشیائی ایوان پارلیمان میں ہوتا ہے جو کہ کوالا لمپور میں واقع ہے۔

ملائیشیائی ایوان پارلیمان[ترمیم]

ملائیشیائی ایوان پارلیمان ملائیشیائی پارلیمان کی عمارت ہے۔ یہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک 3 منزلہ مرکزی عمارت اور ایک 20 منزلہ 77 میٹر لمبا ٹاور۔ [73] مرکزی عمارت میں دیوان رعیت (ایوان زیریں) اور دیوان نگارا (ایوان بالا) کے اجلاس ہوتے ہیں۔ جبکہ ارکان پارلیمان کے دفاتر ٹاور میں واقع ہیں۔

دیوان رعیت[ترمیم]

دیوان رعیت پارلیمان ملائیشیا کا ایوان زیریں ہے۔ دیوان رعیت عام طور پر ایک مسودہ کے ذریعے قانون سازی کی تجویز پیش کرتا ہے جسے 'بل' کہا جاتا ہے۔ بل شاہی فرمان کے لیے یانگ دی‌ پرتوان آگونگ (بادشاہ) بھیجے جانے سے قبل دونوں دیوان رعیت اور دیوان نگارا سے منظور ہونا ضروری ہوتا ہے۔

دیوان نگارا[ترمیم]

دیوان نگارا پارلیمان ملائیشیا کا ایوان بالا ہے۔ دیوان رعیت عام طور پر ایک مسودہ کے ذریعے قانون سازی کی تجویز پیش کرتا ہے جسے 'بل' کہا جاتا ہے۔ بل شاہی فرمان کے لیے یانگ دی‌ پرتوان آگونگ (بادشاہ) بھیجے جانے سے قبل دونوں دیوان رعیت اور دیوان نگارا سے منظور ہونا ضروری ہوتا ہے۔

ریاستی قانون ساز اسمبلیاں[ترمیم]

ملائیشیا کی ریاستی قانون ساز اسمبلیاں ملائیشیا کی تیرہ ریاستوں میں سے ہر ایک کے لیے حکومت ملائیشیا کی قانون ساز شاخیں ہیں۔

معیشت[ترمیم]

سنٹرل مارکیٹ کوالا لمپور کے قدیم ترین خریداری مراکز میں سے ایک ہے

کوالا لمپور اور اس کے آس پاس کے شہری علاقے ملائشیا میں سب سے زیادہ ترقی پانے والا، صنعتی اور معاشی طور ترقی یافتہ خطہ ہیں۔ [74] وفاقی حکومت کی انتظامیہ پتراجایا منتقل ہونے کے باوجود کئی حکومتی ادارے مثلاً بینک نگارا ملائیشیا، ملائیشیا کا کمپنیاں کمیشن اور سیکورٹیز کمیشن اور اس کے علاوہ بہت سے سفارت خانے اور سفارتی مشنز اب بھی شہر میں موجود ہیں۔ [75] شہر ملک کا معاشی اور کاروباری مرکز ہے۔ کوالا لمپور مالیات، انشورنس، ریل اسٹیٹ ، میڈیا اور ملائیشیا کے فنون کا مرکز ہے۔ کوالا لمپور عالمی شہر میں الفا درجہ بندی کی گئی ہے اور یہ عالمگیریت اور عالمی شہروں کے مطالعاتی گروپ اور نیٹ ورک کے مطابق ملائیشیا کا واحد عالمی شہر ہے۔ [76] کوالا لمپور کے ارد گرد کے علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی مثلاً سیپانگ میں کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ملٹی میڈیا سپر کوریڈور کی تشکیل اور کلانگ بندرگاہ کی توسیع نے شہر کی معاشی اہمیت کو مزید تقویت بخشی ہے۔

کوالا لمپور کی خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کا تخمینہ 2008ء میں 73،536 ملین ملائیشیائی رنگٹ لگایا گیا تھا جس کی اوسط سالانہ شرح نمو 5.9 فیصد ہے۔ [77][78] 2015ء تک ، خام ملکی پیداوار 160،388 ملین ملائیشیائی رنگٹ تک پہنچ چکی تھی جو کہ ملائیشیا کی مجموعی خام ملکی پیداوار کے 15.1٪ کی نمائندگی کرتی ہے۔ [79] 2013ء میں کوالا لمپور کی فی کس خام ملکی پیداوار 79،752 اور 2015ء میں 94,722 ملائیشیائی رنگٹ تھی [79] اور اوسط سالانہ شرح نمو 5.6 فیصد تھی۔ [80] ایک خانوادہ کی اوسط ماہانہ آمدنی 2016ء کے مطابق 9،073 ملائیشیائی رنگٹ (امریکی ڈالر 2،200) تھی جو سالانہ تقریباً 6٪ کی اوسط سے بڑھ رہی ہے۔ [81] شعبہ خدمات میں مالیات، انشورنس، ریل اسٹیٹ، کاروباری خدمات، تھوک اور خوردہ تجارت، ریستوراں اور ہوٹل، نقل و حمل، اسٹوریج اور مواصلات، ذاتی خدمات اور سرکاری ملازمت اس کا سب سے بڑا جزو تشکیل دیتے ہیں جو کل کا تقریباً 83.0 فیصد نمائندگی کرتا ہے۔ [82] باقی 17 فیصد صنعت اور تعمیرات سے آتا ہے۔

جالان سلطان سلیمان پر بینکوں کے صدر دفاتر
تکمیل پر ایکسچینج 106 ملائیشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بلند عمارت ہو گی۔

وسیع شعبہ خدمات کی علاقے میں موجودگی مقامی اور غیر ملکی بینکوں اور شہر میں کام کی انشورنس کمپنیوں کی تعداد سے واضح ہے کہ کوالا لمپور عالمی اسلامی مالیاتی مرکز بننے کے لئے پراعتماد ہے [83] اسلامی مالی اعانت فراہم کرنے والے مالیاتی اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور خلیج کے مالیاتی اداروں جیسے کہ دنیا کا سب سے بڑے اسلامی بینک، بینک الراجحی [84] اور کویت فنانس ہاؤس کی موجودگی اس کی اہم نشانی ہے۔ اس کے علاوہ "ڈاؤ جونز اینڈ کمپنی" بورسا ملائیشیا کے ساتھ اسلامی ایکسچینج ٹریڈ فنڈز کے قیام کے لئے کام کرنے کی خواہشمند ہے، جس سے خلیج میں ملائیشیا کا مالیاتی خاکہ بلند کرنے میں مدد ملے گی۔ [85] اس شہر میں غیرملکی کارپوریشنوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور یہ کئی کثیر قومی کمپنیوں کے علاقائی دفاتر یا امدادی مراکز کا میزبان بھی ہے، خاص طور پر مالیات، اکاؤنٹنگ ، اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے افعال کیلئے۔ ملک کی بیشتر بڑی کمپنیوں کے صدر دفتر یہاں واقع ہیں اور دسمبر 2007ء کے مطابق پیٹروناس کو چھوڑ کر، کوالا لمپور میں واقع 14 کمپنیاں فوربس 2000 میں درج ہیں۔ [86]

شہر کی دیگر اہم معاشی سرگرمیاں میں تعلیم اور صحت کی خدمات شامل ہیں۔ کوالا لمپور میں تعلیمی اداروں کا اعلی ارتکاز ہے جو وسیع پیمانے پر مختلف کورسز مہیا کرتے ہیں۔ شہر میں متعدد سرکاری اور نجی طبی مراکز اور ہسپتال صحت عامہ کی خدمات پیش کرتے ہیں، اور ماہر جراحت اور علاج کی ایک وسیع رینج جو مقامی لوگوں اور سیاحوں کو خدمات فراہم کرتی ہے۔

بینک نگارا ملائیشیا، کوالا لمپور

شہر کے معاشی دائرہ کو خدمات کے دیگر افعال میں بڑھانے پر زور دیا جارہا ہے جیسے کہ تحقیق اور ترقی جو ملائیشیا کی باقی معیشت کو بھی سہارا فراہم کرتی ہے۔ کوالالمپور کئی سالوں سے ملائیشیا کے اہم تحقیقی مراکز جیسے کہ "ربڑ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ"، "فارسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملائیشیا" اور "انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ریسرچ" کا میزبان ہے [87] اور آنے والے برسوں میں مزید تحقیقی مراکز کے قیام کی توقع کی جارہی ہے۔

اسٹاک ایکسچینج[ترمیم]

بورسا ملائیشیا ملائیشیا کی اسٹاک ایکسچینج ہے۔ یہ کوالا لمپور میں واقع ہے۔ اس پہلے "کوالا لمپور اسٹاک ایکسچینج" ہوا کرتی تھی۔ بورسا ملائیشیا یا ملائشیا ایکسچینج شہر میں واقع ایک بنیادی معاشی سرگرمی ہے۔ 5 جولائی 2013ء تک اس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 505.67 بلین امریکی ڈالر رہی۔ [88][89] [90] [91] [92] [93] [94] [95] [96] [97] [98] [99] [100] [101] [102] [103] [104] [105] [106] [107] [108] [109] [110] [111] [112]

بینک نگارا ملائیشیا[ترمیم]

بینک نگارا ملائیشیا ملائیشیا کا مرکزی بینک ہے۔ اس کا قیام 26 جنوری 1959ء کو ملایا مرکزی بینک کے طور پر قائم کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد کرنسی جاری کرنا ہے، حکومت ملائیشیا کے بینکر اور مشیر کی حیثیت سے ملک کے مالیاتی اداروں کو منظم کرنا، قرض کے نظام اور مالیاتی پالیسی بنانا ہے۔ اس کا صدر دفتر ملائیشیا کے وفاقی دار الحکومت کوالا لمپور میں واقع ہے۔

سیاحت[ترمیم]


کوالا لمپور کے سیاحتی مقامات میں مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں:

خریداری[ترمیم]

آبادیات[ترمیم]

تاریخی آبادیات[ترمیم]

Ethnicities of Kuala Lumpur – 2010 Census[114]
Ethnic group Percent
Malay
  
44.7%
Chinese
  
43.2%
Indians
  
10.3%
Other Bumiputras
  
1.2%
Others
  
0.6%
Religion in Kuala Lumpur – 2010 Census[114]
Religion Percent
اسلام
  
46.4%
بدھ مت
  
35.7%
ہندو مت
  
8.5%
مسیحیت
  
5.8%
Unknown / None
  
1.4%
چینی لوک مذہب
  
1.1%
Others
  
0.6%
لادینیت
  
0.5%


زبانیں اور مذاہب[ترمیم]


شہر کا منظر[ترمیم]

کوالا لمپور
کوالا لمپور

فن تعمیرات[ترمیم]

پارک[ترمیم]

تیتیوانگسا جھیل باغات سے کوالا لمپور کا نطارہ

تعلیم[ترمیم]

ثقافت[ترمیم]

فن[ترمیم]

کھیل اور تفریح[ترمیم]

میڈیا[ترمیم]

نقل و حمل[ترمیم]

کوالا لمپور میں نقل و حمل وادی کلانگ میں انتہائی ترقی یافتہ بنیادی ڈھانچے پر مشتمل ہے۔ کوالا لمپور، ملائیشیا کا دار الحکومت ہونے کی وجہ سے ملائیشیا کا بے مثال نقل و حمل نظام ہے جس میں ایک مربوط ریلوے نیٹ ورک بھی شامل ہے، اور مزید یہ کہ دنیا کی سب سے طویل خود کار بغیر ڈرائیورر میٹرو نظام کیلانا جایا لائن بھی اس کا حصہ ہے۔

فضائی[ترمیم]

سمپانگ ہوائی اڈا[ترمیم]

کوالا لمپور، ملائیشیا کا پہلا ہوائی اڈا سمپانگ ہوائی اڈا تھا۔ یہ 1952ء سے 1965ء تک کوالا لمپور کا مرکزی ہوائی اڈا تھا جسے تب کوالا لمپور بین الاقوامی ہوائی اڈا کہا جاتا تھا، تاہم سوبانگ بین الاقوامی ہوائی اڈا کی تعمیر کے بعد اس کی یہ حیثیت ختم ہو گئی۔ اب یہ ہوائی اڈا غیر فعال ہے۔

سلطان عبد العزیز شاہ ہوائی اڈا[ترمیم]

سلطان عبد العزیز شاہ ہوائی اڈا جس کا سابقہ نام سوبانگ بین الاقوامی ہوائی اڈا تھا کوالا لمپور، ملائیشیا میں ہوائی اڈا ہے جسے سمپانگ ہوائی اڈے کے متبادل کے طور پر بنایا گیا۔ یہ سوبانگ، ضلع پیٹلنگ، سلنگور، ملائیشیا میں واقع ہے۔ یہ سیپانگ میں کوالا لمپور کے مرکزی ہوائی اڈے کوالالمپور بین الاقوامی ہوائی اڈا کی تعمیر سے قبل کوالا لمپور کا بین الاقوامی ہوائی اڈا تھا۔ تاہم اب اس کی حیثیت ثانوی ہے اور اس پر محدود آمد و رفت ہوتی ہے۔

کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ[ترمیم]

کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ ملائیشیا کا اہم بین الاقوامی ہوائی اڈا اور جنوب مشرقی ایشیا کے بڑے ہوائی اڈوں میں سے ایک ہے۔ یہ سلنگور کے سیپانگ ضلع میں 3.5 ملین امریکی ڈالر [115] کی لاگت سے تیار کیا گیا۔

ملائیشیا ائیرلائنز[ترمیم]

ملائیشیا ائیرلائنز ملائیشیا کی ہوائی کمپنی ہے ۔[116] ملائیشیا ائیرلائنز کا مرکزی دفتر ملائیشیا کے ائیر پورٹ کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر واقع ہے۔ ملائیشیا ائیرلائنز کی دو ذیلی ایئرلائنیں بھی موجود ہیں جو کہ فائرفلائی اور ایم اے ایس ونگز ہیں۔

کوڈ شراکت معاہدے[ترمیم]

ملائیشیا ائیرلائنز مندرجہ ذیل ایئرلائنوں کے ساتھ کوڈ شراکت معاہدہ رکھتی ہے۔ [117]

تیز رفتار عوامی نقل و حمل[ترمیم]

وادی کلانگ مربوط ٹرانزٹ نظام کوالا لمپور عظمی اور وادی کلانگ میں ایک عاجلانہ نقل و حمل نظام ہے، جو کہ 4 آپریٹرز کا 6 میٹرو لائنوں پر مشتمل ہے۔ ان 4 آپریٹرز میں ریپڈ ریل اور کے ٹی ایم کومیوٹر کوالا لمپور میں اہم ترین ہیں، کریتاپی تانہ ملایو سے سال 2005 میں 30،934،651 مسافروں نے سفر کیا۔ [120] کوالا لمپور میں میٹرو لائنیں مختلف اقسام میں تقسیم کی جاتی ہیں: ریپڈ ٹرانزٹ، کومیوٹر ریل اور مونو ریل۔ دیگر جیسے بین-شہر ریل اور کے ایل آئی اے ایکسپریس دراصل میٹرو نظام نہیں ہیں۔

مختلف اسلوب نقل و حمل مرکز[ترمیم]

کوالا لمپور سینٹرال اسٹیشن یا مخفف کے ایل سینٹرال اسٹیشن لیکن عام بول چال میں صرف سینٹرال ہی کہا جاتا ہے۔

کوالا لمپور ریلوے اسٹیشن[ترمیم]

کوالا لمپور ریلوے اسٹیشن

ریل نقل و حمل[ترمیم]

کوالا لمپور عظمی اور وادی کلانگ میں مختلف اقسام کا ریل نقل و حمل نطام موجود ہے جس تفصیل مندرجہ ذیل ہے:

لائٹ ریل ٹرانزٹ (ایل آر ٹی)[ترمیم]

کوالا لمپور میں تین مکمل مختلف گریڈ نظام ہیں، جو کہ کیلانا جایا لائن، امپانگ لائن اور سری پیٹلنگ لائن ہیں۔ یہ تینوں ریپڈ ریل کے زیر انتظام ہیں۔

کیلانا جایا لائن[ترمیم]

کیلانا جایا لائن کوالا لمپور میں سب سے اہم میٹرو لائن ہے۔ یہ کوالا لمپور سٹی سینٹر کو سوبانگ جایا، پیتالنیگ جایا اور گومباک سے ملاتی ہے۔ فی الحال اس سے 170،000 مسافر روزانہ سفر کرتے ہیں جبکہ قومی دنوں میں یہ تعداد 350،000 سے زیادہ ہو جاتی ہے۔

امپانگ لائن[ترمیم]

ریپڈ ریل کا ایک اور تیز رفتار ٹرانزٹ نطام ہے۔

سری پیٹلنگ لائن[ترمیم]

ریپڈ ریل کا ایک اور تیز رفتار ٹرانزٹ نطام ہے۔

کومیوٹر ریل[ترمیم]

کوالا لمپور میں ملائیشیا میں مسافر ریلوے کا سب سے بڑا نظام ہے۔ کوالالمپور میں کومیوٹر ریل جے دو آپریٹرز ہیں جو کہ کے ٹی ایم کومیوٹر اور کے ایل آئی اے ٹرانزٹ ہیں۔ یہ دو آپریٹر کوالا لمپور میں 4 مسافر ریل لائنز چلاتے ہیں جو کہ سرمبان لائن، تانجونگ مالیم شٹل سروس، پورٹ کلانگ لائن اور کے ایل آئی اے ٹرانزٹ ہین۔

کریتاپی تانہ ملایو[ترمیم]

کریتاپی تانہ ملایو جزیرہ نما ملائیشیا کا بنیادی ریل نطام ہے۔ یہ ریلوے نظام برطانوی نوآبادیاتی دور میں قائم کیا گیا جو کہ جزیرے کا پہلا ریل نظام تھا۔ اس کا پرانا نام فیڈرل مالے اسٹیٹس ریلوے اور مالایان ریلوے ایڈمنسٹریشن تھا۔ 1962ء میں اس موجودہ نام کریتاپی تانہ ملایو اختیار کیا گیا۔ [121]

ایکسپریس ریل لنک[ترمیم]

ایکسپریس ریل لنک ایک کمپنی ہے جو ائیر پورٹ ریل لنک کی مالک اور منتظم ہے۔ یہ کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو کے ایل سینٹرال اسٹیشن سے ملاتی ہے جن کا باہمی فاصلہ 57 کلو میٹر ہے۔ کمپنی کی دو مختلف ٹرین خدمات ہیں: کے ایل آئی اے ایکسپریس اور کے ایل آئی اے ٹرانزٹ ہیں۔

کے ایل آئی اے ٹرانزٹ[ترمیم]

کے ایل آئی اے ٹرانزٹ کوالا لمپور، ملائیشیا میں ایک مسافر ریل ہے جو کوالا لمپور سینٹرل اسٹیشن (کے ایل سینٹرال) اور کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ (کے ایل آئی اے) اور (کے ایل آئی اے 2) کے درمیان چلتی ہے۔ [122] یہ ان دو خدامات میں سے ایک ہے جو ایکسپریس ریل لنک کے ایل آئی اے ایکسپریس کی لائن استعمال کرتے ہوئے ہی فراہم کرتی ہے۔ یہ وادی کلانگ مربوط ٹرانزٹ نظام کا حصہ ہے۔

ایئر پورٹ ایکسپریس[ترمیم]

کے ایل آئی اے ایکسپریس کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ (کے ایل آئی اے) سے کوالا لمپور شہر کے لیے ایک براہ راست ریل نظام ہے۔

مونوریل[ترمیم]

کے ایل مونوریل کوالا لمپور، ملائیشیا میں آٹھ ریل ٹرانسمیشن لائن کا واحد فعال مونوریل نظام ہے۔ یہ وادی کلانگ مربوط ٹرانزٹ نظام کا ایک جزو ہے۔

بسیں[ترمیم]

ریپڈ بس[ترمیم]

ریپڈ بس ملائیشیا میں سب سے بڑا بس آپریٹر ہے۔ یہ بنیادی طور پر وادی کلانگ، پینانگ اور کوانتان کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ 2011ء سے ریپڈ کے ایل کے سروس برانڈز یونٹ 167 راستوں پر چلائے جا رہے ہیں جن میں 1،400 بسیں 980 رہائشی علاقوں کو خدمات فراہم کر رہی ہیں جس سے روزانہ تقریباً 400،000 لوگ سفر کرتے ہیں۔ [123]

بی آر ٹی سن وے لائن[ترمیم]

بی آر ٹی سن وے لائن ایک بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) نطام ہے جو وادی کلانگ مربوط ٹرانزٹ نظام کا ایک جزو ہے۔ یہ کوالا لمپور کے مضافاتی علاقہ پیتالنیگ جایا کو خدمات فراہم کرتا ہے۔

مقامی بسیں[ترمیم]

مقامی بسیں (ریپڈ کے ایل کی مقامی شٹل سروس کے علاوہ) ریپڈ کے ایل مربوط نیٹ ورک بسیں اور نجی آپریڑر میٹرو بسیں بھی موجود ہیں جسن میں کازوے لنک، لین سینگ، سلنگور اومنی بس،سیتارا جایا، سٹی لائنر، واواسان سوتیرا، نادی پترا اور سری انداہ شامل ہیں۔

گو کے ایل سٹی بس[ترمیم]

گو کے ایل سٹی بس کوالا لمپور، ملائیشیا کے مرکز شہر میں ایک مفت بس سروس ہے۔ [124] [125] [126]

پودو سینٹرال[ترمیم]

پودو سینٹرال کوالا لمپور، ملائیشیا میں مرکزی مقامی بس اڈا ہے۔

سڑکیں[ترمیم]

جالان امپانگ اور جالان تن رزاق کا جنکشن

سڑکیں کوالا لمپور کی نقل و حمل نیٹ ورک کی اہم شریانیں ہیں۔ کوالالمپور میں روڈ نیٹ ورک کا نظام بڑے چینی شہروں کے روڈ نیٹ ورک کے نظام کی طرح ہے، جہاں ایک رنگ روڈ بھی موجود ہیں۔ کوالا لمپور کی اہم رنگ روڈ کوالا لمپور مڈل رنگ روڈ 1 اور کوالا لمپور مڈل رنگ روڈ 2 ہیں. کوالالمپور میں سڑکیں عام طور پر ہر سمت میں تین رویہ ہیں، جبکہ چند مخصوص سڑکیں جالان سلطان اسماعیل اور جالان بوکیت بینتانگ ایک طرفہ ہیں۔ [127]

ایکسپریس وے[ترمیم]

ذیل میں وادی کلانگ علاقے کی خدمت کرنے والے ایکسپریس وے کی ایک نا مکمل فہرست ہے:

روٹ نمبر ایکسپریس وے کا نام علاقہ جات خدمت دیگر ایکسپریس وے کنکشن
E1 نئی وادی کلانگ ایکسپریس وے سوبانگ جایا، کلانگ، دامانسارا، کوالا لمپور شمال-جنوب ایکسپریس وے (ملائیشیا)، شمال-جنوب ایکسپریس وے سینٹرل لنک، اسپرنٹ ایکسپریس وے
E5 شاہ عالم ایکسپریس وے شاہ عالم، ملائیشیا، یوپ سوبنگ یایا، کلانگ، کوتا کیمونینگ، بوکیت جلیل، سری پیٹلنگ ماجو ایکسپریس وے، کوالا لمپور-سرمبان ایکسپریس وے
E6 شمال-جنوب ایکسپریس وے سینٹرل لنک پتراجایا، سائبر جایا، کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ساوجانا پترا، شاہ عالم، ملائیشیا، نیلای نئی وادی کلانگ ایکسپریس وے، شمال-جنوب ایکسپریس وے (ملائیشیا)
E7
(Jkr-ft1.png)
چیراس-کاجانگ ایکسپریس وے چیراس، کوالا لمپور، کاجانگ چیراس ہائی وے، کاجانگ–سرمبان ہائی وے، کاجانگ ڈسپرسل لنک ایکسپریس وے، اسمارٹ سرنگ
E9 بیسرایا ایکسپریس وے سونگائی بیسی، بندر تاسک سیلاتان کاجانگ ڈسپرسل لنک ایکسپریس وے، شمال-جنوب ایکسپریس وے (ملائیشیا)
E10 نئی پانتای ایکسپریس وے سوبانگ جایا وفاقی ہائی وے، ملائیشیا، کوالا لمپور-سرمبان ایکسپریس وے
E18 کاجانگ ڈسپرسل لنک ایکسپریس وے کاجانگ، چیراس، کوالا لمپور، سونگائی لونگ جنوبی وادی کلانگ ایکسپریس وے، چیراس-کاجانگ ایکسپریس وے، بیسرایا ایکسپریس وے
E20 ماجو ایکسپریس وے پتراجایا، سائبر جایا کوالا لمپور-سرمبان ایکسپریس وے، شاہ عالم ایکسپریس وے
E21 کاجانگ–سرمبان ہائی وے کاجانگ، سیمینئیہ، سرمبان چیراس-کاجانگ ایکسپریس وے، چیراس ہائی وے
E23 اسپرنٹ ایکسپریس وے دامانسارا، کوالا لمپور، تامان دوتا نئی وادی کلانگ ایکسپریس وے، وفاقی ہائی وے، ملائیشیا
E33 دوتا–اولو کلانگ ایکسپریس وے تامان دوتا، اولو کلانگ، ضلع گومباک نئی وادی کلانگ ایکسپریس وے، کوالا لمپور-راوانگ ہائی وے، کوالا لمپور مڈل رنگ روڈ 2، کوالا لمپور-کاراک ایکسپریس وے
E37 کوالا لمپور-سرمبان ایکسپریس وے کوالا لمپور، سرمبان، کاجانگ، بانگی، نیلای شمال-جنوب ایکسپریس وے سینٹرل لنک، شمال-جنوب ایکسپریس وے (ملائیشیا)، اسمارٹ سرنگ، ماجو ایکسپریس وے
E37 مشرق–مغرب لنک ایکسپریس وے تامان کوگہناوت، سونگائی بیسی چیراس ہائی وے، چیراس-کاجانگ ایکسپریس وے، کوالا لمپور-سرمبان ایکسپریس وے، اسمارٹ سرنگ
E38 اسمارٹ سرنگ جالان سلطان اسماعیل، جالان تن رزاق وفاقی ہائی وے، ملائیشیا، کوالا لمپور-سرمبان ایکسپریس وے، چیراس ہائی وے
Jkr-ft1.png چیراس ہائی وے چیراس، کوالا لمپور، سونگائی بیسی | چیراس-کاجانگ ایکسپریس وے، کوالا لمپور مڈل رنگ روڈ 1، کوالا لمپور مڈل رنگ روڈ 2، مشرق–مغرب لنک ایکسپریس وے
Jkr-ft2.png وفاقی ہائی وے، ملائیشیا کلانگ، پیتالنیگ جایا، سوبانگ جایا، کیلانا جایا اور شاہ عالم، ملائیشیا نئی پانتای ایکسپریس وے، اسپرنٹ ایکسپریس وے

ٹیکسی[ترمیم]

ٹیکسی

میٹر والی ٹیکسیاں شہر بھر میں با آسانی دستیاب ہیں۔ تاہم ٹریفک جام، خاص طور پر رش کے اوقات میں ٹیکسی حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے یا رش میں پھنس جانے کی صورت میں آپ وقت پر اپنی منزل پر نہیں پہنچ پاتے۔ ایسے بہت سے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں ٹیکسی ڈرائیوروں نے بہت زیادہ کرایہ موصول کیا، خاص طور پر سیاحوں سے، اسی لیے سیاحوں کو مشورہ دیا جاتا ہے صرف وہ ٹیکس استعمال کریں جو میٹر کے مطابق کرایہ چارج کرتے ہیں، یا میٹر کا استعمال کرنے پر اصرار کیا جائے۔

ٹیکسی اسٹینڈ شہر بھر میں دستیاب ہیں اور زیادہ تر ٹیکسیاں ٹیکسی اسٹینڈ پر ہی کھڑی ہوتی ہیں۔ کوالا لمپور میں ٹیکسیاں مختلف رنگوں کی ہیں جیسے لال سفید، سرخ، پیلا-نیلا ، سبز یا پیلا رنگ۔ تاہم، ٹیکسیوں کو باآسانی ان کی نمبر پلیٹ سے شناخت کیا جا سکتا ہے کیونکہ ٹیکسیوں کا رجسٹریشن پلیٹ نمبر ایچ (H) اور ہوائی اڈے کی لیموزین کا نمبر لیمو (LIMO) سے شروع ہوتا ہے۔

سائیکل[ترمیم]

کوالا لمپور سائیکل ریس
سائیکل راہ

کوالا لمپور میں سائکلنگ سفر، تفریحی، کام پر جانے کے لیے نقل و حرکت کے لئے کوالا لمپور، ملائیشیا میں سائیکل کا استعمال ہے۔ پہلی سڑک سائیکلنگ ریس 1938ء میں کوالا لمپور میں شروع کی گئی۔ [128][129] موجودہ کوالا لمپور میں سائیکل طالب علموں اور درمیانی طبعوں کے شہریوں کے لئے پسندیدہ سواری ہے۔ [130][131]

کوالا لمپور میں سائیکل کے استعمال میں حالیہ برسوں میں شہریوں کی مختلف قسم کی دلچسپیوں کے ساتھ تیزی سے ترقی ہوئی ہے، خاص طور سے 2012ء میں کوالا لمپور میں سائیکل سیاحت کا آغاز آغاز ہوا ہے۔ [132][133][134]

بحری[ترمیم]

کلانگ بندرگاہ[ترمیم]

کلانگ بندرگاہ ملائیشیا کی ایک بندرگاہ ہے جو کلانگ کے جنوب مغرب میں تقریباً 6 کلو میٹر (3.7 میل)، اور کوالا لمپور کے جنوب مغرب میں 38 کلو میٹر (24 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔ [135] اسے برطقنوی نوآبادی دور میں 1893ء میں تعمیر کیا گیا اور کلانگ بندرگاہ کا پرانا نام پورٹ سویٹنہیم جو تب ریاست مالے کے برطانوی رہائشی ہائی کمشنر سر فرینک سویٹنہیم کے نام پر تھا۔ بندرگاہ کا سرکاری افتتاح 15 ستمبر 1901ء کو ہوا۔ اس کی ترقی میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب بندرگاہ کو کوالا لمپور سے ریلوے لائن سے ملا دیا گیا۔

بین الاقوامی تعلقات[ترمیم]

جڑواں شہر[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

نگارخانہ[ترمیم]

کتابیات[ترمیم]

  • Gullick، J.M. (1955). "Kuala Lumpur 1880–1895". Journal of the Malayan Branch of the Royal Asiatic Society 24 (4): 10–11. http://myrepositori.pnm.gov.my/bitstream/123456789/2265/1/JB1865_MBRA.pdf. 
  • J.M. Gullick۔ A History of Kuala Lumpur 1856–1939۔ The Malaysian Branch of the Royal Asiatic Society۔

بیرونی روابط[ترمیم]

Wikivoyage-Logo-v3-icon.svg Kuala Lumpur سفری راہنما منجانب ویکی سفر

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Malaya Celebrates, 1959"۔ British Pathé۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 اگست 2013۔
  2. ^ ا ب "Laporan Kiraan Permulaan 2010"۔ Jabatan Perangkaan Malaysia۔ صفحہ 27۔ مورخہ 8 جولا‎ئی 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 جنوری 2011۔
  3. "KL on track to megacity status"۔ Focus Malaysia۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اپریل 2015۔
  4. "Malaysia Elevation Map (Elevation of Kuala Lumpur)"۔ Flood Map : Water Level Elevation Map۔ مورخہ 22 اگست 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اگست 2015۔
  5. "Federal Territory of Kuala Lumpur"۔ Department of Statistics, Malaysia۔
  6. "Federal Territory of Kuala Lumpur"۔ Department of Statistics, Malaysia۔ مورخہ 23 جون 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  7. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ klang valley نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  8. "Putrajaya – Administrative Capital of Malaysia"۔ Government of Malaysia۔ مورخہ 21 اکتوبر 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 دسمبر 2007۔
  9. Jeong Chun Hai @Ibrahim, & Nor Fadzlina Nawi. (2007). Principles of Public Administration: An Introduction. Kuala Lumpur: Karisma Publications. ISBN 978-983-195-253-5
  10. Gwillim Law (30 جون 2015)۔ "Malaysia States"۔ Statoids۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 دسمبر 2007۔
  11. "Mastercard Destination Cities Index 2017" (پی‌ڈی‌ایف)۔ MasterCard۔ 26 ستمبر 2017۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جون 2018۔
  12. Violet Kim (19 فروری 2014)۔ "12 best shopping cities in the world"۔ CNN Travel۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اگست 2017۔
  13. "KL is second most liveable city in Southeast Asia"۔ The Sun۔ 17 اگست 2017۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2017۔
  14. "KL safer than Beijing, Shanghai but Tokyo tops list of safest cities"۔ The Malay Mail۔ 16 اکتوبر 2017۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 نومبر 2017۔
  15. Linawati Adnan (9 دسمبر 2014)۔ "Kuala Lumpur hailed as 'seven wonders cities' in the world"۔ Astro Awani۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اگست 2017۔
  16. "Kuala Lumpur named World Book Capital 2020"۔ UNESCO۔ 30 ستمبر 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2018۔
  17. "Unesco names Kuala Lumpur World Book Capital"۔ The Strait Times۔ 30 ستمبر 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 ستمبر 2018۔
  18. "kuala in English"۔ Glosbe۔
  19. Simon Richmond (25 نومبر 2006)۔ Malaysia, Singapore & Brunei. Ediz. Inglese۔ Lonely Planet Publications; 10th Revised edition۔ صفحہ 85۔ آئی ایس بی این 978-1-74059-708-1۔
  20. Gullick 2000، صفحات۔ 1–2.
  21. ^ ا ب پ Gullick 1955، صفحہ۔ 11.
  22. ^ ا ب Abdul-Razzaq Lubis, 'Sutan Puasa: The Founder of Kuala Lumpur', Journal of Southeast Asian Architecture (12), National University of Singapore, September 2013.
  23. J.M. Gullick۔ The Story of Kuala Lumpur, 1857–1939۔ Eastern Universities Press (M)۔ آئی ایس بی این 978-967-908-028-5۔
  24. Gullick 1983، صفحات۔ 8–9.
  25. Willard Anderson Hanna۔ Kuala Lumpur: An Amalgam of Tin, Rubber, and Races : a Brief Review of the City's Historical, Physical, and Psychological Development : a Report۔ American Universities Field Staff۔
  26. Kuala Lumpur: 100 Years۔ Kuala Lumpur Municipal Council۔
  27. Gullick 1955، صفحات۔ 10–11.
  28. Gullick 2000، صفحات۔ 7–9.
  29. Ziauddin Sardar (اگست 1, 2000)۔ The Consumption of Kuala Lumpur۔ Reaktion Books۔ صفحہ 49۔ آئی ایس بی این 978-1861890573۔
  30. Gullick 2000، صفحات۔ 10–11.
  31. Gullick 1983، صفحات۔ 21–23.
  32. Gullick 2000، صفحات۔ 18–24.
  33. Gullick 1983، صفحات۔ 35–36.
  34. Gullick 2000، صفحہ۔ 43.
  35. "Old-World Charm"۔ Virtual Malaysia Magazine۔ مورخہ 1 جنوری 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 دسمبر 2007۔
  36. Gullick، J.M. (1992). "The Bangunan Sultan Abdul Samad". Journal of the Malaysian Branch of the Royal Asiatic Society 65 (1): 27–38. 
  37. ^ ا ب پ "Kuala Lumpur"۔ Encyclopædia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 دسمبر 2007۔ نقص حوالہ: نادرست <ref> ٹیگ؛ نام "Britannica" مختلف مواد کے ساتھ کئی بار استعمال ہوا ہے۔
  38. ^ ا ب Gullick 1983، صفحات۔ 42–43.
  39. "Yap Ah Loy's Administration"۔ Yapahloy.tripod.com۔ 12 ستمبر 2000۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 اکتوبر 2011۔
  40. Keat Gin Ooi (ویکی نویس.)۔ Southeast Asia: A Historical Encyclopedia, from Angkor Wat to East Timor, Volume 1۔ ABC-CLIO۔ آئی ایس بی این 978-1576077702۔
  41. Chiang Siew Lee (13 مئی 1990)۔ "Kuala Lumpur: From a Sanitary Board to City Hall"۔ New Straits Times۔
  42. Reassessment of Urban Planning and Development Regulations in Asian Cities۔ UN-HABITAT۔ صفحہ 35۔ آئی ایس بی این 92-1-131419-4۔
  43. ^ ا ب Gullick 1983، صفحات۔ 111–119.
  44. Ian F. Shirley, Carol Neill (ویکی نویس.)۔ Asian and Pacific Cities: Development Patterns۔ Routledge۔ صفحہ 84۔ آئی ایس بی این 978-1-138-81442-4۔
  45. Gullick 1983، صفحہ۔ 259.
  46. Gullick 1983، صفحات۔ 252–253.
  47. ^ ا ب Rough Guides Snapshot Malaysia: Kuala Lumpur۔ Rough Guides۔ 3 اگست 2015۔ آئی ایس بی این 978-0-241-24195-0۔
  48. "Japanese Surrender of 29the Army in Kuala Lumper (13/9/1945)"۔ Imperial War Museum۔
  49. Geetha Krishnan۔ "PJC turns focus on maintenance issues"۔ The Malaysian Bar۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 دسمبر 2007۔
  50. "Attractions"۔ Ministry of Science Technology and Innovation۔ مورخہ 30 اکتوبر 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 دسمبر 2007۔
  51. Official figure,"New book on 1969 race riots in Malaysia may be banned, officials warn"۔ مورخہ 11 اکتوبر 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 فروری 2013۔
  52. "Those named by Lebanese officials as having been arrested included at least three Red Army members who have been wanted for years by Japanese authorities, most notably Kōzō Okamoto, 49, the only member of the attacking group who survived the Lod Airport massacre." "Lebanon Seizes Japanese Radicals Sought in Terror Attacks", The New York Times, 19 February 1997.
  53. Bunnell، Tim; Nah، Alice M. (2004). "Counter-global Cases for Place: Contesting Displacement in Globalising Kuala Lumpur Metropolitan Area". Urban Studies 41 (12): 2447–2467. 
  54. Yat Ming Loo۔ Architecture and Urban Form in Kuala Lumpur۔ Routledge۔ صفحہ 88۔ آئی ایس بی این 978-1-4094-4597-5۔
  55. Wendell Cox (12 جنوری 2013)۔ "The Evolving Urban Form: Kuala Lumpur"۔ New Geography۔
  56. Huang Chun-chieh۔ Taiwan in Transformation: Retrospect and Prosepct۔ صفحہ 378۔ آئی ایس بی این 9789863500155۔
  57. "Teargas used on rare Malaysia demo"۔ CNN۔ 10 نومبر 2007۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 دسمبر 2007۔
  58. Asiaweek۔ The Top Ten۔ Retrieved 23 فروری 2007.
  59. "Kuala Lumpur: Growing Pains"۔ Asia's Best Cities 2000۔ Asiaweek۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 دسمبر 2007۔
  60. Chan Ngai Weng۔ "Risk, Exposure and Vulnerability to Flood Hazards in a Rapidly Developing Country: The Case of Peninsular Malaysia"۔ National University of Malaysia۔ صفحات 107–137۔ مورخہ 29 اپریل 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 اپریل 2015۔
  61. "Kuala Lumpur Location"۔ Malaysia Travel۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2010۔
  62. "Extreme Temperatures Around the World"۔ Maximiliano Herrera۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2010۔
  63. "Weather in KL"۔ Welcome-KL۔ مورخہ 9 فروری 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 جولا‎ئی 2012۔
  64. "Kuala Lumpur Environment"۔ Kuala Lumpur City Hall۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 دسمبر 2007۔
  65. "Hazardous haze shrouds Kuala Lumpur"۔ MSNBC۔ 11 اگست 2005۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 دسمبر 2007۔
  66. "Climate of Kuala lumpur" (Russian زبان میں)۔ Weather and Climate (Погода и климат)۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 اکتوبر 2013۔
  67. "Kuala Lumpur Climate Normals 1961–1990"۔ National Oceanic and Atmospheric Administration۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 اپریل 2015۔
  68. "Kuala Lumpur, Malaysia – Climate data"۔ Weather Atlas۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 مارچ 2017۔
  69. ^ ا ب "DBKL History"۔ Kuala Lumpur City Hall۔ مورخہ 29 اپریل 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 اپریل 2015۔
  70. "About KL City Hall – History"۔ Kuala Lumpur City Hall۔ مورخہ 31 اگست 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2010۔
  71. "Malaysia's towns and cities are governed by appointed mayors"۔ City Mayors۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 اکتوبر 2006۔
  72. "Organisation Chart"۔ Kuala Lumpur City Hall۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 اپریل 2018۔
  73. http://www.emporis.com/building/bangunanparlimen-kualalumpur-malaysia
  74. Ng, Angie (13 اگست 2007)۔ "New growth corridors added"۔ The Star۔ مورخہ 15 جون 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 دسمبر 2007۔
  75. "Foreign Embassies and Consulates Directory in Malaysia"۔ GoAbroad.com۔ مورخہ 9 مئی 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جنوری 2015۔
  76. "The World According to GaWC 2008"۔ Globalization and World Cities Study Group and Network (GaWC)۔ Loughborough University۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 مئی 2009۔
  77. "Gross Domestic Product (GDP) by State, 2008"۔ Department of Statistics Malaysia۔ مورخہ 13 نومبر 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2010۔
  78. "GDP by State and Kind of Economic Activity, 2008" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Department of Statistics Malaysia۔ مورخہ 13 نومبر 2010 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2010۔
  79. ^ ا ب "GDP By State – National Accounts – 2010–2015"۔ Department of Statistics, Malaysia۔ Department of Statistics, Malaysia۔ 30 ستمبر 2016۔ صفحات 10, 22۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 مئی 2017۔ – Select "Publication GDP by State 2010–2015.pdf" to download and view data
  80. "GDP by State" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Department of Statistics, Malaysia۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 جون 2015۔
  81. "Median monthly household income for Malaysians has increased to RM5,228"۔ Human Resources۔
  82. "Kuala Lumpur Economic Base"۔ Kuala Lumpur City Hall۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 دسمبر 2007۔
  83. Sy, Amadou (18 ستمبر 2007)۔ "Malaysia: An Islamic Capital Market Hub"۔ Survey Magazine۔ International Monetary Fund۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 دسمبر 2007۔
  84. "World Largest Islamic Bank opens branch in Malaysia"۔ ClickPress۔ 13 فروری 2006۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 دسمبر 2007۔
  85. Tam, Susan (10 اپریل 2007)۔ "Malaysia needs to look beyond being hub for Islamic finance"۔ The Star۔ مورخہ 20 فروری 2009 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 دسمبر 2007۔
  86. "The Global 2000 (Malaysia)"۔ Forbes۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2010۔
  87. "Main page"۔ Institute for Medical Research, Malaysia۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 دسمبر 2007۔
  88. "Bloomberg"۔ Bloomberg۔
  89. "Tun Mohamed Dzaiddin Abdullah stepped down as Bursa Malaysia chairman in 1 مارچ 2015"۔ Bursa Malaysia Berhad۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 جنوری 2015۔
  90. "Bursa Malaysia appoints Datuk Seri Tajuddin Atan as new CEO"۔ Bursa Malaysia Berhad۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 اپریل 2011۔
  91. "South East Asian Capital Market Leaders Pursue Sustainable Business Agenda"۔ SSE Initiative۔ SSE Initiative۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 مئی 2015۔
  92. "Bursa Malaysia history"۔ مورخہ 19 اپریل 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  93. "INVESTMENT IN MALAYSIA"۔ Asia Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 دسمبر 2012۔
  94. "INTERNATIONAL BUSINESS; Malaysia Extends Deadline in Singapore Exchange Dispute"۔ The New York Times۔ 1 جنوری 2000۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 دسمبر 2012۔
  95. "Malaysia's stockmarket; Daylight Robbery"۔ The Economist۔ 10 جولائی 1999۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 دسمبر 2012۔
  96. "Bursa Malaysia Securities Trading Sessions"۔
  97. "Bursa Malaysia Derivatives Trading Sessions"۔
  98. "Trading on Bursa suspended"۔ Business Times۔ مورخہ 11 اپریل 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  99. Surin Murugiah۔ "KLCI best performer among regional indices at midday"۔ The Edge۔ مورخہ 12 مارچ 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 مارچ 2008۔
  100. Cindy Yeap (3 جولائی 2008)۔ "Bursa Malaysia announce "surprise and rare" trading halt"۔ The Edge۔ مورخہ 6 جولائی 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جولائی 2008۔
  101. Palm Oil Futures Trading in Malaysia نسخہ محفوظہ 20 نومبر 2008 در وے بیک مشین
  102. Syariah commodities trading platform to be launched نسخہ محفوظہ 7 اگست 2011 در وے بیک مشین The Edge, 29 جولائی 2009
  103. CME and Bursa Malaysia to launch palm oil contractسانچہ:Deadurl Financial Times, 11 اگست 2009
  104. Bursa Malaysia, CME in palm oil futures deal Reuters, 11 اگست 2009
  105. CME Group to take stake in Bursa Malaysia derivatives unit Chicago Tribune 11 اگست 2009
  106. CME to acquire 25% stake in Bursa's derivatives business The Star, 17 ستمبر 2009
  107. CME to take 25% stake in Bursa's derivatives for RM55m نسخہ محفوظہ 23 ستمبر 2009 در وے بیک مشین The Edge Malaysia, 17 ستمبر 2009
  108. Jakarta's CPO contract not a threat نسخہ محفوظہ 7 اکتوبر 2011 در وے بیک مشین The Edge Malaysia, 29 جون 2009
  109. Jakarta plans palm oil exchange Financial Times, 6 اگست 2009
  110. Singapore's JADE to launch crude palm oil futures on جون 6 Forbes, 3 مئی 2007
  111. Singapore Exchange buys CME's stake in JADE market Reuters, 9 نومبر 2007
  112. JADE palm oil, rubber futures to shift to SGX Reuters, 7 نومبر 2007
  113. "Kuala Lumpur Travel"۔ مورخہ 27 اگست 2009 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2009۔
  114. ^ ا ب "2010 Population and Housing Census of Malaysia" (پی‌ڈی‌ایف) (Malay and English زبان میں)۔ Department of Statistics, Malaysia۔ مورخہ 5 فروری 2013 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 17 جون 2012۔
  115. "History of KLIA"۔
  116. ائیرپورٹس ڈیٹا بیس
  117. "Profile on Malaysia Airlines"۔ CAPA۔ Centre for Aviation۔ مورخہ 2016-10-29 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-10-29۔
  118. "China Airlines / Malaysia Airlines proposes codeshare service from Nov 2016"۔
  119. Jim Liu (3 اپریل 2018)۔ "Uzbekistan Airways / Malaysia Airlines expands codeshare routes from April 2018"۔ Routesonline۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 اپریل 2018۔
  120. KTMB Statistics on ridership
  121. http://landasan.info/services/ktmb/
  122. "Our Services"۔ Express Rail Link Sdn Bhd۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 جون 2014۔
  123. Surin Murugiah (27 جون 2008)۔ "RM4.9b to boost urban,rail transport systems"۔ مورخہ 2 اپریل 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 جون 2008۔
  124. The Star Online۔ "Free city bus service is the way to GO"۔ thestar.com.my۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 جون 2013۔
  125. The Star Online۔ "New free city bus service a relief to KL residents"۔ thestar.com.my۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 ستمبر 2012۔
  126. New Straits Times۔ "No stopping GO-KL, says SPAD chief"۔ thestar.com.my۔ مورخہ 5 اکتوبر 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 اکتوبر 2012۔
  127. One Way Streets in Golden Triangle
  128. "SHORT HISTORY OF BICYCLE RACING IN MALAYSIA"۔ Malaysian National Cycling Federation۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 ستمبر 2015۔
  129. "Cycling: HISTORY"۔ Commonwealth Games Federation۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 ستمبر 2015۔
  130. Jegathesan, M. A Decade on Cinders. Federal Publications, 1984, p. 8.
  131. Hilling, D. Transport and Developing Countries. Routledge, 1996, p. 206. ISBN 9781134777242
  132. "Interest in cycling tourism increases"۔ Wonderful Malaysia۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2015۔
  133. "OCBC Cycle Malaysia Info Booklet (Section "A Word from our partners" by Khairy Jamaluddin"۔ OCBC۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2015۔
  134. "KL Mayor and Cycle Malaysia announce new route, join hands to raise funds for charity."۔ Spectrum Worldwide۔ اخذ شدہ بتاریخ 15 ستمبر 2015۔
  135. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین۔ "Port Klang"۔
  136. "Chennai, Kuala Lumpur sign sister city pact"۔ The Hindu۔ Chennai, India۔ 26 نومبر 2010۔ مورخہ 29 نومبر 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 نومبر 2010۔
  137. "Sisterhoods"۔ Isfahan Islamic Council۔ مورخہ 12 اکتوبر 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 دسمبر 2007۔
  138. "Mashhad-Kuala Lumpur Become Sister Cities"۔ Mircea Birca۔ Eurasia Press and News۔ 14 اکتوبر 2006۔
  139. "Sister Cities of Shiraz"۔ Shiraz Municipality۔ 12 جون 2010۔ مورخہ 27 ستمبر 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 اپریل 2015۔
  140. "ビジネスパートナー都市(BPC)" (Japanese زبان میں)۔ Osaka Policy Planning Office۔ 19 ستمبر 2012۔ مورخہ 20 جنوری 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 دسمبر 2015۔
  141. "Bandar Kembar Melaka, Hoorne" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Bernama (Malay زبان میں)۔ National Library of Malaysia۔ 7 جولائی 1989۔ مورخہ 25 ستمبر 2015 کو اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 ستمبر 2015۔
  142. "Eight Pakistani cities have 47 sister cities around the world"۔ 16 مئی 2011۔ مورخہ 20 دسمبر 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 دسمبر 2015۔
  143. "Kardeş Kentleri Listesi ve 5 مئیıs Avrupa Günü Kutlaması [via WaybackMachine.com]" (Turkish زبان میں)۔ Ankara Büyükşehir Belediyesi – Tüm Hakları Saklıdır۔ مورخہ 14 جنوری 2009 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولائی 2013۔
  144. "Relations between Turkey and Malaysia"۔ Ministry of Foreign Affairs (Turkey)۔ مورخہ 30 جون 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 جولائی 2015۔
  145. "KL's Sister Cities – Poskod Malaysia"۔ Poskod Malaysia (انگریزی زبان میں)۔ 21 اکتوبر 2010۔ مورخہ 30 اگست 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 فروری 2017۔
  1. Ministry Of Federal Territories And Urban Wellbeing۔ "Overview of Greater Kuala Lumpur"۔
  2. "Shopping haven in Iskandar Malaysia"۔ The Star۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-04-17۔
  3. "Penang Population"۔ Penang Institute۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-04-17۔
  4. "Greater Kota Kinabalu Healthcare Overview" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Sabah Economic Development and Investment Authority SEDIA۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-04-17۔