ریل کی پٹری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ٹریک گیج
Track gauges
عام تصورات
ٹریک گیج · گیج کا وقفہ ·

دوہرا گیج · تبدیلی (فہرست·
بوگی کا تبادلہ · تبدیل پذیر گیج

بلحاظ نقل و حمل روش
ٹرام · شہری تیز رفتار نقل و حمل · تیز رفتار ریل
تفریحی · ماڈل اسکیل
بلحاظ سائز (فہرست)
ٹریک گیج کی ترسیمی فہرست

براڈ
  بریٹس پورباہن 3,000 mm (9 ft 10 18 in)
  برونل 2,140 mm (7 ft 14 in)
  انڈین 1,676 mm (5 ft 6 in)
  آئبيريائی 1,668 mm (5 ft 5 2132 in)
  آئرش 1,600 mm (5 ft 3 in)
  پنسلوانیا 1,588 mm
1,581 mm
(5 ft 2 12 in)
(5 ft 2 14 in)
  روسی 1,524 mm
1,520 mm
(5 ft)
(4 ft 11 2732)

  اسٹینڈرڈ 1,435 mm (4 ft 8 12 in)

نیرو
  اسکاچ 1,372 mm (4 ft 6 in)
  کیپ 1,067 mm (3 ft 6 in)
  میٹر 1,000 mm (3 ft 3 38 in)
  تین فٹ, 900 ملی میٹر
اور سویڈش تین فٹ
914 mm
900 mm
891 mm
(3 ft)
(2 ft 11 716)
(2 ft11 332) in
  دو فٹ چھ انچ, بوسنیائی
اور 750 ملی میٹر
762 mm
760 mm
750 mm
(2 ft 6 in)
(2 ft 5 1516 in)
(2 ft 5 12 in)
  دو فٹ 600 ملی میٹر 610 mm
600 mm
597 mm
(2 ft)
(1 ft 11 58 in)
(1 ft 11 12 in)

کم از کم
  پندرہ انچ 381 mm (15 in)
بلحاظ مقام
شمالی امریکہ · جنوبی امریکہ · یورپ
عالمی نقشہ, ریل گیج بلحاظ خطہ
ریل کی پٹری جسے عام طور پر ریلوے لائن یا ریلوے ٹریک کہا جاتا ہے

ریل کی پٹری جسے عام طور پر ریلوے لائن یا ریلوے ٹریک کہا جاتا ہے فولادی پٹریوں، سلیپر ( لکڑی یا لوہے کے تختے یا کنکریٹ کے سلب) اور بلاسٹ (پتھروں کی تہ) پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس ریلوے لائن یا ریلوے ٹریک پر ہی ٹرینیں چلتیں ہیں اور مسافروں یا اشیاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتیں ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

سولہویں صدی کے ایک جرمن سائنس دان جارج ایگریکولا نے اپنی کتاب معدنیات میں ایک ایسی گاڑی کا ذکر کیا ہے جو لکڑی کے کھمبوں پر چلتی تھی اور اسے گھوڑے کھینچتے تھے۔ 1790ء میں اسی قسم کی ایک گھوڑا گاڑی کانوں سے کوئلہ ڈھونے کے لیے ، برطانیہ میں چلائی گئی ۔ لیکن یہ لوہے کی پٹری پر چلتی تھی۔ 1804ء میں ایک انگریز انجینیر رچرڈ ٹرے دی تھک نے بھاپ سے چلنے والا انجن تیار کیا ۔ لیکن یہ صرف بیس ٹن وزن کھینچ سکتا تھا۔ اس کے بعد جارج اسٹیفن سن نے اس سے زیادہ طاقتور انجن بنایا ۔ اس انجن کے کامیاب تجربے کے بعد اسٹاکٹن اور ڈارلنگٹن تک ریل کی پٹری بچھائی گئی جس پر صرف مال گاڑیاں چلائی گئیں۔ 1830ء میں لیور پول سے مانچسٹر کو ملانے والی ریلوے لائن کا افتتاح ہوا اور برطانیہ میں سب سے پہلی مسافر گاڑی اسی ریلوے لائن پر چلی ۔

ٹریک گیج (پٹری کی چوڑائی)[ترمیم]

ٹریک گیج ( پٹری کی چوڑائی)

ریلوے لائن کی پٹریوں کے درمیان کے فاصلہ کو ٹریک گیج کہا جاتا ہے۔ دنیا میں بہت سے ٹریک گیج استمال ہوتے ہیں جن میں اسٹینڈرڈ گیج، براڈ گیج، میٹر گیج اور نیرو گیج وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ تقریباً %60 ریلوے لائنیں اسٹینڈرڈ گیج ہیں۔

ریلوے ٹریک کی بناوٹ[ترمیم]

ریلوے ٹریک کی بناوٹ

روایتی ریلوے ٹریک[ترمیم]

عام ریلوے ٹریک کے سب سے نیچے ہموار زمین ہوتی ہے۔ اس کے اوپر باریک پتھروں اور مٹی یا ریت ملی تہ ہوتی ہے۔ اس تہ کے اوپر بلاسٹ (پتھروں کی تہ) ہوتی ہے. بلاسٹ کے اوپر سلیپر (لکڑی یا لوہے کے تختے یا کنکریٹ کے سلب) فولادی پٹریوں سے کلپوں کی مدد سے جوڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ پٹریاں لمبائی کے رخ پر بھی لوہے کی پلیٹوں اور نٹ بولٹ سے یا ویلڈنگ سے جوڑی ہوتیں ہیں۔

تصاویر[ترمیم]

ریلوے ٹریک ایک تصویر
جاپانی تیزرفتار ریلوے ٹریک
چین کی تیزرفتار ریلوے ٹریک
لکڑی کے روایتی تختے پر پٹری
پٹری کی بناوٹ
مین ریلوے لائن پر 6 نٹ بولٹ اور فش پلیٹ سے لگایا ہوا جوڑ
ویلڈ کیا ہوا پٹری کا جوڑ
پناما زیر تعمیر ریلوے لائن