ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹمی بمباری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹمی بمباری
حصہ دوسری جنگ عظیم
Two aerial photos of atomic bomb mushroom clouds, over two Japanese cities in 1945.
Atomic bomb mushroom clouds over Hiroshima (left) and Nagasaki (right)
تاریخاگست 6 اور 9, 1945
مقامہیروشیما اور ناگاساکی, جاپان
نتیجہ اتحادیہ فتح
محارب
 ریاستہائے متحدہ
 مملکت متحدہ
 جاپان
کمانڈر اور رہنما
Flag of ریاستہائے متحدہ William S. Parsons
Flag of ریاستہائے متحدہ Paul W. Tibbets, Jr.
Flag of سلطنت جاپان Shunroku Hata
Units involved
مینہٹن پراجکٹ: 50 U.S., 2 برطانوی
509th Composite Group: 1,770 امریکی.
دوسری عام جاپانی فوج: ہیروشیما: 40,000
ناگاساکی: 9,000
اموات اور نقصانات
20 U.S., Dutch, British prisoners of war killed 90,000–166,000 ہیروشیما میں مارے گئے
39,000–80,000 ناگاساکی میں مارے گئے
کل تعداد: 129,000–246,000+ مارے گئے
ہیروشیما بمباری سے پہلے
ہیروشیما ب،بمباری کے بعد.

6 اور 9 اگست 1945 کودوسری جنگ عظیم میں ایک انسانی تاریخ کا سب سے شرمناک واقعہ پیش آیا جو آج بھی تاریخ کا بدترین دن مانا جاتا ہے۔ اس دن کو امریکا نے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹم بم گرایا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے 2 سے 3 لاکھ کے درمیان لوگوں کی جان لی۔ آج اس دن کے بارے میں سوچا جاتا ہے تو آنکھوں سے آنسوں امڈ پڑتے ہیں کہ کیا ایسے انسان بھی ہوسکتے ہیں جو لاکھوں بے گناہ لوگوں کی جان منٹوں میں لے لیتا ہیں۔ اس واقعے نے پورے انسانیت کے دیواروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایٹمی بمباری کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے معصوم لوگوں کے جسموں سے گوشت بگلنے لگا۔ اس دن کو تاریخ میں سیاہ ترین دن سمجھا جاتا ہے۔ اسی بمباری کی وجہ ہے کہ آج بھی اگر ہیروشیما یا ناگاساکی میں لوگ پیدا ہوتے ہیں تو ان میں کوئی نہ کوئی خلقی نقص پایا جاتا ہے۔ ایٹم بم انسانیت کے لیے انتہائی تباہ کن ہے۔ جب بھی اس کا استعمال ہوا ہے ہمیشہ اس نے تباہی مجھائی ہے۔