بل گیٹس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بل گیٹس

Bill Gates

(انگریزی میں: Bill Gates ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Head and shoulders photo of Bill Gates
بل گیٹس جولائی 2014ء میں

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: William Henry Gates III ویکی ڈیٹا پر پیدائشی نام (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 28 اکتوبر 1955ء (عمر 64 سال)
سیاٹل[1]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش میڈینہ واشنگٹن،امریکہ۔
شہریت Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا[2]  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قد 1.77 میٹر  ویکی ڈیٹا پر قد (P2048) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب رومن کیتھولک[3]
رکن امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون  ویکی ڈیٹا پر رکن (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ میلنڈا گیٹس (شادی. 1994)
اولاد جینیفر کیتھرین گیٹس
روری جان گیٹس
فیبی ایڈل گیٹس
والدین سر ولیم ایچ گیٹس
میری میکس ویل گیٹس
مناصب
چیف ایگزیکٹو آفیسر   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
اپریل 1975  – جنوری 2000 
در مائیکروسافٹ 
عملی زندگی
مادر علمی ہاورڈ یونیورسٹی
پیشہ مائیکروسافٹ کی ٹیکنالوجی کے مشیر
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[4]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دور فعالیت 1975 تا حال
ملازمت مائیکروسافٹ  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کل دولت 89800000000 امریکی ڈالر (27 جولا‎ئی 2017)[5]  ویکی ڈیٹا پر کل دولت (P2218) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کھیل برج  ویکی ڈیٹا پر کھیل (P641) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
Presidential Medal of Freedom (ribbon).png صدارتی تمغا آزادی (2016)[6]
تمغا بنجمن فرینکلن (2010)
Lint Orde van het Britse Rijk.jpg آرڈر آف دی برٹش ایمپائر
Legion Honneur Commandeur ribbon.svg کمانڈر آف دی لیجین آف اونر
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن [7]
Order BritEmp (civil) rib.PNG نائٹ کمانڈر آف دی آرڈر آف دی برٹش امپائر  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
William H. Gates III
ویب سائٹ
ویب سائٹ TheGatesNotes.com
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

بِل گیٹس کا پورا نام ولیم ہنری گیٹس ہے۔ بل گیٹس (Bill Gates) مائیکروسافٹ کمپنی کے چیئر مین اور دنیا کے امیر ترین شخص ہیں۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

بل گیٹس 1955ء میں امریکہ واشنگٹن کے ایک مضافاتی علاقے سیایٹل میں ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوئے۔ انھیں بچپن سے ہی کمپیوٹر چلانے اور اس کی معلومات حاصل کرنے کا شوق تھا۔ آج کی طرح کمپیوٹر نہ اتنے ترقی یافتہ تھے اور نہ ہی کمپیوٹروں کی دنیا، محض 13برس کی عمر میں وہ پروگرامینگ کا ہنر سیکھ چکے تھے۔ اتفاق سے دوستی بھی ایک ایسے لڑکے سے تھی جو خود بھی کمپیوٹروں کا دیوانہ تھا۔ اس دوست کا نام پال ایلن تھا۔

حالات زندگی[ترمیم]

یہ دونوں دوست ہاروڈ یونی ورسٹی میں زیرِ تعلیم تھے مگر کمپیوٹروں کے شوق نے پڑھائی کی بیچ میں سے ہی چھوڑنے پر مجبور کیا اور آخر کار یہ دونوں دوست کالج کو خیر باد کہہ کر ہمہ وقت کمپیوٹروں کی دنیا میں کھو گئے۔ ان کا خاص پروجیکٹ کمپیوٹر کی ایک خاص زبان کو ترتیب دینا تھا جس سے کمپیوٹر کو چلانے میں آسانی ہو۔ ان کی محنت رنگ لائی اور انھوں نے ایک خاص ’’بیسک لنگویج‘‘ مرتب کر لی جس نے کمپیوٹروں کو عام کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ اس اہم کارنامے کے بعد پال ایلن اور ویلم ہنری (بل گیٹس) البو قرق (نیو میکسکو) چلے گئے۔ یہاں انھوں نے ’’مائکروسافٹ کارپوریشن‘‘ کی نیو ڈالی۔ اس کے تحت وہ کمپیوٹر کے مختلف سافٹ ویئر تیار کرنا چاہتے تھے جس کی ساری دنیا میں بڑی مانگ تھی کیونکہ پرسنل کمپیوٹر کا استعمال دنیا میں تیزی سے بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ ہارڈ ویئر تو مارکیٹ میں بہت دستیاب تھے مگر سافٹ ویئر کی بڑی کمی تھی۔ اس کی زبردست مانگ کے پیش نظر دونوں دوستوں نے اس میدان میں خوب ترقی کی اور آخرکار انھیں ایک ایسا سافٹ ویئر بنانے میں کامیابی ملی جس کو ساری دنیا میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔

دور عروج[ترمیم]

اس کامیابی سے متاثر ہو کر دنیا کی مشہور کمپنی انٹرنیشنل بزنس مکینکس (آئی۔ بی۔ ایم)نے انھیں ایک مائیکرو سافٹ آپریٹنگ سسٹم بنانے کے لیے مدعو کیا جس کو پرسنل کمپیوٹر میں استعمال کیا جا سکے۔ یہاں بِل گیٹس کی ذہانت، لگن اور محنت نے اپنا کرشمہ کر دکھایا اور انھوں نے اس مقصد کو حاصل کرنے میں اولیت حاصل کر لی۔ اس آپریٹنگ سسٹم کو انھوں نے نے مائکرو سافٹ۔ ڈسک آپریٹنگ سسٹم (ایم۔ ایس۔ ڈوسMS-DOS) کا نام دیا اور نتیجے میں آئی بی ایم کمپنی نے لاکھوں کمپیوٹر فروخت کر کے بے تحاشہ منافع حاصل کیا جس سے بِل گیٹس اور ان کے دوست بھی مستفیض ہوئے۔ چند وجوہات کی بنا پر پال ایلن علاحدہ ہو گیا اور بِل گیٹس نے اس سمت میں اپنا سفر تنہائی جاری رکھا۔ انھوں نے بہت جلد بزنس کی دنیا میں استعمال ہونے والے اور تفریحی سافٹ وئیر تیار کر کے آئی بی ایم کمپنی کے علاوہ دنیا کی مختلف کمپیوٹر کمپنیوں کو بیچا جس سے ان کی آمدنی میں حیران کن اضافہ ہو گیا۔ 1984ء میں ان کی اپنی کمپنی، مائکروسافٹ کا 10کروڑ ڈالر کا بزنس محض دو برسوں میں دگنا ہو گیا۔ اس کمپنی کے حصص(شیئر) بھی اسٹاک ایکس چینج سے فروخت ہونے لگے۔ اس کے بعد تو گویا آسمان سے ہوں برسنے لگا۔ 1994ء میں بزنس کا نشانہ 2 بلین ڈالر پر پہنچ گیا جو محض ایک سال بعد 10بلین ڈالر ہو گیا۔ دنیا نے اس سے قبل آمدنی میں اضافہ کی یہ رفتار کبھی نہیں دیکھی تھی۔ حتیٰ کہ تیل سے ملنے والی آمدنی کے شیوخ بھی پیچھے رہ گئے۔ بِل گیٹس نے دنیا کے امیر ترین لوگوں کی فہرست میں اول مقام حاصل کر لیا۔ یہ اس لیے ممکن ہوا کہ بِل گیٹس نے ہوا کے رخ کو پہچان لیا تھا۔ بِل گیٹس کو یہ عظیم کامیابی محض ان کی ان تھک محنت، کوشش لگن، سوجھ بوجھ اور اپنے کام سے بے پناہ لگاؤ کے نتیجے میں حاصل ہوئی۔ اس سے ہمارے نوجوانوں کو سبق حاصل کرنا چاہیے۔ ان کی مثالیں اگر ہمارے سامنے ہوں تو یقیناً ہم بھی ایسے کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔ بِل گیٹس نے اپنی بے پناہ دولت کا ایک حصّہ سماجی کاموں کے لیے بھی مختص کیا ہے۔

کا رہائے نمایاں[ترمیم]

بل گیٹس کے پاس 82 ارب ڈالر ہیں اور اپنی دولت کو اپنے ایک فلاحی ادارے کے ذریعے انسانوں کی فلاح کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اجازت نامہ: CC0
  2. https://www.forbes.com/profile/bill-gates/#634c34b0689f — اخذ شدہ بتاریخ: 23 جولا‎ئی 2018
  3. Jeff Goodell (2014-03-13)۔ "Bill Gates: The Rolling Stone Interview"۔ Rolling Stone۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12057155q — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. https://www.forbes.com/profile/bill-gates/?list=rtb
  6. https://www.whitehouse.gov/the-press-office/2016/11/16/president-obama-names-recipients-presidential-medal-freedom
  7. https://www.indiatoday.in/india/story/bill-gates-melinda-padma-bhushan-india-foundation-social-work-237379-2015-01-25
  8. "#1 Bill Gates"۔ فوربس میگزین۔ اپریل 23, 2015۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔