براء بن معرور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
براء بن معرور
معلومات شخصیت
وفات سنہ 622  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر

براء بن معرور ایک صحابی تھے، کنیت ابو البشر، قبیلہ خزرج کے رئیس تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بنو سلمہ کا نقیب مقرر فرمایا 622ء میں حج کے موقع پر جو پچھتر انصار نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرنے آئے تھے ان میں سب سے معمر یہی تھے۔ ان سب کی طرف سے سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت و نصرت کا عہد انہوں نے یہ کیا تھا۔ یہ پہلے خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے بعد میں سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق قبلہ اول بیت المقدس کی طرف رخ کر کےپڑھنے لگے۔ مرنے سے پہلے وصیت کی کہ میری میت قبلہ رخ رکھنا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت مدینہ سے ایک ماہ پہلے مدینہ منورہ میں وفات پائی۔ ہجرت کے بعد آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قبر پر صحابہ کی معیت میں دعا فرمائی اور ان کے بیٹے بشر کو جو بدری صحابی ہیں ان کی جگہ بنو سلمہ کا سردار نامزد فرمایا۔ حضرت براء نے وصیت کی تھی کہ ان کے مال کا تیسرا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس طرح چاہیں استعمال کریں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا وہ مال ان کے ورثاء میں تقسیم کر دیا۔ ان کے بھائی قیس بن معرور بھی صحابی تھے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. شاہکار انسائیکلوپیڈیا- قاسم محمود- سنت نگر لاہور

حوالہ جات[ترمیم]