خلع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

بیوی سے کچھ مال لے کر اس کا نکاح زائل کردینا خلع کھلاتاہے۔[1]

قرآن اور خلع[ترمیم]

سورۃ بقرہ کی 229ء ویں آیت میں موجود ہے کہ عورت کچھ بدلہ رقم شوہر کو ادا کرکے اس سے چھٹکارا حاصل کر لے۔ الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ وَلاَ يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُواْ مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلاَّ أَن يَخَافَا أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

تمھیں حلال نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا ہے اُس میں سے کچھ واپس لو، مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اﷲ کی حدیں قائم نہ رکھیں گے تو اُن پر کچھ گناہ نہیں، اِس میں کہ بدلا دیکر عورت چھٹی لے، یہ اﷲ کی حدیں ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اورجو اﷲ کی حدوں سے تجاوز کریں تو وہ لوگ ظالم ہیں۔

حدیث اور خلع[ترمیم]

صحیح بخاری و صحیح مسلم میں عبداﷲ بن عباس سے مروی کہ ثا بت بن قیس کی زوجہ نے محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی، کہ یا رسول اﷲ! ثابت بن قیس کے اخلاق و دین کی نسبت مجھے کچھ کلام نہیں (یعنی اُن کے اخلاق بھی اچھے ہیں اور دیندار بھی ہیں) مگر اسلام میں کفران نعمت کو میں پسند نہیں کرتی (یعنی بوجہ خوبصورت نہ ہونے کے میر ی طبیعت ان کی طرف مائل نہیں) ارشار فرمايا: اُس کا باغ (جو مہر میں تجھ کو دیا ہے) تو واپس کر دیگی؟ عرض کی، ہاں۔ آپ نے ثابت بن قیس سے فرمايا: باغ لے لو اور طلاق دیدو۔[2]

فقہ اور خلع[ترمیم]

فقہ میں خلع کی تعریف: مال کے بدلے میں نکاح زائل کرنے کو خلع کہتے ہیں، عورت کا قبول کرنا شرط ہے، بغیر اُس کے قبول کیے خلع نہیں ہو سکتا اور اس کے الفاظ معین ہیں ان کے علاوہ اور لفظوں سے نہ ہو گا۔ اگر زوج و زوجہ میں نا اتفاقی رہتی ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ احکام شرعیہ کی پابندی نہ کرسکیں گے تو خلع میں مضایقہ نہیں اور جب خلع کر لیں تو طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور جو مال ٹھہرا ہے عورت پر اُس کا دینا لازم ہے۔[3] جو چیز مہر ہو سکتی ہے وہ بدل خلع بھی ہو سکتی ہے اور جو چیز مہرنہیں ہو سکتی وہ بھی بدل خلع ہو سکتی ہے مثلاً دس درہم سے کم کو بدل خلع کر سکتے ہیں مگر مہر نہیں کر سکتے۔[4] خلع شوہر کے حق میں طلاق کو عورت کے قبول کرنے پر معلق کرنا ہے کہ عورت نے اگر مال دینا قبول کر لیا تو طلاق بائن ہو جائے گی لہٰذا اگر شوہر نے خلع کے الفاظ کہے اور عورت نے ابھی قبول نہیں کیا تو شوہر کو رجوع کا اختیار نہیں نہ شوہر کو شرط خیار حاصل اور نہ شوہر کی مجلس بدلنے سے خلع باطل۔[5] شوہر نے کہا میں نے تجھ سے خلع کیا اور مال کا ذکر نہ کیا تو خلع نہیں بلکہ طلاق ہے اور عورت کے قبول کرنے پر موقوف نہیں۔[6]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. امجد علی اعظمی، بہار شریعت،جلدو2، حصہ 8، ص 194، مکتبۃالمدینہ، کراچی
  2. صحیح البخاری، کتاب الطلاق، باب الخلع وکیف الطلاق فیہ، الحدیث: 5273، ج3، ص487
  3. الھدایۃ، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج2، ص261
  4. الدرالمختار، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج5، ص89
  5. الفتاوی الخانیۃ، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج1، ص256
  6. بدائع الصنائع، کتاب الطلاق، فصل رکن الخلع، ج3، ص229