مندرجات کا رخ کریں

عزت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
محبت اور احترام کی کوئی سرحد نہیں ہوتی: ہیمکُنڈ صاحب، بھارت میں دوسرے ملک کے جوڑے
ھارت کی ایک عورت کی گڑیا، جو دہلی کے انٹرنیشنل ڈولز میوزیم میں مہمان کا احترام کرتے ہوئے نمسکار کے انداز میں کھڑی ہے
وائس ایڈمرل اے آر کاروے کوچی کے نیول بیس میں وار میموریل پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے

عزت شمالی ہندوستان اور پاکستان کے معاشروں میں آن، آبرو اور اعزاز کا ملا جلا تصوّر ہے۔[1] عزت کا خیال اس خطہ میں بسنے والے ہر مذہب (مسلمان، ہندو، سکھ)، ہر فرقے اور ہر طبقہ کے مردوں اور عورتوں پر لاگو ہوتا ہے۔[2][3][4]

عزت کو خاندان کی شرافت اور مرد یا عورت کی سماجی حیثیت سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ اپنی اور اپنے خاندان کی (خاص کر اپنے خاندان کی عورتوں کی) آن-آبرو بنائے رکھنا اور اپنی عزت کے خلاف جانے والوں سے لازمی طور پر بدلہ لینا یا دشمنی بنانا - ان دونوں چیزوں کو اس حلقے میں عزت کے تصوّر کا ضروری حصّہ مانا گیا ہے۔[5]

جہاں ایک جانب عزت کی روایت کو کبھی کبھی معاشرے میں خواتین کی آزادی میں رکاوٹ بتایا گیا ہے، وہاں دوسری جانب یہ بھی مانا جاتا ہے کہ معاشرے کے ہر طبقہ میں عزت کے ایک ہی معنی ہونے سے تمام سماج میں ایک قسم کی مساوات بھی پھیلتی ہے جس سے "(دوستی میں) لین دین کی برابری بھی ہوتی ہے اور (دشمنی میں) بدلے کی برابری بھی۔"[6]

کسی بھی رشتے میں دونوں جانب سے برابر کی دوستی یا دشمنی جتلانے کی روایت عزت سے جڑی ہے۔ اگر کسی نے پہلے کسی صورت میں مدد کی ہو تو آئندہ ضرورت پڑنے پر اس کی مدد کرنا اس علاقے کے معاشروں میں اپنی عزت برقرار رکھنے کے لیے لازم مانا جاتا ہے۔[5]

تاریخی پس منظر

[ترمیم]

عزت کا تصور صدیوں سے برصغیر کے معاشرتی اور ثقافتی ڈھانچے کا حصہ رہا ہے۔ مغلیہ دور میں بھی یہ خاندان کی شرافت، رعایا کے ساتھ تعلقات اور سماجی حیثیت کے لیے بنیادی اصول مانا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ تصور دیہات اور شہری علاقوں میں مختلف انداز میں رائج ہوا اور آج بھی شمالی بھارت اور پاکستان کے بہت سے علاقوں میں عزت کا تصوّر روزمرہ زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. David Cheesman، Landlord power and rural indebtedness in colonial Sind, 1865-1901، Routledge, 1997، ISBN:9780700704705، ... Izzat remains to this day a critical part of life throughout Pakistan and northern India. Maintaining izzat is a driving motivation for vast numbers of people, from all communities and classes and in every walk of life ...
  2. Naina Patel, Don Naik, Beth Humphries، Visions of reality: religion and ethnicity in social work، Central Council for Education and Training in Social Work (Great Britain), 1998، ISBN:9781857191813، ... The concept of Izzat, shared equally by Hindus, Muslims and Sikhs ...{{حوالہ}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: متعدد نام: مصنفین کی فہرست (link)
  3. Blackwood's magazine, Volume 211، W. Blackwood, 1922، ... In India the word izzat, honour or prestige, is commonly used by all classes of people ...
  4. Syed Abdul Quddus، Punjab, the land of beauty, love, and mysticism، Royal Book Co., 1992، ... For Punjabi men and women alike, izzat means high status, prestige, honour, and power ...
  5. 1 2 Owen M. Lynch، Divine passions: the social construction of emotion in India، University of California Press, 1990، ISBN:9780520066472، ... Izzat enjoined aid to those who had helped one. It also enjoined that revenge be exacted for personal insults and damage to person or property. If a man was threatened he must at least threaten back, for not to do so would be weakness ... Izzat was in fact the principle of reciprocity of gifts, plus the rule of an eye for an eye and a tooth for a tooth. Giving was an attempt to bring a man of another family into one's debt, and acceptance of the gift involved the ...
  6. Women, victims of social evils، Pakistan Institute of Security Management, 2002، ... and justified in the name of "so-called honour", though the reprisals to achieve revenge usually ... If Izzat is violated then it is justified to kill and die for it". As such Izzat is a male value derived and viewed ...

مزید دیکھیے

[ترمیم]