زہر

زہر (Poison پائزن) سائنسی اعتبار سے کسی بھی ایسے کیمیائی مادے کو کہا جاتا ہے جو کسی نامیہ (یا جاندار) کے لیے نقصان دہ یا مہلک ہو۔ یہ اصطلاح مختلف سائنسی شعبوں اور صنعتوں میں استعمال ہوتی ہے اور ہر جگہ اس کی مخصوص تعریف ہو سکتی ہے جبکہ عام زبان میں بھی اسے وسیع معنوں میں برتا جاتا ہے۔
انسانوں میں زہر کے اثرات اور علامات دیگر طبی حالتوں سے مشابہ ہو سکتی ہیں اور یہ زہر کی نوعیت اور جسم کے متاثرہ نظام پر منحصر ہوتی ہیں۔ عام علامات میں شعور میں تبدیلی، جسمانی درجۂ حرارت میں بے قاعدگی، دل کی دھڑکن کا غیر معمولی ہونا اور سانس لینے میں تبدیلی شامل ہیں۔ علامات کی شدت اور نوعیت کا انحصار زہر کی قسم اور مقدار پر ہوتا ہے۔
بعض زہریلے مادے خاص طور پر تیزابی یا جلن پیدا کرنے والے، منھ، گلے، معدہ و آنتوں اور پھیپھڑوں کی جھلیوں کو براہ راست نقصان پہنچاتے ہیں جس کے نتیجے میں درد، کھانسی، قے اور سانس کی تکلیف جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
زہر خورانی (Poisoning) اس حالت کو کہتے ہیں جب کوئی زہریلا مادہ جسم میں داخل ہو کر نقصان دہ جسمانی اثرات پیدا کرے، چاہے یہ نگلنے، سانس کے ذریعے، انجکشن یا جلد کے راستے ہو۔ یہ اصطلاح طب، حیاتی کیمیا اور سمّیات میں عام طور پر استعمال ہوتی ہے۔ کبھی کبھار زہر خورانی کو خود کو نقصان پہنچانے یا خودکشی کے طریقے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے خصوصاً ان افراد میں جو خودکشی کے خیالات رکھتے ہوں۔ اطلاعات کے مطابق نو عمر افراد میں زہر کے ذریعے خودکشی کی کوششیں عام طریقوں میں شامل ہیں اور اس عمر کے گروہ میں خودکشی سے ہونے والی اموات کی نمایاں وجوہات میں شمار ہوتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق 2000ء سے 2018ء کے درمیان 19 سال سے کم عمر افراد میں زہر کے ذریعے خودکشی کی کوششوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہو گئی جو لگ بھگ 40،000 سے بڑھ کر تقریباً 80,000 تک پہنچ گئی۔ کووِڈ 19 کے دوران میں لاک ڈاؤن کے عرصے میں نو عمر لڑکیوں میں دانستہ زہر خورانی کے واقعات میں مزید اضافہ کی اطلاع ملی۔
حیاتیات میں زہر ایسے کیمیائی مادے کو کہا جاتا ہے جو جانداروں یا ان کے حصوں کو نقصان، چوٹ یا موت کا سبب بنے۔ طب میں زہر کو ایک قسم کا سم (ٹاکسن) سمجھا جاتا ہے جو عموماً غیر فعال طور پر جسم میں داخل ہوتا ہے یعنی اسے کوئی جاندار فعال طور پر داخل نہیں کرتا۔ صنعتی میدان میں یہ اصطلاح بعض اوقات منفی معنی میں (ایسا مادہ جسے ہٹا کر کسی چیز کو محفوظ بنایا جائے) اور بعض اوقات مثبت معنی میں (مثلاً نقصان دہ کیڑوں کو قابو کرنے والا مادہ) بھی استعمال ہوتی ہے۔ ماحولیاتی نقطۂ نظر سے ماحول میں شامل ہونے والے زہریلے مادے بعد میں دیگر مقامات یا غذائی زنجیر کے مختلف حصوں میں نقصان دہ اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔