فعل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

فعل[ترمیم]

فعل کا مفہوم

وہ کلمہ جس کے معانی میں کسی کام کا کرنا یا ہونا پایا جائے اور جس میں تینوں زمانوں ماضی، حال، مستقبل میں سے کوئی ایک زمانہ موجود ہو۔

یا

فعل اُس کلمہ کو کہتے ہیں جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا زمانے کے لحاظ سے پایا جائے۔

یا

ایسا کلمہ (لفظ) جو کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا زمانے کے لحاظ سے ظاہر کرے فعل کہلاتا ہے۔

مثالیں

عدیل پڑھتا ہے، عابدہ نے خط لکھا، عرفان مسجد گیا، ہم لاہور جائیں گے وغیرہ

اِن جملوں میں پڑھتا ہے، لکھا، گیا، جائیں گے کے الفاظ فعل ہیں

فعل کی اقسام

فعل کی زمانے کے لحاظ سے تین اقسام ہیں۔

۱۔ فعل ماضی

۲۔ فعل حال

۳۔ فعل مستقبل

۱۔ فعل ماضی

فعل ماضی اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا گزرے ہوئے زمانے میں پایا جائے۔

یا

وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا گزرے ہوئے زمانے میں پایا جائے اسے فعل ماضی کہا جاتا ہے۔

یا

مثالیں

عرفان نے چائے پی، عمران نے کام کیا، عدنان دوڑا، انیلا نے خط لکھا، اختر اسکول گیا، ان جملوں میں چائے پی، کام کیا، دوڑا، لکھا، گیا، فعل ماضی ہیں۔

۲۔ فعل حال

فعل حال اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں کس کام کا کرنا، ہونا، یا سہنا موجودہ زمانے میں پایا جائے۔

یا

وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا موجودہ زمانے میں پایا جائے اُسے فعل حال کہتے ہیں۔

مثالیں

اسلم کھانا کھاتا ہے، سلیم کھیلتا ہے، اسلم کھانا کھا رہا ہے، طاہر پودا لگاتا ہے، سلمہ فرش دھوتی ہے۔ اِن جملوں میں کھاتا ہے، کھیلتا ہے، کھا رہا ہے، لگاتا ہے، دھوتی ہے فعل ماضی ہیں۔

۳۔ فعل مستقبل

ایسا فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا آنے والے زمانے میں پایا جائے اسے فعل مستقبل کہتے ہیں۔

یا

وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا، ہونا یا سہنا آنے والے زمانے میں پایا جائے اُسے فعل مستقبل کہتے ہیں۔

مثالیں

تنویر کل کراچی جائے گا، افضل کرکٹ کھیلے گا، فصیح پھول توڑے گا، سیما خط لکھے گی۔ کسان فصل کاٹے گا، اِن جملوں میں جائے گا، کھیلے گا، توڑے گا، لکھے گی، کاٹے گا فعل مستقبل ہیں۔

فعل ماضی کی اقسام

فعل ماضی کی مندرجہ ذیل چھ اقسام ہیں۔

۱۔ ماضی مطلق

۲۔ ماضی قریب

۳۔ ماضی بعید

۴۔ ماضی استمراری

۵۔ ماضی شکیہ

۶۔ ماضی شرطی یا تمنائی

۱۔ ماضی مطلق

ماضی مطلق وہ فعل ہوتا ہے جو صرف گزرے ہوئے زمانے کو ظاہر کرتا ہے۔

یا

ایسا فعل جو دُور یا قریب کی قید کے بغیر گزرے ہوئے زمانے کو ظاہر کرتا ہے ماضی مطلق کہلاتا ہے۔

یا

وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا مطلق گزرے ہوئے زمانے میں پایا جائے۔

مثالیں

عارف نے کتاب پڑھی، ناصر لاہور گیا، حنا نے خط لکھا، راشدہ نے کھانا کھایا، وغیرہ اِن جملوں میں پڑھی، گیا، لکھا اور کھایا ماضی مطلق ہے۔

ماضی مطلق بنانے کا قاعدہ

یہ فعل مصدر کی علامت ”نا“ دور کر کے ”ا“ یا ”ی“ بڑھا دینے سے بنتا ہے۔

مثالیں

پڑھنا سے پڑھا، کھانا سے کھایا، دیکھنا سے دیکھا، آنا سے آیا، کھیلنا سے کھیلا، پینا سے پیا، وغیرہ

ماضٰی مطلق کی گردان

آنا مصدر سے ماضی مطلق کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ آیا وہ آئے تو آیا تم آئے میں آیا ہم آئے
وہ آئی وہ آئیں تو آئی تم آئیں میں آئی ہم آئیں

ہنسنا اور کھانا مصدر سے ماضی مطلق کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ ہنسا وہ ہنسے توہنسا تم ہنسے میں ہنسا ہم ہنسے
اُس نے کھایا انہوں نے کھایا تونے کھایا تم نے کھایا میں نے کھایا ہم نے کھایا

سونا اور لکھنا مصدر سے ماضی مطلق کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ سویا وہ سوئے توسویا تم سوئے میں سویا ہم سوئے
اُس نے لکھا انہوں نے لکھا تونے لکھا تم نے لکھا میں نے لکھا ہم نے لکھا

۲۔ ماضی قریب

ماضی قریب اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں قریب کا گزرا ہوا زمانہ پایا جائے۔

یا

ایسا فعل جو قریب کے گزرے ہوئے زمانے میں ہوا ہو اسے فعل ماضی قریب کہا جاتا ہے۔

یا

فعل ماضی قریب وہ فعل ہوتا ہے جس میں کسی کام کا ہونا قریب کے زمانے میں ہو۔

مثالیں

علی کھانا نے کھایا ہے، زاہد نے نماز پڑھی ہے، اسلم فیصل آباد سے آیا ہے، معصومہ نے آم خریدے ہیں، حنا نے سبق پڑھا ہے، سارہ نے خظ لکھا ہے وغیرہ اِن جملوں میں کھایا ہے، پڑھی ہے، آیا ہے، خریدے ہیں، پڑھا ہے، لکھا ہے ماضی قریب ہیں۔

ماضی قریب بنانے کا قاعدہ

ماضی قریب بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ مصدر سے ماضی مطلق بنا کر آخر میں ہے بڑھا دیتے ہیں جیسے دوڑنا مصدر سے ماضی مطلق دوڑا بناتے ہیں اور آخر میں ہے کا اضافہ کرتے ہیں تو دوڑا ہے بن جاتا ہے یہ ماضی قریب ہے۔

ماضی قریب کی گردان

آنا اور پڑھنا مصدر سے ماضی قریب کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ آیا ہے وہ آئے ہیں توآیا ہے تم /آپ آئے ہو میں آیا ہوں ہم آئے ہیں
اُس نے پڑھا ہے انہوں نے پڑھا ہے تونےپڑھا ہے تم/آپ نے پڑھا ہے میں نے پڑھا ہے ہم نے پڑھا ہے

لانا مصدر سے ماضی قریب کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ لایا ہے وہ لائے ہیں تولایا ہے تم /آپ لائے ہو میں لایا ہوں ہم لائے ہیں
وہ لائی ہے وہ لائی ہیں تولائی ہے تم/آپ لائی ہو میں لائی ہوں ہم لائی ہیں

دوڑنا اور کھانا مصدر سے ماضی قریب کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ دوڑا ہے وہ دوڑے ہیں تودوڑا ہے تم /آپ دوڑے ہو میں دوڑا ہوں ہم دوڑے ہیں
اُس نے کھایا ہے انہوں نے کھایا ہے تونے کھایا ہے تم/آپ نے کھایا ہے میں نے کھایا ہے ہم نے کھایا ہے

۳۔ ماضی بعید

ماضی بعید اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں دُورکا زمانہ پایا جائے۔

یا

وہ فعل ہوتا جس میں کسی کام کا ہونا یا کرنا دُور کے زمانے میں پایا جائے۔

یا

وہ فعل جو دُور کے گزرے ہوئے زمانے میں ہوا ہو اسے ماضی بعید کہا جاتا ہے۔

مثالیں

سلمیٰ نے خط لکھا تھا، عرفان نے سبق پڑھا تھا، سیما سیب لائی تھی، اسلم سویا تھا، شاہدہ نے حلوا پکایا تھا، انیلا کرسی پر بیٹھی تھی، اِن جملوں میں لکھا تھا، پڑھا تھا، لائی تھی، سویا تھا، پکایا تھا، بیٹھی تھی، ماضی بعید ہیں۔

ماضی بعید بنانے کا قاعدہ

ماضی بعید بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ مصدر سے ماضی مطلق بنا کر آخر میں تھا بڑھا دیتے ہیں جیسے لکھنا مصدر سے ماضی مطلق لکھا بناتے ہیں اور آخر میں تھا کا اضافہ کرتے ہیں تو لکھا تھا بن جاتا ہے یہ ماضی بعید ہے۔

ماضی بعید کی گردان

دوڑنا اور کھانا مصدر سے ماضی بعید کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ دوڑا تھا وہ دوڑے تھے تودوڑا تھا تم /آپ دوڑے تھے میں دوڑا ےتھا ہم دوڑے تھے
اُس نے کھایا تھا انہوں نے کھایا تھا تونے کھایا تھا تم/آپ نے کھایا تھا میں نے کھایا تھا ہم نے کھایا تھا

ہنسنا اور سننا مصدر سے ماضی بعید کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ ہنسا تھا وہ ہنسے تھے توہنسا تھا تم /آپ ہنسے تھے میں ہنسا تھا ہم ہنسے تھے
اُس نے سنا تھا انہوں نے سنا تھا تونے سنا تھا تم/آپ نے سنا تھا میں نے سنا تھا ہم نے سنا تھا

آنا مصدر سے ماضی بعید کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ آیا تھا وہ آئے تھے توآیا تھا تم /آپ آئے تھے میں آیا تھا ہم آئے تھے
وہ آئی تھی وہ آئیں تھیں توآئی تھی تم/آپ آئیں تھی میں آئی تھی ہم آئیں تھیں

۴۔ ماضی استمراری

ماضی استمراری اُس فعل کو کہتے ہیں جس میں گزرا ہوا زمانہ جاری حالت میں پایا جائے۔

یا

ایسا فعل جو گزرے ہوئے زمانے میں کسی کام کے بار بار ہونے یا جاری رہنے کو ظاہر کرے اسے ماضی استمراری کہتے ہیں۔

یا

ماضی استمراری وہ فعل ہے جو کسی کام کے بار بار ہونے یا جاری رہنے کو ظاہر کرے اسے ماضی استمراری کہتے ہیں۔

مثالیں

عدیل صبح سویرے اُٹھتا تھا، ارم کھانا کھا رہا تھی، ہم ہر روز سیر کو جایا کرتے تھے، علی پڑھتا تھا، نجمہ لکھتی تھی، اصغر کھاتا تھا، اسلم روزآنہ اسلام آباد جاتا تھا، اِن جملوں میں اُٹھتا تھا، کھا رہا رتھا، جایا کرتے تھے، پڑھتا تھا، لکھتی تھی، کھاتا تھا، جاتا تھا ماضی استمراری ہیں۔

ماضی استمراری بنانے کا قاعدہ

مصدر کی علامت ”نا“ دُور کرکے، ”تا تھا“ یا ”رہا تھا“ لگانے سے ماضی استمراری بن جاتا ہے جیسے کھانا کا ”نا“ دُور کر کے ”تا تھا“ اور ”رہا تھا“ لگانے سے ”کھاتا تھا“ یا ”کھا رہا تھا“ ماضی استمراری بن جاتا ہے۔

ماضی استمراری کی گردان

لکھنا اور پڑھنا مصدر سے ماضی استمراری کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ لکھتا تھا وہ لکھتے تھے تولکھتا تھا تم /آپ لکھتے تھے میں لکھتا تھا ہم لکھتے تھے
وہ پڑھ رہا تھا وہ پڑھ رہے تھے توپڑھ رہا تھا تم/آپ پڑھ رہے تھے میں پڑھ رہا تھا ہم پڑھ رہے تھے

آنا مصدر سے ماضی استمراری کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ آتا تھا وہ آتے تھے توآتا تھا تم /آپ آتے تھے میں آتا تھا ہم آتے تھے
وہ آ رہا تھا وہ آ رہے تھے توآ رہا تھا تم/آپ آ رہے تھے میں آ رہا تھا ہم آ رہے تھے

کھانا مصدر سے ماضی استمراری کی مثال

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ کھاتا تھا وہ کھاتےتھے توکھاتا تھا تم /آپ کھاتے تھے میں کھاتا تھا ہم کھاتے تھے
وہ کھا رہی تھی وہ کھا رہی تھیں توکھا رہی تھی تم/آپ کھا رہی تھیں میں کھا رہی تھی ہم کھا رہی تھیں

۵۔ ماضی شکیہ

ماضی شکیہ وہ فعل ہے جس میں گزرا ہوا زمانہ شک کے ساتھ پایا جائے۔

یا

ایسا فعل جس میں گزرا ہوا زمانہ شک کے ساتھ پایا جائے ماضی شکیہ کہلاتا ہے۔

یا

وہ فعل جس میں کسی کام کا کرنا یا ہونا گزرے ہوئے زمانے میں شک کے ساتھ پایا جائے ماضی شکیہ کہلاتا ہے۔

مثالیں

سیما نے نماز پڑھی ہوگی، عرفان مسجد گیا ہوگا، عرفان نے چاند دیکھا ہوگا، اشرف نے خط لکھا ہوگا، نسرین نے سبق پڑھا ہوگا، قنبر نے کھانا کھایا ہوگا، اِن جملوں میں پڑھی ہوگی، گیا ہوگا، دیکھا ہوگا، لکھا ہوگا، پڑھا ہوگا، کھایا ہوگا، فعل ماضی شکیہ ہیں۔

ماضی شکیہ بنانے کا قاعدہ

مصدرسے ماضی مطلق بنا کر آخر میں ہو گا بڑھا دیتے ہیں جیسے دیکھنا مصدر سے دیکھا ماضی مطللق بناتے ہیں اور آخر میں ہو گا لگانے سے دیکھا ہو گا ماضی شکیہ بن جاتا ہے۔

ماضی شکیہ کی گردان

دوڑنا اور لکھنا مصدر سے ماضی شکیہ کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ دوڑا ہوگا وہ دوڑے ہوں گے تودوڑا ہو گا تم /آپ دوڑے ہوگے میں دوڑا ہوں گا ہم دوڑے ہوں گے
اس نے لکھا ہوگا انہوں نے لکھا ہوگا تونے لکھا ہوگا تم/آپ نے لکھا ہوگا میں نے لکھا ہوگا ہم نے لکھا ہوگا

لانا اور پڑھنا مصدر سے ماضی شکیہ کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ لایا ہوگا وہ لائے ہوں گے تولایا ہو گا تم /آپ لائے ہو گے میں لایا ہوں گا ہم لائے ہوں گے
اس نے پڑھا ہوگا انہوں نے پڑھا ہوگا تونے پڑھا ہوگا تم/آپ نے پڑھا ہوگا میں نے پڑھا ہوگا ہم نے پڑھا ہوگا

آنا مصدر سے ماضی شکیہ کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ آیا ہوگا وہ آئے ہوں گے توآیا ہو گا تم /آپ آئے ہو گے میں آیا ہوں گا ہم آئے ہوں گے
وہ آئی ہوگی وہ آئیں ہوں گی توآئی ہوگی تم/آپ آئیں ہوں گی میں آیا ہوں گا ہم آئیں ہوں گی

۶۔ ماضی شرطی یا تمنائی

ایسا فعل جس میں گزرے ہوئے زمانے میں کسی کام کے ساتھ کوئی تمنا یا شرط پائی جائے اُسے ماضی شرطی یا تمنائی کہتے ہیں۔

یا

وہ فعل جس میں گزرے ہوئے زمانے میں کسی ہونے والے کام کے ساتھ تمنا یا شرط پائی جائے تو ایسے فعل کو فعل ماضی تمنائی یا شرطی کہتے ہیں۔

یا

ایسا فعل جس میں کسی کام کے کرنے یا ہونے میں گزرے ہوئے زمانے میں کوئی تمنا یا شرط پائی جائے اُسے ماضی تمنائی یا شرطی کہتے ہیں۔

مثالیں

کاش وہ سچ بولتا، اگر اسلم محنت کرتا تو کامیاب ہو جاتا، حنا کراچی آتی تو چڑیا گھر دیکھتی، کاش تم سبق پڑھتے، اگر انیلا خط لکھتی، اِن جملوں میں بولتا، کامیاب ہو جاتا، دیکھتی، پڑھتے، لکھتی ماضی شرطی یا تمنائی ہیں۔

ماضی تمنائی یا شرطی بنانے کا قاعدہ

ماضی شرطی یا تمنائی بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ مصدر کی علامت ”نا“ کو دور کر کے آخر میں ”تا“ بڑھا دیتے ہیں جیسے کھانا مصدر کا ”نا“ دُور کر کے ”تا“ بڑھا دیتے ہیں تو ماضی شرطی یا تمنائی کھاتا بن جاتا ہے۔

ماضی شرطی یا تمنائی کی گردان

دوڑنا یا جانا مصدر سے ماضی شرطی یا تمنائی کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ دوڑتا وہ دوڑتے تودوڑتا تم /آپ دوڑتے میں دوڑتا ہم دوڑتے
وہ جاتا وہ جاتے توجاتا تم/آپ جاتے میں جاتا ہم جاتے

لکھنا اور دیکھنا مصدر سے ماضی شرطی یا تمنائی کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ لکھتا وہ لکھتے تولکھتا تم /آپ لکھتے میں لکھتا ہم لکھتے
وہ دیکھتا وہ دیکھتے تودیکھتا تم/آپ دیکھتے میں دیکھتا ہم دیکھتے

آنا مصدر سے ماضی تمنائی یا شرطی کی گردان

واحد غائب جمع غائب واحد حاضر جمع حاضر واحد متکلم جمع متکلم
وہ آتا وہ آتے توآتا تم /آپ آتے میں آتا ہم آتے
وہ آتی وہ آتیں توآتی تم/آپ آتیں میں آتی ہم آتیں
‘‘https://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=فعل&oldid=2176229’’ مستعادہ منجانب