شیشہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
چوتھی صدی عئیسوی کا ایک رومی پیالہ.

شیشہ glass (یا کانچ) بہت ساری مختلف چیزوں سے بنایا جا سکتا ہے. یہ شیشے دیکھنے میں تقریبا ایک جیسے لگتے ہیں مگر ان کی خاصیتوں میں کچھ فرق ہوتا ہے.

اگر شیشہ ریت (سلیکون ڈائ آکسائڈ ‎ SiO2) کو پگھلا کر بنایا جاۓ تو اسے fused quartz‎ کہتے ہیں. ریت 2300 ڈگری سنٹی گریڈ سے بھی زیادہ درجہ حرارت پر پگھلتی ہے اور اتنا بلند درجہ حرارت حاصل کرنا مشکل اور مہنگا پڑتا ہے.

اگر ریت میں دھوبی سوڈا (سوڈیم کاربونیٹ یا پوٹاشیم کاربونیٹ) ملا کر آمیزے کو گرم کیا جاۓ تو یہ 1500 ڈگری سنٹی گریڈ پر پگھل کر soda glass بنا دیتا ہے مگر اس طرح بنے والا شیشہ پانی میں حل ہو جاتا ہے۔ ایسے شیشے کو واٹر گلاس یا liquid glass بھی کہتے ہیں۔( ایسے آمیزے جو جلدی پگھل جایئں eutectic کہلاتے ہیں).

اگر اس ریت اور سوڈے کے آمیزے میں ان بجھا چونا ( کیلشیم آکسائڈ CaO ) بھی ملا دیا جاۓ تو وہی شیشہ بن جاتا ہے جو عام استعمال میں نظر آتا ہے اور جو پانی میں حل نہیں ہوتا. اگر اس آمیزے میں ٹوٹے ہوۓ کانچ کے ٹکڑے ملا دیے جائیں تو یہ آمیزہ اور جلدی پگھل جاتا ہے جس سے ایندھن کی بچت ہوتی ہے. پوری دنیا میں بننے والے شیشے کا 90 فیصد یہی سوڈا لائم گلاس ہوتا ہے. یہ گلاس برتن بوتلیں کھڑکی دروازے آئینے عدسے ٹی وی اسکرین اور دوسری بے شمار چیزیں بنانے میں کام آتا ہے.

شیشے سے بنا ایک گرین ہاؤس
یورینیم ملا شیشہ الٹرا وائلیٹ روشنی میں ہرے رنگ سے چمکتا ہے جبکہ سہارے کا عام شیشہ نہیں چمکتا

گلاس برتن بوتلیں وغیرہ شیشے کو سانچے میں ڈھال کر بنائ جاتی ہیں۔ لیکن کھڑکی دروازوں میں لگنے والے شیشے کسی سانچے میں ڈھال کر نہیں بناۓ جاتے بلکہ اس مقصد کے لیۓ پگھلے ہوئے شیشے کو پگھلی ہوئی دھات مثلا ٹن ‎tin‎ پر تیرنے دیا جاتا ہے. ٹھنڈا ہونے پر گلاس شیٹ تیار ہو جاتی ہے.

شیشے کے برتنوں کو اکثر crystal ware ‎ کہا جاتا ہے مگر یہ شیشہ قلمی crystaline حالت میں نہیں ہوتا. قلمی شیشہ quartz کہلاتا ہے اور قدرتی طور پر پایا جاتا ہے.

ہبل خلائی دوربین میں شیشے کا عدسہ استعمال ہوا ہے۔

اکر کاربن ڈائی آکسائیڈ کو atm 400,000 کے دباو کے تحت ٹھنڈا کیا جائے تو یہ بھی شیشے میں تبدیل ہو جاتی ہے جسے carbonia کہتے ہیں۔ دباو ہٹتے ہی یہ شیشہ پھر گیس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔[1]

تاریخ[ترمیم]

سرد آتش فشاں کے دھانے میں پایا جانے والہ قدرتی شیشہ جسے obsidian کہتے ہیں پتھر کے زمانے میں بھی انسان کے زیر استعمال رہا ہے۔ انسان اس زمانے میں اسکی تیز دھار کو کاٹنے کے اوزار کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ چونکہ یہ ہر جگہ دستیاب نہیں تھا اس لیئے اسکی تجارت بھی ہوتی تھی۔

سب سے پہلے انسان نے لگ بھگ 2500 سال قبل از مسیح میں عراق، شام یا مصر میں شیشہ ایجاد کیا۔ اس کام کے لیئے ریت باآسانی دستیاب تھی۔ سفید پتھر (کیلشیم کاربونیٹ) کو گرم کر کے چونا حاصل ہوتا ہے۔ جلے ہوئے درختوں کی راکھ کو پانی میں حل کر کے سوڈا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور ان ہی تین چیزوں سے شیشہ بنتا ہے۔ لیکن صدیوں تک شیشہ سازی کا فن ایک راز رہا جسکی انتہائی حفاظت کی جاتی تھی اور جو صرف سینہ بہ سینہ اگلی نسل کو منتقل ہوتا تھا۔ دور دراز کے جن علاقوں میں شیشے کی بنی ہوئی اشیاء کی تجارت کرنا ممکن نہ تھا وہاں خام شیشے کے ڈلے (ingots) بھیجے جاتے تھے جن سے شیشے کی مصنوعات مقامی سطح پر بنا لی جاتیں تھیں لیکن شیشہ سازی کا بنیادی فن کسی کو نہیں سکھایا جاتا تھا۔

برلن کے عجائب گھر میں موجود دو ہزار سال پرانا شیشے کا مرطبان

شیشے کے رنگ[ترمیم]

عام استعمال ہونے والے نامیاتی organic رنگ شیشہ کو رنگین بنانے کے لئے استعمال نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ بھٹی کے درجہ حرارت پر تحلیل ہو جاتے ہیں. مختلف دھاتوں کی موجودگی سے شیشے میں مختلف رنگ آ جاتے ہیں. مثلا لوہے کی کثافتوں سے شیشہ میں ہلکا سا ہرا رنگ آ جاتا ہے جو موٹے شیشوں میں نمایاں نظر آتا ہے. یہ ہرا پن دور کرنے کے لیۓ شیشے میں manganese dioxide ملایا جاتا ہے. اگر لوہے کی مقدار زیادہ ہو اور کرومیم بھی موجود ہو تو شیشے کا رنگ گہرا ہرا ہو جاتا ہے.‎ لوہے اور گندھک کی موجودگی سے شیشے میں ہلکے پیلے سے لے کر گہرے بھورے تک رنگ آ جاتے ہیں۔ یورینیم ملی مٹی دو ہزار سال سے شیشے کو ہرا مائل پیلا رنگ دینے کے لیۓ استعمال ہوتی رہی ہے. سونے کی موجودگی سے شیشے کا رنگ گہرا سرخ ہو جاتا ہے.‎
کوبالٹ کی موجودگی سے شیشے کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے۔

کوبالٹ ملے شیشے کی بوتل

9 فیصد نکل آکسائڈ کی موجودگی سے شیشے کا رنگ گہرا بنفشی نیلا ہو جاتا ہے جس میں سے نظر آنے والی روشنی نہیں گزر سکتی مگر الٹروائلیٹ (بالاۓ بنفشی) اور انفرا ریڈ گزر سکتی ہیں۔ یہ شیشہ Wood's glass کہلاتا ہے۔

شفاف شیشے کا بنا بجلی کا بلب

ایسے شیشے جن میں لوہا موجود ہو وہ حرارت infrared جذب کرتے ہیں جبکہ cerium oxide کی ملاوٹ والا شیشہ بالاۓ بنفشی ultraviolet شعاؤں کو جذب کرتا ہے جو جانداروں کے لئے نقصاندہ ہوتی ہیں.

شیشے سے بنے آپٹکل فائبر (optical fibre) کا گچھہ

مزید دیکھیئے[ترمیم]

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=شیشہ&oldid=833149’’ مستعادہ منجانب