شیشہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیشہ یا کانچ ( Glass) بہت ساری مختلف چیزوں سے بنایا جا سکتا ہے۔ یہ شیشے دیکھنے میں تقریباً ایک جیسے لگتے ہیں مگر ان کی خاصیتوں میں کچھ فرق ہوتا ہے.
شیشے کے برتنوں کو اکثر crystal ware ‎ کہا جاتا ہے مگر یہ شیشہ قلمی (crystaline) حالت میں نہیں ہوتا۔ قلمی شیشہ quartz کہلاتا ہے اور قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔ کوارٹز میں اکثر سونے کے ذرات بھی موجود ہوتےہیں۔

چوتھی صدی عیسوی کا ایک رومی پیالہ
1880 میں بنا شیشے کا گلدان جس کی بیرونی سطح پر آرائشی درزیں ہیں۔

خام اشیاء[ترمیم]

  • اگر شیشہ ریت (سلیکون ڈائ آکسائڈ ‎ SiO2) کو پگھلا کر بنایا جاۓ تو اسے fused quartz‎ کہتے ہیں. ریت 2300 ڈگری سنٹی گریڈ سے بھی زیادہ درجہ حرارت پر پگھلتی ہے اور اتنا بلند درجہ حرارت حاصل کرنا مشکل اور مہنگا پڑتا ہے۔
  • اگر ریت میں دھوبی سوڈا (سوڈیم کاربونیٹ یا پوٹاشیم کاربونیٹ) ملا کر آمیزے کو گرم کیا جاۓ تو یہ 1500 ڈگری سنٹی گریڈ پر پگھل کر soda glass بنا دیتا ہے مگر اس طرح بننے والا شیشہ پانی میں حل ہو جاتا ہے۔ ایسے شیشے کو واٹر گلاس یا liquid glass بھی کہتے ہیں۔( ایسے آمیزے جو جلدی پگھل جایئں eutectic کہلاتے ہیں)۔
  • اگر اس ریت اور سوڈے کے آمیزے میں ان بجھا چونا ( کیلشیم آکسائڈ CaO ) بھی ملا دیا جاۓ تو وہی شیشہ بن جاتا ہے جو عام استعمال میں نظر آتا ہے اور جو پانی میں حل نہیں ہوتا۔ اگر اس آمیزے میں ٹوٹے ہوۓ کانچ کے ٹکڑے ملا دیے جائیں تو یہ آمیزہ اور جلدی پگھل جاتا ہے جس سے ایندھن کی بچت ہوتی ہے۔ پوری دنیا میں بننے والے شیشے کا 90 فیصد یہی سوڈا لائم گلاس ہوتا ہے۔ یہ گلاس برتن بوتلیں کھڑکی دروازے آئینے عدسے ٹی وی اسکرین اور دوسری بے شمار چیزیں بنانے میں کام آتا ہے۔
شیشے سے بنا ایک گرین ہاؤس
ایسی CD اور DVD جن پر بار بار لکھا اور مٹایا جا سکتا ہے ،کیلکوجینائیڈ شیشے کی ایک تہہ رکھتی ہیں جو لیزر سے قلمی یا غیر قلمی حالت میں تبدیل کی جاسکتی ہے۔
یورینیم ملا شیشہ الٹرا وائلیٹ روشنی میں ہرے رنگ سے چمکتا ہے جبکہ نیچے ستون کا عام شیشہ نہیں چمکتا

گلاس برتن بوتلیں وغیرہ شیشے کو سانچے میں ڈھال کر بنا ئی جاتی ہیں۔ لیکن کھڑکی دروازوں میں لگنے والے شیشے کسی سانچے میں ڈھال کر نہیں بناۓ جاتے بلکہ اس مقصد کے لیے پگھلے ہوئے شیشے کو پگھلی ہوئی دھات مثلا ٹن ‎tin‎ پر تیرنے دیا جاتا ہے۔ ٹھنڈا ہونے پر گلاس شیٹ تیار ہو جاتی ہے۔

ہبل خلائی دوربین میں شیشے کا عدسہ استعمال ہوا ہے

اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کو atm 400,000 کے دباؤ کے تحت ٹھنڈا کیا جائے تو یہ بھی شیشے میں تبدیل ہو جاتی ہے جسے carbonia کہتے ہیں۔ دباؤ ہٹتے ہی یہ شیشہ پھر گیس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔[1]

تاریخ[ترمیم]

سرد آتش فشاں کے دھانے میں پایا جانے والہ قدرتی شیشہ جسے obsidian کہتے ہیں پتھر کے زمانے میں بھی انسان کے زیر استعمال رہا ہے۔ انسان اس زمانے میں اسکی تیز دھار کو کاٹنے کے اوزار کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ چونکہ یہ ہر جگہ دستیاب نہیں تھا اس لیے اسکی تجارت بھی ہوتی تھی۔

سب سے پہلے انسان نے لگ بھگ 2500 سال قبل از مسیح میں عراق، شام یا مصر میں شیشہ ایجاد کیا۔ اس کام کےلیے ریت باآسانی دستیاب تھی۔ سفید پتھر (کیلشیم کاربونیٹ) کو گرم کر کے چونا حاصل ہوتا ہے۔ جلے ہوئے درختوں کی راکھ کو پانی میں حل کر کے سوڈا حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور ان ہی تین چیزوں سے شیشہ بنتا ہے۔ لیکن صدیوں تک شیشہ سازی کا فن ایک راز رہا جسکی انتہائی حفاظت کی جاتی تھی اور جو صرف سینہ بہ سینہ اگلی نسل کو منتقل ہوتا تھا۔ دور دراز کے جن علاقوں میں شیشے کی بنی ہوئی اشیاء کی تجارت کرنا ممکن نہ تھا وہاں خام شیشے کے ڈلے (ingots) بھیجے جاتے تھے جن سے شیشے کی مصنوعات مقامی سطح پر بنا لی جاتیں تھیں لیکن شیشہ سازی کا بنیادی فن کسی کو نہیں سکھایا جاتا تھا۔

برلن کے عجائب گھر میں موجود دو ہزار سال پرانا شیشے کا مرطبان

شیشے کے رنگ[ترمیم]

عام استعمال ہونے والے نامیاتی organic رنگ شیشہ کو رنگین بنانے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ بھٹی کے درجہ حرارت پر تحلیل ہو جاتے ہیں۔مختلف دھاتوں کی موجودگی سے شیشے میں مختلف رنگ آ جاتے ہیں۔ مثلاً لوہے کی کثافتوں سے شیشہ میں ہلکا سا ہرا رنگ آ جاتا ہے جو موٹے شیشوں میں نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ ہرا پن دور کرنے کے لیےشیشے میں manganese dioxide ملایا جاتا ہے۔ اگر لوہے کی مقدار زیادہ ہو اور کرومیم بھی موجود ہو تو شیشے کا رنگ گہرا ہرا ہو جاتا ہے۔لوہے اور گندھک کی موجودگی سے شیشے میں ہلکے پیلے سے لے کر گہرے بھورے تک رنگ آ جاتے ہیں۔ یورینیم ملی مٹی دو ہزار سال سے شیشے کو ہرا مائل پیلا رنگ دینے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔سونے کی موجودگی سے شیشے کا رنگ گہرا سرخ ہو جاتا ہے۔‎
کوبالٹ کی موجودگی سے شیشے کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے۔

کوبالٹ ملے شیشے کی بوتل

9 فیصد نکل آکسائڈ کی موجودگی سے شیشے کا رنگ گہرا بنفشی نیلا ہو جاتا ہے جس میں سے نظر آنے والی روشنی نہیں گزر سکتی مگر الٹروائلیٹ (بالائے بنفشی) اور انفرا ریڈ گزر سکتی ہیں۔ یہ شیشہ Wood's glass کہلاتا ہے اور الٹروائلیٹ ٹیوب لائٹ بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔

شفاف شیشے کا بنا بجلی کا بلب

ایسے شیشے جن میں لوہا موجود ہو وہ حرارت infrared جذب کرتے ہیں جبکہ cerium oxide کی ملاوٹ والا شیشہ بالائے بنفشی ultraviolet شعاؤں کو جذب کرتا ہے جو جانداروں کے لیے نقصاندہ ہوتی ہیں۔

شیشے سے بنے آپٹکل فائبر (optical fibre) کا گچھہ

بورو سلیکیٹ گلاس[ترمیم]

اس قسم کے شیشے میں 76 فیصد ریت، 13 فیصد بورک آکسائیڈ اورباقی ایلومینم آکسائیڈ اور سوڈیئم آکسائیڈ ہوتا ہے۔ بورک آکسائیڈ (B2O3) کی موجودگی کی وجہ سے ایسا شیشہ بلند تر درجہ حرارت برداشت کر لیتا ہے، گرم کرنے پر کم پھیلتا ہے اور تیزاب سے کم متاثر ہوتا ہے۔ جو شیشے گرم کرنے پر زیادہ پھیلتے ہیں اُن کے تڑک جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ ماضی میں Pyrex کی اشیاء بوروسلیکیٹ شیشہ سے بنائی جاتی تھیں لیکن اب یہ ٹیمپرڈ شیشے سے بنائی جاتی ہیں۔
تجربہ گاہ میں استعمال ہونے والے شیشے کے برتن بوروسلیکیٹ شیشے سے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔


اینیلینگ (Annealing)[ترمیم]

اگر شیشہ بھٹی سے نکلنے کے بعد تیزی سے ٹھنڈا ہو تو اس کے اندر کھچاو (stresses) باقی رہ جاتا ہے جس کی وجہ سے ایسا شیشہ معمولی سی چوٹ لگنے یا گرم یا سرد ہونے پر ٹوٹ جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا شیشہ بغیر کسی چوٹ کے خودبخود ٹوٹ جاتا ہے۔ شیشے میں سے یہ خامی ختم کرنے کے لیے شیشے کو اینیلنگ ٹمپریچر تک دوبارہ گرم کیا جاتا ہے، کچھ دیر تک اسی ٹمپریچر پر رکھا جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ ٹھنڈا ہونے دیا جاتا ہے۔اکثر شیشوں کا اینیلنگ ٹمپریچر454 - 482 °C ہوتا ہے۔ اس ٹمپریچر پر شیشہ اگرچہ ٹھوس ہی ہوتا ہے مگر اس کے اندر ایٹم اپنی جگہ تبدیل کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے اندرونی کھچاو کی قوتیں ختم ہو جاتی ہیں ۔ ایسا شیشہ کئی گنا زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔
شیشہ جتنا زیادہ موٹا ہوتا ہے اسے اینیلینگ کے لیے اتنی ہی زیادہ دیر تک اینیلنگ ٹمپریچر پر گرم رکھنا پڑتا ہے۔
اینیلنگ ٹمپریچر کو stress-relief point یا annealing point بھی کہتے ہیں۔

مزید دیکھیئے[ترمیم]