گندھک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

گندھک (انگریزی: Sulfur) ایک ایسا کیمیائی عنصر ہے جس کا عنصری عدد 16 ہے۔ انگریزی میں اسے S سے ظاہر کرتے ہیں۔ قدرتی طور پر بکثرت پایا جانے والا یہ غیر دھاتی عنصر ہے۔ گندھک اپنی خام حالت میں چمکدار پیلے رنگ کا ٹھوس قلمی عنصر ہوتا ہے۔ قدرت میں گندھک اور زندگی کا قریبی تعلق ہے۔ تجارتی پیمانے پر اسے کھادوں میں استعمال کیا جاتا ہے تاہم ماضی میں اسے کالے بارود، ماچسوں، کُرم کُش ادویات اور پھپھوندی مارنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

Sulfur,  16S
Sulfur-sample.jpg
Sulfur Spectrum.jpg
Spectral lines of sulfur
General properties
Pronunciation /ˈsʌlfər/ SUL-fər
Appearance lemon yellow sintered microcrystals
Sulfur in the دوری جدول
سانچہ:Infobox element/periodic table
جوہری عدد (Z) 16
Group, period 16 (chalcogens), period 3
Block p-block
مشابہ عناصر گروہوں کے اجتماعی نام سانچہ:Infobox element/category format
Standard atomic weight (Ar) 32.065(5)
برقی تشکیل [Ne] 3s2 3p4
Electrons per shell
2, 8, 6
Physical properties
Phase solid
نقطۂ انجماد 388.36 کیلون ​(115.21 °C, ​239.38 °F)
نقطہ کھولاؤ 717.8 K ​(444.6 °C, ​832.3 °F)
کثافت near درجہ حرارت کمرہ (alpha) 2.07 g/cm3
(beta) 1.96 g/cm3
(gamma) 1.92 g/cm3
when liquid, at m.p. 1.819 g/cm3
Critical point 1314 K, 20.7 MPa
سخانۂ ائتلاف (mono) 1.727 جول فی مول
Heat of (mono) 45 kJ/mol
Molar heat capacity 22.75 J/(mol·K)
بخاری دباؤ
Atomic properties
تکسیدی عددs 6, 5, 4, 3, 2, 1, -1, -2 ​strongly acidic oxide
برقی منفیت Pauling scale: 2.58
تائین توانائی
(more)
Covalent radius 105±3 پیکومیٹر
وانڈروال رداس 180 pm
Miscellanea
قلمی ساخت سانچہ:Infobox element/crystal structure
حر ایصالیت (amorphous)
0.205 W/(m·K)
مزاحمیت (amorphous)
2×1015  Ω·m (at 20 °C)
مقناطیسیت diamagnetic[1]
Bulk modulus 7.7 GPa
موس پیمانہ 2.0
کیمیائی شعبۂ اخلاص اندراجی عدد 7704-34-9
History
Discovery Chinese[2] (Before 2000BC)
Recognized as an element by A. Lavoisier (1777)
Main isotopes of sulfur
سانچہ:Infobox element/isotopes header
| references | in Wikidata

خصوصیات[ترمیم]

جب جلتی ہے تو گندھک پگھل کر گہرے سرخ رنگ کا مایع بناتی ہے۔ اندھیرے میں جلتی ہوئی گندھک کا شعلہ نیلے رنگ کا ہوتا ہے۔

طبعی خصوصیات[ترمیم]

کمرے کے عام درجہ حرارت پر گندھک نرم اور چمکدار پیلے رنگ کا ٹھوس ہوتی ہے جس سے ہلکی سی ماچسوں والی بو آتی ہے۔ ہندی میں بو کو گند کہتے ہیں جس سے اسکا نام گندھک پڑا۔ گندھک کو بجلی کے غیر موصل کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ 100 ڈگری سے ذرا اوپر یہ پگھل جاتی ہے۔

کیمیائی خصوصیات[ترمیم]

جلتی ہوئی گندھک سے نیلا شعلہ خارج ہوتا ہے اور سلفر ڈائی آکسائیڈ بنتی ہے۔ گندھک پانی میں حل نہیں ہوتی لیکن کاربن ڈائی سلفائیڈ میں حل ہو جاتی ہے۔

گندھک کسی حد تک بینزین اور ٹاولین میں بھی حل پزیر ہے۔ گندھک کی قلمیں کافی پیچیدہ ہوتی ہیں۔

دیگر عام مائع کے برعکس 200 ڈگری سنٹی گریڈ کے درجہ حرارت پر پگھلی ہوئی گندھک کی لزوجت یعنی وسکاسٹی بڑھ جاتی ہے۔ اس درجہ حرارت پر پگھلی ہوئی گندھک شوخ سُرخ رنگ کی ہوتی ہے۔ تاہم اس سے زیادہ بلند درجہ حرارت پر گندھک کی لزوجت کم ہونے لگ جاتی ہے۔

ہم جاء[ترمیم]

گندھک کے کل 25 معلوم شدہ ہم جاء ہیں جن میں صرف 4 ہی مستحکم ہیں۔

منبع[ترمیم]

عام حالت میں گندھک کا سب سے عام ہم جاء گندھک 32 ہے جو انتہائی بڑے اور انتہائی گرم ستاروں کے مرکز میں ڈھائی ارب ڈگری سنٹی گریڈ پر چقمین (سلیکون) اور شمصر (ہیلیئم) کے ایک ایک مرکزے کے ملاپ سے بنتا ہے۔

مشتری کے آتش فشانی چاند ای او کے شوخ رنگ گندھک کی مختلف حالتوں سے بنے ہیں۔

زمین کے چاند کے ایک گڑھے کے نزدیک موجود تاریک نشان کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں گندھک کا ذخیرہ موجود ہے۔

بہت سارے شہابیوں میں بھی گندھک موجود ہوتی ہے۔

کرہ ارض پر گندھک گرم پانی کے چشموں اور آتش فشانی علاقوں کے آس پاس بالخصوص بحرالکاہل کے حلقہ آتش کے ساتھ ساتھ پائی جاتی ہے۔ ایسے ہی ذخائر کی کان کنی انڈونیشیا، چلی اور جاپان میں کی جاتی ہے۔ سسلی بھی گندھک کی کانوں کی وجہ سے مشہور ہے۔

خلیج میکسیکو کے کنارے نمک کے گنبدوں میں گندھک کی بہت بڑی مقدار دریافت ہوئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ گندھک بیکٹیریا نے پیدا کی ہے۔ تاہم یہ ذخائر فطری طور پر بھی بنے ہو سکتے ہیں۔ متحجروں کے ساتھ موجود گندھک کے ایسے ذخائر جو نمک کے گنبدوں میں موجود ہوں، سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ، پولینڈ، روس، ترکمانستان اور یوکرائن میں گندھک کا اہم ذریعہ تھے۔ تاہم اب ان کا استعمال متروک ہو چکا ہے۔

عام طور پر گندھک سلفائیڈ اور سلفیٹ کی معدنی شکل میں ملتی ہے۔ جپسم جو کیلشیئم سلفیٹ ہوتا ہے اسکی عام مثال ہے۔ قدرتی طور پر آتش فشاں سے نکلنے والے مادے میں گندھک شامل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بیکٹیریا بھی گندھک رکھنے والے نامیاتی مادے کی توڑ پھوڑ سے گندھک پیدا کرتے ہیں۔

تیاری[ترمیم]

ماضی میں گندھک کو خالص حالت میں نکالتے تھے تاہم اب اسے صنعتی تعامل میں اضافی پیداوار کے طور پر الگ کیا جاتا ہے۔ ان تعامل میں عموماً گندھک مرکب شکل میں موجود ہوتی ہے جسے خالص حالت میں الگ کر لیا جاتا ہے۔ ایسے تعاملوں کی عام مثال تیل کی صفائی ہے۔

آج کل گندھک کو پیٹرولیم، قدرتی گیس اور دیگر متحجر ذرائع سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسے عموماً ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس کی شکل میں حاصل کرتے ہیں۔

ایسی گیسیں جن میں ہائیڈروجن سلفائیڈ موجود ہو، ان سے بھی گندھک الگ کی جا سکتی ہے۔ اتھابسکا کی آئل سینڈز میں گندھک کی بھاری مقدار شامل ہوتی ہے جس کی وجہ سے کینیڈا کے صوبے البرٹا میں خالص گندھک کے ڈھیر عام دکھائی دیتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

ماضی بعید[ترمیم]

چونکہ گندھک عام پایا جانے والا عنصر ہے، اس لئے اسے قبل از تاریخ سے جانا جاتا ہے۔ توریت میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔

چین میں چھٹی صدی قبل مسیح سے لوگوں کو گندھک کے بارے میں معلومات تھیں۔ تیسری صدی عیسوی میں گندھک کو اس کے مرکب سے الگ کرنے کا طریقہ چینیوں نے دریافت کر لیا تھا۔ 1044ء میں سونگ شہنشاہ کے دور میں فوجی مقاصد کے لئے کالے بارود میں اسے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لئے پوٹاشیم نائٹریٹ (یعنی قلمی شورہکوئلہ اور گندھک کو ملا کر بارود بنایا جاتا تھا۔

روایتی دوا کے طور پر گندھک کو جلد سے متعلقہ امراض میں استعمال کیا جاتا ہے۔

دور جدید[ترمیم]

1777 میں گندھک کو بطور عنصر تسلیم کیا گیا جبکہ اس سے قبل یہ مرکب مانی جاتی تھی۔

1867 میں امریکی ریاستوں لوئیزیانا اور ٹیکساس میں گندھک کے زیرِزمین ذخائر دریافت ہوئے۔ ان کو نکالنے کے لئے عملِ فراش استعمال کیا جاتا تھا۔

اٹھارویں صدی کے اواخر میں گندھک کو فرنیچر کو دیدہ زیب بنانے کے لئے کچھ عرصہ تک استعمال کیا گیا تھا۔ پگھلی ہوئی گندھک کو بعض اوقات عمارت کی بنیادوں میں سوراخ کر کے ڈالا جاتا ہے جہاں فولادی پیچ ڈالے جانے مقصود ہوں۔ خالص حالت میں پسی ہوئی گندھک کو بطور ٹانک اور قبض کُش دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

استعمال[ترمیم]

گندھک کا استعمال[ترمیم]

گندھک کا تیزاب گندھک سے تیار ہوتا ہے۔ عالمی معیشتوں کے لئے گندھک کا تیزاب انتہائی اہم ہے۔ اس کی استعمال شدہ مقدار سے کسی بھی ملک کی صنعتی ترقی کا اندازا لگایا جا سکتا ہے۔ اس تیزاب کو سب سے زیادہ کھاد کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ دیگر استعمال میں تیل کی صفائی، گندے پانی کی صفائی اور معدنیات کو نکالنا شامل ہیں۔

دیگر استعمال[ترمیم]

گندھک کے دیگر استعمالات میں پلاسٹک اور ریون کی تیاری شامل ہیں۔ ربڑ کی تیاری میں بھی گندھک استعمال ہوتی ہے۔ کاغذ کی بلیچنگ کے لئے بھی گندھک کے مرکب استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ واشنگ پاؤڈر بھی اس سے بنائے جاتے ہیں۔ گندھک کے مرکب جپسم کو پورٹ لینڈ سیمنٹ سیمنٹ اور کھادوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔

بارود کی تیاری میں بھی گندھک استعمال ہوتی ہے۔

نفیس کیمیکل[ترمیم]

گندھک کے مرکبات کو ادویہ سازی، ڈائیاں بنانے اور زرعی کیمیکل بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ بہت ساری ادویات میں گندھک استعمال ہوتی ہے جس کی اولین مثال سلفا ڈرگز تھیں۔ بہت سارے بیکٹیریا گندھک کو اپنے دفاع کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ پینسلین وغیرہ میں بھی گندھک استعمال ہوتی ہے۔

میگنیشیم سلفیٹ یعنی اپسم سالٹ کو قبض کُشا کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔

پھپھوند کُش اور کُرم کُش[ترمیم]

عنصری گندھک دنیا کی اولین پھپھوند کُش اور کُرم کُش ادویات میں شامل ہے۔ انگور، اسٹرابیری، سبزیوں اور دیگر فصلوں پر باریک پسی ہوئی گندھک چھڑکنے سے پھپھوندی سے دفاع ہو جاتا ہے۔

چیچڑ وغیرہ سے بچاؤ اور انہیں مارنے کے لئے بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔

احتیاطیں[ترمیم]

عنصری گندھک زہریلی نہیں ہوتی لیکن جلنے پر یہ سلفر ڈائی آکسائیڈ بناتی ہے جو زہریلی ہوتی ہے۔ معمولی مقدار میں یہ گیس کھانوں میں استعمال کی جا سکتی ہے لیکن زیادہ استعمال سے پھیپھڑے، آنکھیں اور دیگر پٹھے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے جاندار جن میں پھیپھڑے نہیں ہوتے جیسا کہ پودے یا کیڑے مکوڑے، یہ ان میں بھی سانس لینے کے عمل کو روکتی ہے۔ سلفر ٹرائی آکسائیڈ اور سلفر ایسڈ اگر پانی سے مل جائیں تو بہت تیز تیزاب بناتے ہیں۔

بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں میں کوئلے اور تیل کو جلانے سے سلفر ڈائی آکسائیڈ بنتی ہے جو فضاء میں پانی اور آکسیجن سے مل کر گندھک کا تیزاب بناتی ہے۔ اس طرح تیزابی بارش ہوتی ہے جو زمین اور پانی میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ ان کارخانوں میں نئے قوانین کے مطابق یا تو تیل سے گندھک کو الگ کر کے پھر تیل کو جلاتے ہیں یا پھر گیس کو خارج ہونے سے قبل صاف کر دیا جاتا ہے۔

ہائیڈروجن سلفائیڈ زہریلی گیس ہے تاہم اس کی ناقابلِ برداشت سڑتے ہوئے انڈوں جیسی بو کی وجہ سے اتفاقی حادثات کا خطرہ انتہائی کم ہوتا ہے۔ شروع میں تو یہ بو انتہائی شدید محسوس ہوتی ہے لیکن اس بو کی وجہ سے قوتِ شامہ یعنی سونگھنے کی حس تیزی سے کام چھوڑ جاتی ہے۔ اس وجہ سے نقصان کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]