آیوڈین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
53 xenon iodine tellurium
Br

I

At
I-TableImage.png
عمومی خواص
نام، عدد، علامت I ،53 ،iodine
کیمیائی سلسلے halogens
گروہ، دور، خانہ 17، 5، p
اظہار violet-dark gray, lustrous
Iod kristall.jpg
جوہری کمیت 126.90447(3)گ / مول
برقیہ ترتیب [Kr] 4d10 5s2 5p5
برقیے فی غلاف 2, 8, 18, 18, 7
طبیعیاتی خواص
حالت solid
کثافت (نزدیک د۔ ک۔) 4.933 گ / مک سم
نقطۂ پگھلاؤ 386.85 ک
(113.7 س، 236.66 ف)
نقطۂ ابال 457.4 ک
(184.3 س، 363.7 ف)
مقام انتہاء 819 ک, 11.7 میگاپاسکل
حرارت ائتلاف (I2) 15.52  کلوجول/مول
حرارت تبخیر (I2) 41.57  کلوجول/مول
حرارت گنجائش (25 س) (I2) 54.44  جول/مول/کیلون
بخاری دباؤ (rhombic)
P / Pa 1 10 100 1 k 10 k 100 k
T / K پر 260 282 309 342 381 457
جوہری خواص
قلمی ساخت orthorhombic
تکسیدی حالتیں ±1, 5, 7
(strongly acidic oxide)
برقی منفیت 2.66 (پالنگ پیمانہ)
آئنسازی توانائیاں اول: 1008.4 کلوجول/مول
دوئم: 1845.9 کلوجول/مول
سوئم: 3180 کلوجول/مول
نصف قطر 140پیکومیٹر
نصف قطر (پیمائش) 115  پیکومیٹر
ہمظرفی 133  پیکومیٹر
وانڈروال نصف قطر 198 پیکومیٹر
متفرقات
مقناطیسی ترتیب nonmagnetic
برقی مزاحمیت (0 س) 1.3×107 Ω·m
حر ایصالیت (300 ک) 0.449  و / م / ک
معامل حجم 7.7  گیگاپاسکل
سی اے ایس عدد 7553-56-2
منتخب ہم جاء
مقالۂ رئیسہ: آیوڈین کے ہم جاء
ہم جاء کثرت نصف حیات تنزل ا تنزل ت (ب ولٹ) تنزل پ
127I 100% 74 تعدیلوں کیساتھ I مستحکم ہے
129I syn 15.7×106y β- 0.194 129Xe
131I syn 8.02070 d β- 0.971 131Xe
حوالہ جات



آیوڈین (Iodine) ایک کیمیائی عنصر ہے جو دوری جدول (Periodic table) میں ہیلوجن گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔ اسکا ایٹمی نمبر 53 ہے یعنی اس کے ہر ایٹم میں 53 پروٹون ہوتے ہیں۔ آیوڈین کا صرف ایک ہی ہمجاء (isotope) پائیدار ہوتا ہے اور وہ 74 نیوٹرون کے ساتھ آیوڈین127 ہے۔

Round bottom flask filled with violet iodine vapor
گیس کی حالت میں آیوڈین کا رنگ جامنی ہوتا ہے۔.
آیوڈین کی کمی سے گلہڑ (goitre) کی بیماری ہو جاتی ہے۔

آیوڈین ایک ٹھوس عنصر ہے۔ گیس کی حالت میں آیوڈین کا رنگ جامنی ہوتا ہے۔ گندھک کی طرح آیوڈین بھی غیر دھاتی عنصر ہے۔

Iodine,  53I
Sample of iodine.jpg
General properties
Pronunciation /ˈ.ədn/ EYE-ə-dyn,
/ˈ.ədɨn/ EYE-ə-dən,
or /ˈ.ədn/ EYE-ə-deen
Appearance lustrous metallic gray, violet as a gas
Iodine in the دوری جدول
سانچہ:Infobox element/periodic table
جوہری عدد (Z) 53
Group, period 17 (halogens), period 5
Block p-block
مشابہ عناصر گروہوں کے اجتماعی نام سانچہ:Infobox element/category format
Standard atomic weight (Ar) 126.90447
برقی تشکیل [Kr] 4d10 5s2 5p5
Electrons per shell
2, 8, 18, 18, 7
Physical properties
Phase solid
نقطۂ انجماد 386.85 کیلون ​(113.7 °C, ​236.66 °F)
نقطہ کھولاؤ 457.4 K ​(184.3 °C, ​363.7 °F)
کثافت near درجہ حرارت کمرہ 4.933 g/cm3
نقطۂ ثلاثیہ 386.65 K, ​12.1 kPa
Critical point 819 K, 11.7 MPa
سخانۂ ائتلاف (I2) 15.52 جول فی مول
Heat of (I2) 41.57 kJ/mol
Molar heat capacity (I2) 54.44 J/(mol·K)
بخاری دباؤ (rhombic)
Atomic properties
تکسیدی عددs 7, 5, 3, 1, -1
(strongly acidic oxide)
برقی منفیت Pauling scale: 2.66
جوہری رداس empirical: 140 پیکومیٹر
Covalent radius 139±3 pm
وانڈروال رداس 198 pm
Miscellanea
قلمی ساخت سانچہ:Infobox element/crystal structure
حر ایصالیت 0.449 W/(m·K)
مزاحمیت 1.3×107 Ω·m (at 0 °C)
مقناطیسیت diamagnetic[1]
Bulk modulus 7.7 GPa
کیمیائی شعبۂ اخلاص اندراجی عدد 7553-56-2
Main isotopes of iodine
سانچہ:Infobox element/isotopes header
| references | in Wikidata

حیاتیاتی استعمال[ترمیم]

  • آیوڈین انسان اور اکثر جانوروں کے لیے خوراک کا لازمی جز ہے کیونکہ یہ thyroid کے ہارمون thyroxine کا مرکزی حصہ ہے۔ اسکی کمی سے گلہڑ (goitre) کی بیماری ہو جاتی ہے جس میں دماغ اور جسم سست ہو جاتا ہے۔ روزانہ چند چمچ سمندر کا پانی پینے سے جسم میں آیوڈین کی کمی ختم ہو جاتی ہے کیونکہ سمندری پانی میں آیوڈین کی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ آیوڈین ملا نمک اسی بیماری کو روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے ایک چائے کے چمچ بھر نمک میں 0.4 ملی گرام آیوڈین ہوتی ہے۔
  • انسانی جسم میں پایا جانے والا یہ بھاری ترین عنصر ہے۔ انسانی جسم میں 20 سے 30 ملی گرام آیوڈین ہوتی ہے۔ انسان کو ایک سال میں صرف 50 ملی گرام آیوڈین کی ضرورت ہوتی ہے۔ آیوڈین کی زیادتی بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔
  • سارے بھاری عنصر ایکس رے جذب کرتے ہیں۔ آیوڈین بھی ان میں سے ایک ہے۔ اگر ایکسرے کرنے سے پہلے آیوڈین کا کوئی نامیاتی مرکب انجکشن کے ذریعہ جسم میں داخل کر دیا جائے تو گردوں کی بڑی واضح تصاویر حاصل ہوتی ہیں اور یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ کونسا گردہ کام نہیں کر رہا ہے۔
  • آیوڈین کے مرکبات طاقتور تکسیدی عامل ہوتے ہیں اور جراثیموں کی تکسید کر کے انہیں مار ڈالتے ہیں۔ اس وجہ سے ہسپتالوں اور کلنک میں اسکے مرکبات (مثلاً پائیوڈین) بطور جراثیم کش اور ضد عفونت کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔ محلول کی حالت میں آیوڈین کا رنگ بھورا ہوتا ہے۔
  • اگر کسی کو thyroid کا سرطان (کینسر) ہو جائے تو علاج کے لیے اسے آیوڈین131 ملا پانی پلاتے ہیں۔ یہ آیوڈین قدرتی طور پر نہیں پائی جاتی اور نیوکلیئر ری ایکٹر میں قدرتی آیوڈین پر نیوٹرون کی بمباری کر کے حاصل کی جاتی ہے۔ اسکی نصف حیات صرف آٹھ دن ہوتی ہے۔ انسانی جسم میں داخل ہونے والی ہر آیوڈین thyroid گلینڈ میں مرتکز ہوتی ہے۔ یہ چونکہ تابکار ہوتی ہے اس لیے thyroid کے کینسر کو جلا دیتی ہے۔

حوالے[ترمیم]

  1. Magnetic susceptibility of the elements and inorganic compounds, in Handbook of Chemistry and Physics 81st edition, CRC press.