موجودیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کیکاگارڈ کا دانمارک میں بت

موجودیت ایک تحریک فلسفہ ہے جس کے مطابق تمام انسان اپنی زندگی کی انفرادیت اور داستان کے خود مختار راہنما ہیں یعنی آسان الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اس نظریے کے مطابق انسان کیا ہے؟ کا فلسفہ اپنی حیثیت کھو دیتا ہے کیونکہ اس نظریے کا بیان یہ ہے کہ انسان سب سے پہلی حقیقت ہے جسکا وجود غیر مبہم ہے اور اسکے وجود کو ثابت کرنے کے لیۓ کسی پیش رو نظریے کی ضرورت نہیں۔ اور اس طرح یہ کئ قدامت پسند فلسفوں مثلآ عقلیت اور تجربیت، جنہوں نے مابعدالطبیعیات کی مخالفت کرتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

موجودیت کی ابتداء انیسویں صدی میں سورن کیرکیگارڈ اور نطشے کے خیالات سے ہوئی۔ 1940ء اور 1950ء کی دہائیوں میں فرانسیسی فلاسفہ ژاں پال سارتر ، سيمون دي بووار اور البرٹ کاموس نے اس موضوع پر تحاریر کیں جنکی وجہ سے اس نظریۓ کو شہرت حاصل ہوئی۔

کتب[ترمیم]

کئ مشہور کتب جن میں موجودیت کا استعمال ہوتا ہے مندرجہ ذیل ہیں:

  • فرانز کافکا: ٹرائل
  • فیودور دوستویوسکی: نوٹس فروم انڈرگراونڈ
  • البیغ کامو: لا پیست

مزید معلومات[ترمیم]

  • ڈاکٹر برہان احمد فاروقی۔ قرآن اور مسلمانوں کے زندہ مسائل۔ سروسزبک کلب، 1996ء صفہ 67
  • Appignanesi, Richard; and Oscar Zarate (2001). Introducing Existentialism. Cambridge, UK: Icon. ISBN 1-84046-266-3.
  • Cooper, David E. (1999). Existentialism: A Reconstruction, 2nd ed., Oxford, UK: Blackwell. ISBN 0-631-21322-8.
  • Luper, Steven (ed.) (2000). Existing: An Introduction to Existential Thought. Mountain View, Calif.: Mayfield. ISBN 0-7674-0587-0.
  • Marino, Gordon (ed.) (2004). Basic Writings of Existentialism. New York: Modern Library. ISBN 0-375-75989-1.
  • Pirsig, Robert M. (1974). Zen and the Art of Motorcycle Maintenance: An Inquiry into Values. New York: Morrow. ISBN 0-688-00230-7.
  • Solomon, Robert C. (ed.) (2005). Existentialism, 2nd ed., New York: Oxford University Press. ISBN 0-19-517463-1.
  • Appignanesi, Richard (2006). Introducing Existentialism, 3nd ed., Thriplow, Cambridge: Icon Books (UK), Totem Books (USA). ISBN 1-84046-717-7.

بیرونی روابط[ترمیم]