وجودیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(موجودیت سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
کیکاگارڈ کا دانمارک میں بت

وجودیت ایک تحریک فلسفہ ہے جس کے مطابق تمام انسان اپنی زندگی کی انفرادیت اور داستان کے خود مختار راہنما ہیں یعنی آسان الفاظ میں یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اس نظریے کے مطابق انسان کیا ہے؟ کا فلسفہ اپنی حیثیت کھو دیتا ہے کیونکہ اس نظریے کا بیان یہ ہے کہ انسان سب سے پہلی حقیقت ہے جس کا وجود غیر مبہم ہے اور اس کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے کسی پیش رو نظریے کی ضرورت نہیں۔ اور اس طرح یہ کئی قدامت پسند فلسفوں مثلآ عقلیت اور تجربیت، جنہوں نے مابعدالطبیعیات کی مخالفت کرتا ہے۔

وجودیت کی ابتدا انیسویں صدی میں سورن کیرکیگارڈ اور نطشے کے خیالات سے ہوئی۔ 1940ء اور 1950ء کی دہائیوں میں فرانسیسی فلاسفہ ژاں پال سارتر، سيمون دي بووار اور البرٹ کاموس نے اس موضوع پر تحاریر کیں جنکی وجہ سے اس نظریے کو شہرت حاصل ہوئی۔

وجودیت کی تحریک پر تین افراد یعنی آندرے ژند، سگمنڈ فرائڈ اور سارتر کا گہرا اثر ہے۔

وجودی مفکرین اجتماعی زندگی کے مقابلے میں ”فرد“ کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے فکر و فلسفے میں محض انسان کا انفرادی وجود اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک طبقات یا گروہ ”فرد“ کی حیثیت اور آزادی کے دشمن ہوتے ہیں۔ کیونکہ یہ طبقات اور گروہ اُسے ہرطرح کی ذمہ داری سے آزاد کردیتے ہیں۔ اس کے برعکس وجودی مفکرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر فردآزاد ہے اور اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ انتخاب کی اس آزادی اور ذمہ داری ہی سے ہر فرد ذہنی اضطراب کاشکار ہوجاتا ہے اور اس پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس آزادی انتخاب کے باجود یہ فرد اپنے انجام کو نہیں جانتا۔ اس کا عمل زمان و مکان کے دائرے میں محدود و مقید ہوتا ہے۔ چنانچہ بعض اوقات اپنے عمل کے نتیجے میں اسے تباہی اور موت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ انتخاب کرتے ہیں ہم نہیں جانتے کہ ہمارا فیصلہ صحیح ہے یا غلط۔

سب ہی وجودی مفکرین موت کی المناکی کوبحث کا خاص موضوع بناتے ہیں۔ ہائی ڈیگر کے نزدیک موت کی مستقل آگہی سے اصل زندگی ترتیب پاتی ہے۔ موت جس آسانی سے زندگی او ر وجود کا خاتمہ کرتی ہے۔ اس سے زندگی کی لایعنیت اور کھوکھلا پن ظاہر ہو جاتا ہے۔ سارتر زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتا ہے

” ہمارا وجود بغیر کسی سبب و معقولیت اورضرورت کے تحت دنیا میں نظرآتا ہے۔ تمام زندہ افراد بغیر کسی وجہ کے دنیا میں آتے ہیں۔ مجبوریوں اور کمزوریوں کا بوجھ اٹھاتے زندہ رہتے ہیں۔ وہ ایک دن حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں۔"

اس ضمن میں بعض وجودی مفکرین انسان کی تنہائی پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ خواہ کیسا ہی معاشرتی اور سیاسی نظام قائم ہو جائے۔ انسان کی تنہائی اپنی جگہ برقرار رہے گی۔ ان کے نزدیک انسان تنہا اور نامعقول واقع ہوا ہے۔ اور زندگی کی نامعقولیت کو کسی نظام سے دور نہیں کیا جاسکتا۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وجودی تصورات ہماری فکری قوتوں کو مہمیز دیتے ہیں۔ انسانی وجود کے مسائل پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ انسانی ذہن اور خیال کے ارتقائیں ہماری رہنمائی کی سعی کرتے ہیں۔ تاہم یہ تمام تر تصورات وسیع تر مفہوم میں منفی تصورات ہی کہے جا سکتے ہیں۔ سارتر نے اگرچہ منطق کا سہارا لے کر غیر حقیقی تصورات کا دفاع کیا ہے۔

مجموعی طور پر وجودی تصورات انسان میں مایوسی، ناامیدی، بے دل اور منفی رجحانات پیدا کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ لیکن وجود کے مسائل پر غور و فکر کرنا ذہنی آزمائش کا کھیل تو ہو سکتا ہے لیکن اپنے مضمرات کے لحاظ سے اسے بے ضرر نہیں قرار دیا جاسکتا۔

ایک زمانہ تھا۔ جب یورپ کے علمی حلقوں میں وجودیت اور وجودی تصورات کی بحث نے مستقل موضوع کا درجہ اختیار کر رکھا تھا۔ اربابِ علم میں ایک بڑی تعداد ان نظریات کو شک کی نگاہ سے دیکھتی تھی۔ وجودیت کے بارے میں عام تصور یہ تھا کہ ہر وہ تحریک جس میں فرد کی تباہی او ر بربادی کا ہولناک نقشہ کھینچا جاتا ہے۔ ہر وہ ناول جس کے کردار بدی اور ذہنی اختلاط کے نمونے دکھائی دیتے ہیں اور جو ہماری شخصیت کا ارتفاع کرنے کی بجائے اسے مایوسی اور پستیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں پھینک دیتے ہیں۔ وجودی ادب کا شہ پارہ ہے۔ مختصر طور پر ہم اسے یوں کہہ سکتے ہیں کہ وجودی ادب کی بنیادی خصوصیت زندگی کا المیاتی احساس پیدا کرنا ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]