شجرہ کرسمس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مضامین بسلسلہ

عشرہ کرسمس


Presepi2003.JPG
عالم بالا میں خدا کی تمجید ہو

تجسمکنواری پیدائش
ولادت یسوع مسیح
بیت اللحم کا ستارہمجوسیچرواہے
ختنہ مسیح
معصومین کا قتل عامسفر مصربچپن
یسوع کا بپتسمہ
کرسمس
شب کرسمسعشائے کرسمس
نیا سالظہور خداوند
کرسمس ٹریسانتا کلازتبادلہ تحائف

کرسمس درخت، شجرہ کرسمس یا کرسمس ٹری ایک سجا دھجا ہوا سدا بہار نوع صنوبر جیسے کہ سفیدہ، صنوبر اور چیڑ یا ایک مصنوعی درخت ہوتا ہے۔ یہ کرسمس کے جشن کے دوران میں استعمال کیا جاتا ہے۔ کرسمس کے موقع پر کرسمس ٹری کی روایت جرمنی سے آئی ہے۔ دنیا کا پہلا کرسمس ٹری ساتویں صدی مسیحی کے اوائل میں کرسمس کا حصہ بنا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک بونیفاس نامی برطانوی راہب جرمنی کے قصبے کو مسیحیت کی تبلیغ کے لیے درس دے رہا تھا، اسی دوران میں اس نے شاہ بلوط کے درخت کو یہ ظاہر کرنے کے لیے گرا دیا کہ یہ مقدس نہیں ہے، تو صنوبر کا چھوٹا سا درخت اس سے بچ گیا راہب نے اس واقعے کو معجزہ قرار دیتے ہوئے، اس درخت کو سیدنا یسوع کے درخت کا نام دیا۔ کرسمس کے روز صنوبر کے اس درخت کو تقریب کا حصہ بنا دیا گیا اور پھر سترہویں صدی مسیحی تک جرمنوں نے کرسمس ٹری کی اس روایت کو پورے یورپ میں پھیلا دیا۔ امریکا میں 20 دسمبر 1821ء میں درخت کرسمس کا حصہ بنا۔

جرمنی اور ہمسایہ ممالک میں لوگ اس درخت کو گھروں میں نمایاں مقام پر نصب کرتے تھے اور اس کو رنگین کاغذوں، گھنٹیوں، چھوٹے کھلونوں، کھانے پینے کی چیزوں اور موم بتیوں سے سجایا جاتا۔ جب لوگ دیگر ممالک کی طرف ہجرت کرتے تو وہ اپنے ساتھ درخت سجانے کی یہ روایت وہاں منتقل کرتے۔ اگرچہ ابتدائی زمانے میں درخت کو سجانے کے لیے مختلف چیزیں ہوتی تھیں لیکن انیسویں صدی مسیحی میں کرسمس کے درخت کو رسیوں، کارڈوں، تصاویر اور روئی (تاکہ درخت برف کا بنا نظر آسکے) اور مختلف سائز اور شکل کی ٹافیوں وغیرہ سے سجانے لگے۔ بعض اوقات موم بتیاں بھی اس سجاوٹ کا حصہ ہوتی تھیں لیکن آگ لگنے کے خدشے کے پیش نظر لوگ اس سے گریز کرتے تھے، بعد ازاں برقی قمقموں سے یہ کمی پوری کردی گئی۔ ابتدائی زمانے میں درخت کو سجانے کے لیے ہاتھوں سے بنا ہوا سامان استعمال ہوتا تھا جو کافی مہنگا پڑتا تھا۔

کرسمس کے درخت کو سجانے کے لیے امریکا میں ”پاپ کارن“ بھی متعارف کرایا گیا۔ 1800ء کی دہائی میں شائع ہونے والی کتاب ”گڈیز لیڈیز بک“ میں گھریلو خواتین کو کرسمس کے درخت کو سجانے کے لیے گھر پر سامان تیار کرنے کے طریقے بتائے گئے تھے۔

1850ء میں جرمنی کی ایک کمپنی نے کرسمس کے درخت کے لیے شیشے کے دانے بنانا شروع کیا تھا۔ انہوں ٹین کے تکونی دانے بھی متعارف کرائے تھے جس پر سنہری خول چڑھایا گیا تھا، اس دانے کو کرسمس کے درخت کی چوٹی پر نصب کیا جاتا ہے۔ شیشے سے تیار کی گئی آرائشی اشیاء برطانیہ میں پہلی مرتبہ 1870ء میں استعمال کی گئیں جبکہ شمالی امریکا میں یہ اشیاء 1880ء میں پہنچ گئی تھیں۔ 1882ء میں شیشے کی آرائشی اشیاء کی جگہ برقی اشیاء نے لے لی۔ پہلی مرتبہ ایڈورڈ ہبرٹ جانسن نے کرسمس کے درخت کو برقی قمقموں سے سجایا تھا اس نے 80 چھوٹے بلب استعمال کیے تھے۔ 1890ء میں برقی جھالر کثرت سے استعمال ہونے لگے جبکہ اگلی صدی میں کرسمس کے درختوں کی سجاوٹ معمول بن گئی۔

کرسمس ٹری کی رسم انیسویں صدی تک جرمنی تک محدود رہی۔ 1847ء کو ملکہ برطانوی ملکہ وکٹوریا کا خاوند جرمنی گیا اور اسے کرسمس کا تہوار جرمنی میں منانا پڑا تو اس نے پہلی مرتبہ لوگوں کو کرسمس ٹری بناتے اور سجاتے دیکھا تو اسے یہ رسم بہت بھا گئی لٰہذا وہ واپسی پر ایک ٹری ساتھ لے آیا، اس نے یہ درخت ملکہ کو دکھایا، ملکہ نے بھی اسے پسند کیا۔ یوں 1848ء میں سرکاری سرپرستی میں لندن میں پہلی بار کرسمس ٹری بنوایا گیا۔ یہ ایک دیوہیکل کرسمس ٹری تھا جو شاہی محل کے باہر بنوایا گیا تھا۔ 25 دسمبر 1848ء کو لاکھوں لوگ یہ درخت دیکھنے لندن آئے اور اسے دیکھ کر گھنٹوں تالیاں بجاتے رہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]