استوائی گنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ضد ابہام صفحات کے لیے معاونت زیر نظر مضمون گنی کے بارے میں ہے۔ دیگر استعمالات کے لیے استوائی گنی (ضد ابہام) دیکھیے۔


  
استوائی گنی
(ہسپانوی میں: Guinea Ecuatorial خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ نام (P1448) ویکی ڈیٹا پر
استوائی گنی
پرچم
استوائی گنی
نشان

GNQ orthographic.svg 

شعار
(ہسپانوی میں: Unidad, Paz, Justicia خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعار کا متن (P1451) ویکی ڈیٹا پر
ترانہ:
زمین و آبادی
متناسقات 1°30′N 10°00′E / 1.5°N 10°E / 1.5; 10  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر[1]
پست مقام بحر اوقیانوس (0 میٹر)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پست ترین مقام (P1589) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 28051 مربع کلومیٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
دارالحکومت ملابو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دارالحکومت (P36) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری زبان ہسپانوی[2]،  فرانسیسی[2]،  پرتگالی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سرکاری زبان (P37) ویکی ڈیٹا پر
آبادی 757014 (2013)[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
اوسط عمر
52.371 سال (1999)[4]
52.752 سال (2000)[4]
53.099 سال (2001)[4]
53.415 سال (2002)[4]
53.709 سال (2003)[4]
53.987 سال (2004)[4]
54.262 سال (2005)[4]
54.55 سال (2006)[4]
54.858 سال (2007)[4]
55.19 سال (2008)[4]
55.543 سال (2009)[4]
55.908 سال (2010)[4]
56.265 سال (2011)[4]
56.601 سال (2012)[4]
56.905 سال (2013)[4]
57.18 سال (2014)[4]
57.434 سال (2015)[4]
57.681 سال (2016)[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اوسط عمر (P2250) ویکی ڈیٹا پر
حکمران
صدر استوائی گنی  تئودورو اوبیانگ نگیما مباسوگو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ ریاست (P35) ویکی ڈیٹا پر
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 12 اکتوبر 1968  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 12 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شادی کی کم از کم عمر (P3000) ویکی ڈیٹا پر
الحاق اور رکنیت
مشترکہ سرحدیں
کیمرون (Cameroon–Equatorial Guinea border)
گیبون (Equatorial Guinea–Gabon border)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مشترکہ سرحدیں (P47) ویکی ڈیٹا پر
سفارتی تعلقات
برازیل (Brazil–Equatorial Guinea relations)
جرمنی (Equatorial Guinea–Germany relations)
شمالی کوریا (Equatorial Guinea–North Korea relations)
عوامی جمہوریہ چین (China–Equatorial Guinea relations)
تائیوان (Equatorial Guinea–Taiwan relations)
ریاستہائے متحدہ امریکا (Equatorial Guinea–United States relations)
روس (Equatorial Guinea–Russia relations)
جارجیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سفارتی تعلقات (P530) ویکی ڈیٹا پر
خام ملکی پیداوار
 ← کل
12486753871.278 امریکی ڈالر (2017)[10]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فی کس جی ڈی پی (P2131) ویکی ڈیٹا پر
 ← فی کس 34739 بین الاقوامی ڈالر (2014)[11]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں PPP GDP per capita (P2299) ویکی ڈیٹا پر
جی ڈی پی تخمینہ
 ← فی کس 34 امریکی ڈالر (1962)[12]
40 امریکی ڈالر (1963)[12]
46 امریکی ڈالر (1964)[12]
233 امریکی ڈالر (1965)[12]
242 امریکی ڈالر (1966)[12]
246 امریکی ڈالر (1967)[12]
224 امریکی ڈالر (1968)[12]
219 امریکی ڈالر (1969)[12]
216 امریکی ڈالر (1970)[12]
215 امریکی ڈالر (1971)[12]
223 امریکی ڈالر (1972)[12]
288 امریکی ڈالر (1973)[12]
349 امریکی ڈالر (1974)[12]
401 امریکی ڈالر (1975)[12]
411 امریکی ڈالر (1976)[12]
421 امریکی ڈالر (1977)[12]
198 امریکی ڈالر (1980)[12]
136 امریکی ڈالر (1981)[12]
152 امریکی ڈالر (1982)[12]
141 امریکی ڈالر (1983)[12]
148 امریکی ڈالر (1984)[12]
173 امریکی ڈالر (1985)[12]
203 امریکی ڈالر (1986)[12]
239 امریکی ڈالر (1987)[12]
249 امریکی ڈالر (1988)[12]
213 امریکی ڈالر (1989)[12]
262 امریکی ڈالر (1990)[12]
251 امریکی ڈالر (1991)[12]
295 امریکی ڈالر (1992)[12]
289 امریکی ڈالر (1993)[12]
206 امریکی ڈالر (1994)[12]
280 امریکی ڈالر (1995)[12]
443 امریکی ڈالر (1996)[12]
812 امریکی ڈالر (1997)[12]
654 امریکی ڈالر (1998)[12]
1052 امریکی ڈالر (1999)[12]
1702 امریکی ڈالر (2000)[12]
2283 امریکی ڈالر (2001)[12]
2711 امریکی ڈالر (2002)[12]
3577 امریکی ڈالر (2003)[12]
6085 امریکی ڈالر (2004)[12]
10850 امریکی ڈالر (2005)[12]
12732 امریکی ڈالر (2006)[12]
15761 امریکی ڈالر (2007)[12]
22742 امریکی ڈالر (2008)[12]
16530 امریکی ڈالر (2009)[12]
17136 امریکی ڈالر (2010)[12]
21451 امریکی ڈالر (2011)[12]
21557 امریکی ڈالر (2012)[12]
20246 امریکی ڈالر (2013)[12]
19245 امریکی ڈالر (2014)[12]
11213 امریکی ڈالر (2015)[12]
9218 امریکی ڈالر (2016)[12]
9697 امریکی ڈالر (2017)[12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں nominal GDP per capita (P2132) ویکی ڈیٹا پر
کل ذخائر 2773615 امریکی ڈالر (1982)[13]
1300000 امریکی ڈالر (1983)[13]
1381000 امریکی ڈالر (1984)[13]
3465531 امریکی ڈالر (1985)[13]
2676436 امریکی ڈالر (1986)[13]
568604 امریکی ڈالر (1987)[13]
5503322 امریکی ڈالر (1988)[13]
5968313 امریکی ڈالر (1989)[13]
706734 امریکی ڈالر (1990)[13]
9473863 امریکی ڈالر (1991)[13]
13408610 امریکی ڈالر (1992)[13]
480802 امریکی ڈالر (1993)[13]
390332 امریکی ڈالر (1994)[13]
40812 امریکی ڈالر (1995)[13]
516467 امریکی ڈالر (1996)[13]
4933006 امریکی ڈالر (1997)[13]
803295 امریکی ڈالر (1998)[13]
3353991 امریکی ڈالر (1999)[13]
23008389 امریکی ڈالر (2000)[13]
70851804 امریکی ڈالر (2001)[13]
88540318 امریکی ڈالر (2002)[13]
237691328 امریکی ڈالر (2003)[13]
944982407 امریکی ڈالر (2004)[13]
2102494662 امریکی ڈالر (2005)[13]
3066739314 امریکی ڈالر (2006)[13]
3845916301 امریکی ڈالر (2007)[13]
4431191812 امریکی ڈالر (2008)[13]
3251937912 امریکی ڈالر (2009)[13]
2346355092 امریکی ڈالر (2010)[13]
3053840679 امریکی ڈالر (2011)[13]
4396979380 امریکی ڈالر (2012)[13]
4566537502 امریکی ڈالر (2013)[13]
2906843520 امریکی ڈالر (2014)[13]
1205154500 امریکی ڈالر (2015)[13]
62307398 امریکی ڈالر (2016)[13]
45502925 امریکی ڈالر (2017)[13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کل ذخائر (P2134) ویکی ڈیٹا پر
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.526 (2000)[14]
0.563 (2005)
0.591 (2010)[14]
0.590 (2011)[14]
0.584 (2012)[14]
0.584 (2013)[14]
0.587 (2014)[14]
0.516 (2000)[15]
0.532 (2001)[15]
0.525 (2002)[15]
0.539 (2003)[15]
0.530 (2004)[15]
0.567 (2005)[15]
0.578 (2006)[15]
0.585 (2007)[15]
0.586 (2008)[15]
0.589 (2009)[15]
0.581 (2010)[15]
0.584 (2011)[15]
0.589 (2012)[15]
0.590 (2013)[15]
0.590 (2014)[15]
0.593 (2015)[15]
0.593 (2016)[15]
0.591 (2017)[15]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انسانی ترقیاتی اشاریہ (P1081) ویکی ڈیٹا پر
شرح بے روزگاری 8 فیصد (2014)[16]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں unemployment rate (P1198) ویکی ڈیٹا پر
دیگر اعداد و شمار
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+01:00  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
ٹریفک سمت دائیں[17]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈرائیونگ سمت (P1622) ویکی ڈیٹا پر
ڈومین نیم gq.  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ٹی ایل ڈی (P78) ویکی ڈیٹا پر
آیزو 3166-1 الفا-2 GQ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) ویکی ڈیٹا پر
بین الاقوامی فون کوڈ +240  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملکی ڈائیلنگ کوڈ (P474) ویکی ڈیٹا پر

استوائی گنی وسطی افریقہ کا ایک ملک ہے۔ اس کا کل رقبہ 28٫000 مربع کلومیٹر ہے اور براعظم افریقہ کے چھوٹے ملکوں میں سے ایک ہے۔ تاہم یہ براعظم کے متمول ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ دولت کا ارتکاز حکومت اور طبقہ اشرافیہ تک محدود ہے اور 70 فیصد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے یعنی 2 ڈالر روزانہ سے کم کماتی ہے۔ اس کی کل آبادی 6٫50٫702 ہے۔

استوائی گنی کے شمال میں کیمرون، جنوب اور مشرق میں گبون اور مغرب میں خلیج گنی ہے۔

آبادی کے اعتبار سے برِاعظم افریقہ کا تیسرا چھوٹا ملک ہے۔ مناسب مقدار میں ملنے والے تیل کے ذخائر کے بعد حالیہ برسوں میں ملک کی معاشی اور سیاسی حالت بدلی ہے۔ استوائی گنی کی فی کس آمدنی کی اوسط دنیا بھر میں 28ویں نمبر پر ہے تاہم سارے کا سارا تیل چند ہی افراد کی ملکیت ہے۔

انسانی حقوق کے حوالے سے اسے بد ترین ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

آج کے دور کا استوائی گنی جس مقام پر واقع ہے پر قدیم زمانے سے لوگ آباد تھے۔ بنٹو قبائل کی نقل مکانی 17ویں اور 19ویں صدی میں ہوئی۔

پُرتگالی مہم جو فرناؤ ڈو پو ہندوستان کا راستہ تلاش کرتے ہوئے 1472 میں بیاکو کے جزیرے کو دریافت کرنے والا پہلا یورپی بنا۔ اس نے اسے فارموسا کہا لیکن جزیرے کا نام جلد ہی دریافت کنندہ کے نام پر جزیرہ فرنانڈو پو پڑ گیا۔ 1474 میں پُرتگال نے یہاں نوآبادی بسانا شروع کر دی۔

1778 میں پُرتگال کی جانب سے یہ جزیرہ اور آس پاس کے جزائر اور مین لینڈ کے تجارتی حقوق امریکی براعظم میں زمین کے بدلے سپین کو دے دیے گئے۔

1827 تک 1843 برطانیہ نے اس جزیرے پر اپنا مرکز قائم کیا تاکہ غلاموں کی تجارت کے خلاف جنگ کی جا سکے۔ بعد ازاں سپین سے معاہدے کے بعد 1843 میں یہ مرکز سیرا لیون منتقل کر دیا گیا۔ 1900 میں پیرس کے معاہدے کے تحت مین لینڈ کے مالکانہ حقوق کا تصفیہ کر دیا گیا۔ 1926 تا 1959 انہیں جمع کر کے ہسپانوی حکومت کے تحت لایا گیا۔

ستمبر 1968 میں فرانسسکو مکیاس نگوئما کو استوائی گنی کا پہلا صدر چنا گیا اور اس کی آزادی کو 12 اکتوبر 1968 میں تسلیم کیا گیا۔ جولائی 1970 میں صدر نے ملک میں ایک جمہوری پارٹی کا نظام لاگو کیا اور بربریت کا دور شروع ہو گیا۔ ایک تہائی سے زیادہ آبادی کو یا تو تہ تیغ کر دیا گیا یا ملک سے باہر نکال دیا گیا۔ 3٫00٫000 کی آبادی میں سے 80٫000 افراد ہلاک ہوئے۔ معیشت کی بنیادیں بیٹھ گئیں، شہری مارے گئے اور غیر ملکی فرار ہو گئے۔ 3 اگست 1979 کی خونی بغاوت کے بعد صدر کا تختہ الٹ دیا گیا۔

جغرافیہ[ترمیم]

استوائی گنی مغربی افریقہ کے مغربی حصے میں واقع ہے۔ ملک کا زیادہ تر رقبہ مین لینڈ حصے پر مشتمل ہے جس کے شمال میں کیمرون اور جنوب اور مشرق میں گبون موجود ہیں۔ اس میں پانچ جزائر بھی شامل ہیں۔ یہ جزائر 40 سے 350 کلومیٹر دور ہیں۔

نام کے برعکس ملک کا کوئی بھی حصہ خطِ استوا پر نہیں۔

موسم[ترمیم]

استوائی گنی کا موسم استوائی نوعیت کا ہے اور یہاں محض نم اور خشک موسم ہوتے ہیں۔ کچھ حصے ایسے بھی ہیں جہاں آج تک بادلوں کے بنا کوئی دن نہیں دیکھا گیا۔

سیاست[ترمیم]

ملک کے موجودہ صدر تیوڈور اوبیانگ نگوئما مباسوگو ہیں۔ 1982 میں لکھے گئے دستور کے مطابق صدر کو وسیع اختیارات حاصل ہیں۔ ان اختیارات میں کابینہ کے اراکین کے تقرر و تنزلی، صدارتی حکم کے تحت قوانین کا اجرا، ایوانِ نمائندگان کی برخاستگی، معاہدوں پر گفت و شنید اور ان کی منظوری اور مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف ہونا شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم اور اس کے اختیارات کا تقرر صدر کرتا ہے۔

موجودہ صدر نے 3 اگست 1979 کو سابقہ آمر صدر کو ہٹا کر خود اقتدار پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد سے اب تک کم از کم 12 مزید ناکام بغاوتیں ہو چکی ہیں۔

2006 میں انسدادِ تشدد کی یاداشت پر صدر کے دستخط کرنے کے باوجود ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی جاری ہے۔ یہ تشدید جیلوں میں ہوتا ہے جس میں جسمانی تشدد، مار پیٹ، نامعلوم وجوہات پر اموات اور حبسِ بے جا شامل ہیں۔

موجودہ صدر کے اقتدار کے دوران بنیادی ڈھانچہ بھی بہتر ہوا ہے۔ ملکی سڑکوں کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ پختہ ہے اور ملک بھر میں ہوائی اڈے بن رہے ہیں۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

استوائی گنی میں 7 صوبے ہیں۔ ہر صوبہ مختلف اضلاع میں منقسم ہوتا ہے۔

معیشت[ترمیم]

آزادی سے قبل استوائی گنی کی معیشت کا دار و مدار کوکوا پر تھا۔ 1959 میں اس کی فی کس آمدنی افریقہ بھر میں سب سے زیادہ تھی۔ یکم جنوری 1985 کو یہ فرانک زون کا پہلا غیر فرانسیسی ملک بنا۔ ملکی کرنسی ایکویلے اس سے قبل ہسپانوی پسیٹا سے منسلک تھی۔

1996 میں وسیع پیمانے پر تیل کے ذخائر کی دریافت سے حکومتی آمدنی میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ 2004 میں صحارائی علاقے میں استوائی گنی تیل پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک تھا۔ تیل کی مجموعی پیداوار اس وقت 3٫60٫000 بیرل روزانہ ہے۔

جنگلات، فارمنگ اور مچھلی ملکی آمدنی کے اہم ستون ہیں۔

جولائی 2004 میں امریکی سینٹ نے رگز بینک کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں۔ اس وقت تک استوائی گنی کے تیل کی زیادہ تر ادائیگی اسی بینک کے ذریعے ہوتی تھی۔ یہی بینک چلی کے اگستو پنوشے کے لیے بھی کام کرتا تھا۔ سینٹ کی رپورٹ میں یہ درج تھا کہ کم از کم ساڑے تین کروڑ ڈالر جتنی رقم صدر اور ان کے قریبی رشتہ داروں نے ہڑپ کر لی تھی۔ تاہم صدر نے اس کی تردید کی تھی۔

آبادی کی خصوصیات[ترمیم]

استوائی گنی کے زیادہ تر باشندے بنٹو نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب سے بڑا قبیلہ فنگ ہے جو یہاں کا مقامی ہے۔ فنگ قبیلہ کل آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ ہے اور اس کی مزید 67 شاخیں ہیں۔

اس کے علاوہ یہاں بہت سارے ساحلی قبائل بھی آباد ہیں۔ یہ تمام قبائل مل کر کل آبادی کا 5 فیصد بناتے ہیں۔ کسی حد تک یورپی النسل بالخصوص پُرتگالی اور ہسپانوی بھی آباد ہیں تاہم اکثر ہسپانوی افراد استوائی گنی کی آزادی کے بعد یہاں سے چلے گئے تھے۔ آج کل ہمسائیہ ملکوں کیمرون، نائجیریا اور گبون سے لوگ یہاں منتقل ہو رہے ہیں۔

مذہب[ترمیم]

مسیحیت استوائی گنی کی کل آبادی کے 93 فیصد افراد کا مذہب ہے۔ ان میں سے 87 فیصد رومن کیتھولک اور باقی ماندہ افراد پروٹسٹنٹ ہیں۔ پانچ فیصد افراد مقامی مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں اور 2 فیصد مسلمان، بہائی اور دیگر مذاہب سے ہیں۔

سرکاری زبانیں[ترمیم]

آئینی طور پر فرانسیسی اور ہسپانوی سرکاری زبانیں ہیں۔ جولائی 2007 میں صدارتی حکم نامے کے تحت پُرتگالی زبان کو تیسری سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔

ملک میں اس وقت ہسپانوی، استوائی گنیئن ہسپانوی، مقامی زبانیں (فنگ، بوب، بنگا، وغیرہ وغیرہ)، فرانسیسی، انگریزی، جرمنی وغیرہ بولی جاتی ہیں۔

ثقافت[ترمیم]

جون 1984 میں پہلی ہسپانوی افریقن ثقافتی کونسل کو استوائی گنی کی ثقافتی شناخت کا کام سونپا گیا۔

تعلیم[ترمیم]

فرانسسکو میکائس کے دور میں تعلیم کو بالکل نظر انداز کیا گیا اور بچوں کی بہت معمولی تعداد کو کچھ نہ کچھ تعلیم مل سکی۔ صدر اوبیانگ کے دور میں ناخواندگی کی شرح 73 فیصد سے کم ہو کر محض 13 فیصد رہ گئی اور 8 سال کے عرصے میں سکولوں کی تعداد 65٫000 سے بڑھ کر 1٫00٫000 سے بھی زیادہ ہو گئی۔ 6 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم مفت اور لازمی ہے۔

صحت[ترمیم]

استوائی گنی نے ملیریا کے خلاف اپنے تیار کردہ کنٹرول پروگرام اپنائے ہیں اور ملیریا کے انفیکشن، بیماری اور شرح اموات میں بہت کمی ہوئی ہے۔

نقل و حمل[ترمیم]

فضائی نقل و حمل[ترمیم]

ملک میں رجسٹر شدہ ہر فضائی کمپنی پر یورپی یونین کی طرف سے عائد پابندی کا سامنا ہے۔ یعنی کہ کوئی بھی فضائی کمپنی حفاظتی تحفظات کے پیشِ نظر یورپی یونین میں کام نہیں کر سکتی۔

تاہم تیل کی موجودگی کی وجہ سے بین الاقوامی فضائی کمپنیاں یہاں سروس مہیا کرتی ہیں۔ ان میں ائیر فرانس پیرس سے، لفتھانسا فرینکفرٹ سے، آئیبیریا میڈرڈ سے اور کینیا ائیر ویز نیروبی سے ییہاں آتی ہیں۔

مواصلات[ترمیم]

مواصلات کے اہم ترین ذرائع میں حکومت ملکیت کے تین ایف ایم ریڈیو سٹیشن ہیں۔ پانچ شارٹ ویو ریڈیو سٹیشن بھی یہاں کام کرتے ہیں۔ دو اخبار اور دو رسالے بھی چھپتے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل بھی ہے جو حکومت کی ملکیت ہے۔

زیادہ تر میڈیا میں خود سنسر شپ ہوتی ہے۔ قانون کے تحت کسی بھی عوامی شخصیت پر تنقید نہیں کی جا سکتی۔

عام ٹیلی فون بہت کم ہیں اور ہر 100 افراد کے لیے محض 2 لائنیں موجود ہیں۔ یہاں ایک جی ایس ایم آپریٹر بھی کام کرتی ہے۔

یہاں نو انٹرنیٹ مہیا کرنے والے ادارے 8٫000 افراد کو انٹرنیٹ کی سہولیات مہیا کرتے ہیں۔

کھیل[ترمیم]

فٹ بال[ترمیم]

استوائی گنی 2012 کے افریقن کپ آف نیشنز کے لیے گبون کے ساتھ مشترکہ میزبان ہے۔ 2008 میں خواتین کی افریقن فٹ بال چیمپئن شپ یہاں منعقد ہوئی جسے استوائی گنی نے جیتا۔ استوائی گنی کی خواتین کی فٹ بال کی قومی ٹیم 2011 کے ورلڈ کپ تک پہنچی ہے جو جرمنی میں کھیلا جائے گا۔

تیراکی[ترمیم]

استوائی گنی اپنے تیراکی کے قومی چیمپئن ایرک موسامبانی المعروف ایرک دی ایل کے حوالے سے مشہور ہے۔

فہرست متعلقہ مضامین استوائی گنی[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حکومتی
عمومی
  • ملکی صفحہ ملک بی بی سی نیوز پر
  • "Equatorial Guinea"۔ کتاب عالمی حقائق۔ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی۔
  • کرلی (ڈی موز پر مبنی) پر استوائی گنی
  • ویکیمیڈیا نقشہ نامہ Equatorial Guinea

متناسقات: 1°30′N 10°00′E / 1.500°N 10.000°E / 1.500; 10.000

  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں OSM relation ID (P402) ویکی ڈیٹا پر "صفحہ استوائی گنی في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 جون 2019۔
  2. ^ ا ب پ http://www.guineaecuatorialpress.com/noticia.php?id=5434
  3. ناشر: عالمی بنک
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س http://data.uis.unesco.org/Index.aspx?DataSetCode=DEMO_DS
  5. https://www.interpol.int/Member-countries/World — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: انٹرپول
  6. https://www.opcw.org/about-opcw/member-states/ — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
  7. http://www.unesco.org/eri/cp/ListeMS_Indicators.asp
  8. http://www.upu.int/en/the-upu/member-countries.html — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  9. https://www.itu.int/online/mm/scripts/gensel8 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  10. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.MKTP.CD?locations=GQ — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اکتوبر 2018 — ناشر: عالمی بنک
  11. http://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.PP.CD
  12. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا اب ات اث اج اح اخ اد اذ ار از اس اش اص اض اط اظ https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 27 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  13. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی https://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  14. ^ ا ب پ ت ٹ ث http://hdr.undp.org/en/countries/profiles/GNQ
  15. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س http://hdr.undp.org/en/data — ناشر: United Nations Development Programme
  16. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS
  17. http://chartsbin.com/view/edr