احمد قدوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Allah-green.svg

بسلسلہ شرعی علوم
علم فقہ

ابو الحسين احمد بن محمد المعروف القدوری فقہ حنفیہ عراق کے مشہور ترین فقیہ ہیں۔ امام قدوری کے لقب سے چوتھے طبقہ کے فقہائے کبارا ور فضلائے نا مدار میں سے ہیں

نام و نسب[ترمیم]

نام احمد، کنیت ابوالحسین، قدوری نسبت اور والد کا نام محمد ہے۔ پورا شجرہ نسب یوں ہے۔ ابوالحسین احمد بن ابو بکر محمد بن احمد بن جعفر بن حمدان بغدادی قدوری۔

ولادت[ترمیم]

امام قدوری 362ھ بمطابق 973ء میں بغداد میں پیدا ہوئے ۔

قدوری نسبت کی تحقیق[ترمیم]

مورخ ابن خلکان نے اپنی تاریخ "وفیات الاعیان" میں ذکر کیا ہے کہ قُدُوْرِی قدور کی طرف نسبت ہے جو قدر بمعنی ہانڈی کی جمع ہے۔ اس محلے میں جہاں امام قدوری پیدا ہوئے تھے چونکہ کمھار (ہنڈیا بنانے والے) رہائش پزیر تھے اس بنا پر محلے کا نام قدور پڑ گیا اور اسی کی طرف منسوب ہو کے قدوری کہلائے۔ بعض علماءکے خیال میں آپ ہنڈیا بناتے اور فروخت کرتے تھے اس لیے اس نام سے مشہور ہوئے۔

تحصیل علم[ترمیم]

امام قدوری نے علم فقہ اور علم حدیث رکن الاسلام ابو عبداللہ محمد بن یحییٰ بن مہدی جرجانی متوفی 318ہجری سے حاصل کیا جو امام ابو بکر احمد جصاص کے شاگرد ہیں اور ابو بکر جصاص، شیخ ابو الحسن عبید اللہ کرخی کے شاگرد ہیں اور امام کرخی شیخ ابو سعید بروعی کے خوشہ چیں ہیں اور ابو سعید بروعی، علامہ موسیٰ رازی کے فیض یافتہ ہیں اور علامہ موسیٰ رازی امام محمد شیبانی کے علم پروردہ اور مائہ ناز فرزند ہیں، گویا امام قدوری نے پانچ واسطوں سے امام محمد شیبانی سے علم فقہ حاصل کیاہے۔ حدیث محمد بن علی بن سویداور عبیداللہ بن محمد جوشنی سے روایت کرتے ہیں۔ ابو بکر احمد بن علی بن ثابت خطیب بغدادی صاحب تاریخ، قاضی القضاة ابو عبد اللہ محمد بن علی بن محمد قاضی مفضل بن مسعود بن محمد بن یحییٰ بن ابو الفرج شوخی متوفی 443 ہجری صاحب اخبار النحویین وغیرہ کو آپ سے شرف تلمذ حاصل ہے۔

فقہی مقام[ترمیم]

عراق میں ریاست مذہب حنفیہ کی آپ کی طرف منتہی ہوئی۔سمعانی نے کہا ہے کہ آپ فقیہ صدوق تھے اور عمدہ عبارات لکھتے اور ہمیشہ قرآن مجید پڑھا کرتے تھے۔فقہ و حدیث آپ نے ابی عبد اللہ محمد بن یحییٰ جر جانی شاگرد احمد جصاص سے پڑھی اور روایت خطیب بغدادی اور قاضی القضاۃابو عبد اللہ دامغانی نے روایت کی اور ابو نصر احمد بن محمد فقیہ نے آپ سے فقہ پڑھی اور نیز آپ کی کتاب مختصر کی شرح لکھی۔آپ شیخ ابا حامد سفرائنی فقیہ شافعی سے اکثر مناظرہ کیاکرتے تھے تصانیف بھی آپ نے نہایت مفید ک یں جو مقبول و مروج بین الانام ہوئیں چنانچہ مختصر مبارک جس کو قدوری کہتے ہیں،نہایت ہی متداول ہے،علاوہ اس کے شرح مختصر کرخی،کتاب تجرید دربارہ اختلاف امام ابو حنیفہ و امام شافعی سات جلدوں مین تصنیف کی نیز ایک کتاب تقریب ان مسائل اختلافیہ میں بغیر دلائل کے لکھی جو امام ابو حنیفہ ادران کے اصحاب کے باہم وقع میں آئے ہیں، پھر دوسری تقریب تصنیف کی جس میں ان مسائل اختلافیہ کو با دلائل لکھا۔ ابن کمال پاشا نے امام قدوری اور صاحب ہدایہ کو پانچویں طبقہ میں شمار کیا ہے جن کا کام صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ اس بات کی وضاحت کر دیتے ہیں کہ صاحب مذہب سے جو مختلف روایات ہوں، ان میں سے کون سی روایت افضل ہے اور کون سی روایت مفضول ہے لیکن اکثر علما نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ حضرات قاضی خان وغیرہ سے ان کا ایک درجہ اوپر ہے۔ اگر بالفرض ایک درجہ اوپر نہ بھی ہو تو برابر کے ضرور ہیں لہذا امام قدوری کو تیسرے درجہ میں شمار کرنا چاہیے۔

وفات[ترمیم]

امام قدوری نے شہر بغداد میں بعمر 66 سال اتوار کے روز 5 رجب 428 ھ بمطابق 1037ء میں داعی اجل کو لبیک کہا اور اسی روز"درب ابی خلف" میں مدفون ہوئے۔ اس کے بعد آپ کی نعش کو شارع منصور کی طرف منتقل کر دیا گیا۔ اب آپ ابو بکر خوازمی حنفی کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نصابی کتاب۔ اسلامیات اختیاری ⟨بی۔ اے یونٹ 18-1 کوڈ نمبر 437⟩ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد