نافع بن عبد الرحمن المدنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نافع بن عبد الرحمن المدنی
(عربی میں: نافع المدني خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 689  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 785 (95–96 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Umayyad Flag.svg خلافت امویہ
Black flag.svg خلافت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
نمایاں شاگرد امام ورش،  امام قالون  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ الٰہیات دان،  قاری،  محدث،  مفسر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل قرأت،  علم حدیث،  تفسیر قرآن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

نافع بن عبد الرحمن بن ابی نعیم مشہور قاری ہیں جو قراء سبعہ میں شامل ہیں

کنیت[ترمیم]

انکی کنیت ابو عبد الرحمن ليثی اور ابو رویم مدنی بھی ہے قرأت میں امام اہل المدینہ کہلاتے ہیں۔

قبیلہ[ترمیم]

یہ قبیلہ بنی لیث سے تھے۔ اور بعض نے قبیلہ جفویہ لکھا ہے۔ اصل میں اصفہانی تھے۔

نسب[ترمیم]

ان کے والد ابو نعیم اور ان کے دادا کا نام عبد الرحمن تھا۔ ان کے والد اور ان کے دادا نے ساتھ ساتھ ہی اسلام قبول کیا تھا، اس وقت یہ کمسن تھے۔۔ ان کے دادا کا اسلامی نام نعمان رکھا گیا تھا اور ابو نعیم کنیت۔ مگر کنیت ہی سے وہ زیادہ مشہور ہوئے۔ نافع کی نسبت کبھی باپ کی طرف کبھی دادا کی طرف کی جاتی ہے اس لیے نافع بن عبدالرحمن بھی کہے جاتے ہیں اور نافع بن ابی نعیم بھی۔

اساتذہ[ترمیم]

حدیثیں تو یہ متعدد تابعین سے روایت کرتے ہیں مگر قرأت میں یہ اصل شاگرد ہیں

ابو حمہ نے محمد بن یوسف الیمانی سے یہ روایت کیا کہ ابو قرۃ سے نافع بن عبد الرحمن نے کہا تھا کہ میں نے ستر تابعیوں کے سامنے قرآن پڑھا ہے

شاگرد[ترمیم]

ان کے شاگر بہت زیادہ ہیں جن میں

اہل مدینہ[ترمیم]

اسماعيل بن جعفر، عيسىٰ بن وردان، سليمان بن مسلم بن جماز، مالک بن انس وہم، اسحاق بن محمد، ابو بکر ابن ابو اویس، اسماعيل ابن ابو اويس، يعقوب بن جعفر، عبد الرحمن بن ابو الزناد، عيسىٰ بن مينا قالون، سعد بن ابراہیم ان کے بھائی يعقوب بن ابراہیم، محمد بن عمر الواقدی، الزبير بن عامر، خلف بن وضاح، ابو الذکر محمد بن يحيىٰ، ابو العجلان، ابو غسان محمد بن يحيىٰ بن علی، صفوان بن عبد اللہ بن ابراہيم بن وہب، محمد بن عبد اللہ بن ابراہيم بن وہب، یہ سب اہل مدینہ سے تھے۔

اہل مصر[ترمیم]

موسى بن طارق، ابو قرة اليمانی،عبد الملك بن قريب الأصمعی ،خالد بن مخلد القطوانی،ابو عمرو بن العلا، ابو الربيع الزہرانی، خارجہ بن مصعب الخراسانی، خلف بن نزال الاسلمی، وسقلاب بن شيبہ، عثمان بن سعيد (ورش)،عبد اللہ بن وہب، محمد بن عبد اللہ بن وہب، معلى بن دحیہ، الليث بن سعد، اشہب بن عبد العزيز، حميد بن سلامہ،

اہل شام[ترمیم]

عتبہ بن حماد الشامی،ابو مسہر الدمشقی، الوليد بن مسلم، عراك بن خالد، خويلد بن معدان،كردم المغربی، ابو الحارث، عبد اللہ بن ادريس الأودی، والغاز بن قيس الأندلسی، ابو بكر القورسی، محمد القورسی[1]

اکابراین کے ارشادات[ترمیم]

اِمام نافع بن عبد الرحمن المدنی کس درجے کے قاری ہیں۔ مختلف شخصیات کے الفاظ اس طرح ہیں

  • 1۔ امام مالک نے کہا: نافع إمام الناس في القراء ۃ ’’نافع قرأ ت میں لوگوں کے امام ہیں۔‘‘ [2]
  • 2۔ امام مالک فرماتے ہیں: نافع ثبت في القراء ۃ ’’نافع قرأ ت میں پختہ ہیں۔‘‘ [3]
  • 3۔ امام اصمعی نے کہا: کان نافع من القراء العباد الفقھاء الستۃ ’’نافع چھ فقہا، عبادت گزار قاریوں میں سے تھے۔‘‘ [4]
  • 4۔ امام یحییٰ بن معین نے کہا: ’ثقہ‘ [5]
  • 5۔ امام ابوحاتم نے ’صدوق‘ کہا ہے۔[6]
  • 6۔ امام ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔
  • 7۔ امام نسائی نے کہا: ’لیس بہ بأس‘ [5]
  • 8۔ ابن سعد نے کہا: ’کان ثبتاً‘ ثقہ تھے۔[7]
  • (9)۔ قالون نے کہا: ’’امام نافع لوگوں میں سے اخلاق کے لحاظ سے سب سے اچھے تھے۔ آپ زاہد اور بہت بڑے قاری تھے آپ نے مسجد نبوی میں ساٹھ سال نماز پڑھی۔‘‘ [8]
  • (10)۔ امام ابن سعدنے کہا: أدرکت أھل المدینۃ وہم یقولون قراء ۃ نافع سنۃ ’’میں نے مدینہ والوں کو پایا ہے وہ کہتے تھے کہ امام نافع﷫ کی قراء ت سنت ہے۔‘‘[9]
  • (11) امام شافعی نے کہا: من أراد سنۃ فلیقرأ لنافع’’جو شخص سنت کاارادہ رکھتا ہے وہ نافع کی قراء ت حاصل کرے۔‘‘ [10]
  • (112) امام احمد بن صالح المصری نے کہا: أصح القرائات عندنا قراء ۃ نافع بن أبي نعیم ’’ہمارے نزدیک سب سے بہترین قراء ت نافع کی ہے۔‘‘ [10]
  • (13) صالح بن احمد نے کہا کہ میں نے اپنے باپ امام احمد سے پوچھا کہ أي القراء ۃ أعحب إلیک؟ فقال قرائۃ نافع ’’کون سی قراء ت آپ کو زیادہ اچھی لگتی ہے انہوں نے کہا کہ نافع کی قراء ت۔‘‘ [11]
  • (14)امام نافع نے کہا کہ میں نے ستر تابعین سے قراء ت سیکھی ہے جس پر دو تابعی بھی جمع ہوتے اس کو میں نے لے لیا اور جس قراء ت میں کوئی مفرد ہو اس کو میں نے چھوڑدیا۔ یہاں تک کہ میں نے اسی قراء ات کو جمع کیا۔[12]
  • (15) امام نافع نے اپنی قراء ت پر مشتمل ایک کتاب لکھی تھی۔[13]
  • (16)امام اسحق بن محمد عیسیٰ کہتے ہیں کہ جب نافع کی وفات کا وقت آپہنچا توان سے ان کے بیٹوں نے کہا ہمیں وصیت کیجئے تو انہوں نے فرمایا ’’اللہ سے ڈرجاؤ، آپس میں معاملات درست کرلو، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم ایمان لانے والے ہو۔‘‘ [14]
  • (17) امام نافع اپنے شاگردوں سے حسن سلوک سے پیش آتے تھے، انہیں آداب سکھاتے تھے اور باوضو ہوکر کلاس میں بیٹھتے تھے۔[15]
  • (18) امام لیث نے کہا: نافع لوگوں کے امام تھے ان سے جھگڑا نہیں کیا جاتا تھا۔[16]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مقدمات فی علم القراءات،مؤلفین: محمد احمد مفلح القضاة، احمد خالد شكرى، محمد خالد منصور،ناشر: دار عمار - عمان (الاردن)
  2. معرفۃ الکبار للذہبی: 1؍89، سیر أعلام النبلا للذہبي:7؍337
  3. میزان الإعتدال للذہبي: 4؍24، لسان المیزان لابن حجر: 9؍226
  4. معرفۃ القراء الکبار للذہبي: 1؍244
  5. ^ ا ب تہذیب الکمال: 19؍23
  6. معرفۃ القراء الکبار: 1؍246
  7. تہذیب التہذیب: 110؍364
  8. صبح الأعشی للقلقشندي: 1؍216
  9. تہذیب التہذیب: 10؍363
  10. ^ ا ب أحسن الأخبار: 223
  11. جمال القراء: 2؍448، معرفۃ القراء: 1؍108
  12. نحایۃ الاختصار: 1؍19
  13. التذکرۃ لابن غلبون: 111، قراءت القراء: 62
  14. معرفۃ القراء:1؍11، غایۃ النھایۃ: 2؍333
  15. أحسن الاخبار: 228
  16. أحسن الأخبار: 229