عبد العزیز محدث دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد العزیز محدث دہلوی
معلومات شخصیت
پیدائش 20 ستمبر 1746  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات ہفتہ 7 شوال 1239ھ/ 5 جون 1824ء
(عمر: 80 سال 12 دن قمری، 77 سال 7 ماہ 25 دن شمسی)
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
والد شاہ ولی اللہ محدث دہلوی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر شاہ ولی اللہ
P islam.svg باب اسلام

شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (25 رمضان المبارک 1159ھ— 7 شوال 1239ھ / 20 ستمبر 1746ء— 5 جون 1823ء) جو سراج الہند کے لقب سے مشہور ہیں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کے فرزندِ اکبر تھے۔ ان کے جد محترم شاہ عبد الرحیم تھے۔ شاہ عبد العزیز کو علم کی وسعت کے ساتھ استحضار میں بھی کمال حاصل تھا۔

نام و نسب[ترمیم]

شاہ عبد العزیز محدث دہلوی 25 رمضان المبارک 1159ھ بمطابق 10اکتوبر 1746ء بروز جمعہ کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تاریخی نام غلام حلیم ہے جس کے اعداد 1159 ہیں۔ جس سے سنہ ولادت نکلتا ہے آپ کا سلسلہ نسب 34 واسطوں سے سیدنا عمر فاروق تک منتہی ہوتا ہے:[1]

درس و تدریس[ترمیم]

شاہ عبد العزیز صاحب جب سترہ سال کے ہوئے تو ان کے والد بزرگوار حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی وفات ہوئی۔ پچیس برس کی عمر ہی سے آپ متعدد موذی امراض میں مبتلا رہنے لگے تھے اور آخر عمر تک اس میں گرفتار رہے۔ اوائل عمر ہی میں کثرت امراض کے باوجود شاہ صاحب نے مدة العمر درس و تدریس کا بازار گرم رکھا اور اپنے والد کے جانشین مقرر ہوئے۔[2]

سلسلہ شیوخ[ترمیم]

وصال[ترمیم]

چنانچہ اسّی برس کی عمر میں 9/شوال 1239ھ /1823/ کو یک شنبہ کے روز وفات پائی۔ مختلف شعرا نے تاریخ وفات کہی، جن میں حکیم مومن خان دہلوی کے قطعہ تاریخ اس فن کی ایک نادر مثال ہے۔ دست بیداد اجل سے بے سر و پا ہو گئے فقر و دین، فضل و ہنر، لطف و کرم، علم و فضل[3]

تصنیف و تالیف[ترمیم]

شاہ عبد العزیز صاحب نے متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ امراض کی شدت اور آنکھوں کی بصارت زائل ہونے کے سبب بعض کتابوں کو آپ نے املا کرایا ہے۔[4] اہم تصانیف درج ذیل ہیں:

یہ فارسی زبان میں رد شیعیت میں بے مثال کتاب ہے، جس کو غیر معمولی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی اور اس کا عربی اور اردو میں ترجمہ بھی شائع ہو چکا ہے۔

فن حدیث کے متعلقات پر ایک اہم رسالہ ہے۔ یہ بھی فارسی میں ہے اور متداول ہے اور اس کا اردو ترجمہ مع تعلیقات و حواشی چھپ چکا ہے۔ http://www.elmedeen.com/author-583-حضرت-مولانا-شاہ-عبد-العزیز-محدث-دہلوی-رحمہ-اللہ

محدثین کے حالات کا ایک مجموعہ ہے۔ فارسی میں ہے متداول ہے۔ اس کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔

شاہ صاحب کے فتاویٰ کا مجموعہ اہل علم میں کافی مقبول اور متداول ہے اور اس کا بھی اردو ترجمہ ہو چکا ہے۔

یہ ان کی مشہور تفسیری تصنیف ہے، جس کی صرف چار جلدیں دو اول کی اور دو آخر کی ملتی ہیں۔ یہ بھی فارسی میں ہے۔ ان کے علاوہ بلاغت، کلام، منطق اور فلسفے کے موضوعات پر بھی شاہ صاحب نے متعدد رسالے اور حاشیے فارسی اور عربی زبان میں لکھے ہیں۔[5] یہ تفسیر نامکمل صورت میں پائی جاتی ہے۔ سورة فاتحہ اور سورة البقرہ کی ابتدائی ایک سورت چوراسی آیتوں کی تفسیر پہلی دو جلدوں میں اور آخر کے دو پاروں کی تفسیر علاحدہ علاحدہ جلدوں میں ہیں۔ یہ جلدیں متعدد بار شائع ہو چکی ہیں۔ تفسیر کے مقدمہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شاہ صاحب کے ایک شاگرد شیخ مصدق الدین عبد اللہ تھے، جن کی تحریک پر یہ تفسیر لکھی گئی اور ان ہی کو شاہ صاحب نے اس کا املا کرایا تھا اور یہ سلسلہ 1208ھ/1793/ میں مکمل ہوا۔[6]

یہ واقعہ کربلا پر فارسی تالیف ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دہلوی،محمد رحیم بخش، حیات ولی، مکتبہ سلفیہ، لاہور، ص587
  2. دہلوی،محمد بیگ ،مرزا،دیباچہ فتاویٰ عزیزیہ، مطبع مجتبائی دہلی1391ھ، ص4
  3. دہلوی،محمد بیگ ،مرزا،دیباچہ فتاویٰ عزیزیہ، مطبع مجتبائی دہلی1391ھ، ص10
  4. عبد الحئی،مولانا،نزہۃ الخواطر، ج7،ص273
  5. عبد الحئی،مولانا،نزہۃ الخواطر، ج7،ص273،274
  6. شاہ عبد العزیز، تفسیر فتح العزیز، مطبع حیدری، ج1، ص3،بمبئی،1294ھ۔