مرزا سلامت علی دبیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

پیدائش: 1803ء

وفات: 1875ء

اردو مرثیہ گو تھے۔ مرزا غلام حسین کے بیٹے تھے۔ دہلی میں پیدا ہوئے۔ سات سال کی عمر میں والد کے ہمراہلکھنو منتقل ہوگئے ۔ سولہ برس کی عمر میں علوم عربی و فارسی میں دستگاہ بہم پہنچائی۔ بچپن سے مرثیہ گوئی کا شوق تھا۔ مشہور مرثیہ گو مظفر حسین ضمیر کے شاگرد ہوئے۔ جب میر انیس فیض آباد سے لکھنؤ آئے تو دونوں میں دوستی ہوگئی۔ 1857ء تک لکھنؤ سے باہر نہ نکلے۔ البتہ 1858ء میں مرشد آباد اور 1859ء میں پٹنہ عظیم آباد گئے۔ 1874ء میں ضعف بصارت کی شکایت ہوئی۔نواب واجد علی شاہ کی خواہش پر بغرض علاقے کلکتہ تک گئے اور مٹیا برج میں مہمان ہوئے۔ بمقام لکھنؤ وفات پائی اور اپنے مکان میں دفن ہوئے۔ بہ کثرت مرثیے لکھے جو کئی جلدوں میں چھپ کر شائع ہوچکے ہیں۔ ایک پورا مرثیہ بے نقط لکھا ہے۔

دوصد سالہ جشن[ترمیم]

2003ء میں پوری دنیا میں ان کا دو صد سالہ جشن ولادت منایا گیا۔[1]

نمونۂ کلام[ترمیم]

"آمد" کا ایک بند

کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے

رن ایک طرف چرخ کہن کانپ رہا ہے

رستم کا بدن زیر کفن کانپ رہا ہے

ہر قصر سلاطین زمن کانپ رہا ہے

شمشیر بہ کف دیکھ‍ کے حیدر کے پسر کو

جبریل لرزتے ہیں سمیٹے ہوئے پر کو

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مرزا سلامت علی دبیر، حیات اور کارنامے، ڈاکٹر مرزا محمد زماں آزردہ ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزاتِ ترقی انسانی وسائل (حکومتِ ہند) ، 2005, ISBN 81-7587-076-1دہلی