سراج دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
او۔پی۔اگروال (سراج دہلوی)
پیدائش 25دسمبر 1954ء
کولکتہ، مغربی بنگال، انڈیا
رہائش نئی دہلی , صوبۂ دہلی
اسمائے دیگر سراج دہلوی
پیشہ ادب سے وابستگی،
وجہِ شہرت شاعری، مصنف
مذہب ہندو مت
اولاد 3
موقع جال
ویب سائٹ

سراج دہلوی : او۔ پی۔ اگروال۔ آپ کا قلمی نام سراج دہلوی ہے۔ آپ کے والد گوپی رام اگروال (مرحوم) اور والدہ محترمہ درگا دیوی اگروال (مرحومہ)

بچپن اور تعلیم[ترمیم]

کولکتہ (مغربی بنگال) میں بچپن گزرا۔ ابتدائی تعلیم یہیں پر ہوئی۔ اعلی تعلیم بی کوم اور ایل۔ ایل۔ بی۔ کولکتہ یونی ورسٹی سے کیا۔

پیشہ وارانہ سفر[ترمیم]

رشیہ۔ چیکوسلواکیہ۔ جرمنی۔ دوبیٔ اور دیگر ممالک

ادبی سفر[ترمیم]

سراج دہلوی، راجیوگانددھی کے ساتھ۔

آپ کو بچپن ہی سے ادب اور شاعری سے دلچسپی رہی، جس کی بنا پر آپ اردو، انگریزی اور ہندی ادب پر کام کیا۔ آپ کی کئی تصانیف ہیں۔ تقریباً بیس کتابوں کے مصنف اور شاعر ہیں۔ جس میں زیادہ تر اردو ادب اور شاعری کی ہیں۔ اس تعلق سے آپ ہندوستان کے تقریا تمام صوبوں کا سفر کرچکے ہیں۔ ادبی محفلوں میں شریک رہ چکے ہیں۔

اہم شخصیات سے رابطہ[ترمیم]

عزت مآب جناب پرنو مکھرجی(صدر جمہوریہ ہند) جناب وسیم بریلوی صاحب، منور رانا صاحب، پنذت گلزار دہلوی صاحب، تابشؔ مہدی صاحب،ڈاکڑاحمد علی برقیؔ اعظمی صاحب، ساگر تری پاٹھی صاحب، ڈاکڑ مناظر عاشق ہرگانوی صاحب، بیکل اتساہی صاحب، صلو چودھری صاحب،فراغ روہوی صاحب، خمار دہلوی صاحب

ادبی خدمات[ترمیم]

انجمن فروغ اردو اور انجمن معیار ادب کے علاوہ کیٔ ادبی تنظیمو سے مستقل وابستگی ترقی اور ترویج اردو۔ مشاعرے اور شعری نشستونکا اہتمام کرنا مشاعرے۔ اردو اکیڈمیوں کے علاوہ تمام ہندوستان میں ہونے والے مشاعرو ں میں مسلسل شرکت کا شرف حاصل سیمینار۔ جشن ریختہ اور دیگر ادبی سیمینار مین برابر شرکت رہتی رہی ہے

سماجی خدمات[ترمیم]

سراج دہلوی، عزت ماٰب پرنب مکھرجی کے ساتھ۔
  • ورندا ون کے ٹی۔ بی۔ ہسپتال میں 51 مریضوں کی لیے بیڈ، دوایٔیاں،کھانا اور مکمل دیکھ ریکھ، (1965 سے آج تک)
  • ضلع بھوانی (ہریانہ) میں سنسکرت کا ایک اسکول کے تمام ضروری اخراجات کا ذمہ۔

* 500؍ بزرگ، محتاج اور بے سہارا لوگوں کا مکمل خرچ (1982 سے آج تک)

تصانیف و تخلیقات[ترمیم]

سراج دہلوی ایوارڈ لیتے ہوئے۔

حمد، رباعیات، قطعات، ماہیٔے، دوہے،ہایٔکو، رومانی اور مختلف موضوعات پر مشتمل غزلیات و نظم کے 15 مجموعے اردو رسم الخط اور 4 دیو ناگری رسم الخط میں منظر عام پر آ چکے ہین جبکہ 8 مجموعے زیر طباعت ہیں ان کے علاوہ تقریبا 3000 ؍ انگریزی زبان (english poem) میں نظمیں زیر ترتیب ہیں۔

نمونہء کلام[ترمیم]

سراج دہلوی، گےانی زیل سنگھ کے ساتھ۔
طے سفر کر کے بھی چلنا اور ہے

بعد اس رستے کے رستہ اور ہے

سوچتا ہے اور ہی کچھ آ دمی

زندگانی کا معما اور ہے

اور ہی رکھتا ہے کچھ خواہش دماغ

دھڑکن دل کا تقا ضہ اور ہے

تشنگیء لب کو جس کی ہے تلاش

قبل اس دریا سے صحرا اور ہے

او ر ہی کہتا ہے کچھ اخبار کیوں

کیوں مگر بستی کا نقشہ اور ہے

اور ہیں اس چاند کی راعنایٔاں

آپ کے کانو ںکا بالا اور ہے

اور بھی فکریں مجھ کو اے سراج

وقت کا لیکن نظریہ اور ہے

آپ کے کلام پر تبصرہ۔ کیٔ رسایٔل ،اخبارات اور مبصر حضرات نے جو تبصرے کیے ہیں ان سب کی فوٹو کاپی ساتھ میں لگا رہا ہوں

اعزازات[ترمیم]

ازدواجی زندگی اور اولاد[ترمیم]

آپ کی تین اولاد ہیں۔ منیش کانت اگروال( بیٹا) رادھا ڈالمیہ اور سنگیتا جھن جھن والا (بیٹیاں)

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]