منور رانا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
منوّر رانا
منوّر رانا
منوّر رانا

معلومات شخصیت
پیدائش 26 نومبر 1952 (67 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
رائے بریلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر، مصنف
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Shahdaba) (2014)[1]
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ منور رانا

مُنوّر رانا (انگریزی: Munawwar Rana، ہندی मुनव्वर राना) : پیدائش 26 نومبر، 1952ء۔

بھارتی اردو ادب کی دنیا میں ایک معتبر اور مقبول نام منور رانا ہیں۔ انھوں نے اردو ہی نہیں بلکہ ہندی شاعری میں بھی اپنا نام روشن کیا ہے۔ اردو اور ہندی ادبی دنیا میں عالمی سطح پر مشہور منور رانا کی پیدائش اتر پردیش کے شہر رائے بریلی میں، سنہ 1952ء میں ہوئی۔ ان کے رشتہ دار مع دادی اور نانی، تقسیم ہندوستان کے وقت پاکستان ہجرت کر گئے۔ لیکن ان کے والد صاحب، بھارت سے اٹوٹ محبت کی وجہ سے بھارت ہی کو اپنا مسکن بنا لیا۔ بعد میں ان کا خاندان کولکتہ منتقل ہو گیا۔ یہیں پر منور رانا کی ابتدائی تعلیم ہوئی۔

منور رانا کی شاعری میں غزل گوئی ہی نے جگہ لی۔ ان کے کلام میں ‘ماں‘ پر لکھا کلام کافی شہرہ یافتہ ہے۔ ان کی غزلیں، ہندی، بنگلہ (بنگالی) اور گرومکھی زبانوں میں بھی ہیں۔

منور رانا نے اپنے کلام میں روایتی ہندی اور اودھی زبان کو بخوبی استعمال کیا ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں کافی شہرت اور مقام ملا۔[2][3]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

یہ رائے بریلی، اتر پردیش سے تعلق رکھتے ہیں، مگر عمر کا زیادہ حصہ کولکتہ میں گزارا۔

ادبی سفر[ترمیم]

منور رانا نے اپنی شاعری اردو، ہندی اور بنگالی زبانوں میں بھی شائع کی۔ اپنی غزل ‘ماں‘ ان تینوں زبانوں میں شا ئع ہوئی اور کافی شہرت پائی۔[4] ان کی غزلوں میں شوخی کم اور حقیقت پسندی زیادہ پائی جاتی ہے۔ کئی مشاعروں میں شامل ہوئے۔ ایک مرتبہ فروری 2006ء میں، بشیر بدر سے ایک محفل میں ان بن بھی پیش آئی تھی۔[5] انہوں نے بڑے بڑے ادارے جیسے ین آئی ٹی الہ آباد میں بھی اپنا کلام سنایا اور ان پر کلام تہنیت بھی لکھی۔ شعر:

یہ ایک قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
میں جب تک گھر نا لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے

تخلیقات[ترمیم]

  • نیم کے پھول (1993ء)
  • کہو ظل الہیٰ سے (2000ء)
  • بغیرنقشے کا مکان (2001ء)
  • سفید جنگلی کبوتر (2005ء)[6]

ایوارڈز و اعزازات[ترمیم]

  • ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ برائے اردو ادب 2014۔ [7] تاہم 2015 میں ایک راست ٹیلی ویژن گفتگو کے دوران انہوں نے ملک میں عدم رواداری اور دیگر انعام واپس کرنے والوں کے جذبے کے خلاف انعام اور انعامی واپس کردی۔ انہوں نے آگے کسی بھی سرکاری اعزاز لینے سے بھی انکار کر دیا۔[8] ان کے مطابق ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ ان کے لیے گھاٹے کا باعث تھا۔ جس وقت یہ انعام نہیں دیا جا رہا تھا اس وقت انہیں ایک مشاعرے میں شرکت کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپیے کی پیشکش کی گئی تھی۔ مگر انہوں نے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ لینے کا فیصلہ لیا جس میں انہیں صرف ایک لاکھ روپیے ملے۔[9]
  • وششٹھ ریتوراج سمان ایوارڈ - پرمپرا کویتا پرو 2012 ء
  • امیر خسرو ایوارڈ 2006ء
  • کویتا کا کبیر سمان اُپادھی 2006، اندور
  • میر تقی ایوارڈ 2005ء
  • شہود عالم افکوئی ایوارڈ، 2005ء، کولکتہ
  • غالب ایوارڈ 2005ء، ادئے پور
  • ڈاکٹر ذاکر حسین ایوارڈ 2005ء، نئی دہلی
  • سرسوتی سماج ایوارڈ 2004ء
  • مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی ایوارڈ 2011ء (مغربی بنگال اردو اکیڈمی)
  • سلیم جعفری ایوارڈ 1997ء
  • دلکش ایوارڈ 1995ء
  • رئیس امروہی ایوارڈ 1993ء، رائے بریلی
  • بھارتی پریشد ایوارڈ، الہ آباد
  • ہمایون کبیر ایوارڈ، کولکتہ
  • بزم سخن ایوارڈ، بھوساول
  • الہ آباد پریس کلب ایوارڈ، پریاگ
  • حضرت الماس شاہ ایوارڈ
  • سرسوتی سماج ایوارڈ
  • ادب ایوارڈ
  • میر ایوارڈ
  • مولانا ابوالحسن ندوی ایوارڈ
  • استاد بسم اللہ خان ایوارڈ
  • کبیر ایوارڈ

نجی زندی[ترمیم]

منور رانا خانہ آبادی کے بعد شہر لکھنؤ میں مقیم ہیں۔[10]

سوانح[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#URDU
  2. http://www.thenews.com.pk/article-123109-Dallas:-Urdu-Hindi-Mushaira-to-be-organized-on-Oct-25
  3. Some sprinkles of honey-dipped verses - NEW DELHI - The Hindu
  4. माँ / मुनव्वर राना - कविता कोश
  5. http://www.hindustantimes.com/News-Feed/NM6/Urdu-lovers-aghast-at-Badr-Manzar-sparring/Article1-61589.aspx
  6. کہو ظل الہیٰ سے، تیسرا اڈیشن 2005ء والی آسی اکادمی، دہلی
  7. "Trying to Say Goodbye author Adil Jussawalla wins Sahitya Akademi Award 2014"۔ Hindustan Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-12-25۔
  8. Urdu poet Munawwar Rana returns Sahitya Akademi award; two more hand over honour | India News
  9. Urdu poet offers to go on fast unto death | Lucknow News - Times of India
  10. Mushaira to make Oct 23 a ‘day of humanity’ | Ludhiana News - Times of India
  11. A chapter on fighting harassment | Lucknow News - Times of India

بیرونی روابط[ترمیم]