کوہ نور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
کوہِ نور کی پرانی تراش کی نقل
کوہِ نور کی نئی تراش کی نقل

کوہِ نور دنیا کا مشہور ترین ہیروں میں سے ایک ہے جو اس وقت تاج برطانیہ کی زینت ہے۔ کوہ نور کا مطلب ہے روشنی کا پہاڑ۔ ہیرے کا وزن 105 قیراط (21.6 گرام) ہے۔

تاریخ[ترمیم]

کوہ نور جنوبی بھارت کے علاقے گولکنڈہ سے ملا۔کئی راجے مہاراجے نسل در نسل اس ہیرے کے وارث بنے اسلامی تاریخ میں اس ہیرے کی موجودگی کا ذکر اس طرح سے ہے کہ ابراہیم لودھی کی والدہ “بوا بیگم “نے مغل شہزادے ہمایوں کو نذرانے میں دیا اوراس طرح یہ ہیرا دہلی کے مغل بادشاہوں کے پاس رہا۔ 1739ء میں نادر شاہ نے جب ہندوستان فتح کیا تو اسے اپنے ساتھ ایران لے گیا اور غالباً اسی نے اس ہیرے کا نام اس کی چمک دمک دیکھ کر کوہ نور رکھا۔احمد شاہ ابدالی نادر شاہ کا جرنیل تھا نادر شاہ کے قتل کے بعد افغانستان کا علاقہ احمدشاہ ابدالی کے قبضہ میں آگیا یہ ہیرابھی احمد شاہ ابدالی کے قبضہ میں رہا اس کی موت کے بعد اس کے بیٹے شاہ تیمور اور اس کے بعد احمدشاہ کے پوتے شاہ شجاع والیٔ قندھار کے پاس رہا جب اس کے مخالفین نے اسے تخت سے معزول کردیا تو وہ بھاگ کر ہندوستان آیا تو یہ ہیرا اس کے ساتھ تھا، یہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اسے پناہ دی اورکھوئی ہوئی حکومت کی بحالی کا وعدہ کیا اس دوران مہاراجہ کو کوہ نور ہیرے کے بارے علم ہوا۔رنجیت سنگھ نے یہ ہیرا شاہ شجاع سے طلب کیا مگر شاہ نے جواب دیا کہ اس ہیرے کو قرض کے عوض کابل کے تاجروں کے پاس بطور رہن رکھوا چکاہے اس پر مہاراجہ غضب ناک ہوگیا اس نے شاہ شجاع کے خاندان کواندرون لاہور مبارک حویلی میں سخت پہرے میں رکھا(گرمی کا موسم تھا مئی کے آخری ایام تھے) ان کا کھانا پینا بند کروادیابھوک پیاس سے معصوم بچوں کا رورو کر برا حال ہوگیا تین دن کی ناقابل برداشت ذلت اور سختیوں سے تنگ آکر شاہ شجاع نے ہیرا رنجیت سنگھ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا اورشرط عائد کی کہ وہ کوہ نور ہیرا خود مہاراجہ کے حوالے کرے گا ۔یہ سن کر مہاراجہ بہت خوش ہوا اس نے خودجاکر معزول بادشاہ سے ملاقات کی اور وہ ہیرا حاصل کر لیا۔رنجیت سنگھ نے پوچھا “ اس کی قیمت کیا ہوگی؟ شاہ شجاع نے جواب دیا “ طاقت “ جس کے ذریعے ہر بادشاہ نے اسے حاصل کیا میرے آباؤاجداد نے اسے حاصل کیا اور اب مجھ سے آپ طاقت کے ذریعے حاصل کررہے ہیں کل کوئی اور طاقت کے ذریعے آپ سے حاصل کرلے گا“۔یہ ہیرا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی خلعت کی زینت بنا رہا ۔1839ء میں مہاراجہ کا انتقال ہوگیا اس کے بعد خالصہ دربار سازشوں کا گڑھ بن گیا سکھ قوم آپس میں ٹکراتی رہی اور کمزور ہوتی گئی ۔1846ء میں سکھ انگریز جنگ میں سکھوں کو شکست ہوئی یہ ہیرا بھی برطانیہ کے قبضہ میں چلا گیا ۔ [1] سکھ حکمران مہاراجہ دلیپ سنگھ سے یہ ہیرا برطانیہ کے ہاتھ لگا اوریہ ہیرا سر لارنس گورنر پنجاب کے پاس موجود رہا اسے ایک حکم ملا کہ خفیہ طور پر یہ ہیرا لندن بھیجا جائے اس حکم کی فوراًتعمیل ہوئی ۔لندن میں اس ہیرے کو تراشنے کے بعد تاج برطانیہ کی زینت بنایاگیا ۔ اب تاج برطانیہ کی زینت ہے اس کی عظمت چمک دمک کی بناء پر اکثر چیزوں وغیرہ کا نام "کوہ نور" رکھ لیتے ہیں۔


حوالہ جات[ترمیم]