شاہ جہاں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(شاہجہاں سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مغل شہنشاہ
شاہجہانِ اعظم
شاہجہاں دِیوانِ عام میں عوام کے ساتھ – 1650ء
شاہجہاں دِیوانِ عام میں عوام کے ساتھ – 1650ء

مغل شہنشاہ
دور حکومت 30 جنوری 1628ء – 31 جولائی 1658ء
(30 سال 6 ماہ 1 دن)
تاج پوشی پیر 8 جمادی الثانی 1037ھ/ 14 فروری 1628ء
بمقام آگرہ
خطاب شاہی منصبدار 30,000
معلومات شخصیت
اصل نام اعلیٰ حضرت صاحب قرآنِ ثانی ابو المظفر شہاب الدین محمد خرم شاہجہاں اول
پیدائش 5 جنوری 1592ء
لاہور
وفات 22 جنوری 1666ء
آگرہ
مدفن تاج محل، آگرہ، سلطنت مغلیہ، مغل ہندوستان
مذہب اسلام
زوجہ اکبرآبادی محل (وفات 1677ء)
قندھاری محل (پیدائش 1594ء، شادی 1609ء)
ممتاز محل (پیدائش 1593ء، شادی 1612ء، وفات 1631ء)
حسینہ بیگم صاحبہ (شادی 1617ء)
موتی بیگم صاحبہ
قدسیہ بیگم صاحبہ
فتحپوری محل صاحبہ
سرہندی بیگم صاحبہ (وفات 1650ء کے بعد)
شریمتی منبھَوَتی بائیجی لال صاحبہ (شادی 1626ء)
اولاد دارا شکوہ،اورنگزیب عالمگیر،جہاں آرا بیگم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد جہانگیر
والدہ شہزادی مانمتی
خاندان تیموری سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
نسل
  1. پرھیز بانو بیگم،
  2. حور النساء بیگم،
  3. جہاں آرا بیگم ،
  4. داراشکوہ ،
  5. شاہ شجاع ،
  6. روشن آراء بیگم ،
  7. اورنگزیب ،
  8. احمد بخش ،
  9. ثریا بانو بیگم ،
  10. نامعلوم الاسم نومولود
  11. مراد بخش ،
  12. لطف اللہ ،
  13. دولت افضل
  14. حسن آراء بیگم ،
  15. گوہرہ بیگم
  16. جہاں افروز مرزا
خاندان مغل
دیگر معلومات
پیشہ بادشاہ[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

شاہجہاں برصغیر پاک و ہند میں پانچواں مغل شہنشاہ تھا۔ جہانگیر کی وفات کے بعد مختلف شہزادے دعویٰ شہنشاہی لے کر اُٹھے مگر شاہجہاں اپنی زور و صلاحیت کی بناء پر 1628ء میں تخت نشیں ہوا۔ وہ عظیم ماہر تعمیرات بھی تھا، اُس کے عہد کی تعمیرات کی نظیر ثانی نہیں ملتی۔ قریب 30 سال تخت نشیں رہے اور 1658ء میں اُنہیں معزول کردیا گیا اور مغلوں کا ایک اور عظیم شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر تخت نشیں ہوا۔

نام و القابات[ترمیم]

شاہجہاں کا اصل نام خرم ہے جبکہ کنیت ابو المظفرہے۔ لقب اعلیٰ حضرت صاحبِ قرآنِ ثانی ہے۔مورخین نے اِختصار سے کام لیتے ہوئے یہ نام تاریخ میں لکھا ہے: اعلیٰ حضرت صاحب قرآنِ ثانی ابو المظفر شہاب الدین محمد خرم شاہجہاں اول۔

مکمل نام مع القابات یوں ہے:

شاہنشاہ السلطان الاعظم والخاقان المکرم ملک السلطنت اعلیٰ حضرت ابو المظفر شہاب الدین محمد شاہجہاں اول صاحب قرآنِ ثانی پادشاہ غازی ظل اللہ فردوسِ آشیانی شہنشاہِ سلطنت الہِندیۃ والمُغلیۃ۔

شجرہ نسب[ترمیم]

شاہجہاں کے والد جہانگیر تھے، دادا اکبراعظم اور پردادا ہمایوں تھے جبکہ سکردادا بابر تھے۔

شاہجہاں کا شجرہ نسب یوں ہے:

شہاب الدین محمد شاہجہاں ابن نور الدین جہانگیر ابن جلال الدین محمد اکبر بادشاہ ابن نصیر الدین محمد ہمایوں بادشاہ ابن ظہیر الدین محمد بابر۔

والدین[ترمیم]

شاہجہاں کے والد مغل شہنشاہ جہانگیر تھے۔ شاہجہاں کی والدہ شہزادی مانمتی تھیں جو تاج بی بی بلقیس مکانی بیگم کے لقب سے مشہور تھیں۔ہندو مورخین نے شہزادی مانمتی کا نام جگت گوسائیں بھی لکھا ہے جس کی تائید اکثر مسلم مورخین نے بھی کی ہے۔

ولادت[ترمیم]

شاہجہاں کی ولادت بروز بدھ 30 ربیع الاول 1000ھ مطابق 15 جنوری 1592ء کو دارالسلطنت لاہور میں ہوئی۔ [3] شاہجہاں کی ولادت اُن کے دادا اکبر اعظم کی حکومت کے 36 ویں سال میں ہوئی۔ اُس وقت لاہور مغل سلطنت کا دارالسلطنت تھا اور مغل شہنشاہ اکبر اعظم 1586ء سے مع مغل شاہی خاندان کے یہیں مقیم تھا۔


1628ء کا نوروز[ترمیم]

1628ء میں شاہجہاں نے نوروز کا جشن بڑے تزک و اِحتشام کے ساتھ منایا۔ اِس تہوار کی تقدیس و احترام میں اضافہ کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ 4 شہزادے تخت کے چاروں اطراف کھڑے ہوئے اور شاہجہاں نے خاندان کو بیش بہا تحائف دئیے۔ اِن تحائف کی مالت لاکھوں روپوں میں تھی۔ آصف خان کے منصب کو بڑھا کر نو ہزار ذات سے نو ہزار سوار کردیا گیا۔ درباریوں کو بھی گراں قدر انعامات دئیے گئے۔


بطور شہنشاہِ ہند تخت سے معزولی[ترمیم]

اورنگ زیب نے جنگِ تخت نشینی کے دوران باقاعدہ اعلان جاری کیا تھا کہ اُس کی لڑائی صرف دارا شکوہ سے ہے اور باپ سے اُسے کوئی پرخاش نہیں۔ لیکن اورنگ زیب کی تخت نشینی سے لے کر 1666ء تک شاہجہاں قلعہ آگرہ میں قیام پزیر رہا۔

آخری ایام کے معمولات[ترمیم]

ملا صالح کمبوہ نے شہنشاہ شاہجہاں کے اُن اواخر ایام کا تذکرہ "عمل صالح میں کیا ہے جو شاہجہاں نے سنہ 1658ء سے 1666ء تک آگرہ کے قلعہ میں نظر بندی کی مدت میں گزارے۔

" شاہجہاں قلعہ آگرہ میں نظر بند تھے، اِس کے باوجود اُن کے فیض و کرم کا دروازہ کھلا رہا۔ ضرورت مند ہمیشہ اُن تک پہنچ کر اُن کے جود و اِحسان سے فیض یاب ہوئے۔ سید محمد قنوجی سال 32 جلوس کے آغاز سے ہی ہمیشہ شاہجہاں کی مجلسِ خاصہ میں حاضر رہتا، قرآن کریم کے نکتے اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرکے حاضرین کو مستفید کیا کرتا۔ اِس مدت میں شاہجہاں صبر و قناعت کے ساتھ قلعہ آگرہ میں گوشہ نشیں تھے۔ دِن رات کا زیادہ حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور فرض و سنت نمازیں ادا کرنے ، کلام اللہ کی تلاوت و کتابت میں بسر ہوتا۔ بزرگوں کے اقوال اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سنا کرتے تھے، فیض و بخشش اور سخاوت کا دروازہ کھلا رہتا تھا۔ [4]


تعمیرات[ترمیم]

سِکے[ترمیم]

1629ء میں شاہجہاں نے نئے سکے بنوائے۔ یہ سکے چاندی، سونا، کانسہ اور تانبے کے بنائے گئے تھے۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 2 اپریل 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. Mughal genealogy
  3. ملا صالح کمبوہ: عمل صالح (شاہجہاں نامہ)، ص 17۔
  4. ملا صالح کمبوہ : عمل صالح، ص 550/551 ۔
شاہ جہاں
پیدائش: 15 جنوری 1592 وفات: 22 جنوری 1666
شاہی القاب
پیشرو 
نورالدین جہانگیر
مغل شہنشاہ
1627–1658
جانشین 
اورنگزیب عالمگیر