حضرت بیگم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حضرت بیگم
معلومات شخصیت
پیدائش 4 نومبر 1741  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1774 (32–33 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات احمد شاہ ابدالی (5 اپریل 1757–16 اکتوبر 1772)  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد محمد شاہ  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ملکہ جہاں صاحبہ محل  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
ملکہ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
5 اپریل 1757  – 16 اکتوبر 1772 

حضرت بیگم (پیدائش: 4 نومبر 1741ء – وفات: 1774ء) مغل شاہزادی، درانی سلطنت کی ملکہ، احمد شاہ بدالی کی زوجہ اور مغل شہنشاہ محمد شاہ کی بیٹی تھی۔ وہ پہلی مغل شاہزادی تھی جس کا عقد درانی سلطنت کے کسی افغان حکمران سے ہوا۔

سوانح[ترمیم]

حضرت بیگم کے والد مغل شہنشاہ محمد شاہ
حضرت بیگم کی والدہ مغل ملکہ صاحبہ محل

ابتدائی حالات[ترمیم]

حضرت بیگم کی پیدائش لال قلعہ، دہلی میں 4 نومبر 1741ء کو ہوئی۔ اُن کے والد مغل شہنشاہ محمد شاہ اور والدہ مغل ملکہ صاحبہ محل تھیں۔[1]

مغل شہنشاہ عالمگیر ثانی سے عقدِ نکاح کا معاملہ[ترمیم]

مغل تاریخ میں حضرت بیگم کا ابتدائی حوالہ تقریباً فروری 1756ء کے دوران ملتا ہے جب وہ سولہ سال کی عمر میں تھی اور مغل شہنشاہ عالمگیر ثانی نے حضرت بیگم سے نکاح کے لئے خواہش کا اِظہار کیا اور اِس حصول کے لیے صاحبہ محل اور پادشاہ بیگم (جو کہ حضرت بیگم کی سوتیلی ماں اور سرپرست تھیں) پر دباؤ ڈالا گیا مگر یہ خواہش مکمل نہ ہوسکی کیونکہ شاہزادی نے ساٹھ سالہ مغل شہنشاہ سے نکاح کی بجائے موت کو ترجیح دی اور کہا کہ مغل شہنشاہ سے نکاح کی بجائے وہ خودکشی کو اپنی زندگی پر ترجیح دے گی۔ گو کہ یہ نکاح یا ازدواجی تعلق بہرصورت استوار نہ ہوسکا اور 1759ء میں شہنشاہ کو اُس کے وزیر عمادالملک نے ایک سازش سے قتل کروا دیا۔[2]

احمد شاہ ابدالی سے ازدواج[ترمیم]

اپریل 1757ء میں جب احمد شاہ ابدالی نے ہندوستان پر لشکرکشی کی تو اِس دوران وہ دہلی کے لال قلعہ میں مقیم ہوا۔ اِسی قیام کے دوران اُس نے حضرت بیگم سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا جبکہ اُس وقت حضرت بیگم کی عمر سولہ سال کے لگ بھگ تھی۔[3] اِس بار بھی حضرت بیگم کی سوتیلی ماں اور سرپرست پادشاہ بیگم کی ضد آڑے آئی کہ سولہ سال مغل شاہزادی کو کیسے پینتیس سالہ افغانی حکمران سے بیاہا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ ضد کام نہ کرسکی اور مغل دربار کو احمد شاہ ابدالی کی خواہش کے سامنے سر تسلیم خَم کرنا پڑا اور 5 اپریل 1757ء کو لال قلعہ (دہلی) میں یہ نکاح سرانجام پایا[4] اور یوں حضرت بیگم درانی سلطنت کی ملکہ بن گئیں۔ شادی کی رسومات و تقریبات کے بعد حضرت بیگم اپنے شوہر احمد شاہ ابدالی کے ہمراہ قندھار چلی گئیں جہاں وہ تادمِ مرگ مقیم رہیں۔قندھار رخصتی کے وقت پادشاہ بیگم، صاحبہ محل بیگم اور مغل حرم کی متعدد خواتین افغانی لشکر کے ہمراہ سفر حضرت بیگم کو رخصت کرنے گئیں۔[5]

وفات[ترمیم]

حضرت بیگم کا اِنتقال 32 یا 33 سال کی عمر میں درانی سلطنت کے دارالحکومت قندھار میں ہوا۔ بیگم کی میت دہلی لائی گئی جہاں اُنہیں دہلی میں اُن کے والد محمد شاہ کے مزار سے متصل احاطے میں دفن کیا گیا۔

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Sarkar, Jadunath (1999). Fall of the Mughal Empire (4th ed.). Hyderabad: Orient Longman. p. 268
  2. Aḥmad, ʻAzīz; Israel, Milton (1983). Islamic society and culture: essays in honour of Professor Aziz Ahmad. Manohar. p. 146.
  3. A Comprehensive History of India: 1712-1772. Orient Longmans. 1978.
  4. Sarkar, Sir Jadunath (1971). 1754-1771 (Panipat). 3d ed. 1966, 1971 printing. Orient Longman. p. 89
  5. Sarkar, Sir Jadunath (1971). 1754-1771 (Panipat). 3d ed. 1966, 1971 printing. Orient Longman. p. 89