اودھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اودھ
Awadh

अवध
تاریخی علاقہ
اودھ کا محل وقوع
اودھ کا محل وقوع
ملک بھارت اور نیپال
ریاستیں / صوبے اتر پردیش اور تھاروہٹ
ڈویژن لکھنؤ ڈویژن,
فیض آباد ڈویژن,
دیوی پتن ڈویژن,
کانپور ڈویژن,
الہ آباد ڈویژن
نیپال گنج ڈویژن
تلسی پور دانگ ڈویژن
زبانیں اودھی، اردو-ہندی، ہندی، نیپالی، تھارو، فارسی، اردو
نشست فیض آباد (قدیم)، لکھنؤ (نیا)
بلندی 100 میل (300 فٹ)

اودھ (Awadh) (ہندی: अवध، نیپالی: अबध، اردو: اودھ اس آڈیو کے متعلق تلفظ: ) ایک تاریخی علاقہ ہے جو موجودہ بھارت کی ریاست اتر پردیش میں واقع ہے۔ 1722ء میں ریاست اودھ کے دور میں اس کا دار الحکومت فیض آباد تھا اور اس کے پہلے نواب سعادت خاں برہان الملک تھے۔ فیض آباد کے بعد اس کا دار الحکومت لکھنؤ منتقل ہو گیا جو اتر پردیش کا موجودہ دار الحکومت بھی ہے۔ اس کے علاوہ اس کا انتظامی علاقہ نیپال گنج موجودہ نیپال کے صوبے تھاروہٹ کا دار الحکومت ہے۔



1857ء سے پہلے کی جس تہذیب کو ہم اودھ کی تہذیب کا نام دیتے ہیں وہ دراصل بیت السّلطنت لکھنؤ کی تہذیب تھی۔ لکھنؤ کے قریب ترین شہر بھی اپنے تہذیبی خدوخال کے اعتبار سے لکھنؤ سے مختلف تھے۔ شجاع الدولہ کے عہد تک اودھ کے حکمرانوں کا مستقر فیض آباد تھا اور لکھنؤ فراموشی کی دھند میں صاف نظر نہ آتا تھا لیکن شجاع الدولہ کے فرزند آصف الدولہ نے فیض آباد کو چھوڑ کر لکھنؤ کو دار الحکومت بنا لیا۔(1) اُس وقت سے لکھنؤ کی ترقی اور خوش حالی کا دور شروع ہوا۔ دہلی میں مغلیہ سلطنت تو دم توڑ رہی تھی اور اُس عظیم شہر کا مستقبل بہت تاریک اور پُر خطر نظر آ رہا تھا۔ لکھنؤ کو عروج کی طرف بڑھتے دیکھ کر دہلی اور دوسرے مقامات کے اہلِ کمال اور معزّزین نے لکھنؤ کا رخ کیا اور اس شہر کو مختلف حیثیتوں سے مالامال کیا۔

اسّی برس تک لکھنؤ کے چراغ کی لو تیز سے تیز تر ہوتی رہی۔ آخر واجد علی شاہ کے عہد میں انتزاعِ سلطنت (1856ء) کے بعد سے اس کی روشنی مدّہم پڑنے لگی۔ اربابِ کمال لکھنؤ چھوڑ کر دوسرے قدردانوں کی تلاش میں نکل گئے اور دیکھتے دیکھتے لکھنؤ پر زوال آ گیا۔

آصف الدولہ اور ان کے جانشین سعادت علی خاں کے زمانے تک اودھ مغل سلطنت کا ایک صوبہ تھا۔ یہاں کے حکمراں سلطنتِ مغلیہ کی طرف سے اس پر حکومت کرتے تھے اور مغل بادشاہ کے نائب کی حیثیت سے ان کا لقب "نواب وزیر" تھا۔ اصولاً انھیں مغل بادشاہ کی چشم و ابرو کے اشارے پر چلنا چاہیے تھا، لیکن اب یہ نیابت فقط برائے نام تھی۔ حقیقتاً اودھ کے حکمراں خود کو دہلی سے آئے ہوئے احکام اور ہدایات کا پابند نہیں سمجھتے تھے۔ اس صورتِ حال کے ذمے دار ایک حد تک ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز عہدے دار تھے جو نواب وزیر اور بادشاہِ دہلی کے درمیان حائل ہو گئے تھے اور پورے ہندوستان پر حکومت کرنے کا خاموش تہیہ کر چکے تھے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وہ نہایت منظم اور مکمل منصوبے بنا کر ان پر بڑی ہوشیاری کے ساتھ عمل کر رہے تھے اور بادشاہ اور نواب کے درمیان بڑھتی ہوئی بے تعلقی انھیں منصوبوں کا ایک جُز تھی۔

دہلی اب بھی ہندوستان کا دار السلطنت اور مغل بادشاہ اب بھی ہندوستان کا شہنشاہ تھا، لیکن اب اُس کی حیثیت شاہِ شطرنج سے زیادہ نہ تھی۔ دہلی کی مرکزیت ختم ہو چکی تھی اور مغلوں کی بادشاہت ختم ہو رہی تھی۔ اس تنزل کا سبب انگریزوں کے دخل در معقولات کے علاوہ یہ بھی تھا کہ خود مغل حکمران وہ خون کھو چکے تھے جو تیمورِ گاگان سے لے کر بابر اور بابر سے لے کر اورنگ زیب کی رگوں میں دوڑتا رہا تھا۔ مغلانِ اعظم کے جانشین بزم پر رزم کو قربان کر چکے تھے۔ ان کی فعالیت ختم ہو چکی تھی اور ان کی جنبشیں کٹھ پتلیوں کی طرح تھیں جن کی ڈوریاں انگریزوں، سیّدوں، مرہٹوں اور جاٹوں روہیلوں، سبھی کے ہاتھوں میں آتی رہتی تھیں اور ان کے بازیگروں میں اپنے فن کے سب سے زیادہ ماہر انگریز تھے جو دھیرے دھیرے پورے ملک کی سیاست پر چھاتے جا رہے تھے۔

آصف الدولہ کے عہد تک اودھ پر بھی انگریزوں کی نظریں پڑنے لگی تھیں۔ اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری تھا کہ وہ نواب وزیر کو اپنے قابو میں لائیں۔ یہ مقصد تین طریقوں سے حاصل ہو سکتا تھا: نواب کو اپنا ممنون کر کے ، محتاج بنا کر یا اپنے سے مرعوب کر کے۔ انھوں نے پہلی صورت کو مصلحتِ وقت سمجھ کر آصف الدولہ کو ان کی ماں بہو بیگم صاحبہ کی کثیر دولت دلوا دی۔ آصف الدولہ انگریزوں کے ممنونِ احسان ہوئے اور اخلاقاً ان سے دوستی نبھانے اور مختلف طریقوں سے ان کی مدد کرنے پر مجبور ہو گئے۔

آصف الدولہ کے بعد سعادت علی خاں پر بھی یہی حربہ کامیابی کے ساتھ آزمایا گیا۔ آصف الدولہ کی وفات کے بعد اُن کے بیٹے وزیر علی نے مسندِ نیابت پر بیٹھنے کا قصد کیا۔ لیکن انگریزوں نے اُن کو ہٹا کر(2) شجاع الدولہ کے بیٹے سعادت علی خاں کو مسند نشیں کیا۔ یوں سعادت علی خاں کا اقتدار بھی انگریزوں کی بدولت قرار پایا اور خود ایک جوہرِ قابل ہونے کے باوجود انھیں انگریزوں کی مرضی کا پابند ہونا پڑا۔

سعادت علی خاں کے بیٹے غازی الدین حیدر نے نیابت ملنے کے بعد 1818ء میں "ابوالمظفر، معزالدین، شاہِ زمن، غازی الدین حیدر، بادشاہ غازی" کا خطاب اختیار کر کے اپنی بادشاہت کا اعلان کر دیا۔ اب اودھ صوبے سے ملک بن گیا اور مغلیہ سلطنت سے اس کا برائے نام تعلّق بھی ختم ہو گیا۔ اِس انقلاب کے پسِ پردہ بھی انگریزوں کی حکمت عملی تھی اور یہ اقدام انھیں کے تعاون سے کامیاب ہوا تھا۔ اس کے بعد سے اودھ کا ہر بادشاہ شاہِ شطرنج تھا۔ ملک اودھ میں انگریزوں کی حیثیت شریکِ غالب کی ہو گئی اور اب سیاسی اور ملکی معاملات کا کیا ذکر، بڑی حد تک اپنے نجی معاملات میں بھی اودھ کا بادشاہ ان کی دخل اندازیاں روکنے پر قادر نہ رہا۔

انگریزوں کی ریشہ دوانیوں سے قطع نظر، اودھ کے نظامِ سلطنت میں خود بھی کمزوریاں تھیں۔ وقتاً فوقتاً ایسے عمّال بر سرِ اقتدار آ جاتے تھے جو اپنے عہدے کے اہل نہیں ہوتے تھے اور محض سفارشوں اور تعلقات کے بل پر منصب حاصل کر کے نظم و نسق کو زیر و زبر کرتے رہتے تھے۔

سلطنتِ اودھ انگریزوں کے ہاتھ میں ایک کھلونے کی طرح آ گئی۔ انھیں اس پر قابض ہوتے وقت معمولی مزاحمت کا سامنا بھی نہ کرنا پڑا۔ البتہ اس کے دوسرے سال 1857ء میں جب ملک کے دوسرے حصوں میں جنگ اور انقلاب کے شعلے بھڑک اٹھے تو لکھنؤ بھی ان کی لپیٹ میں آ کر ایک بڑے محاذِ جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ بیلی گارد (ریذیڈنسی)، عالم باغ اور سکندر باغ وغیرہ کے معرکوں میں مقامی سپاہیوں نے شجاعت اور جاں بازی کے کارنامے دکھائے اور دشمن تک سے داد وصول کی۔ لیکن انگریزوں کی منظّم فوجوں اور لاجواب حربی لیاقت کے آگے اور کبھی اپنے ہی غدّار ساتھیوں کی بدولت، جیت نہ سکے۔ اس طرح آزادی کی یہ پہلی جدوجہد پورے ہندوستان کی طرح لکھنؤ میں بھی ناکامی پر ختم ہوئی۔


آصف الدولہ نے فیض آباد کی بجائے لکھنؤ کو اپنی سلطنت کا مستقر بنایا اور اچانک لکھنؤ شمالی ہند کا مرکزِ نظر بن گیا۔ آصف الدولہ کی دل آویز شخصیت، بے اندازہ فیّاضی، علم دوستی اور اہلِ ہنر کی قدردانی نے بہت جلد لکھنؤ کو مرجعِ خلائق بنا دیا۔ جس وقت دہلی کی سلطنت کا چراغ بجھ رہا تھا، لکھنؤ کے چراغ کی لو اونچی ہو رہی تھی۔ تاریخ اور ادبیات کے واقف خوب جانتے ہیں کہ اُس زمانے میں دہلی کے کتنے با کمالوں نے لکھنؤ کو آ بسایا۔ گردشِ زمانہ نے دہلی کے چراغ کا بچاکھچا روغن لکھنؤ کے کنول میں انڈیل دیا اور دہلی ہی نہیں، ہندوستان بھر سے قدردانی اور معاش کے طلبگاروں نے کھنچ کھنچ کر لکھنؤ آنا شروع کر دیا۔ یوں لکھنؤ کی تہذیب کی تشکیل ہوئی۔ اس تشکیل کی رفتار نہایت تیز تھی اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ لکھنؤ کی تہذیب تقریباً یک لخت معرضِ وجود میں آ گئی۔ اس کے پسِ پشت صدیوں اور قرنوں کے تجربات و حوادث کارفرما نہیں تھے۔ چند سال کے اندر اس تہذیب نے اپنی ارتقائی منزلیں طے کر لیں اور پھر بہت تیزی کے ساتھ ثقافت اور معاشرت کے لحاظ سے ایک واضح اور منفرد شکل اختیار کر کے اپنے عروج کی انتہائی منزل تک پہنچ گئی۔ یہ ارتقائی منزلیں آصف الدولہ اور سعادت علی خاں کے دورِ نیابت میں طے ہوئیں، غازی الدین حیدر (1813ء تا 1827ء) اور نصیرالدین حیدر (1827ء تا 1837ء) کے دورِ بادشاہت تک لکھنؤ کی تہذیب اپنی آخری بلندیوں کو چھونے لگی تھی۔ اس عہد کا ایک خاکہ ہمارے سامنے مرزا رجب علی بیگ سرور نے "فسانۂ عجائب" کے دیباچے میں پیش کر دیا ہے جس کی تصدیق سرور کے ایک دہلوی ہم عصر کے بیان سے بھی ہوتی ہے۔