عمان (شہر)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


عمان
Amman
عَمّان
شہر
عمان شہر, دائیں سے بائیں سے اور اوپر سے نیچے: عبدلی منصوبہ عمان کی اسکائی لائن پر غالب، معبد ہرقل جبل القلعہ پر، شاہ عبداللہ اول مسجد اور رغدان علم چوب، عبدون پل، اموی محل، عثمانی حجاز ریلوے اسٹیشن اور رومی تھیٹر۔
عمان شہر, دائیں سے بائیں سے اور اوپر سے نیچے: عبدلی منصوبہ عمان کی اسکائی لائن پر غالب، معبد ہرقل جبل القلعہ پر، شاہ عبداللہ اول مسجد اور رغدان علم چوب، عبدون پل، اموی محل، عثمانی حجاز ریلوے اسٹیشن اور رومی تھیٹر۔
عمان
مہر
خريطة مدينة عمان.png
عمان is located in اردن
عمان
عمان
عمان is located in عرب دنیا
عمان
عمان
عمان is located in ایشیا
عمان
عمان
متناسقات: 31°56′59″N 35°55′58″E / 31.94972°N 35.93278°E / 31.94972; 35.93278متناسقات: 31°56′59″N 35°55′58″E / 31.94972°N 35.93278°E / 31.94972; 35.93278
ملک Flag of Jordan.svg اردن
محافظات اردن محافظہ عمان
قیام 7250 ق م
بلدیہ 1909
حکومت
 • میئر يوسف الشواربہ[1][2]
رقبہ
 • کل 1,680 کلو میٹر2 (650 مربع میل)
بلند ترین  پیمائش 1,100 میل (3,600 فٹ)
پست ترین  پیمائش 700 میل (2,300 فٹ)
آبادی (2016)
 • کل 4,007,526
 • کثافت 2,380/کلو میٹر2 (6,200/مربع میل)
نام آبادی عمانی
منطقۂ وقت مشرقی یورپی وقت (UTC+2)
 • گرما (گرمائی وقت) مشرقی یورپی گرما وقت (UTC+3)
ڈاک رمز 11110-17198
ٹیلی فون کوڈ +962(6)
ویب سائٹ Greater Amman Municipality

عمان (عربی: عمان) اردن کا دار الحکومت اور اس کا سب سے بڑا شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ملک کا اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی مرکز بھی ہے۔[5] شمال وسطی اردن میں واقع عمان شہر محافظہ عمان کا انتظامی مرکز ہے۔ شہر کی آبادی 4،007،526 اور رقبہ 1،680 مربع کلو میٹر (648.7 مربع میل) ہے۔ [6] آج عمان کو جدید ترین عرب شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ [7] یہ خطے میں خاص طور پر عرب اور یورپی سیاحوں کے لیے ایک اہم سیاحتی مقام ہے۔ [8]

عمان میں آبادی کے ابتدائی شواہد نئے سنگی دور کے مقام عین غزال سے ملے ہیں جہاں سے قدیم ترین انسانی ڈانچے جو 7250 ق م کے ہیں دریافت کیے گئے ہیں۔ آہنی دور میں شہر کو عمون کہا جاتا تھا جو مملکت عمون کا دار الحکومت تھا۔ رومی دور میں اس کا نام فلاڈیلفیا تھا اور آخر کار اسلامی دور اسے عمان کا نام دیا گیا۔ قرون وسطی اور بعد قرون وسطی یہ ایک متروک شہر تھا۔ جدید عمان کی تاریخ انیسویں صدی میں ادیگی تارکین وطن کو سلطنت عثمانیہ کی طرف سے وہاں 1867ء میں آباد سے شروع ہوتی ہے۔ پہلی بلدیاتی کونسل کا قیام 1909ء میں عمل میں آیا۔ [9] 1921ء میں اردن کا دار الحکومت بننے کے بعد عمان نے تیزی سے ترقی کی۔ شہر نے کئی پناہ گزینوں کی کئی مسلسل لہروں کو بھی سہارا دیا جس میں 1948ء اور 1967ء میں فلسطین سے، 1990ء اور 2003ء میں عراق سے اور 2011ء کے بعد سے سوریہ شامل ہیں۔ ابتدا میں یہ شہر سات پہاڑیوں پر بسا تھا تاہم اب یہ 19 ہپاڑیوں پر پھیل چکا ہے اور اس کے 27 اضلاع ہیں [9] جو بلدیہ عمان کبری کے زیر انتظام ہیں جب کہ یہاں موجودہ میئر يوسف الشواربہ ہیں۔ [10] عمان کے علاقوں کے نام پہاڑیوں اور وادیوں کے نام پر ہیں جہاں وہ واقع ہیں مثلاً وادی عبدون میں واقع عبدون محلہ۔ [9] مشرقی عمان بنیادی طور پر تاریخی مقامات سے بھرا ہوا ہے جو اکثر ثقافتی سرگرمیوں کی میزبانی کرتا ہے، جبکہ مغربی عمان زیادہ جدید ہے اور شہر کا اقتصادی مرکز ہے۔ [11]

تقریباً دو ملین زائرین 2014ء میں عمان میں پہنچے، جو اسے دنیا کا 93 واں اور عرب دنيا کا پانچواں سب سے زیادہ دورہ کیا جانے والا شہر بناتا ہے۔ [12] عمان کی معیشت ایک نسبتا تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت ہے [13] اور عالمی شہر اشاریہ میں اسے بیٹا شہر کا درجہ دیا گیا ہے۔ [14] اس کے علاوہ اسے اقتصادی، مزدور، ماحولیاتی، سماجی اور ثقافتی عوامل کے مطابق مشرق وسطی اور شمالی افریقا کے بہترین شہروں میں سے ایک کا درجہ حاصل ہے۔ [15] شہر عرب دنیا میں کثیر ملکی کارپوریشنوں کے قیام کے لیے دوحہ کے ساتھ مقبول ترین مقامات میں سے ہے اور اس معاملے میں یہ صرف دبئی سے پیچھے ہے۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگلے 10 سالوں میں یہ تین شہر علاقے کثیر ملکی کارپوریشنوں کی زیادہ تر سرگرمیوں کا مرکز بن جائیں گے۔ [16]

اشتقاقیات[ترمیم]

عمان کا نام تیرہویں صدی ق م کے عمون نام "رابث عمون" سے ہے، جس میں رابث کے معنی "دار الحکومت" یا "مقام شاہ" کے ہیں۔ وقت کے ساتھ رابث نام سے ہٹ گیا اور صرف "عمون" رہ گیا۔ شہر پر قبضہ کرنے والی نئی تہذیبوں نے اس کا نام متعدد بار تبدیل کیا اور آخر کار مسلم دور میں اس کو "عمان" سے بدل دیا گیا۔ [17] تنک میں "رباط عمون" لکھا گیا ہے (توراتی عبرانی: רבת עמון, طبری تلفظ صوتی Rabbaṯ ʿAmmôn)۔ تاہم سلطنت بطلیموس کے مقدونی حکمران بطلیموس دوم نے جس کا دور حکومت 283 تا 246 ق م تھا شہر پر قبضہ کرنے کے بعد اس کا نام تبدیل کر کے "فلاڈیلفیا" (قدیم یونانی: Φιλαδέλφεια; لفظی معنی: "برادرانہ محبت") رکھ دیا۔ یہ نام بطلیموس دوم کی عرفیت "فلاڈیلفس" (Philadelphus) کی مناسبت سے دیا گیا تھا۔ [18]

تاریخ[ترمیم]

قدیم دور[ترمیم]

اردن عجائب گھر میں عین غزال مجسمے. 7250 ق م کے یہ مجسمے دنیا کی قدیم تریم مجسمے تصور کیے جاتے ہیں۔[19]

عمان کے نواح میں نئے سنگی دور کا علاقہ عین غزال دریافت ہوا ہے۔ تقریباً 7000 ق م میں اپنے عروج پر اس کا رقبہ 15 ہیکٹر (37 ایکڑ) تھا اور یہاں 3000 افراد آباد تھے جو کہ معاصر شہر اریحا کی آبادی سے چار سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ اس وقت یہ قبل ظروف سنگی دور کا ایک گاؤں تھا۔ اس کے گھر مستطیل شکل میں مٹی کی اینٹوں سے بنی عمارتیں تھیں جن میں ایک چوکور مرکزی دیوان خانہ ہوتا تھا، جس کی دیواروں پر چونے کا پلستر پوتا تھا۔ [20] یہ جگہ 1974ء میں دریافت ہوئی جب تعمیراتی کارکن اس علاقے سے گزرنے والی سڑک پر کام کر رہے تھے۔ 1982ء میں جب یہاں کھدائی شروع ہوئی اس وقت یہاں تقریباً 600 میٹر (2،000 فٹ) طویل سڑک بن چکی تھی۔ شہری توسیع کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے باوجود عین غزال کی باقیات معلومات کا ایک خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ [21]

عین غزال 1983ء میں دریافت ہونے والے انسانی مجسموں کی وجہ سے بہت مشہور ہے جنہیں مقامی آثار قدیمہ کے ماہرین نے 2.5 میٹر (8.2 فٹ) کی ایک بڑی گڑھے کے کنارے پر سے نکالا تھا۔ [22] یہ انسانی مجسمے سفید پلستر سے بنائے گئے ہیں جن کے رنگین کپڑے، بال، اور بعض صورتوں میں سجاوٹی ٹیٹو بھی ہیں۔ دو دفینوں میں بتیس مجسمے ملے ہیں، ان میں سے پندرہ مکمل مجسمے، پندرہ بالائی جسم اور دو انشقاقی سر ہیں۔ تین بالائی جسم کے مجسمے دو سر والے تھے جن کی اہمیت واضح نہیں ہے۔ [21]

رجم الملفوف مملکت عمون دور کا ایک دیدبان جو تقریباً 1000 ق م میں تعمیر کیا گیا

تیرہویں صدی ق م میں عمان مملکت عمون کا دار الحکومت تھا جسے رابث عمون کہا جاتا ہے۔ عمون علاقے کو کئی قدرتی وسائل فراہم کرتا تھا جس میں ریتلا پتھر اور چونا پتھر قابل ذکر ہیں اس کے علاوہ پیداواری زرعی شعبے کے ساتھ یہ شاہراہ شاہ پر ایک اہم مقام تھا جو کہ قدیم مصر سے بین النہرین، سوریہ اور اناطولیہ کی ایک اہم تجارتی شاہراہ تھے۔ ادوم اور موآب کو تجارتی قافلوں سے عمونی ایک خاصہ محصول حاصل کرتے تھے۔ [23] عمون ایک قدیم دیوتا مولوخ کی عبادت کرتے تھے۔ عمان شہری ہوائی اڈے کے نزدیک کھدائی میں ایک مندر دریافت ہوا ہے جس کی قربان گاہ سے بہت سے انسانی ہڈی والے ٹکڑے ملے ہیں۔ ہڈیوں سے جلائے جانے کے ثبوت ملے ہیں جس نے یہ تصور کیا جاتا ہے کہ قربان گاہ پر مردوں کو جلایا جاتا تھا۔ [24]

موجودہ عمان میں عمون دور کے کئی کھنڈر موجود ہیں جیسے کہ قصر العبد، رجم الملفوف اور قلعہ عمان۔ رجم الملفوف مملکت عمون دور کا ایک دیدبان ہے جو تقریباً 1000 ق م میں دار الحکومت کی حفاظت کے لیے تعمیر کیا گیا۔ [25][26] بعد میں یہ شہر اشوری سلطنت اور ہخامنشی سلطنت کے زیر نگیں بھی رہا۔

کلاسیکی دور[ترمیم]

رومی تھیٹر (عمان) تقریباً 100 عیسوی میں تعمیر کیا گیا

سکندر اعظم کی مشرق وسطی اور وسط ایشیا کی فتح سے علاقے پر یوناتی تہذیب کا گہرا اثر پڑا۔ [27] یونانیوں نے جدید اردن کے علاقے میں نئے شہر آباد کیے جن میں ام قیس، جرش اور عمان شامل ہیں۔ بطلیموس دوم کو کہ مصر کا مقدونی حکمران تھا شہر کو از سر نو تعمیر کروایا اور اس کا نام فلاڈیلفیا (قدیم یونانی: Φιλαδέλφεια) رکھا جس کے لفظی معنی یونانی زبان میں "برادرانہ محبت" کے ہیں۔ یہ نام بطلیموس دوم کی عرفیت "فلاڈیلفس" (Philadelphus) کی مناسبت سے دیا گیا تھا۔ [28]

اردن کی سب سے زیادہ اہم اور غالباً مشرق قریب میں یونانی دور اہم ترین یادگاروں میں سے ایک وادی السیر میں عراق الامير گاؤں ہے جو کہ عمان کے جنوب مغرب میں واقع ہے جہاں قصر العبد موجود ہے۔



اسلامی دور[ترمیم]

مزید دیکھیے: صحرائی قلعے
اموی محل جبل القلعہ پر تقریباً 800ء میں تعمیر کیا گیا۔
عمان میں عثمانی دور کا حجاز ریلوے کا پل 1910ء میں تعمیر کیا گیا


جدید دور[ترمیم]

جغرافیہ[ترمیم]

آب و ہوا[ترمیم]

آب ہوا معلومات برائے عمان
مہینا جنوری فروری مارچ اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر نومبر دسمبر سال
بلند ترین °س (°ف) 23.0
(73.4)
27.3
(81.1)
32.6
(90.7)
37.0
(98.6)
38.7
(101.7)
40.6
(105.1)
43.4
(110.1)
43.2
(109.8)
40.0
(104)
37.6
(99.7)
31.0
(87.8)
27.5
(81.5)
43.4
(110.1)
اوسط بلند °س (°ف) 12.7
(54.9)
13.9
(57)
17.6
(63.7)
23.3
(73.9)
27.9
(82.2)
30.9
(87.6)
32.5
(90.5)
32.7
(90.9)
30.8
(87.4)
26.8
(80.2)
20.1
(68.2)
14.6
(58.3)
23.7
(74.66)
یومیہ اوسط °س (°ف) 8.5
(47.3)
9.4
(48.9)
12.4
(54.3)
17.1
(62.8)
21.4
(70.5)
24.6
(76.3)
26.5
(79.7)
26.6
(79.9)
24.6
(76.3)
21.0
(69.8)
15.0
(59)
10.2
(50.4)
18.11
(64.6)
اوسط کم °س (°ف) 4.2
(39.6)
4.8
(40.6)
7.2
(45)
10.9
(51.6)
14.8
(58.6)
18.3
(64.9)
20.5
(68.9)
20.4
(68.7)
18.3
(64.9)
15.1
(59.2)
9.8
(49.6)
5.8
(42.4)
12.5
(54.5)
ریکارڈ کم °س (°ف) −4.5
(23.9)
−4.4
(24.1)
−3.0
(26.6)
−3.0
(26.6)
3.9
(39)
8.9
(48)
11.0
(51.8)
11.0
(51.8)
10.0
(50)
5.0
(41)
0.0
(32)
−2.6
(27.3)
−4.5
(23.9)
اوسط عمل ترسیب مم (انچ) 60.6
(2.386)
62.8
(2.472)
34.1
(1.343)
7.1
(0.28)
3.2
(0.126)
0.0
(0)
0.0
(0)
0.0
(0)
0.1
(0.004)
7.1
(0.28)
23.7
(0.933)
46.3
(1.823)
245.0
(9.646)
اوسط عمل ترسیب ایام 11.0 10.9 8.0 4.0 1.6 0.1 0.0 0.0 0.1 2.3 5.3 8.4 51.7
ماہانہ اوسط دھوپ ساعات 179.8 182.0 226.3 266.6 328.6 369.0 387.5 365.8 312.0 275.9 225.0 179.8 3,289.7
ماخذ#1: Jordan Meteorological Department[29]
ماخذ #2: NOAA (sun 1961–1990),[30] Pogoda.ru.net (records)[31]

مقامی حکومت[ترمیم]

بلدیہ عمان کبری یا امانہ عمان کبری اردن کی ایک بلدیہ (امانہ) ہے جو اردن کے دار الحکومت عمان کے میٹروپولیٹن علاقہ پر مشتمل ہے۔ محافظہ عمان کی زیادہ تر آبادی یہیں مرکوز ہے۔ [32] بلدیہ عمان کبری کا رقبہ 700 مربع کیلومیٹر ہے اور اس کی مجموعی آبادی 4 ملین افراد پر مشتمل ہے اور 733 میٹر سطح سمندر سے بلندی پر واقع ہے۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

Districts of Amman Numbered.png
شمار ضلع رقبہ (کلومیٹر2) آبادی (2015) شمار ضلع رقبہ (کلومیٹر2) آبادی (2015)
1 المدینہ 3.1 34,988 15 بدر الجدیدہ 19 17,891
2 بسمان 13.4 373,981 16 صویلح 20 151,016
3 مارکا 23 148,100 17 تلاع العلی 19.8 251,000
4 النصر 28.4 258,829 18 الجبیہہ 25.9 197,160
5 الیرموک 5.5 180,773 19 شفا بدران 45 72,315
6 راس العین 0.68 138,024 20 ابو نصیر 50 72,489
7 بدر 0.01 229,308 21 احد 250 40,000
8 زہران 13.8 107,529 22 الجیزہ 558 95,045
9 العبدلی 15 165,333 23 سحاب 12 169,434
10 طارق 25 175,194 24 الموقر 250 47,753
11 قویسمہ 45.9 296,763 25 حسبان الجدیدہ 55 31,141
12 خریبہ السوق 0.5 186,158 26 ناعور 87 78,992
13 المقابلین 23 99,738 27 مرج الحمام 53 82,788
14 وادی السیر 80 241,830

عمان کے میئر[ترمیم]

سربراہان بلدیہ عمّان
(1909-1950)

  • إسماعیل بابوق (1909-1911).
  • أحمد الخطیب (الأردن) (1911-1915).
  • أسعد حمدوخ (1915-1919).
  • أیوب فخری فاخر (1919-1920).
  • سعید خیر (1920-1925).
  • یوسف عصفور (1925-1931).
  • طاہر الجقہ (1931-1933).
  • علاء الدین طوقان (1933-1937).
  • سامح حجازی (1937-1938).
  • علاء الدین طوقان (1933-1937).
  • سعید المفتی (1938-1939).
  • هاشم خیر (1939-1942).
  • عمر حکمت جانخوت (1942-1942).
  • صبحی کحالہ (1942-1943).
  • عمر زکی الافیونی (1943-1944).
  • رأفت الدجانی (1944-1945).
  • کمال الجیوسی (1945-1945).
  • سامح حجازی (1945-1948).
  • عبد المجید العدوان (1948-1948).
  • هزاع المجالی (1948-1950).

میئر دار الحکومت
(1953-1986)

  • عبد الرحمن خلیفہ 1951-1952
  • فرحان شبیلات (1953-1955).
  • عمر مطر (1955-1957).
  • ضیف اللّه محمود (1957-1960).
  • حسنی سیدو الکردی (1960-1962).
  • بشیر الشریقی (1962-1964).
  • أحمد فوزی (1964-1973).
  • محمد طوقان (1973-1976).
  • معن أبو نوار (1976-1979).
  • عصام العجلونی (1980-1982).
  • عبد الرؤوف الروابدہ (1983-1986).

میئر بلدیہ عمان کبری
(1986-تاحال)

  • عبد الرؤوف الروابدہ (1987-1989).
  • علی السحیمات (1989-1991).
  • محمد بشیر إسماعیل الشیشانی (1991-1993).
  • ممدوح العبادی (1993-1998).
  • نضال الحدید (1998-2006).
  • عمر المعانی (2006-2011).
  • عمار غرایبہ (رئیس لجنہ) (2011).
  • عبد الحلیم الکیلانی (رئیس لجنہ) (2012).
  • عقل بلتاجی (2013 - 2017).
  • معالی الدکتور یوسف الشواربہ (أمین عمان) (2017).

معیشت[ترمیم]

بینکنگ سیکٹر[ترمیم]

سیاحت[ترمیم]

کاروبار[ترمیم]

آبادیات[ترمیم]

عمان کی تاریخی آبادی
سالتاریخی آبادی±%
7250 ق م 3,000—    
1879 500−83.3%
1906 5,000+900.0%
1930 10,000+100.0%
1940 20,000+100.0%
1952 108,000+440.0%
1979 848,587+685.7%
1999 1,864,500+119.7%
2004 2,315,600+24.2%
2010 2,842,629+22.8%
2015 4,007,526+41.0%
In 1947 following independence, several inhabitants in areas all across اردن had moved in into the newly established capital
ماخذ: [33][34][35]
عرب غیر ملکی رہائشیوں کے بڑے گروہ[36]
قومیت آبادی (2015)
Flag of Syria.svg سوریہ 435,578
Flag of Egypt.svg مصر 390,631
Flag of Palestine.svg فلسطین 308,091
Flag of Iraq.svg عراق 121,893
Flag of Yemen.svg یمن 27,109
Flag of Libya.svg لیبیا 21,649
Other 147,742


مذہب[ترمیم]

شہر کا منظر[ترمیم]

جبل القلعہ سے عمان شہر کا نظارہ

فن تعمیر[ترمیم]

فلک بوس عمارات اور ٹاور[ترمیم]

ثقافت[ترمیم]

عجائب گھر[ترمیم]

طرز زندگی[ترمیم]

پکوان[ترمیم]

کھیل[ترمیم]

میڈیا اور موسیقی[ترمیم]

تقریبات[ترمیم]

نقل و حمل[ترمیم]

ہوائی اڈے[ترمیم]

ملکہ علیا بین الاقوامی ہوائی اڈا اردن کا سب سے بڑا بین الاقوامی ہوائی اڈا ہے جو دار الحکومت عمان سے 30 کلو میٹر (20 میل) جنوب میں واقع ہے۔ یہ عمان کا مرکزی ہوائی اڈا ہے۔ اس کے علاوہ عمان میں ایک نسبتاً چھوٹا ہوائی اڈا بھی موجود ہے جو کہ بلدیہ عمان کبری میں عمان شہر سے 5 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ یہ عام طور پر اندرون ملک پروازوں، قریبی بین الاقوامی پروازوں اور فوج کے استعمال میں ہے۔


سڑکیں[ترمیم]


بس اور ٹیکسی[ترمیم]

بس ریپڈ ٹرانزٹ[ترمیم]

تعلیم[ترمیم]

رسمی تعطیلات[ترمیم]

شمار مناسبت تاریخ ایام تعطیل
1 آغاز گریگوری تقویم 1 جنوری ایک دن (1)
2 آغاز ہجری تقویم 1 محرم ایک دن (1)
3 عید میلاد النبی 12 ربیع الاول ایک دن (1)
4 عید الفطر 1 شوال تین دن (3)
5 عید الاضحی 9 ذوالحجہ چار دن (4)
6 کرسمس 25 دسمبر ایک دن (1) مسلمانوں کے لیے دو دن مسیحیوں کے لیے (2)
7 ایسٹر بمطابق تقویم دو دن (2) صرف مسیحیوں کے لیے
8 کھجور کا اتوار بمطابق تقویم ایک دن (1) صرف مسیحیوں کے لیے
9 عالمی یوم مزدور 1 مئی ایک دن (1)
10 یوم آزادی 25 مئی ایک دن (1)

جڑواں شہر[ترمیم]

عمان کے جڑواں شہر مندرجہ ذیل ہیں:[37][38]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "New Amman mayor pledges 'fair and responsible' governance"۔ jodantimes.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-10-23۔
  2. "New Member: Yousef Al-Shawarbeh – Amman, Jordan"۔ globalparliamentofmayors.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 دسمبر 2018۔
  3. Trent Holden, Anna Metcalfe۔ The Cities Book: A Journey Through the Best Cities in the World۔ Lonely Planet Publications۔ صفحہ 36۔ آئی ایس بی این 978-1-74179-887-6۔
  4. "Amman's Street Food"۔ BeAmman.com۔ BeAmman.com۔ مورخہ 2015-09-26 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-26۔
  5. "Revealed: the 20 cities UAE residents visit most"۔ Arabian Business Publishing Ltd۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-21۔
  6. "Population stands at around 9.5 million, including 2.9 million guests"۔ The Jordan Times۔ The Jordan News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-01-22۔
  7. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Rt.com نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  8. "Number of tourists dropped by 14% in 2013 — official report"۔ The Jordan Times۔ The Jordan News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-21۔
  9. ^ ا ب پ Michael Dumper؛ Bruce E. Stanley۔ Cities of the Middle East and North Africa: A Historical Encyclopedia۔ ABC-CLIO۔ صفحہ 35۔ آئی ایس بی این 978-1-57607-919-5۔
  10. "Aqel Biltaji appointed as Amman mayor"۔ The Jordan Times۔ The Jordan News۔ مورخہ 2015-09-30 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-21۔
  11. "West Amman furnished apartments cashing in on tour"۔ The Jordan Times۔ The Jordan News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-21۔
  12. "Top 100 International Tourist Destination Cities by Country" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Euromonitor۔ Euromonitor/۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-10-05۔
  13. "How a Startup from the Arab World Grabs 1B Views on YouTube"۔ Forbes۔ Forbes۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-29۔
  14. "The World According to GaWC 2012"۔ GaWC۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-21۔
  15. IANS/WAM۔ "Abu Dhab duke City' in MENA region"۔ sify news۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-22۔
  16. "Dunia Frontier Consultants » Doha, Amman Favored by MNCs as New Regional Hubs"۔ Duniafrontier.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-11-28۔
  17. "About GAM => History"۔ Greater Amman Municipality۔ مورخہ 2015-10-02 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-22۔
  18. "MISDAR"۔ mansaf.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-22۔
  19. "Lime Plaster statues"۔ British Museum۔ Trustees of the British Museum۔ مورخہ 2015-09-12 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-06-01۔
  20. "Prehistoric Settlements of the Middle East"۔ bhavika1990۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-22۔
  21. ^ ا ب Fred S. Kleiner؛ Christin J. Mamiya۔ Gardner's Art Through the Ages: The Western Perspective: Volume 1۔ Belmont, California: Wadsworth Publishing۔ صفحات 11–2۔ آئی ایس بی این 0-495-00479-0۔
  22. Chris Scarre (ویکی نویس.)۔ The Human Past۔ Thames & Hudson۔ صفحہ 222۔
  23. "The Old Testament Kingdoms of Jordan"۔ kinghussein.gov.jo۔ kinghussein.gov.jo۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-10-10۔
  24. "Temple of Human Sacrifice: Amman Jordan"۔ Randy McCracken۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-22۔
  25. "Rujm al-Malfouf"۔ Livius.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-22۔
  26. "Rujom Al Malfouf (Al Malfouf heap of stones / Tower)"۔ Greater Amman Municipality۔ مورخہ 2015-09-23 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-22۔
  27. "The Hellenistic Period"۔ kinghussein.gov.jo۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-22۔
  28. "MISDAR"۔ mansaf.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-22۔
  29. "Climate and Agricultural Information – Amman"۔ Jordan Meteorological Department۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 نومبر 2016۔
  30. "Amman Airport Climate Normals 1961–1990"۔ National Oceanic and Atmospheric Administration۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2015۔
  31. "Pogoda.ru.net (Weather and Climate-The Climate of Amman)" (Russian زبان میں)۔ Weather and Climate۔ اخذ شدہ بتاریخ 18 ستمبر 2015۔
  32. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین۔ "Greater Amman Municipality"۔
  33. "Amman"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-21۔
  34. "ABOUT AMMAN JORDAN"۔ downtown.jo۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-23۔
  35. "About GAM => History"۔ Greater Amman Municipality۔ مورخہ 2015-10-02 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-23۔
  36. "٩.٥ ملايين عدد السكان في الأردن"۔ Ammon News۔ Ammon News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-01-22۔
  37. "Twin City Agreements"۔ GAM۔ Greater Amman Municipality۔ مورخہ 2015-10-01 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-09-30۔
  38. "Amman's Relations with Other Cities"۔ Ammancity.gov.jo۔ مورخہ 2005-03-07 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-12-31۔
  39. "Sister Cities"۔ Beijing Municipal Government۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-06-23۔
  40. "International تعلقات - São Paulo City Hall - Official Sister Cities"۔ Prefeitura.sp.gov.br۔ مورخہ 2010-05-21 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-07-04۔
  41. Chicago Commission on Human تعلقات۔ 2010 Annual Report (PDF)۔ صفحہ 22۔
  42. "Sarajevo Official Web Site: Sister cities"۔ Sarajevo.ba۔ مورخہ 12 اپریل 2009 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-05-06۔
  43. "Mostar Gradovi prijatelji"۔ Grad Mostar [Mostar Official City Website] (Macedonian زبان میں)۔ مورخہ 2013-10-30 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-12-19۔
  44. "Mayor Newsom Signs New Sister City Agreements with City of Amman، اردن" (Press release)۔ San Francisco Office of the Mayor۔ مورخہ 28 نومبر 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 ستمبر 2012۔
  45. "Partner cities"۔ Yerevan Municipal Government۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-04-18۔

بیرونی روابط[ترمیم]

Wikivoyage-Logo-v3-icon.svg Amman سفری راہنما منجانب ویکی سفر

کتابیات[ترمیم]