عمان کا پیغام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عمان کا پیغام مسلم دنیا میں رواداری، تسامح اور اتحاد کا ایک اعلان ہے جو 9 نومبر، 2004ء (27 رمضان المبارک 1425 ہجری) کو اردن کے شاہ عبد اللہ بن الحسین دوم کی طرف سے شائع کیا گیا۔[1] بعد ازاں مسلمان کی تعریف، تکفیر اور فتویٰ کی اشاعت کے اصولوں کو مرکوز کرتے ہوئے 50 سے زائد مسلم ممالک کے 200 علما (دانشوران) کی جانب سے ایک تین نکاتی فیصلہ شائع کیا گیا۔[2]

اندرجات[ترمیم]

عمان کا پیغام اردن، عمان میں قاضی القضا شیخ عزالدین التمیمی نے شاہ عبد اللہ دوم اند بہت سے مسلمان علما کی موجودگی میں رمضان کے خطاب کے طور پردیا۔[3] بین الاقوامی بحران کی جماعت (انگریزی: International Crisis Group) کی ایک شائع کردہ رپورٹ کے مطابق خطاب میں دردمندی، برداشت، قبولیت اور مذہبی آزادی کی بنیادی اسلامی اقدار پر دوبارہ زور دیا گیا۔"[1] اگلے سال، جولائی 2005 میں 50 مسلم ممالک کے 200 مسلمان علما کے ایک اجلاس کے بعد تین نکاتی فیصلہ شائع کیا گیا جو بعد میں ‘عمان کے پیغام کے تین نکات‘ ('Three Points of the Amman Message') کے نام سے جانا گیا۔[2] اس اعلان میں اس بات پر توجہ دلائی گئی کہ:[4]

  1. اسلام میں آٹھ قانونی مذاہب اور متغیر شاخیں تسلیم کی گئی ہیں جس کی تفصیل یہ ہے:[5]
    1. سنی حنفی
    2. سنی مالکی
    3. سنی شافعی
    4. سنی حنبلی
    5. سنی ظاہری
    6. شیعہ جعفری (بشمول اسماعیلی)
    7. شیعہ زیدی
    8. اباضیہ
    • درج ذیل مذاہب/طریق/عقائد کے مقلدین کو مرتد قرار دینے سے منع کیا گیا:[5]
    1. اشعری مذہب
    2. حقیقی تصوف کے طریقے (صوفی ازم)
    3. حقیقی “سلفی تحریک“ عقائد کے حاملین
  2. اُن دوسرے تمام فرقوں کی تکفیر کی ممانعت کی گئی ہے جو مسلمان مانے جاتے ہیں۔
  3. خلاف شرع فتاویٰ کی روک تھام کے لیے یہ بنیادی شرائط رکھی گئی ہیں۔

شاہ عبد اللہ نے اس پیغام کے اعلان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، “ہم نے محسوس کیا ہے کہ اسلام کے برداشت سے متعلق پیغام کو اسلام کی روح سے ناواقف مغربی دنیا کے کچھ لوگوں اور غیر ذمہ دارانہ اعمال کو چھپانے کے لیے اپنا تعلق اسلام سے ظاہر کرنے والے کچھ لوگوں کی طرف سے شدید اور غیر منصفانہ تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔“[6]

مشاورتیں اور اعلانات[ترمیم]

مشاورتیں اور اعلانات درج ذیل ہیں:[7]

  • بین الاقوامی تنظیم تعاون اسلامی حقیقی اسلام اور اس کا جدید معاشرہ میں کردار، (4 تا 6 جولائی 2005ء/ 27 تا 29 جمادی الثانی 1426 ہجری)
  • مسلم علما و مفکرین کا جرگہ (مکہ: 5 تا 7 شعبان المعظم 1426 ہجری/ 9 تا 11 ستمبر 2005)
  • اسلامی فقہ اور جدید چیلنجز سے متعلق پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس (البیت یونیورسٹی، 13 تا 15 شوال 1426 ہجری/ 15 تا 17 نومبر 2005ء)
  • تنظیم تعاون اسلامی کا تیسرا خصوصی اجلاس (5 تا 6 ذوالقعدہ 1426 ہجری/ 7 تا 8 دسمبر 2005ء)
  • معتدل اسلامی افکار و تہذیب سے متعلق تنظیم تعاون اسلامی کا دوسرا اجلاس (25 تا 27 ربیع الاول 1427 ہجری/ 24 تا 26 اپریل 2006ء)
  • بین الاقوامی اسلامی فقہ کی اکادمی کا اجلاس، ساتواں اجلاس، (عمان، 28 جمادی الاول تا 2 جمادی الثانی 1427 ہجری/ 24 تا 28 جون 2006ء)
  • یورپ کے مسلمانوں کی کانفرنس (استنبول، 1 تا 2 جولائی 2006ء)
  • مذہبی امور اور اسلامی معاملات کے وزراء کے لیے کونسل کا نواں اجلاس (کویت، 20 تا 21 شوال 1426 ہجری/ 22 تا 23 نومبر 2005ء)
  • عمان کا پیغام دوسروں کی نظر میں: مباحثہ، اعتدال، انسانیت، (الجامعة الهاشمية، 20 تا 21 ستمبر، 2006)

علما کے فتاویٰ[ترمیم]

ویب سائیٹ کی فہرست کے مطابق ذیل میں اُن افراد اور تنظیموں کی فہرست دی جا رہی ہے جنہوں نے عمان کے پیغام سے متعلق فتویٰ دیا ہے:[8]

نمبر شمار نام خطاب ملک فرقہ فقہ فتویٰ ویب سائیٹ تصویر
1 محمد سید طنطاوی امام اکبر جامعہ الازہر Flag of مصر مصر اہل سنت شافعی فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ -
2 علی جمعہ مفتی اعظم، مصر Flag of مصر مصر اہل سنت شافعی فتویٰ [1] Ali Gomaa.JPG
3 علي بارداق اوغلو صدر، مجلسِ عظمیٰ برائے مذہبی معاملات, ترکی Flag of ترکی ترکی اہل سنت حنفی فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ Ali Bardakoğlu 2009.jpg
4 احمد كفتارو مفتی اعظم،شام Flag of سوریہ شام اہل سنت شافعی فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ -
5 سید عبدالحافظ الحجاوی مفتی اعظم، اردن Flag of اردن اردن اہل سنت شافعی فتویٰ - -
6 - مجلس برائے فقہ اسلامی, جدہ Flag of سعودی عرب سعودی عرب اہل سنت - فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ -
7 يوسف القرضاوي ناظم کونسل برائے سنت و سیرت Flag of قطر قطر اہل سنت حنفی فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ Qardawi.JPG
8 عبد الله بن بيه نائب صدر، بین الاقوامی اتحاد علماء المسلمین Flag of سعودی عرب سعودی عرب اہل سنت فقہ مالکی فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ BinBayyah.jpg
9 محمد تقی عثمانی نائب صدر، مجلس برائے فقہ اسلامی Flag of پاکستان پاکستان اہل سنت حنفی فتویٰ - Shaikul Islam Mufti Taqi Usmani Sahib.jpg
10 عبد الله الهرري بانی الاحباش Flag of لبنان لبنان اہل سنت شافعی فتویٰ -
11 آیت‌اللہ علی خامنہ‌ای مرجع, راہبر اعظم، ایران Flag of ایران ایران اہل تشیع جعفری فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ
12 سید علی حسینی سیستانی مرجع Flag of عراق عراق اہل تشیع جعفری فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ
13 سید محمدسعید حکیم مرجع Flag of عراق عراق اہل تشیع جعفری فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ -
14 محمد اسحاق الفیاض مرجع Flag of عراق عراق اہل تشیع جعفری فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ -
15 آیت‌اللہ بشیر حسین نجفی مرجع Flag of عراق عراق اہل تشیع جعفری فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ
16 حسن اسماعیل الصدر مرجع Flag of عراق عراق اہل تشیع جعفری فتویٰ - -
17 محمد فاضل لنکرانی مرجع Flag of ایران ایران اہل تشیع جعفری فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ
18 محمد علی تسخیری مرجع
جنرل سیکرٹری، فورم برائے قربتَ فقہ اسلامی
Flag of ایران ایران اہل تشیع جعفری فتویٰ - -
19 محمد حسین فضل اللہ مرجع Flag of لبنان لبنان اہل تشیع جعفری فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ Sayed Mohammad Hussein Fadlallah.jpg
20 - امام الخوئی خیراتی فاؤنڈیشن، برطانیہ Flag of مملکت متحدہ برطانیہ اہل تشیع جعفری فتویٰ سرکاری ویب سائیٹ
21 محمد بن محمد اسماعیل المنصور
اور
حمود بن عباس المؤید
شیخ - اہل تشیع زیدیہ فتویٰ -
22 ابراہیم بن محمد الوزیر جنرل سیکریٹری،تحریک اتحاد اسلامی، یمن Flag of یمن یمن اہل تشیع زیدیہ فتویٰ -
23 احمد بن محمد الخلیلی مفتی، سلطنت عمان Flag of سلطنت عمان سلطنت عمان اباضیہ - فتویٰ -
24 آغا خان چہارم آغا خان چہارم, امام، اہل تشیع امام (اثناء عشریہ) اسماعیلی مسلمان - اہل تشیع اسماعیلی فتویٰ -

خیر مقدم[ترمیم]

برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اپنی تقریر میں علما کے اجتماع اور عمان کے پیغام کے خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا: “یہ بہت واضح پیغام تھا کہ اسلام یک سنگی نہیں بلکہ بہت سے متنوع انداز کا مذہب ہے، اگرچہ وہ سب ایک ہی چشمہ سے جاری ہیں۔“[2]
سہیل ناخدا نے عمان کے رسالہ اسلامیکا میں لکھتے ہوئے کہا کہ عمان کا پیغام حالیہ مسائل کو پراثر انداز میں مخاطب کرنے کی ایک مختصر کاوش ہے۔ “اگر پانی نہیں، تو رستہ بھی نہیں؛ معیشت تباہ حال ہے اور بہت سے نوجوان بے روزگار ہیں۔ لوگوں کی زندگیاں اور تصورات غیر متغیر رہتے ہیں۔“ ناخدا نے ایک یہ اعتراض بھی اُٹھایا ہے کہ شاہ عبد اللہ کے پیغام میں اُنکے طرز زندگی کا اثر نظر آتا ہے، جو اپنی جگہ متنازع ہے۔[1]
اسوقت کے جامعہ الازہر کے بڑے شیخ، جناب شیخ محمد سعید طنطاوی نے اسے اُن لوگوں اور اُنکی روحانی اور مذہبی زندگیوں کے لیے ایک اچھا سرمایہ قرار دیا جو اپنے اعمال اور گفتار میں صراطَ مستقیم پر چلنا چاہتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ "Jordan's 9/11: Dealing With Jihadi Islamism", Crisis Group Middle East Report N°47, 23 November 2005
  2. ^ ا ب پ "SPEECH BY THE PRIME MINISTER THE RT HON TONY BLAIR MP" (04/06/07), British Embassy in Bahrain
  3. "Jordan issues the 'Amman Message' on Islam"۔ Embassy of Jordan - Washington, DC۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-08-15۔
  4. The Amman Message summary - Official website
  5. ^ ا ب The Three Points of The Amman Message V.1
  6. "King Abdullah calls to end extremism"۔ Jerusalem Post۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-08-15۔
  7. Conference Declarations @ ammanmessage.com
  8. http://ammanmessage.com/index.php?option=com_content&task=view&id=82&Itemid=60 FATWAS OF THE 'ULAMA