ٹونی بلیئر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
دی رائٹ اونر ایبل  ویکی ڈیٹا پر (P511) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ٹونی بلیئر
(انگریزی میں: Tony Blair ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Tony Blair 2010 (cropped).jpg
 

مناصب
رکنِ 49ویں برطانوی پارلیمنٹ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
9 جون 1983  – 18 مئی 1987 
منتخب در مملکت متحدہ عام انتخابات 1983ء 
رکنِ 50ویں برطانوی پارلیمنٹ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
11 جون 1987  – 16 مارچ 1992 
منتخب در مملکت متحدہ عام انتخابات 1987ء 
رکنِ 51ویں برطانوی پارلیمنٹ   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
9 اپریل 1992  – 8 اپریل 1997 
منتخب در مملکت متحدہ عام انتخابات 1992ء 
ممبر آف دی پرائیوی کونسل آف دی یونائٹڈ اسٹیٹس[1]   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
1994 
قائد حزب اختلاف   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
21 جولا‎ئی 1994  – 2 مئی 1997 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
جان میجر  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
سربراہ لیبر پارٹی[2][3]   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
21 جولا‎ئی 1994  – 24 جون 2007 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
گورڈن براؤن  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکنِ 52ویں برطانوی پارلیمنٹ[4]   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
1 مئی 1997  – 14 مئی 2001 
منتخب در مملکت متحدہ عام انتخابات 1997ء 
فرسٹ لارڈ آف دی ٹریسزری   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
2 مئی 1997  – 27 جون 2007 
وزیر اعظمِ مملکت متحدہ[5] (73 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
2 مئی 1997  – 27 جون 2007 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png جان میجر 
گورڈن براؤن  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
رکنِ 53ویں برطانوی پارلیمنٹ[4]   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن مدت
7 جون 2001  – 11 اپریل 2005 
منتخب در مملکت متحدہ عام انتخابات 2001ء 
پارلیمانی مدت 53ویں برطانوی پارلیمنٹ 
رکنِ 54ویں برطانوی پارلیمنٹ[4]   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن مدت
5 مئی 2005  – 27 جون 2007 
منتخب در مملکت متحدہ عام انتخابات 2005ء 
پارلیمانی مدت 54ویں برطانوی پارلیمنٹ 
معلومات شخصیت
پیدائش 6 مئی 1953 (70 سال)[6][7][8][9][10][11][12]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ایڈنبرگ[13][14]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United Kingdom (3-5).svg مملکت متحدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قد
جماعت لیبر پارٹی  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ شیری بلیئر (29 مارچ 1980–)[15]  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد لیو بلیئر[16][17][18]  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
ولیم بلیئر[19]،  سارہ بلیئر[20]  ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی سینٹ جان کالج، اوکسفرڈ (–1976)
سٹی لا کالج
سینٹ پیٹرز بوائز اسکول  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تخصص تعلیم اُصول قانون  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد بی اے  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان[21]،  سفارت کار،  آپ بیتی نگار،  وکیل  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[22]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت ییل یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جرم انسانیت کے خلاف جرمفی: نومبر 2011)  ویکی ڈیٹا پر (P1399) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
Presidential Medal of Freedom (ribbon).svg صدارتی تمغا آزادی  (2009)[1]
USA Philadelphia Liberty Medal ribbon.svg فلاڈلفیا لبرٹی میڈل
کانگریشنل گولڈ میڈل  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ،  باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سابق برطانوی وزیر اعظم۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

انتھونی چارلس لِنٹن بلیئر اڈنبرا میں ہیزل اور لِیو بلیئر کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ اپنے والدین کے دوسرے بیٹے تھے۔ انہوں نے اپنے ابتدائی چند سال آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں گزارے جہاں ان کے والد ایک یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کا خاندان پچاس کی دہائی کے آخر برطانیہ واپس آ گیا اور ٹونی بلیئر نے اپنے بچپن کے باقی سال ڈرہم میں گزارہ جہاں وہ کورِسٹراسکول میں زیر تعلیم تھے۔

بلیر اپنےاسکول کے ساتھیوں کے ساتھ

بورڈنگاسکول میں بلیئر کے اساتذہ انہیں ایک شرارتی اور باغی لڑکے کے طور پر جانتے تھے۔ اپنےاسکول کے دنوں میں بلیئر ایک باصلاحیت اداکار کے طور پر جانے جاتے تھے جو ہمیشہ سب کی توجہ کا مرکز بننا پسند کرتے تھے۔

بلیئر کے ہاؤس ماسٹر ایرک اینڈرسن کے مطابق وہ زندگی سے بھر پور اور رولز کو ٹسٹ کرنے کے ماہر تھے۔ سترہ سال کی عمر میں انہیںاسکول رولز کی مسلسل خلاف ورزی پراسکول سے خارج کرنے کی دھمکی دی گئی۔ بلیئر تین اے لیولز کے ساتھ فیلٹس سے فارغ التحصیل ہوئے اور انہوں نے سینٹ جانز کالج آکسفرڈ میں قانون کے شعبے میں داخلہ لیا۔

راک میوزک[ترمیم]

انیس سو ساٹھ کے عشرے کے اواخر میں ٹونی بلیئر تمام نوجوانوں کی طرح راک میوزک کے دالدادہ تھے۔ وہ مِک جیگر کے بہت بڑے فین تھے اور خیالوں کی دنیا میں وہ خِود کو میوزک مینیجر یا پروموٹر کے روپ میں کامیابیاں حاصل کرتا دیکھتے تھے۔ آکسفرڈ میں تعلیم شروع کرنے سے پہلے انہوں نے آزادی کا ایک سال لندن میں گزارہ جہاں وہ سٹوڈنٹس کے ایک راک بینڈ کے مینیجر رہے۔ آکسفرڈ میں وہ قلیل عرصے تک ایک راک بینڈ اگلی ریومرز کے ساتھ بھی منسلک رہے۔

سنجیدگی[ترمیم]

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سنجیدہ موضوعات میں بھی دلچسپی لینا شروع کر دی۔ انہوں نے بائیں بازو کی سیاست کے بارے میں بحث میں حصہ لینا شروع کر دیا جو اس وقت کے لحاظ سے ایک غیر معمولی بات تھی۔ وہ اپنے مذہبی عقائد کے بارے میں بہت سنجیدہ ہو گئے۔ وہ ابھی آکسفرڈ میں ہی تھے جب ان کی والدہ کا کینسر کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ اس واقعے نے ان کی شخصیت پر گہرا اثر چھوڑا۔

وکالت[ترمیم]

بلیئر نے آکسفرڈ سے قانون کی ڈگری سیکنڈ کلاس میں حاصل کی اور سن انیس سو چھہتر میں ڈیری اِرون کے چیمبر میں ٹرینی بیرسٹر بن گئے۔ ڈیری اِرون ہی ان کے پہلے لارڈ چانسلر بھی بنے۔

شادی[ترمیم]

یہیں ان کی ملاقات شیری بوُتھ سے ہوئی جو اِرون کے چیمبر میں ہی ٹرینی بیرسٹر تھیں۔ شیری نے فرسٹ کلاس میں قانون کی ڈگری حاصل کی اور وہ بلیئر کے مقابلے میں زیادہ ذہین سمجھی جاتی تھیں۔ ٹونی اور شیری بلیئر نے سن انیس سو اسی میں شادی کر لی اور مشرقی لندن کے علاقے ہیکنی میں ایک گھر لے کر اس میں آباد ہو گئے۔ ساتھ ساتھ انہوں نے مقامی لیبر پارٹی سیاست میں بھی دلچسپی لینا شروع کر دی۔

پہلی کامیابی[ترمیم]

سن انیس سو اکیاسی میں اپنے سسر ٹونی بوتھ کے ذریعے انہوں نے لیبر رکنِ پارلیمینٹ ٹام پینڈرے سے رابطہ کیا اور خود رکنِ پارلیمینٹ بننے میں ان سے مدد کے لیے کہا۔ پینڈرے کے کہنے پر ہی وہ بیکنز فیلڈ کے حلقے سے لیبر کے امیدوار بنے۔ اگرچہ کنزرویٹو پارٹی کے گڑھ میں ان کے منتخب ہونے کا تو کوئی امکان نہیں تھا لیکن وہ لیبر لیڈر مائیکل فٹ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے جو ان کے جذبے سے بہت متاثر ہوئے اور انہیں سیاست میں تابناک مستقبل کی نوید سنائی۔

ٹوٹی اور لیبر پارٹی[ترمیم]

سن انیس سو تراسی کے عام انتخابات میں وہ سیجفیلڈ کے حلقے سے رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ ان کی اہلیہ شیری نے بھی انتخابات میں حصہ لیا لیکن وہ جیتنے میں ناکام رہیں۔ اپنے پارلیمنٹری کیریئر کے پہلے ہی سال انہیں گورڈن براؤن کی شکل میں ایک ایسا رفیق مِل گیا جو انہیں کی طرح لیبر پارٹی کو سیاست کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا مشن لیے ہوا تھا۔

گورڈن براؤن اور پیٹر مینڈلسن کے ساتھ ملکر بلیئر نے پارٹی کی غیر مقبول پالیسیوں کو بدل کے اسے دوبارہ عوام کے لیے قابل قبول بنانے کا بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے اپنی نئی پالیسیوں میں فری مارکیٹ اکانومی اور سماجی انصاف کا امتزاج پیش کیا۔

بلیئر میڈیا میں لیبر پارٹی کے امیج کے بارے میں بہت فکر مند تھے۔ ان کے خیال میں سن انیس سو بانوے میں نیل کنیک کے وزیر اعظم نے بن پانے کا بنیادی سبب ٹیبلائڈ پریس کا معاندانہ رویہ تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے لیبرپارٹی کے تعلقات عامہ کے شعبے پر خاص توجہ دی اور سابق ٹیبلائڈ صحافی الیسٹر کیمبل کی خدمات حاصل کیں۔

وزیر اعظم[ترمیم]

ان کی میڈیا پالیسی کامیاب ثابت ہوئی اور لیبر پارٹی نے سن انیس سو ستانوے میں ہونے والے عام انتخابات میں بے مثال کامیابی حاصل کی اور بلیئر صرف تینتالیس سال کی عمر میں وزیر اعظم منتخب ہو گئے۔ وہ گزشتہ دو سو سال میں برطانیہ کے سب سے کم عمر وزیر اعظم تھے۔

ٹونی بلیئر نے سن دو ہزار ایک اور دو ہزار پانچ میں ہونے والے عام انتخِابات میں بھی کامیابی حاصل کی اگرچہ کامیابی کا مارجن کو جیتی ہوئی نشستوں کی تعداد گھٹتی چلی گئی۔ عوامی سطح پر ان کی مقبولیت کو سب سے زیادہ دھچکا ان کی عراق پالیسی کی وجہ سے پہنچا جس نے انہیں امریکی پالیسی کے قریب اور عوام سے دور کر دیا۔ اس طرح سے انہوں نے 2006 میں اعلان کیا کہ وہ اقتدار سے الگ ہو جائیں گے۔ اور انہوں نے 27 جون 2007ء کو مستعفی ہونے کافیصلہ کیا۔ جس کے بعد جون 2007 میں ٹونی وزیر اعظم کے عہدے سے علاحدہ ہو گئے۔

  1. ^ ا ب Who's Who UK ID: https://www.ukwhoswho.com/view/article/oupww/whoswho/U7759 — عنوان : Who's who — ناشر: اے اینڈ سی بلیک
  2. BBC ON THIS DAY
  3. BBC NEWS
  4. BBC NEWS
  5. Hansard (1803–2005) ID: https://api.parliament.uk/historic-hansard/people/mr-tony-blair
  6. انٹرنیٹ مووی ڈیٹابیس آئی ڈی: https://wikidata-externalid-url.toolforge.org/?p=345&url_prefix=https://www.imdb.com/&id=nm0086363 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015
  7. Tony Blair — اخذ شدہ بتاریخ: 28 دسمبر 2016 — شائع شدہ از: 6 جولا‎ئی 2016
  8. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6c5798x — بنام: Tony Blair — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  9. ڈسکوجس آرٹسٹ آئی ڈی: https://www.discogs.com/artist/220878 — بنام: Tony Blair — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  10. https://brockhaus.de/ecs/julex/article/blair-tony — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  11. پیرایج پرسن آئی ڈی: https://wikidata-externalid-url.toolforge.org/?p=4638&url_prefix=https://www.thepeerage.com/&id=p18423.htm#i184223 — بنام: Rt. Hon. Anthony Charles Lynton Blair — مصنف: ڈئریل راجر لنڈی — خالق: ڈئریل راجر لنڈی
  12. UK Parliament identifier: https://beta.parliament.uk/people/wS6nF9As
  13. Tony Blair (1953 - ) — اخذ شدہ بتاریخ: 28 دسمبر 2016
  14. Blair's birthplace is bulldozed in Edinburgh — اخذ شدہ بتاریخ: 28 دسمبر 2016
  15. Cherie celebrates her 30th Wedding Anniversary this spring — سے آرکائیو اصل فی 3 مارچ 2016 — شائع شدہ از: مارچ 2010
  16. Tony Blair's father Leo dies at the age of 89 — اخذ شدہ بتاریخ: 28 دسمبر 2016 — شائع شدہ از: 16 نومبر 2012
  17. Blair: 'Why adoption is close to my heart' — اخذ شدہ بتاریخ: 28 دسمبر 2016 — شائع شدہ از: 21 دسمبر 2000
  18. Blair: 'Why adoption is close to my heart' — مصنف: ڈئریل راجر لنڈی — خالق: ڈئریل راجر لنڈی
  19. Guardian topic ID: https://www.theguardian.com/politics/2007/feb/17/uk.labour
  20. http://news.bbc.co.uk/2/hi/uk_news/539693.stm
  21. http://www.nytimes.com/2010/10/10/books/review/Zakaria-t.html?pagewanted=all
  22. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb125580786 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ