سید علی حسینی سیستانی
| آیت اللہ العظمیٰ ، سید | |
|---|---|
| سید علی حسینی سیستانی | |
| (فارسی میں: على حسینی سيستانى) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 4 اگست 1930ء (96 سال)[1] مشہد |
| رہائش | نجف (1950–) |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | حوزہ علمیہ قم حوزہ علمیہ نجف |
| استاذ | سید ابو القاسم خوئی ، محسن الحکیم ، سید حسین طباطبایی بروجردی |
| پیشہ | عالم ، فقیہ ، مرجع |
| پیشہ ورانہ زبان | فارسی ، عربی |
| شعبۂ عمل | فقہ ، اصول فقہ |
| اعزازات | |
| نامزدگیاں | |
نوبل امن انعام (2014) | |
| دستخط | |
| ویب سائٹ | |
| ویب سائٹ | باضابطہ ویب سائٹ |
| درستی - ترمیم | |
علی بن محمد باقر بن علی حسینی سیستانی (عربی: علي بن محمّد باقر بن علي الحُسَينيّ السيسْتانيّ؛ پیدائش 4 اگست 1930ء) عراق کے شہر نجف کی حوزۂ علمیہ کے سربراہ اور ممتاز اسلامی عالم ہیں۔[5][6] وہ آیت اللہ العظمیٰ کے رتبے پر فائز ہیں اور اصولی اثنا عشری شیعہ مسلمانوں کے سب سے بڑے مذہبی رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔
عراق پر امریکی حملے اور بعثی حکومت کے خاتمے کے بعد سیستانی نے ولایتِ فقیہ کے نظام کی بجائے جمہوریت کی وکالت کی۔[7][8] اسی طرح وہ قانون کی حکمرانی، عراقی قومیت، غیر فرقہ واریت اور عوامی خود مختاری کے حامی رہے ہیں۔[9] وہ بیرونی مداخلت کے سخت ناقد ہیں[10][11] اور غیر ملکی طاقتوں کو بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ عراقی عوام پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں۔[12][13]
سیستانی 1930ء میں مشہد، ایران[14] میں سادات خانوادے میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم قم میں حسین بروجردی کے زیر نگرانی حاصل کی اور بعد ازاں نجف میں ابو القاسم خوئی کے شاگرد رہے۔ اصولی مسلک کے پیروکار ہونے کے ناطے وہ 1960ء میں مجتہد کے مقام پر فائز ہوئے اور بعد میں عبد الاعلیٰ سبزواری کے جانشین کے طور پر آیت اللہ العظمیٰ بنے۔
سیستانی کو 2004ء سے 2024ء تک ہر سال ”پانچ سو با اثر مسلم شخصیات کی فہرست“ میں نمایاں مقام دیا گیا۔ انھیں 2004ء اور 2005ء میں ٹائمز میگزین نے ”دنیا کی سو با اثر شخصیات“ میں بھی شامل کیا۔
سوانح
[ترمیم]ابتدائی زندگی اور نسب
[ترمیم]علیسیستانی 1930ء میں مشہد میں ایک مذہبی خانوادے میں پیدا ہوئے جو اپنے نسب کو حسین بن علی نواسۂ پیغمبر اسلام سے ملاتا ہے۔[15] ان کے والد محمد باقر سیستانی جبکہ والدہ رضا مہربانی سرابی کی صاحبزادی تھیں۔[16][17] اگرچہ ان کا خاندانی نام ”سیستانی“ ہے تاہم ان کا خاندان سیستانی فارسی النسل نہیں بلکہ عرب سادات میں سے ہے۔ یہ نسبت ان کے پر دادا محمد حسینی سے منسوب ہے جنھیں آخری صفوی شاہ حسین نے سیستان میں شیخ الاسلام مقرر کیا تھا اور وہیں انھوں نے سکونت اختیار کی۔[18] 2003ء میں عراق پر حملے کے بعد ایک سنی عرب قبائلی وفد نے سیستانی سے ملاقات کی اور بیان کیا کہ اگرچہ وہ فارسی لہجے کے ساتھ غیر رواں معیاری عربی بولتے تھے تاہم انھوں نے واضح کیا کہ وہ عرب ہیں اور ایرانی ماحول میں پرورش پانے سے ان کی عرب شناخت تبدیل نہیں ہوتی۔ وفد کے مطابق سیستانی اکثر عالم عربی کا ذکر کرتے اور ایران کے نظام ولایت فقیہ پر تنقید کرتے تھے۔[19]
سیستانی نے بچپن ہی میں دینی تعلیم کا آغاز کیا۔ ابتدا میں انھوں نے مشہد میں اپنے والد کے حوزہ میں تعلیم حاصل کی بعد ازاں قم میں تعلیم جاری رکھی جہاں انھوں نے آیت اللہ حسین بروجردی سے استفادہ کیا۔ بعد میں 1951ء میں وہ نجف گئے اور وہاں آیت اللہ ابو القاسم خوئی کے زیرِ درس رہے۔ 1960ء میں 31 برس کی عمر میں وہ مجتہد کے مرتبے پر فائز ہوئے۔[20][21]
آیت اللہ العظمٰی
[ترمیم]
1992ء میں آیت اللہ خوئی کے انتقال کے بعد عبد الاعلی سبزواری مختصر مدت کے لیے مرجعِ اعلٰی بنے۔ تاہم 1993ء میں ان کے انتقال کے بعد سیستانی اپنے علمی مقام کی بنا پر باقاعدہ طور پر آیت اللہ العظمیٰ کے درجے پر فائز ہوئے۔ خوئی کے جانشین کے طور پر ان کی حیثیت اس وقت مزید مستحکم ہوئی جب انھوں نے خوئی کی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کے بیشتر مقلدین اور تنظیمی نیٹ ورک بھی انھی کو منتقل ہو گئے۔
جماعت بعث
[ترمیم]صدام حسین کے دورِ حکومت میں (جب عراق پر عرب قوم پرست اور سنی اکثریتی بعثی جماعت کی حکومت تھی) سیستانی بعثی جبر سے محفوظ رہے حالانکہ اس دور میں متعدد علما قتل کیے گئے جن میں محمد الصدر بھی شامل تھے جن کے قتل میں صدام نے ملوث ہونے سے انکار کیا تھا۔ 1994ء میں سیستانی کی مسجد زبردستی بند کر دی گئی جو 2003ء میں امریکی قیادت میں عراق پر حملے کے بعد دوبارہ کھلی۔
معاصر عراق میں کردار
[ترمیم]2003ء میں جماعتِ بعث کے خاتمے کے بعد سیستانی نے عراق اور خطے کے مذہبی و سیاسی معاملات میں نمایاں کردار ادا کیا یہاں تک کہ انھیں بعد از حملۂ عراق کا ”سب سے بااثر“ فرد قرار دیا گیا۔[22][23] امریکی حملے کے فوراً بعد سیستانی نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں شیعہ علما کو سیاست میں سرگرم کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا تاکہ عراقی عوام کو ”واضح فیصلوں“ کی طرف رہنمائی دی جا سکے اور ”میڈیا پروپیگنڈا“ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ بعد ازاں انھوں نے قابض افواج سے دستور ساز مجلس کے قیام کا مطالبہ کیا اور پھر عبوری حکومت کے قیام کے لیے عوامی جمہوری رائے دہی کی حمایت کی۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدام عراق میں شیعہ سیاسی غلبے کی راہ ہموار کرتا تھا کیونکہ عراق کی تقریباً 65 فیصد آبادی شیعہ مسلمانوں پر مشتمل تھی۔
اگست 2004ء میں سیستانی کو دل کی بیماری کے باعث شدید طبی مسائل پیش آئے جس کے علاج کے لیے وہ لندن گئے۔ کئی دہائیوں میں یہ ان کا عراق سے پہلا بیرون ملک سفر تھا۔ علاج کے بعد وہ نجف واپس آئے اور مسجد امام علی میں مقتدیٰ الصدر اور جیش مہدی کے ساتھ امریکی و عراقی افواج کے درمیان جنگ بندی کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔[24]
سیستانی کے فتاویٰ نے جنوری 2005ء کے عراقی انتخابات میں شیعہ عوام کی بھرپور شرکت میں اہم کردار ادا کیا۔ یکم اکتوبر 2004ء کو انھوں نے انتخابات کو ”اہم معاملہ“ قرار دیتے ہوئے عراقیوں سے آزاد اور منصفانہ انتخابات میں شرکت کی اپیل کی۔ بعد میں انھوں نے ایک فتویٰ جاری کیا کہ شیعہ خواتین پر بھی ووٹ ڈالنا شرعی ذمہ داری ہے خواہ ان کے شوہر اس کی اجازت نہ دیں۔[25] جاری کردہ ایک بیان میں سیستانی نے کہا کہ ”بے شک وہ خواتین جو انتخابات کے دن ووٹ ڈالنے کے مراکز کی طرف نکلتی ہیں وہ زینب کی مانند ہیں جو کربلا کی طرف نکلیں۔“[26]
سیستانی نے مسلسل عراقی شیعہ عوام کو سنی سلفی حملوں کے جواب میں انتقامی کارروائی سے روکا۔ 2006ء میں سامرا میں واقع شیعہ مسجد العسکری کی تباہی کے بعد بھی ان کے علما اور مبلغین نے صبر و تحمل کی تلقین کی اور کہا کہ ”انھیں ان کے سنی ہمسائے نہیں بلکہ بیرونی وہابی قتل کر رہے ہیں۔“[27] اسی طرح 2007ء میں اسی مسجد پر دوبارہ حملے کے بعد بھی انھوں نے حالات کو خانہ جنگی میں بدلنے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔[28]
29 جنوری 2007ء کو سیستانی کے قتل کی ایک مبینہ سازش ناکام بنا دی گئی اور ’جُند السماء‘ کے تین مسلح افراد ان کے دفتر کے قریب ایک ہوٹل سے گرفتار کیے گئے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نجف میں کئی اہداف پر ہونے والے ایک بڑے حملے کا حصہ تھا۔[29]
2005ء میں ایک آن لائن عوامی سروے میں علی سیستانی کو پراسپیکٹ (برطانیہ) اور فارن پالیسی (امریکا) کی ”دنیا کے 100 نمایاں دانشوروں“ کی فہرست میں تیسواں بڑا دانشور منتخب کیا گیا۔[30]
13 جون 2014ء کو سیستانی نے عراقی عوام سے اپیل کی کہ وہ دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف حکومت کا ساتھ دیں جس نے موصل اور تکریت پر قبضہ کر لیا تھا اور بغداد کو خطرہ لاحق تھا۔[31] بعد ازاں جون 2014ء میں سیستانی نے اپنا بیان مزید واضح کرتے ہوئے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں ”شہریوں سے ملک، اس کے عوام، شہریوں کی عزت اور مقدس مقامات کے دفاع“ کی اپیل کی گئی تاکہ داعش کا مقابلہ کیا جا سکے۔[32]
سیستانی نے کہا کہ عراقی احتجاجات 2019ء–2021ء کے دوران مظاہرین کے قتل کی ذمہ داری عراقی حکومت اور پولیس پر عائد ہوتی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان افراد کے خلاف کارروائی کی جائے جنھوں نے مظاہرین پر فائرنگ کا حکم دیا تھا۔ آیت اللہ شاذ و نادر ہی سیاسی معاملات پر رائے دیتے ہیں سوائے شدید بے امنی کے مواقع پر۔ ان احتجاجات کو 2017ء میں داعش کی فوجی شکست کے بعد عراق کا بدترین تشدد قرار دیا گیا۔[33] ایک ماہ بعد نومبر 2019ء میں تین عراقی مظاہرین کی ہلاکت پر رد عمل دیتے ہوئے سیستانی نے کہا: ”کوئی فرد یا گروہ، کسی مخصوص نظریے کا حامل کوئی فریق یا کوئی علاقائی یا بین الاقوامی قوت، عراقی عوام کی مرضی پر قبضہ نہیں کر سکتی اور نہ اپنی مرضی ان پر مسلط کر سکتی ہے۔“[34]
شیعہ سرپرستی
[ترمیم]نجف میں سب سے نمایاں مذہبی رہنما کی حیثیت سے سیستانی کروڑوں امریکی ڈالر کے مالی وسائل کی نگرانی کرتے ہیں۔ ان کے پیروکار اپنی آمدنی کا ایک مقررہ حصہ (خمس) انھیں دیتے ہیں جو تعلیمی اور فلاحی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سیستانی کے دفتر کے مطابق وہ قم میں 35،000، مشہد میں 10،000 اور اصفہان میں 4،000 طلبہ کی معاونت کرتے ہیں۔[35] ان کے نمائندوں (”وکیل“) کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی موجود ہے ”جو کرکوک سے بصرہ تک محلوں، مساجد، بازاروں اور دینی مدارس میں چھوٹے اور بڑے پیمانے پر ان کے نظریات کی ترویج کرتے ہیں۔“[36]
ایران میں عراق پر حملے کے بعد نجف اور کربلا کے شہر ایرانی زائرین کے لیے کھل جانے کے باعث، کہا جاتا ہے کہ عراق سے زیارت کر کے واپس آنے والے بہت سے ایرانی سیستانی کے حامی بن گئے۔[37]
2022ء میں بلخاب بغاوت کے دوران سیستانی نے بلخاب، افغانستان میں بے گھر شیعہ ہزارہ افراد کی مدد کے لیے تقریباً 1،000 امدادی پیکج روانہ کیے جن میں زیادہ تر خوراک اور بنیادی ضروریات کی دیگر اشیا شامل تھیں۔[38]
حرمِ عباس کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ اکتوبر 2024ء میں اسرائیلی حملے بر لبنان کے دوران بے گھر لبنانی خاندانوں کے لیے حرمِ عباس کی جانب سے جاری امدادی مہم کی نگرانی سیستانی خود کر رہے تھے۔ 8 اکتوبر 2024ء تک اس مہم کے تحت کم از کم 1،200 ٹن امداد پہنچائی جا چکی تھی۔[39]
تصوف و عرفان کی مخالفت
[ترمیم]ایک سوال کے جواب میں آپ نے ابن عربی کے بارے میں کہا:[40]
- سوال: بعض ویب سائٹس پر آپ سے یہ منسوب ہے کہ آپ صاحبِ فصوص الحکم کے عرفان کی تائید کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں اپنی نظر سے آگاہ فرمائیں؟
- جواب: اعتقادی معارف کے بارے میں میرا عقیدہ بزرگ علمائے امامیہ والا ہے کہ عقائد کو آیاتِ قرآن اور فرامینِ معصومین علیہم السلام سے حاصل کیا جائے۔ اور ابنِ عربی جیسے عرفان کی ہم تائید نہیں کرتے۔[41] آپ کسی کو روحانی مرشد بنانا بھی درست نہیں سمجھتے[42] اور نوجوانوں کو عرفان اور سیروسلوک کے نام پر دھوکا دینے والوں سے بچنے کی تاکید کرتے ہیں۔[43] مختلف غیر فطری ریاضتوں کے بارے میں سوال ہوا تو کہا:
- سوال: ایک عرصے سے دیکھنے میں آیا ہے کہ کچھ نوجوان کچھ گروپس میں شامل ہو کر عرفان اور کشف و شہود کے نام پر بزعمِ خود ریاضتوں کے ذریعے روحانی طاقتوں کے حصول، برزخی آنکھ کھلنے، انخلاع روح، تجرید، ارواح کے ساتھ رابطے، جن کو حاضر کرنے جیسے کاموں میں پڑے ہوئے ہیں۔ ایسی حرکتیں کرنے کا کیا حکم ہے؟
- جواب: کسی مومن کا ان کاموں میں مشغول ہونا درست نہیں۔ بلکہ ان میں سے بعض کام یا حرام ہیں یا ان میں حرمت کا شبہ موجود ہے۔[44]
آیت اللہ سیستانی اور پوپ فرانسس کی ملاقات
[ترمیم]شیعوں کے عظیم مرجع تقلید اور کیتھولک عیسائیوں کے سربراہ پوپ فرانسس نے سنیچر کے روز 27 فروری 2021 کو نجف میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات تقریباً پونے گھنٹے کی تھی۔ دونوں مذہبی لیڈروں نے مختلف موضوعات پر بات کی۔[45] ملاقات کے بعد پوپ نے یہ بیان دیا کہ وہ آیت اللہ سیستانی کی شخصیت سے متاثر ہوئے ہیں اور وہ مسلم دنیا کی ایک ایسے شخص سے ملاقی ہوئے ہیں جو روحانی طور پر زیادہ مضبوط ہیں۔[46][47]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ عنوان : Encyclopædia Britannica — دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Ali-al-Sistani — بنام: Ali al-Sistani — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ https://www.alarabiya.net/articles/2005/03/14/11221.html
- ↑ ناشر: ٹائم — تاریخ اشاعت: 2005 — Ali Husaini Sistani - The 2005 TIME 100 — اخذ شدہ بتاریخ: 27 اگست 2026
- ↑ ناشر: ٹائم — تاریخ اشاعت: 2004 — Ali Husaini Sistani - The 2004 TIME 100 — اخذ شدہ بتاریخ: 27 اگست 2026
- ↑ "IRAQ: Grand Ayatollah Ali al-Sistani" (بزبان انگریزی). Council on Foreign Relations. When Khoei died in 1992, Sistani was selected by his peers to head the most important hawza—or network of schools—in Najaf.
- ↑ Holly Dagres (15 Mar 2019). "A photo op in Najaf reveals an Iran that could be". Atlantic Council (بزبان امریکی انگریزی). Retrieved 2024-11-06.
- ↑ "Sistani, Iran, and the Future of Shii Clerical Authority in Iraq" (PDF) (بزبان انگریزی). Crown Center for Middle East Studies. “Shii clerics in Najaf speak proudly of what they call “the Najafi school,” meaning that the hawza, today led by Ayatollah Ali al-Sistani, rejected the Iranian model and backed a democratic form of government in Iraq.” “[E]lectoral democracy became the model envisaged by Sistani for Iraq, even as he urged citizens and political actors to accept the pluralism of Iraqi society.”
- ↑ "Ayatollah Sistani and the Democratization of Post-Ba'athist Iraq" (PDF) (بزبان انگریزی). United States Institute of Peace. “Since summer 2003, Sistani has called for democratic elections and citizen participation that advanced the institutionalization of a legitimate Iraqi government.”
- ↑ "Ayatollah Sistani: Much More Than a "Guide" for Iraqis" (بزبان انگریزی). Project of Middle East Political Science. Oct 2019. “In general, over the last decade and a half, Sistani chose rule of law over chaos, Iraqi nationalism over sectarianism, and popular sovereignty over authoritarian rule.”
- ↑ "السيد السيستاني يشدد على منع التدخلات الخارجية وحصر السلاح بيد الدولة" (بزبان عربی)۔ INA
- ↑ "In Iraq, Ali Sistani criticizes foreign interference" (بزبان انگریزی). L'Orient Jour. 5 Nov 2024.
- ↑ "Foreign actors must not 'impose will' on protests: top Iraq cleric" (بزبان انگریزی). France24. Nov 2019. "No person or group, no side with a particular view, no regional or international actor may seize the will of the Iraqi people and impose its will on them," Sistani said in his weekly sermon read by a representative in the Shiite holy city of Karbala.
- ↑ "نص الخطبة الثانية التي ألقاها ممثل المرجعية الدينية العليا فضيلة العلاّمة السيد أحمد الصافي في يوم الجمعة (3/ ربيع الأول/ 1441 هـ) الموافق (1/11/2019)" (بزبان عربی)۔ Sistani.org وليس لأي شخص أو مجموعة أو جهة بتوجه معين أو أي طرف اقليمي أو دولي أن يصادر إرادة العراقيين في ذلك ويفرض رأيه عليهم
- ↑ "Ali al-Sistani | Biography, History, & Facts | Britannica". www.britannica.com (بزبان انگریزی). 27 Dec 2024. Retrieved 2025-02-09.
- ↑ Philip Kennicot (18 Feb 2005). "The Religious Face of Iraq". The Washington Post (بزبان انگریزی). Retrieved 2022-12-18.
- ↑ "Biography – The Official Website of the Office of His Eminence Al-Sayyid Ali Al-Husseini Al-Sistani". www.sistani.org (بزبان انگریزی). Retrieved 2017-05-15.
- ↑ "نیم نگاهی به تبار آیت الله العظمی سیستانی"۔ hawzahnews.com (بزبان فارسی)۔ 2022-09-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-05-13
- ↑ Iraq, Democracy and the Future of the Muslim World, 2011, pp. 66-67, ISBN 9780415582285
- ↑ Shi'ite Lebanon: Transnational Religion and the Making of National Identities, Roschanack Shaery-Eisenlohr, 2011, pp. 214-215, ISBN 9780231144278
- ↑ Sami Moubayed (10 Feb 2005). "Coming to terms with Sistani". Asia Times (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2007-08-10. Retrieved 2007-08-21.
{{حوالہ ویب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ناموزوں یوآرایل (link) - ↑ "When Grand Ayatullah Sistani Speaks, Millions Obey: Says Time" (بزبان انگریزی). al-khoei.org. 30 Apr 2005. Archived from the original on 2007-05-27. Retrieved 2007-08-21.
- ↑ Gethin Chamberlain; Aqeel Hussein (4 Sep 2006). "I no longer have power to save Iraq from civil war, warns Shia leader". The Daily Telegraph (بزبان انگریزی). London. Archived from the original on 2007-02-25. Retrieved 2007-08-21.
- ↑ "Shiite Cleric Seen as Iraq's Most Influential Leader" (بزبان انگریزی). Fox News. AP. 27 Nov 2003. Archived from the original on 2007-05-30. Retrieved 2007-08-21.
- ↑ Rowan Scarborough (1 Sep 2004). "Al-Sadr linked to mass killings". Washington Times (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2011-06-08.
- ↑ Rod Nordland (9 Feb 2005). "The Cities Were Not Bathed in Blood". Newsweek (بزبان انگریزی).
- ↑ Ahmed H. al-Rahim (2005). "The Sistani Factor". Journal of Democracy (بزبان انگریزی). 16 (3): 50–53 [p. 51]. DOI:10.1353/jod.2005.0038. S2CID:145657469.
- ↑ Nasr, Vali, The Shia Revival, Norton, (2006), p.178
- ↑ chronicle.fanack.com. "The Reclusive Grand Ayatollah Sistani Remains Highly Influential in Iraq". fanack.com (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2017-10-10. Retrieved 2015-07-27.
- ↑ Zeyad Kasim (6 Mar 2007). "Messianic Shia Cult Emerges in Southern Iraq" (بزبان انگریزی). www.iraqslogger.com. Archived from the original on 2007-07-07. Retrieved 2007-08-21.
- ↑ "Intellectuals". Prospect (بزبان انگریزی). 14 Oct 2009. Archived from the original on 2009-09-30. Retrieved 2012-08-15.
- ↑ Hayder al-Khoei (19 Jun 2014). "Could Isis take Iraq's capital?". New Statesman (بزبان انگریزی). Retrieved 2014-06-19.
- ↑ Luay Al Khatteeb (10 Jul 2014). "What Do You Know About Sistani's Fatwa?". Huffington Post (بزبان انگریزی). Retrieved 2015-07-08.
- ↑ "Iraq's al-Sistani blames the government for deaths at protests" (بزبان انگریزی). Al Jazeera. 11 Oct 2019.
- ↑ "Three killed as Iraq protesters attack Iran consulate in Karbala" (بزبان انگریزی). Al Jazeera. 4 Nov 2019.
- ↑ Martin Kramer (4 Apr 2003). "The Ayatollah Who Spared Najaf" (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2011-07-08. Retrieved 2007-08-21.
- ↑ Nasr, Vali, The Shia Revival, Norton, (2006), p.177
- ↑ Nasr, Vali, The Shia Revival, Norton, (2006), p. 221
- ↑ مهدی مدبر. "جنگ بلخاب؛ دفتر آیت الله سیستانی و بنیاد بابه مزاری به آوارگان کمک ارسال کردند/ گزارش شفقنا | خبرگزاری شیعیان افغانستان". af.shafaqna.com (بزبان دری). Retrieved 2022-12-23.
- ↑ Dana Taib Menmy (8 Oct 2024). "Iraq expands aid relief for displaced Lebanese as Israel widens attacks". The New Arab (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2026-04-23. Retrieved 2024-10-14.
- ↑ ebnadmin (5 جون 2023)۔ "ہم ابنِ عربی کے عرفان کی تائید نہیں کرتے - آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی"۔ ابنِ عربی، عرفان اور تصوف پر تحقیقات۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-01-13
- ↑ آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی>>پرسش و پاسخ >> عرفان
- ↑ ebnadmin (5 جولائی 2023)۔ "کسی کو روحانی مرشد بنانے کا مسئلہ - آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی"۔ ابنِ عربی، عرفان اور تصوف پر تحقیقات۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-01-13
- ↑ ebnadmin (3 جون 2023)۔ "جوان معرفت اور سیر و سلوک کے نام پر دھوکہ نہ کھائیں - آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی"۔ ابنِ عربی، عرفان اور تصوف پر تحقیقات۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-01-13
- ↑ ebnadmin (17 فروری 2024)۔ "جہلِ مرکب پر مبنی حرکات کے بارے میں مراجعِ عظام کے فتاویٰ"۔ ابنِ عربی، عرفان اور تصوف پر تحقیقات۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-05-25
- ↑ https://apnews.com/article/pope-ayatollah-meeting-preparation-iraq-6ebc225f98c0f711f4e86227df34d517
- ↑ https://apnews.com/article/pope-ayatollah-meeting-preparation-iraq-6ebc225f98c0f711f4e86227df34d517
- ↑ https://www.ndtv.com/world-news/pope-francis-top-shiite-cleric-plead-for-peace-in-historic-iraq-encounter-2385583?amp=1&akamai-rum=off
- 1930ء کی پیدائشیں
- 4 اگست کی پیدائشیں
- مشہد میں پیدا ہونے والی شخصیات
- اسلامی جمہوریت پسند
- اکیسویں صدی عراقی معلمین
- اکیسویں صدی کی ایرانی شخصیات
- اکیسویں صدی میں اسلامی مذہبی رہنما
- ایل جی بی ٹی کیو مخالف فعالیت پسند
- بقید حیات شخصیات
- بیسویں صدی کی ایرانی شخصیات
- بیسویں صدی کی عراقی شخصیات
- بیسویں صدی میں اسلامی مذہبی رہنما
- مشہد کی شخصیات

