مسقط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
 
مسقط
Mascate collage.png 

مسقط
پرچم

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Oman.svg عمان
PortugueseFlag1385.svg پرتگیزی سلطنت (1515–1650)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملک (P17) ویکی ڈیٹا پر[1]
دارالحکومت بہ
منتظم محافظہ مسقط  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انتظامی تقسیم میں مقام (P131) ویکی ڈیٹا پر
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 23°36′50″N 58°35′32″E / 23.613888888889°N 58.592222222222°E / 23.613888888889; 58.592222222222[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 3500 مربع کلومیٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
بلندی 69 میٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سطح سمندر سے بلندی (P2044) ویکی ڈیٹا پر
آبادی
کل آبادی 646027 (2005)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
مزید معلومات
جڑواں شہر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
جیو رمز 287286  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر
[[file:|16x16px|link=|alt=]]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کومنز نگارخانہ (P935) ویکی ڈیٹا پر
مطرح، مسقط

مسقط سلطنت عمان کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ 2005ء کے مطابق شہر کی آبادی 6 لاکھ 50 ہزار ہے۔ مسقط 6 ولایتوں میں تقسیم ہے۔

تاریخ[ترمیم]

یہ مشرق وسطی کے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے جس کے تاریخی حوالہ جات دوسری صدی بعد مسیح میں ملتے ہیں جب یہ روم اور مشرق کے درمیان تجارت کا مرکز تھا۔

مشہور جہاز راں واسکوڈے گاما ہندوستان کے سفر کے دوران یہاں آیا تھا اور بعد ازاں 1507ء میں پرتگیزیوں نے شہر پر قبضہ کر لیا۔ 1649ء میں امام سلطان بن سیف نے پرتگیزیوں کو شکست دے کر مسقط سے نکال دیا۔

پرتگیزیوں کو شکست دینے کے بعد ان سے حاصل ہونے والے بحری بیڑے کی بدولت سلطان نے زنجبار سے لے کر گوادر تک ایک وسیع سلطنت قائم کی۔ یہ سلطنت اومان اور مسقط کا سنہرا ترین دور تھا۔

1679ء میں امام سلطان کے انتقال کے بعد سلطنت مسائل کا شکار ہو گئی۔ 1737ء میں فارسیوں نے جارحیت کی اور بالآخر شکست کھائی۔

1803ء میں سعودی عرب کے وہابیوں نے اومان پر حملہ کیا جسے سید سعید بن سلطان نے ناکام بنایا۔ 1853ء میں سلطان نے دار الحکومت اومان سے زنجبار منتقل کر دیا جس کے ساتھ ہی مسقط اور اومان کا زوال شروع ہو گیا۔

1913ء میں سلطان تیمور بن فیصل سلطان بنے اور علاقے کو مسقط و اومان کا نام دیا۔ سلطان مسقط سے جبکہ امام اومان سے حکومت کر رہے تھے۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد سلطان نے برطانیہ کی مدد سے امام کو شکست دی اور اومان کو متحد کر دیا۔

نگار خانہ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر"صفحہ مسقط في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 نومبر 2018۔ 
  2. ^ ا ب اجازت نامہ: دائرہ عام