نواکشوط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


نواکشوط
Nouakchott
عمومی معلومات
ملک Flag of Mauritania.svg موریتانیہ


رقبہ 1،000 مربع کلومیٹر
آبادی 881،000
موجودہ ناظم دیدی اولد بوناما


نواکشوط (Nouakchott) موریتانیہ کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت ہے۔ اگر دریائے نیل کے کناروں پر (قاہرہ وغیرہ) اور کوہ اطلس کے پار بحیرہ روم کے ساحلوں پر واقع شہروں (مراکش، رباط، تونس وغیرہ) کو نکال دیا جائے تو یہ صحرائے اعظم کا سب سے بڑا شہر بن جاتا ہے۔ شہر موریتانیہ کا انتظامی و اقتصادی مرکز ہے۔

جغرافیہ[ترمیم]

شہر صحرائے اعظم کے مغرب میں بحر اوقیانوس کے ساحلوں پر واقع ہے۔

تیز تر تعمیرات کے باعث نواکشوط کافی پھیل چکا ہے۔ یہ شہری و خانہ بدوش دیہاتی ماریتانی باشندوں کا نقطہ اتصال ہے۔

نواکشوط ایک مرکزی شاہراہ کے دونوں اطراف میں قائم ہے جسے خیابان عبد الناصر کہتے ہیں جو ہوائی اڈے سے شمال مشرق کی جانب شہر کے وسط تک جاتی ہے۔ دیگر اہم شاہراہوں کے نام اہم ماریتانی شخصیات اور 1960ء کی دہائی کی معروف بین الاقوامی شخصیات پر ہیں جیسا کہ خیابان ڈیگال، خیابان کینیڈا اور خیابان لومومبا وغیرہ۔

شہر میں درجہ حرارت 33 سے 13 درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے اور سالانہ اوسط بارش 178 م م (7 انچ) ہوتی ہے۔

تاریخ[ترمیم]

نواکشوط 1958ء تک ماہی گیروں کی ایک معمولی بستی تھا اور اس کی کوئی اہم تاریخی حیثیت نہیں ہے۔ البتہ ایک حوالے سے اسے ممتاز مقام حاصل ہو سکتا ہے کہ اس شہر کے بارے میں کہا جاتا ہے ممکنہ طور پر شمالی افریقہ کی زبردست مسلم قوت مرابطین دراصل یہی سے اٹھی تھی۔

موریتانیہ فرانسیسی مغربی افریقہ کی وسیع نو آبادیات کا حصہ تھا، اس لیے نو آبادیاتی دور میں اس کا کوئی دارالحکومت نہ تھا اور یہ حیثیت سینیگال کے ساں لوئی (Saint-Louis) کو حاصل تھی۔ 1957ء میں جب ساں لوئی سینیگال میں شامل ہوا تو ماریتانیا نے اس چھوٹے سے ساحلی قصبے کو دارالحکومت منتخب کیا، جس کی آبادی اُس وقت صرف 15 ہزار تھی۔ آبادی میں اضافے اور شہر کو جدید بنانے کے لیے ایک منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ 1958ء میں موریتانیہ کو فرانس کے اندر ایک خود مختار جمہوریہ قرار دیا گیا اور 1962ء میں آزادی کے بعد نواکشوط کو نئے ملک کا دارالحکومت قرار دیا گیا۔

1970ء کی دہائی کے اوائل میں شمالی افریقہ میں قحط کے باعث شہر کی آبادی میں زبردست اضافہ ہوا کیونکہ بڑی تعداد میں خانہ بدوشوں نے بہتر زندگی کے لیے شہر کا رخ کیا۔

شہر کی بندرگاہ 1986ء میں کھولی گئی جسے بنیادی طور پر درآمدات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں ہونے والی تجارت کا 96.4 فیصد برآمدات کے مال پر مشتمل ہوتا ہے۔ شہر میں ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی ہے۔

جامعہ نواکشوط یہاں کا اہم تعلیمی ادارہ اور موریتانیہ کی واحد جامعہ ہے جسے 1981ء میں کھولا گیا۔

جڑواں شہر[ترمیم]