ایران میں سنیت سے شیعت کی صفوی تبدیلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ایران میں سنیت سے شیعیت کی صفوی تبدیلی کا عمل تقریبا 16ویں صدی سے 18 ویں صدی میں وقوع پزیر ہوا اور ایران جو پہلے سنی اکثریت والا ملک تھا ، شیعہ اکثریت اور اس کے روحانی گڑھ میں بدل دیا گیا۔ شیعیت کے اندر بھی زیدیہ اور اسماعیلی فرقوں پر غلبے کو یقینی بنایا گیا جنھوں نے قبل ازیں اپنے اپنے ادوار میں شیعیت پر غلبہ رکھا تھا۔ صفویوں نے اپنے طرز عمل سے، 1501ء میں ایران کو ایک آزاد ریاست کے طور پر متحد کیا اور اثناعشری شیعیت کو اپنی سلطنت کے باضابطہ مذہب کے طور پر رائج کیا، جو اسلامی تاریخ کا ایک اہم ترین موڑ ثابت ہوا۔

اس عمل کے براہ راست نتیجہ میں موجودہ ایران اور ہمسایہ ملک آذربائیجان کی آبادی کو تاریخ میں بیک وقت سنی سے شیعہ آبادی میں تبدیل کر دیا گیا۔[1] دونوں ممالک میں اب شیعہ کی بڑی تعداد موجود ہے اور آذربائیجان میں شیعہ آبادی ایران کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔[2]

قبل از صفوی ایران[ترمیم]

عربوں کی فتح اور دخول اسلام کے بعد ایران کی آبادی صفوی فتح تک (جو ابتدا میں خود شافعی صوفی رہ چکے تھے) زیادہ تر شافعی [3] اور حنفی مذہب کی پیرو سنی آبادی تھی۔ [4] ستم ظریفی یہ ہے کہ پندرہویں صدی کے آخر تک سلطنت عثمانیہ (سب سے ممتاز سنی ریاست اور آئندہ چلکر شیعہ صفوی ریاست کی سب سے طاقتور دشمن) کے اندر دینی مدرسوں (اسلامی مکتبوں ) کی کمی کی وجہ سےاپنے بہت سے علمائے کرام کو دین پڑھنے اور اسلامی علم سیکھنے کے لیے ایران بھیجا کرتی تھی۔ [5] فارس ہی سنی اسلام سیکھنے کی ایک ترجیحی جگہ تھی۔ [6] ایرانی سنیوں نے ہمیشہ محمدﷺ کے خاندان کو بہت ہی عزت کی نگاہ سے دیکھا۔ [7] اس کے برعکس، صفوی دور سے قبل، ایرانیوں میں شیعہ ایک اقلیت تھی اور ایران میں شیعہ علماء کی تعداد نسبتاً کم تھی۔ [8]

ایرانی شاہ اسماعیل اول[ترمیم]

شاہ اسماعیل اول، صفوی طریقت کے شیخ اور ایرانی صفوی سلطنت کے بانی اور صفوی سلطنت کے قزلباشی افواج کے سپہ سالار -

1500-2ء میں اسماعیل اول نے ایران میں تبریز کے ساتھ آرمینیا ، آذربائیجان اور داغستان کے کچھ حصے ( شمالی قفقاز ، آج کل روس کا حصہ) فتح کیا۔ اسنے اگلی دہائی کا بیشتر حصہ ایران پر اپنا تسلط مستحکم کرنے میں لیا، جہاں کی زیادہ تر فارسی گو آبادی ابھی تک سنی تھی۔ 1504ء میں اس کی فوج پہلے وسطی علاقوں میں پھیل گئی۔ اس نے 1505ء سے 1508ء کے درمیان جنوب مغربی ایران پر قبضہ کر لیا۔ 1510ء میں خراسانی علاقے اور ہرات شہر کو فتح کیا[9] ڈینیل ڈ- براؤن کے مطابق، اسماعیل " فاطمیوں کے سقوط کے بعد کامیاب ترین اور سنگدل شیعہ حکمران تھا"۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مقصد سنیت کامکمل طور پر خاتمہ تھا اور اپنے زیر قبضہ علاقوں میں وہ اس مقصد میں بڑی حد تک کامیاب رہا۔ اس کی سنیوں سے نفرت کی کوئی حد نہیں تھی اور ان پر ظلم و ستم میں انتہائی بے رحمانہ تھا۔ [10] وہ پہلے تین خلفاء پر باقاعدگی سے لعنت بھیجنے، سنی تصوف کی بیخ کنی، ان کی املاک پر قبضہ کرنے کا حکم دیا کرتا اور سنی علما کو تبدیلی مذہب، موت یا جلاوطنی کا انتخاب دیا کرتا۔ اور شیعہ علما کو ان کی جگہ لینے کے لیے دوسرے علاقوں سے لایا کرتا۔ [11]

اسماعیل کی تبدیلی کی پالیسی کی وجوہات[ترمیم]

صفویوں نے مسلم حکمرانوں میں سب سے زیادہ اسلامی مذہب میں تبدیلی اور نظریاتی ہم آہنگی پر کام کیا۔ اس تبادلوں کی پالیسی کی وجوہات میں درجذیل شامل ہیں:

  • اسماعیل اور اس کے پیروکاروں نے اس طرح کی متشدد تبدیلی مذہب کی پالیسی پر عمل کرنے کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اس کے دو ہمسایہ سنی ریاستوں کے یعنی ازلی حریف سلطنت عثمانیہ کی سنی ترک فوجی اور سیاسی دشمن وسطی ایشیائی ازبکوں کے بالمقابل جہاں تک ممکن ہو ایران اور صفوی سرزمین کو ایک الگ اور انفرادی حیثیت دینا تھا جو بالترتیب مغرب اور شمال مشرق میں تھے۔ [12] [13] [14]
  • صفوی عثمانیوں کے ساتھ ایک طویل جدوجہد میں مصروف تھے - جس میں دونوں خاندانوں کے مابین متعدد جنگیں بھی شامل تھیں - اور یہ جدوجہد صفویوں کی مستقل طور پر حوصلہ افزائی کرتی رہی کہ وہ ایران میں عثمانی خطرہ اور پانچویں ستون کے امکانات کا مقابلہ کرنے کے لیے سنیوں کے مابین ایک مربوط ایرانی شناخت پیدا کرے[15]
  • یہ تبدیلی اس ریاست کی تشکیل اور عوام کی اداروں کے ساتھ وفاداری کا ناگزیر حصہ تھی،تاکہ ریاست اور اس کے ادارے پورے علاقے میں اپنے حکم کو پھیلانے کے قابل بنیں۔ [16]

ایران کو بدلنے کے طریقے[ترمیم]

اسماعیل نے ملک پر اپنی حکمرانی کو مستحکم کیا اور اکثریتی سنی آبادی کو اثناعشری شیعہ میں بدلنے اور اس طرح ایران کے مذہبی منظر نامے کو تبدیل کرنے کے لیے ایک بھرپور اور بعض اوقات سفاکانہ مہم چلائی۔ [17] ایران تبدیل کرنے کے لیے اس کے طریقے:

  • پوری ایرانی قوم پر شیعیت کو بطور ریاستی لازمی مذہب مسلط کرنا اور ایرانی صوفی سنیوں سے زبردستی مذہب تبدیل کروانا۔ [18] [19] [20]
  • اس نے سدر کا نظام دوبارہ قائم کیا - مذہبی اداروں اور اوقاف کی مالیاتی نگرانی کا ذمہ دار ایک دفتر قائم کیا جسے ایران کو اثناعشری شیعہ ریاست میں بدلنے اور اثناعشری نظریے کو پھیلانے کا کام سونپا گیا تھا۔ [21]
  • اس نے سنی مساجد کو تباہ کیا۔ حتی کہ چین میں پرتگالی سفیر ، ٹومے پیرس نے 12-1511ء میں ایران کا دورے کے سرگزشتوں میں اسماعیل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ: "وہ (یعنی اسماعیل) ہمارے گرجوں میں بہتری کی کوشش کرتا ہے اور محمد (کی سنت ) پر عمل کرنے والے تمام مسلمانان اندلس کے مکانات کو تباہ کرتا ہے۔ " [22]
  • اس نے پہلے تین سنی خلفاء (ابو بکر ، عمر اور عثمان) پر بطور غاصبین لعنت بھیجنے کی رسم (تبرا) کو تمام مساجد میں نافذ کیا، سنی طریقت کو تحلیل کیا اور ریاستی سرپرستی میں شیعہ مزارات، اداروں اور مذہبی آرٹ کی ترقی کے لیے اورشیعہ علما کو سنی علما کی جگہ لانے کے لیے سنیوں کے اثاثے استعمال کرتا ۔ [23] [24] [25]
  • اس نے سنیوں کا خون بہایا اور سنیوں کی قبروں اور مساجد کی بے حرمتی کی۔ اس کی وجہ سے عثمانی سلطان بایزید دوم (جس نے ابتدا میں اسماعیل کو اس کی فتوحات پر مبارکباد دی تھی) اس نوجوان بادشاہ کو ("پدرانہ" انداز میں) سنی مخالف اقدامات روکنے کا مشورہ دیا۔ تاہم، سخت سنی مخالف اسماعیل نے سلطان کی تنبیہ کو نظرانداز کیا اور تلوار سے شیعہ عقیدے کو پھیلاتے رہے۔ [26] [27]
  • اس نے راسخ العقیدہ کٹر مزاحمتی سنیوں کو ستایا ، قید کیا ، جلاوطن کیا اور انہیں پھانسی دی۔ [28] [29]
  • صفوی حکمرانی کے قیام کے ساتھ ہی، 26 ذی الحجہ کو خلیفہ عمر کے قتل کا جشن منانے کے موقع پر ایک بہت ہی مضحکہ خیز اور رنگین، تقریبا میلہ جیسی تعطیل تھی۔ اس دن کی خاص بات یہ تھی کہ عمر کے پتلے پر لعنت کرنا، توہین کرنا اور بالآخر جلا دینا تھا۔ تاہم ، جیسے جیسے ایران اور سنی ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری آتی گئی، تعطیل ختم ہوتی گئی (کم از کم سرکاری طور پر)۔ [30]
  • 1501ء میں ، اسماعیل نے ایران سے باہر بسنے والے تمام شیعوں کو ایران آنے کی دعوت دی اور انہیں سنی اکثریت سے تحفظ کی یقین دہانی کروائی گئی۔ [31]

سنی اور شیعہ علمائے کرام کا انجام[ترمیم]

سنی علما[ترمیم]

ابتدائی صفوی حکمرانوں نے ایران کے سنی علمائے کرام کے خلاف متعدد اقدامات اٹھائے۔ ان اقدامات میں علمائے دین کو مذہب کی تبدیلی ، موت یا جلاوطنی کا انتخاب دینا [32] [33] [34] اور سنی علما کا قتل عام شامل تھا جو شیعہ تبدیلی کی ایران کے خلاف مزاحمت کرتے تھے ، جیسا کہ ہرات میں مشاہدہ کیا گیا۔ [35] اس کے نتیجے میں ، بہت سے سنی علما جنھوں نے نئی دینی سمت اختیار کرنے سے انکار کر دیا وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا ہمسایہ ملک سنی ریاستوں میں فرار ہوئے۔ [36] [37]

عرب شیعہ علما[ترمیم]

فتح کے بعد ، اسماعیل نے ایرانی آبادی پر اثناعشری کو مسلط کرکے ایران کے مذہبی منظر نامے کو تبدیل کرنا شروع کیا۔ چونکہ اس آبادی نے سنی اسلام قبول کیا تھا اور چونکہ اس وقت ایران میں شیعیت کی شکل ایک کم تعلیم یافتہ صورت میں تھی، اسماعیل نے عربی بولنے والے علاقوں کے روایتی تشیعی مراکز سے نئے شیعہ علما کو ، مذہبی قیادت تشکیل دینے کے لیے زیادہ تر جنوبی لبنان کے جبل عامل، لبنان ، شام، مشرقی عربستان اور جنوبی عراق سے درآمد کیا۔ [38] [39] [40] [41] اسماعیل نے وفاداری کے بدلے میں انہیں زمین اور رقم کی پیش کش کی۔ ان علمائے کرام نے اثناعشری شیعہ کے نظریے کی تعلیم دی اور اسے عوام تک رسائ دی اور سرگرمی سے تبدیلی مذہب کی ترغیب دی۔ [35] [42] [43] [44] اس بات پر زور دینے کے لیے کہ ایران میں اثناعشری کی تعداد کتنی کم تھی ، ایک سرگزشت ہمیں بتاتا ہے کہ اسماعیل کے دار الحکومت تبریز میں اسے صرف ایک شیعہ عبارت مل سکی ۔ [45] یہ بات مشتبہ ہے کہ اسماعیل اور اس کے پیروکار کیونکر عرب شیعہ علمائے کرام کی حمایت کے بغیر تمام ایرانی لوگوں کو ایک نیا عقیدہ اپنانے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں؟ [37] صفوی فارس کے حکمرانوں نے بھی ان غیر ملکی شیعہ مذہبی علما کو فارس پر اپنی حکمرانی کے جواز فراہم کرنے کے لیے اپنی عدالت میں مدعو کیا۔ [46]

عباس اول نے بھی اپنے دور حکومت میں زیادہ سے زیادہ عرب شیعہ علما کو ایران درآمد کیا، ان کے لیے بہت سے مدراس (دینی مدارس) سمیت دیگر مذہبی ادارے بنائے اور حکومت میں حصہ لینے کے لیے راضی کرنے میں کامیاب ہوا،(امام غائب کے عقیدہ پر) جس سے ماضی میں انہوں نے دستبرداری اختیار کر رکھی تھی۔ ۔ [47]

ایران سے باہر تبدیلیاں[ترمیم]

آذربائیجان[ترمیم]

ایران میں تبریز کو فتح کرنے کے بعد ، آذربائیجان ، جنوبی داغستان اور آرمینیا کے ساتھ ، 02-1500ء تک، [34] ان نئے علاقوں میں سنی اکثریت کے باوجود اثناعشری شیعیت کو ریاستی مذہب قرار دینا اسماعیل کا پہلا حکم تھا۔ حصول علاقہ اور سرکاری مذہب کے اعلان کے بعد، تبدیلی مذہب کی ایک مہم چلائی گئی [48] اور قفقازی مسلم عوامپر ، شیعیت قبول کرنے کے لیے شدید دباؤ آیا۔ [49] شیروان جہاں ایک بڑی سنی آبادی کا قتل عام کیا گیا تھا وہاں پر شیعیت مسلط کرنا خاص طور پر دشوار اور گراں تھا۔ [50] یوں 16 ویں صدی کے اوائل میں آذربائیجانی آبادی کو بھی جبرا ایرانیوں کی طرح (جب صفویوں نے وہاں قابو پایا تھا) شیعیت قبول کروا لیا گیا[1] لہذا جدید دور کے آذربائیجان میں ایران کے بعد فیصدی تناسب کے حساب سے شیعہ مسلمانوں کی دوسری سب سے بڑی آبادی ہے[2] اور ایران کے ساتھ عراق اور بحرین دو ممالک ایسے ہیں جہاں بمشکل شیعہ اکثریت ہے۔

عراق[ترمیم]

1508ء میں اسماعیل نے بغداد پر قبضہ کیا۔ تاہم ، اس کی فوجوں نے جوش و خروش کے ساتھ سنیوں کو قتل کیا اور شاہ کے قبائلی اتحادیوں کے ذریعہ ان پر مؤثر ظلم و ستم کیا۔ [51] اس کی فوجوں نے کئی اہم سنی مقامات کو بھی ختم کر دیا ، جن میں ابو حنیفہ اور عبد القادر جیلانی کے مقبرے بھی شامل تھے۔ یہاں تک کہ صفویوں نے جیلانی کے اہل خانہ کو بین النہرین سے بے دخل کر دیا۔ عراق میں شیعیت کو سرکاری شکل قرار دینے کے بعد ، اسماعیل نے اپنے نئے عراقی عوام کو شیعہ مذہب قبول کرنے پر مجبور کیا اور سنی طریقوں کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس کے بعد وہ فارس لوٹ آیا۔ فاتح صفویوں کے ان گھناؤنے اقدامات کی وجہ سے بین النہرین کے سنیوں نے ناراضی کا مظاہرہ کیا۔ [52]

عراق کا نقشہ

اسی طرح ، طہماسپ اول کے تحت ، وسطی اور جنوبی عراق ، بشمول بغداد اور بصرہ صفوی ہاتھوں میں رہا اور ان سرزمینوں میں سنیت کی جگہ شیعیت کے قیام کی کوشش کی جارہی تھی۔ شیعہ عقائد کو قبول کرنے سے انکار کرنے والے سنی علما کو پھانسی دی گئی اور سنی مقبرے اور مزارات ایک بار پھر تباہ کر دیے گئے، جبکہ مرکزی مساجد صرف شیعہ استعمال کے لیے تبدیل کردی گئیں۔ اگرچہ وسیع نہ ہونے کے باوجود ، کچھ مذہب کی تبدیلیوں کا آغاز ہوا اور سنیوں کے ساتھ وفادار رہنے والوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا یہاں تک کہ عثمانی حکمران سلیمان اول نے صفویوں کو عراق کے بیشتر علاقوں سے بے دخل کر دیا۔ [53]

جب صفوی سن 1624ء میں فارس کے عباس اول کے اقتدار میں واپس آئے اور بغداد پر قبضہ کیا تو انہوں نے ایک بار پھر سنی باشندوں کا قتل عام کیا۔ [54]

دور تبدیلی کی اہم شخصیات[ترمیم]

اسماعیل ثانی[ترمیم]

اسماعیل ثانی کا دور حکومت (77-1576ء) کو ایک سنی نواز شیعہ دور گردانا جاتا ہے۔ [55] مخدوم شریفی شیرازی کی مدد سے نئے صدر اسماعیل دوم نے عوام میں سنی مخالف چلن کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔ خاص طور پر انہوں نے کے عائشہ، ابو بکر، عمر اور عثمان پر علانیہ عوامی لعنت اور رسم کوس کو روکنے کی کوشش کی (تبرا پر اور طبقۂ تبرا پر جن کا سرکاری پیشہ عوامی طور پر اہل بیت کے دشمن سمجھے جانے والوں اور دیگر شخصیات پر لعنت کرنا تھا پابندی لگائی)[56] جو صفوی ابتدائی دور میں ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

اسماعیل دوم کا سنی مخالف پروپیگنڈہ کے بارے میں نقطہ نظر کچھ وجوہات کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ ایک بنیادی وجہ تو یہ تھی کہ وہ میثاق اماسیہ میں درج عثمانی مطالبات کی تعمیل کا خواہش مند تھا، جس میں پہلے تین سنی خلفاء پر تبراء کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا، اس طرح صفوی حکومت کا عثمانیوں سے مفاہمت پیدا کرنا اور خود اسماعیل کا اپنی ذاتی حیثیت کو مستحکم کرنا تھا۔ دوسری وجہ ان کی علما کو کمزور کرنا تھا جب اس نے سیدوں اور شیعہ علما سے بالجبر زمین کی تحویل کا مطالبہ کیا۔ شاہ اسماعیل کا استاجلو قبیلے اور قزلباش کے کئی امرا کیساتھ چپقلش چل رہی تھی جو شیعہ علما کے حلیف تھے۔ اس طرح، سنی شعائر کی عوامی سب و شتم ایک میدان تھا جہاں شاہ اور قزلباش و شیعہ علما کے درمیان میں اقتدار کی جنگ کھیلی گئی۔

شاہ کو جبل عامل کے لبنانی امیلی علما کی عوامی مقبولیت کمزور کرنے کی امید تھی جو ایرانیوں میں خلفاء پر تبراء کی رسم کا انتظام اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے۔ اس کی سنی قربت کا مقصد فارسیوں میں مستحکم سنی ہمدردیوں تک پہنچنا بھی تھا۔ اسماعیل ثانی کی پالیسیاں فوری طور پر مسترد ہونے کے باوجود علمائے کرام اور فوجی سیاسی اشرافیہ کی اکثریت نے اس کے ساتھ تصادم سے گریز کیا، حالانکہ استرآبادیوں جیسے شیعہ علما کی جگہ پر، شاہ نے سنی میلان رکھنے والے علما جیسے مولانا مرزا جان شیرازی اور میر مخدوم لالہ کو مقرر کیا تھا۔[57][58] اسماعیل ثانی صفوی سکے پر بارہ اماموں کے لکھے ہوئے ناموں کو ختم کردینا چاھتے تھے، لیکن ان کی اس کوشش کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔[59]

شاہ عباس اول بخارا کے ولی محمد خان کی مہمان نوازی کرتے ہوئے۔ چہل ستون میں سقفی استرکاری

فارس کا عباس اول[ترمیم]

عباس اول فارس (1629-1587ء) کے دور تک شیعیت مکمل طور پر قائم نہیں ہوئی تھی۔[60] عباس سنیوں سے نفرت کرتا تھا اور آبادی کو اثناعشری شیعیت قبول کرنے پر مجبور کرتا تھا۔ [61] یوں 1602ء تک ایران کے بیشتر سنیوں نے شیعیت قبول کر لی۔ تاہم ایک قابل ذکر سنی تعداد نے اس صفوی قاعدے کو قبول نہیں کیا اور ایران کو اثناعشری ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے عباس کو متعدد انتظامی تبدیلیاں لاگو کرنے پر مجبور کیا۔ [62]

محمد باقر مجلسی[ترمیم]

محمد باقر مجلسی کی رہنمائی میں (98-1616ء)، جو اب تک کے سب سے اہم شیعہ عالم دین میں ہیں)، اس نے ایران میں سنیوں کے خاتمے کے لیے (دوسری چیزوں کے ساتھ) خود کو وقف کر دیا تھا۔[63] صفوی ریاست نے 17 ویں صدی میں شیعی روایات، رسوم اور ثقافت کو فارسی بنانے کی بڑی کوششیں کیں، تاکہ ایران کی سنی آبادی میں اس کے پھیلاؤ کو آسان بنایا جاسکے۔[64] مجلسی کے تحت ہی شیعیت نے عوام الناس میں حقیقی گرفت حاصل کی۔[65]

علما کی اشرافیہ کا ظہور[ترمیم]

فارس میں جائداد کی ملکیت میں نسبتا غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے، بہت سے نجی زمینداروں نے اپنی زمینیں شیعیت کو وقف کرنے کے نام سے محفوظ کرلی تھیں۔ اس طرح وہ اپنی زمین کی سرکاری طور پر ملکیت برقرار رکھتے اور شاہی حکمرانوں یا مقامی گورنرز سے اپنی زمین کو ضبط ہونے سے بچا لیتے، جب تک کہ ان املاک سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک فیصد علما اور درویشوں (فتوی ) کے زیر انتظام نیم مذہبی تنظیموں کو جاتا۔ یوں تیزی سے مذہبی طبقے کے ارکان خصوصا مجتہد اور سید زادوں نے ان زمینوں کی مکمل ملکیت حاصل کرلی اور عصری تاریخ دان اسکندر منشی کے مطابق، فارس زمینداروں اور جاگیرداروں کے ایک نئے اور نمایاں گروہ کے ظہور کا مشاہدہ کرنے لگا۔ [66]

سلطان حسین[ترمیم]

سلطان حسین (1694–1722ء) (آخری موثر صفوی شاہ) کے دور حکومت میں ، صفوی ریاست میں بہت ساری مذہبی بے امنی اور مذہبی محرکاتی بغاوتیں ہوئی۔ غیر ملکی مفادات کے درمیان، کئی دہائیوں تک نااہل شاہوں کی بدانتظامی اور صفویوں کے دیرینہ حریف عثمانی ترک اور نئے سامراجی حریف روس کے خلاف انتھک جنگوں، نے صفوی ریاست کو تباہ کیا اور اس کو زوال کا شکار کر دیا۔ [67] مذہبی بے امنی اور بغاوتوں کو خاص طور پر اس کے زیر اقتدار رہنے والے سنیوں کے اس بدانتظام ظلم و ستم نے اکسایا۔ [68] [69] ان پریشانیوں نے صفوی سلطنت کو (اپنے وجود کے آخری سالوں میں) مزید غیر مستحکم کرنے میں مدد کی یہ وہ عوامل تھے جس نے صفویوں کو ایک وجودی بحران میں لاکھڑا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ [70]

صفوی ریاست کے تیزی سے زوال پزیری کے باوجود جب سلطان حسین نے جنوبی افغانستان کے صفوی مشرقی علاقوں میں اپنی افغانی رعایا کو زبردستی سنی سے شیعہ میں تبدیل کرنے کی کوشش میں میر وائس ہوتک ( غلزئی افغانوں کے سربراہ) نے بغاوت شروع کردی۔ 1709ء میں قندھار کے علاقے میں۔ میر وائس اور اس کے سنی افغانیوں نے شاہ کی فوجوں کے ہمراہ ، کرتلی کے گورنر جارج یازدہم کا مار ڈالا اور افغان علاقے کو شیعہ حکومت سے آزاد کیا۔ [71] سنہ 1709ء میں قندھار میں آزادی کا اعلان ایک اہم موڑ تھا جس کے بعد 1715ء میں غلزئی افغانوں کے ذریعہ ہرات کی فتح اور ایران پر حملہ ہوا۔ 1710ء کی دہائی کے اسی دور تک ، صفوی اقلیم کے دوسرے حصوں میں دیگر متعدد شورشیں اور بغاوتیں ہوئیں ، [72] اور اکثر شیعہ اقلیتوں کے خلاف سرکردہ شیعہ صفوی علما کے ذریعہ اکسائے جانے والے ظلم و ستم سے متاثر ہوئیں، مثلا1721ء میں شماخی کی معزولی ، صفوی اقلیم کے شمال مغربی حصے میں، جس کے نتیجے میں اس کے ہزاروں شیعہ باشندوں کا قتل عام ہوا۔ [73] [74] [73] [74] میر وائس کے بیٹے محمود ہوتکی نے 1722ء کی گلن آباد کی لڑائی میں صفویوں کو شکست دی ، مغرب کا رخ کرتے ہوئے ان کے دار الحکومت اصفہان کا محاصرہ کیا اور اس طرح سے صفوی خاندان کا خاتمہ کیا۔ [75] [76]

نادر شاہ[ترمیم]

نادر شاہ کا اسمتھسونین ادارہ کے تصویری ذخیرہ میں ایک تصویر۔

نادر شاہ کے دور میں ، شیعہ مخالف پالیسی نافذ کی گئی۔ نادر نے ایران کو واپس چار سنی مسلک میں واپس بحال کرنے کی ایک ناکام کوشش کی اور پہلے ہی سے موجود چار سنی مذاہب میں سے پانچویں شیعہ مذہب (جس کو جعفری مذہب کہا جاتا ہے) کے سنی انضمام کی تشہیر کی۔ [77] تاہم زیادہ تر آبادی میں سنیت کی اس شکل کو قائم کرنے کی حکمت عملی ، کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ [78] [79] [80] ان کی شیعہ مخالف پالیسی کی وجوہات میں شامل ہیں:

  • اس کی زیادہ تر فوجیں سنی افغان ، دشتی ترکمن ، قفقاذی ، خراسانی، کرد ، بلوچی، عیسائی جارجی اور آرمینی باشندے تھے ، کیونکہ اس کے سنی حامی عقائد نے اس کے شیعہ ایرانی فوجیوں کو الگ کر دیا تھا، جن میں شیعہ ترکمان اور نسلی فارسی فوجی وسطی اور مغربی ایران کے شامل تھے، جو صفوی حامی تھے۔ [81] [82] [83] [84] [85]
  • یہ ایک اصل دینی پالیسی تھی ، جس کا مقصد شیعہ طاقت کو کمزور کرنا ، ایران سے باہر سنی زمینوں میں اپنی حکمرانی کو فروغ دینا اور شیعیت کو راسخ العقیدہ سنی اسلام کا پانچواں مسلک بنانا تھا - سنی حکمرانوں اور شیعوں دونوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔ [86]
  • نادر نے اپنی فارسی عوام کے شیعہ عقائد کی سنی مسلک کے ساتھ مطابقت کی مختلف کوششیں کیں اور عثمانیوں کو اس نئے فارسی سنی مذہب کو اپنا فرقہ تسلیم کرنے کی کوشش کی تاکہ سنی عثمانیوں کے ساتھ تعلقات کو استوار کیا جاسکے ، لیکن ممکنہ طور پر اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ وہ عالم اسلام کو اس کے سربراہ کے طور پر متحد کرکے ترکوں کا تختہ پلٹ دے۔ [87]
  • 1736ء میں، اکابرین کی ایک مجلس کے منتخب ہونے کے بعد ، نادر نے اس شرط پر قبول حکمرانی کرنے پر اتفاق کیا کہ وہ ایران میں سنیت کی بحالی کی اس کی نئی مذہبی پالیسی کو قبول کریں گے۔ سنی عثمانیوں کیساتھ امن معاہدہ میں کلیدی شرط ترک شیعیت تھا کیونکہ اور غالبا اس کا یہ بھی مقصد تھا کہ صفوی خاندان کے مذہبی وقار کو ختم کرکے اپنے آپ کو سنی آبادیوں کے لیے بطور ایک زیادہ پرکشش شخصیت پیش کرنے کے لیے تھا۔ ان علاقوں کی جن پر وہ فتح کرنے کا ارادہ کر رہا تھا۔ تاہم ، ایران میں ہی ان کی مذہبی پالیسی عدم اطمینان کا باعث بنی۔ [88]

انہوں نے مندرجہ ذیل شیعہ مخالف پالیسیوں کا نفاذ کیا۔

  • نادر نے سرکاری طور پر شیعیت ترک کرکے اور اس کی بجائے دوسرے چار سنی مذاھب کو شامل کرنے کے لیے ایک مشترکہ شیعہ / سنی اسلامی الہیات کا مکتب فکر قائم کیا۔ [89]
  • فارس میں نادر نے سرکردہ شیعہ عالم دین کو قتل کیا۔ [90]
  • اس نے اپنی فوج پر انحصار کے لیے، جس میں زیادہ تر سنی افغانوں، کردوں، ترکمن، بلوچوں اور دیگر افراد (جو قدرتی طور پر نئی مذہبی پالیسی سے راضی ہوئے تھے) سے بھرتی کیا گیا تھا۔
  • فارسیوں کو یہ حکم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ سنیت اپنائیں جس طرح مسلم دنیا میں کہیں اور رواج پایا جاتا ہے۔ انہیں اپنی مجرد مذہبی شناخت کو برقرار رکھنے کا حکم تھا۔
  • داخلی طور پر اس نے شیعہ کے بعض انتہائی روایات پر پابندی عائد کردی۔ ابتدائی صفوی دور ہی کی طرح۔ انہوں نے علمائے کرام کو ہدایات جاری کیں کہ امام علی کو پہلے کی طرح تعظیم کرنی چاہیے ، لیکن یہ کہ انہیں خدا کا نائب قرار دینے کی بات نہیں کی جانی چاہیے ، کیوں کہ اس سے شیعوں اور سنیوں کے مابین دشمنی پیدا ہو گئی ہے۔ بیرونی طور پر اس نے شیعیت سے سنیت میں مکمل تبدیلی کے طور پر اس پالیسی کو پیش کیا۔ عام طور پر ، اس مذہبی پالیسی نے فارس کے اندر عوامی مخالفت کو اکسایا نہیں کیونکہ لوگوں نے آسانی سے موافقت اختیار کرلی۔
  • سنہ 1736ء میں قزوین سے اس نے ایک حکم جاری کیا جو پورے ملک میں بھیجا گیا جس کے مطابق سنیوں پر سب سے زیادہ گراں شیعہ رسومات کا اختتام تھا۔ [91]
  • نادر نے بڑی سنی طاقتوں سے خود کو تسلیم کروانے کے لیے اسلامی دنیا کے اندر شیعیت کے مقام کی از سر نو تشریح کے لیے ایک بڑی کوشش کی۔ اس نے متعین شیعیت کو سنی روایت میں ضم کرنے کی کوشش کی۔ اس نے پہلے تین سنی خلفاء کی شیعوی مذمت کو مسترد کر دیا اور اس حکم کو اپنے حکومت میں نافذ کیا۔ اس کے علاوہ ، اس نے اثنا عشری شیعت کو عثمانی تسلیم کروانے کی کوشش میں ان کے چھٹے امام جعفر الصادق کے نام سے ، جعفری مکتب فکر کہلاوا کر اسے پانچواں سنی مذہب کی حیثیت دینے کی کوشش کی ۔ امامت کے تصور پر مبنی شیعوں کے پورے طرز کو تبدیل ہونا تھا۔ تاہم ، نہ تو سنی عثمانیوں نے اور نہ ہی اس وقت کے بڑے شیعہ علما نے ان کی نئی وضاحت قبول کی۔ [92]
  • نادر نے ایران میں سنیت کی بحالی ،سنی اور شیعہ کے مابین پائے جانے والے فرق کو ختم کرنے کی کوشش میں شیعہ علما کو (جزوی طور پر انکےاثرورسوخ کو ختم کرنے کے لیے) حکومت سے الگ کیا۔ انہوں نے شیعہ مذہبی اداروں سے وابستہ مذہبی ( وقف ) زمین کے ایک بڑے حصے کو بھی ضبط کر لیا۔ ایران میں اپنی جانوں اور خطرات کے احساس سے گھبراتے ہوئے ، بہت سے فارسی شیعہ علما نے عراق میں پناہ لی اور آباد ہوئے، شیعہ مذہبی مرکز تشکیل دیا جو عراق میں شیعہ مزارات جیسے نجف اور کربلا کے آس پاس موجود ہے۔ [60] [86] [93] [94]

نادر کی موت اور اس کی سلطنت کی تیزی سے سقوط پزیر ہونے کے بعد ، شیعیت کو جلد واپس بحال کر دیا گیا اور اگلی صدی میں ایک بار پھر مذہبی املاک کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ [86]

اسماعیل کی تبدیلی کی پالیسی کا تاریخی نتیجہ[ترمیم]

فائل:Ethnicities and religions in Iran.png
نقشہ جو جدید دور کے ایران کی آبادی میں نسلی اور مذہبی تنوع کو ظاہر کرتا ہے۔

اسماعیل کی تبدیلی کی پالیسی کے مندرجہ ذیل تاریخی نتائج تھے:

  • اگرچہ مذہب کی تبدیلی اتنی تیز نہیں تھی جتنی اسماعیل کی جبری پالیسیاں تجویز کرتی ہیں ، لیکن جو لوگ ایران اور آذربائیجان کے علاقوں میں رہتے تھے ان کی اکثریت نے 1722ء میں صفوی دور کے اختتام تک شیعوی شناخت اپنا لی۔ اس طرح، 16ویں صدی کے اوائل میں آذربائیجان کی آبادی کو جبرا ایران کے لوگوں کی طرح جبری طور پر شیعیت قبول کرایا گیا ، جب صفویوں نے اس پر قابو پالیا تھا۔ [1] لہذا یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ ایران اور آذربائیجان میں، آج کی سنی اقلیتیں ملک کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ بکھری ہوئی ہیں، اپنے غیر فارسی غیر آذربائیجان نسلی گروہوں سنی ہم مذہب ریاستوں کے بالکل قریب موجود ہیں۔ [32] [45] [95] [96] [97] [98] [99] [100]
  • صفوی تجربے نے بڑے پیمانے پر اثناعشری شیعہ اور سنیوں کے مابین سیاسی حد بندی اور مخالفت کی واضح لکیر پیدا کردی ، اگرچہ نظریاتی اختلافات کو طویل عرصے سے تسلیم کیا گیا تھا۔ صفوی سے پہلے کئی صدیوں تک اثناعشری نے زیادہ تر خود کو سیاسی طور پر سنیوں کے ساتھ رکھا تھا اور متعدد مذہبی تحریکوں نے مل کر اثناعشری اور سنی نظریات کو ملاپ دیا۔ [101]
  • اسماعیل کی اقتدار میں آمد نے ایران میں سنیت کے خاتمے کا اشارہ دیا اور شیعہ مذہبی علما اشرفیہ پر حاوی ہو گئے۔ [44] [102]
  • شیعہ علما کی نظام مراتب تنظیم کا آغاز اسماعیل کے تحت ہوا۔ [103]
  • ایران کی موجودہ سرحدیں افغانستان اور ترکی کے مابین موجود نسلی سرحدیں نہیں بلکہ مذہبی سرحدیں ہیں جو شیعوں کو سنیوں سے جدا کرتی ہیں۔ [35]
  • سنی اکثریت کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا گیا اور وہ صفویوں کی مذہب تبدیلی کی پالیسیوں کے خلاف انتہائی مزاحم رہا ، جو کم از کم صفوی دور کے اختتام تک چلتی رہی۔ [104] [105]
  • شیعہ مذہب کو عوام پر قابو پانے کے لیے استعمال کرنا مکمل طور پر کامیاب نہ تھا۔ اس کے نتیجے میں ملک کے بڑے علاقوں کو ریاست میں ضم تو کر دیا گیا ، لیکن صفویوں کے زوال کے بعد، سنی اور شیعہ آبادی کے درمیان صدیوں کی لڑائی جاری ہے۔ [106]
  • ایران ایک شیعہ ملک تھا اور آہستہ آہستہ ایک الگ تھلگ جزیرہ بن گیا جس کے چاروں طرف سنیت کا ایک سمندر تھا۔ جبرا تبدیلئ مذہب کے مظالم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، جدید ایرانی مورخین عام طور پر اس بات پر متفق ہیں کہ شیعہ مذہبی تسلط کے قیام نے بالآخر ایران کو سلطنت عثمانیہ میں شامل ہونے سے بچایا۔ [107]
  • یورپ میں عثمانی پیش قدمی کو صفوی شیعیت نے (ان کے فوجی وسائل کی تقسیم کی وجہ سے) روکا جب صفوی ایران اور یوروپی طاقتوں نے اپنے مشترکہ عثمانی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے حبسبرگ – فارسی اتحاد قائم کیا ۔ [108]
  • لفظ 'صفوی' جس کے معنی ہیں سفوید ، جیسے سنی استعمال کرتے ہیں ، کسی بھی توسیع پسند شیعہ گروہوں سے وابستہ ہوا جو سنیوں کیخلاف یا شیعہ مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں۔ [109] یہ لیبل خاص طور پر ایران یا ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے اور انھیں خاص طور پر اکیسویں صدی کے اوائل میں مشرق وسطی میں فرقہ وارانہ بحران کے دوران کرنسی ملی ہے ، مثلا شام ، لبنان ، عراق اور یمن میں۔  

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Akiner، Shirin (2004-07-05). The Caspian: Politics, Energy and Security (بزبان انگریزی). Taylor & Francis. ISBN 9780203641675. 
  2. ^ ا ب Juan Eduardo Campo,Encyclopedia of Islam, p.625
  3. The golden age of Islam, By Maurice Lombard, pg.Xiv
  4. "Iran: Safavid Period", Encyclopedia Iranica by Hamid Algar. Excerpt: "The Safavids originated as a hereditary lineage of Sufi shaikhs centered on Ardabil, Shafi'ite in school and probably Kurdish in origin."
  5. The Ottoman Empire: The Classical Age, 1300–1600, by Halil Inalcik, pg.167.
  6. The Origins Of The Shiite-Sunni Split, این پی ار
  7. Timurids in transition: Turko-Persian politics and acculturation in Medieval ..., By Maria Subtelny, pg.62
  8. Islam, continuity and change in the modern world, By John Obert Voll, pg.80
  9. Immortal: A Military History of Iran and Its Armed Forces. Steven R. Ward, p. 43.
  10. A new introduction to Islam. Daniel W. Brown, p. 191.
  11. Daniel W. Brown (2009). A New Introduction to Islam. John Wiley & Sons. صفحات 235–236. 
  12. Modern Iran: roots and results of revolution. Nikki R. Keddie, Yann Richard, p. 11.
  13. Iran: religion, politics, and society: collected essays. Nikki R Keddie, p. 91.
  14. The Azerbaijani Turks: power and identity under Russian rule. Audrey L Altstadt, p. 5.
  15. Modern Iran: roots and results of revolution. Nikki R Keddie, Yann Richard, p. 11.
  16. The failure of political Islam. Olivier Roy, Carol Volk, p. 170.
  17. The modern Middle East: a political history since the First World War. Mehran Kamrava, p. 29.
  18. Modern Iran: roots and results of revolution]. Nikki R Keddie, Yann Richard, pp. 13, 20
  19. The Encyclopedia of world history: ancient, medieval, and modern. Peter N. Stearns, William Leonard Langer, p. 360.
  20. Immortal: A Military History of Iran and Its Armed Forces. Steven R Ward, pg.43
  21. Iran: a short history: from Islamization to the present. Monika Gronke, p. 91.
  22. The Judeo-Persian poet ‘Emrānī and his "Book of treasure": ‘Emrānī's Ganǰ… 'Emrānī, David Yeroushalmi, p. 20.
  23. A new introduction to Islam. Daniel W Brown, p. 191.
  24. Encyclopaedic Historiography of the Muslim World. NK Singh, A Samiuddin, p. 90.
  25. The Cambridge illustrated history of the Islamic world. Francis Robinson, p. 72.
  26. Immortal: A Military History of Iran and Its Armed Forces. Steven R. Ward, p. 44.
  27. Iran and America: re-kindling a love lost]. Badi Badiozamani, pp. 174–5.
  28. The Cambridge illustrated history of the Islamic world. Francis Robinson, p. 72.
  29. Iraq: Old Land, New Nation in Conflict. William Spencer, p. 51.
  30. Culture and customs of Iran. Elton L Daniel, 'Alī Akbar Mahdī, p. 185.
  31. Iraq: Old Land, New Nation in Conflict. William Spencer, p. 51.
  32. ^ ا ب A new introduction to Islam, By Daniel W. Brown, pg.191
  33. The Middle East and Islamic world reader, By Marvin E. Gettleman, Stuart Schaar, pg.42
  34. ^ ا ب Immortal: A Military History of Iran and Its Armed Forces, By Steven R. Ward, pg.43
  35. ^ ا ب پ The failure of political Islam, By Olivier Roy, Carol Volk, pg.170
  36. Conceptualizing/re-conceptualizing Africa: the construction of African ..., By Maghan Keita, pg.90
  37. ^ ا ب Iran: a short history : from Islamization to the present, By Monika Gronke, pg.90
  38. Floor، Willem؛ Herzig، Edmund (2015). Iran and the World in the Safavid Age. I.B.Tauris. صفحہ 20. ISBN 978-1780769905. In fact, at the start of the Safavid period Twelver Shi'ism was imported into Iran largely from Syria and Mount Lebanon (...) 
  39. Savory، Roger (2007). Iran Under the Safavids. Cambridge: Cambridge University Press. صفحہ 30. ISBN 978-0521042512. 
  40. Abisaab، Rula. "JABAL ʿĀMEL". Encyclopaedia Iranica. اخذ شدہ بتاریخ 15 مئی 2016. 
  41. Alagha، Joseph Elie (2006). The Shifts in Hizbullah's Ideology: Religious Ideology, Political Ideology and Political Program. Amsterdam: Amsterdam University Press. صفحہ 20. ISBN 978-9053569108. 
  42. The Cambridge illustrated history of the Islamic world, By Francis Robinson, pg.72
  43. The Middle East and Islamic world reader, By Marvin E. Gettleman, Stuart Schaar, pg.42
  44. ^ ا ب The Encyclopedia of world history: ancient, medieval, and modern ... By Peter N. Stearns, William Leonard Langer, pg.360
  45. ^ ا ب Iran: religion, politics, and society : collected essays, By Nikki R. Keddie, pg.91
  46. Shi‘ite Lebanon: transnational religion and the making of national identities, By Roschanack Shaery-Eisenlohr, pg.12–13
  47. Science under Islam: rise, decline and revival, By S. M. Deen, pg.37
  48. The evolution of middle eastern landscapes: an outline to A.D. 1840, Part 1840, By John Malcolm Wagstaff, pg.205
  49. The Azerbaijani Turks: power and identity under Russian rule, By Audrey L. Altstadt, pg.5
  50. Safavids and the rise of Shi'a Islam
  51. Iraq: Old Land, New Nation in Conflict, By William Spencer, pg.51
  52. The history of Iraq, By Courtney Hunt, pg.48
  53. History of the Ottoman Empire and modern Turkey, Volume 1, By Ezel Kural Shaw, pg.95]
  54. Gulf States, By Michael Gallagher, pg.17
  55. The Encyclopedia of world history: ancient, medieval, and modern. Peter N. Stearns, William Leonard Langer, p. 360.
  56. Melville، Charles Peter، ویکی نویس (1996). Safavid Persia: the history and politics of an Islamic society (PDF) (ایڈیشن illustrated). I.B. Tauris. صفحہ 161. ISBN 978-1-86064-023-0. 
  57. Distant relations: Iran and Lebanon in the last 500 years۔ H. E. Chehabi, Rula Jurdi Abisaab, Centre for Lebanese Studies (Great Britain)، pp. 86–7.
  58. Safavid Iran: rebirth of a Persian empire۔ Andrew J Newman, p. 118.
  59. Distant relations: Iran and Lebanon in the last 500 years. H. E. Chehabi, Rula Jurdi Abisaab, Centre for Lebanese Studies (Great Britain)، p. 88.
  60. ^ ا ب The failure of political Islam. Olivier Roy, Carol Volk, p. 170.
  61. Conceptualizing/re-conceptualizing Africa: the construction of African… Maghan Keita, p. 79.
  62. Conceptualizing/re-conceptualizing Africa: the construction of African… Maghan Keita, p. 79.
  63. The Encyclopedia of world history: ancient, medieval, and modern. Peter N. Stearns, William Leonard Langer, p. 363.
  64. The Arab Shi'a: The Forgotten Muslims. Graham E. Fuller, Rend Rahim Francke, p. 76.
  65. Molavi, Afshin, The Soul of Iran, Norton, 2005, p. 170.
  66. RM Savory, Safavids, Encyclopedia of Islam, 2nd ed page 185-6.
  67. Iran Under the Safavids. اخذ شدہ بتاریخ 07 اگست 2014. 
  68. Iran: a short history : from Islamization to the present, By Monika Gronke, pg.87
  69. Conceptualizing/re-conceptualizing Africa: the construction of African ..., By Maghan Keita, pg.87
  70. Conceptualizing/re-conceptualizing Africa: the construction of African ..., By Maghan Keita, pg.80
  71. Packard Humanities Institute – Persian Literature in Translation – Chapter IV: An Outline Of The History Of Persia During The Last Two Centuries (A.D. 1722–1922)...page 29
  72. Matthee 2005.
  73. ^ ا ب Fisher et al. 1991.
  74. ^ ا ب Axworthy 2010.
  75. Immortal: A Military History of Iran and Its Armed Forces, By Steven R. Ward, pg.50
  76. Iran's diverse peoples: a reference sourcebook, By Massoume Price, pg.74
  77. Nadir Shah and the Ja 'fari Madhhab Reconsidered, Ernest Tucker, Iranian Studies, Vol. 27, No. 1/4, Religion and Society in Islamic Iran during the Pre-Modern Era (1994), pp. 163–179, Published by: International Society for Iranian Studies
  78. The Encyclopedia of world history: ancient, medieval, and modern. Peter N Stearns, William Leonard Langer, p. 363.
  79. Man and society in Iran. A Reza Arasteh, p. 11.
  80. Sword of Persia: Nader Shah, from tribal warrior to conquering tyrant. Michael Axworthy, p. 171.
  81. The Encyclopedia of world history: ancient, medieval, and modern. Peter N. Stearns, William Leonard Langer, p. 364.
  82. Immortal: A Military History of Iran and Its Armed Forces]. Steven R Ward, p. 52.
  83. Sword of Persia: Nader Shah, from tribal warrior to conquering tyrant, By Michael Axworthy, pg.165–166
  84. "The Army of Nader Shah" (PDF). 03 مارچ 2016 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2014. 
  85. Steven R. Ward. Immortal, Updated Edition: A Military History of Iran and Its Armed Forces Georgetown University Press, 8 jan. 2014 p 52
  86. ^ ا ب پ Iran: religion, politics, and society: collected essays. Nikki R Keddie, p. 92.
  87. Immortal: A Military History of Iran and Its Armed Forces. Steven R Ward, p. 51.
  88. Iraq: Old Land, New Nation in Conflict, By William Spencer, p. 23.
  89. Science under Islam: rise, decline and revival. SM Deen, p. 38.
  90. Sword of Persia: Nader Shah, from tribal warrior to conquering tyrant. Michael Axworthy, p. 165–6.
  91. Sword of Persia: Nader Shah, from tribal warrior to conquering tyrant]. Michael Axworthy, pp. 173, 176.
  92. Islam, continuity and change in the modern world]. John Obert Voll, pp. 80–1.
  93. Iran's diverse peoples: a reference sourcebook. Massoume Price, p. 81.
  94. Iran: a short history: from Islamization to the present. Monika Gronke, p. 95.
  95. Modern Iran: roots and results of revolution, By Nikki R. Keddie, Yann Richard, pg.11
  96. Iran and the surrounding world: interactions in culture and cultural politics, By Nikki R. Keddie, Rudolph P. Matthee, pg.16
  97. The modern Middle East: a political history since the First World War, By Mehran Kamrava, pg.29
  98. Encyclopaedic Historiography of the Muslim World, By NK Singh, A Samiuddin, pg.459
  99. Rethinking a millennium: perspectives on Indian history from the eighth to ..., By Rajat Datta, Harbans Mukhia, pg.133
  100. "AZERBAIJAN: A HOT-SPOT GETTING HOTTER". اخذ شدہ بتاریخ 17 دسمبر 2014. 
  101. Modern Iran: roots and results of revolution, By Nikki R. Keddie, Yann Richard, pg.13
  102. Modern Iran: roots and results of revolution, By Nikki R. Keddie, Yann Richard, pg.20
  103. Iran: a short history : from Islamization to the present, By Monika Gronke, pg.91
  104. Conceptualizing/re-conceptualizing Africa: the construction of African ..., By Maghan Keita, pg.77
  105. Iran's diverse peoples: a reference sourcebook, By Massoume Price, pg.74
  106. Iran's diverse peoples: a reference sourcebook, By Massoume Price, pg.75
  107. Iran and America: re-kindling a love lost, By Badi Badiozamani, pg.174–175
  108. Defenders of the Faith: Charles V, Suleyman the Magnificent, and the Battle for Europe, 1520-1536 by James Reston, Jr., p.359ff
  109. Donald Holbrook (2014). The Al-Qaeda Doctrine: The Framing and Evolution of the Leadership's Public Discourse. Bloomsbury Publishing USA. صفحہ 120. ISBN 9781623566678.