طہماسپ اول

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
طہماسپ اول

معلومات شخصیت
پیدائشی نام
پیدائش
وفات
وجۂ وفات
مدفن
قاتل
تاريخ غائب
طرز وفات
مقام نظر بندی
رہائش
شہریت
نسل
آبائی علاقہ
بالوں کا رنگ
قد
وزن
گھیرا جسم
استعمال ہاتھ
مذہب
جماعت
رکن
عارضہ
شوہر
ساتھی
اولاد
تعداد اولاد
والد
والدہ
بہن/بھائی
بھائی
بہن
خاندان
مناصب
دیگر معلومات
مادر علمی
تخصص تعلیم
تعلیمی اسناد
ڈاکٹری مشیر
استاذ
ڈاکٹری طلبہ
تلمیذ خاص
پیشہ
مادری زبان
پیشہ ورانہ زبان
شعبۂ عمل
ملازمت
کارہائے نمایاں
مؤثر
کل دولت
تحریک
کھیل
کھیل کا ملک
الزام
جرم
وفاداری
شاخ
عہدہ
کمانڈر
لڑائیاں اور جنگیں
اعزازات
دستخط
ویب سائٹ
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
[[file:|16x16px|link=|alt=]]
شاہ طہماسپ ہمایوں کا استقبال کرتے ہوئے

صفوی سلطنت کا دوسرا بادشاہ، (پیدائش: 3 مارچ 1514ء، وفات:1576ء) اسماعیل صفوی کا لڑکا تھا۔ جب تخت پر بیٹھا تو عمر صرف 10 سال تھی۔ طہماسپ کا دور بڑا ہنگامہ خیز تھا۔ 1525ء تا 1540ء خراسان ازبکوں کے حملے کا نشانہ بنا رہا اور اس مدت میں شیبانی خان کے لڑکے جنید خان نے 6 حملے کیے جن سے ہرات اور مشہد وغیرہ کو بہت نقصان پہنچا۔ مغرب میں عراق کو ترکوں نے ایرانیوں سے چھین لیا اور تبریز اور ہمدان پر ترک کئی برس قابض رہے۔ ان تمام حملوں کے باوجود یہ طہماسپ اور ایران کی صلاحیت کا بہت بڑا ثبوت ہے کہ انہوں نے ناسازگار حالات کے باوجود باقی ایران میں امن و امان قائم رکھا اور جارجیا یا گرجستان کے عیسائیوں کے خلاف 7 مہمیں بھیجیں اور گرجستان پر ایرانی قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے۔

اس دور کا ایک قابل ذکر واقعہ یہ ہے کہ انگلستان نے عثمانی ترکوں کے مقابلے میں ایران کا تعاون حاصل کرنا چاہا اور شمالی راستے سے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنے چاہے۔ اس مقصد کے لیے ملکہ ایلزبتھ اول نے ایک انگریز کو خط دے کر طہماسپ کے پاس روانہ کیا تو بادشاہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ "ہم کافروں سے دوستی نہیں کرنا چاہتے"۔

یہ شاہ طہماسپ کا ہی زمانہ تھا کہ بابر کا لڑکا ہمایوں جسے شیر شاہ نے ہندوستان سے نکال دیا تھا، 1543ء میں ایران آیا اور طہماسپ نے اس کی خوب آؤ بھگت کی اور فوجی امداد دی جس کی وجہ سے ہمایوں دوبارہ اپنی سلطنت کو بحال کرنے میں کامیاب ہوا۔

تبریز پر عثمانی قبضہ ہوجانے کی وجہ سے طہماسپ نے قزوین کو دار الحکومت منتقل کر دیا تھا۔ طہماسپ ان مسلمان حکمرانوں میں سے ہے جنہوں نے 50 سال سے زیادہ حکومت کی۔

طہماسپ کے جانشینوں اسماعیل دوم اور محمد خدا بندہ کا دور غیر اہم ہے اور ان میں سے کوئی طہماسپ جیسی صلاحیتوں کا مالک نہ تھا۔ ان کے زمانے میں خراسان ازبکوں کے اور مغربی ایران عثمانیوں کے حملوں کا نشانہ بنا اور اندرون ملک بھی بے امنی رہی۔

حوالہ جات[ترمیم]

پیشرو:
اسماعیل صفوی
صفوی سلطنت حکمران
1524ء تا 1576ء
جانشیں:
اسماعیل دوم