المعتمد علی اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خلیفہ خلافت عباسیہ
المعتمد علی اللہ
المعتمد علی اللہ

خلیفہ خلافت عباسیہ
دور حکومت 20 جون 870ء15 اکتوبر 892ء
(مدتِ خلافت: 22 سال 3 ماہ 25 دن شمسی)
تاج پوشی 20 جون 870ء
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 844  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سامراء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 15 اکتوبر 892 (47–48 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سامراء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب سنی اسلام
والد المتوکل علی اللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
المعتز باللہ،المنتصر باللہ،الموفق باللہ،المؤید  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بہن/بھائی (P3373) ویکی ڈیٹا پر
خاندان خلافت عباسیہ
نسل المعتضد باللہ

المعتمد علی اللہ (پیدائش: 842ء– وفات: 15 اکتوبر 892ء) خلافت عباسیہ کا پندرہواں خلیفہ تھا جس نے 870ء سے 892ء تک حکومت کی۔ انتشار سامراء کے دور کا وہ آخری خلیفہ تھا جس کے بعد خلافت عباسیہ کا دارالحکومت بغداد دوبارہ منتقل ہوگیا۔ 892ء میں معتمد علی اللہ فوت ہوا۔معتمد علی اللہ کے زمانہ میں خلافت عباسیہ رُو بہ زوال ہوتی گئی اور اِس سلطنت کے مختلف حصے دوسری سلطنتوں کا حصہ بنتے گئے۔

نام و نسب[ترمیم]

معتمد علی اللہ کا نام احمد بن المتوکل علی اللہ ہے۔ کنیت ابوجعفر اور ابو العباس ہے۔والدہ کا نام فطیان ہے جو کوفہ سے تعلق رکھنے والی ایک کنیز تھی۔ لقبِ شاہی معتمد علی اللہ رجب 256ھ میں خلیفہ المہتدی باللہ کے قتل کے بعد تخت نشینی کے وقت اختیار کیا گیا۔[1]

پیدائش[ترمیم]

معتمد کی پیدائش 229ھ/ 844ء میں سامراء میں ہوئی۔ اُس وقت خلیفہ الواثق باللہ عباسی کی حکومت قائم تھی۔[1]

عہد خلافت[ترمیم]

المہتدی باللہ کے عہدِ خلافت میں معتمد مقامِ وسق کے قید خانہ میں تھا۔ المہتدی باللہ کے قتل کے بعد ترک امراء اُسے قید خانے سے نکال لائے اور اُسے تخت خلافت پر بٹھایا۔ 20 جون 870ء کو اُس کی بیعت لی گئی۔ موسیٰ ابن بغاء الکبیر نے بھی اُس کی بیعت کرلی اور اُس کی بیعت کے بعد کسی دوسرے خطرے کا خوف نہ رہا۔ دیگر اعیانِ سلطنت نے بیعت کی اور اُسے المعتمد علی اللہ کے لقب سے ملقب کیا۔[2][3]

وزارت[ترمیم]

عنانِ حکومت ہاتھ میں لیتے ہی معتمد نے وزراء پر نظر کی اور عبیداللہ بن یحییٰ بن خاقان کو منصبِ وزارت تفویض کی۔ بعد ازاں حسن بن مخلد بن جراح، سلیمان بن وہب، ابو الصفرا اسماعیل بن بلبل، ابوبکر بن صالح بن شیرزاد، یکے بعد دیگرے وقتِ ضرورت کے تحت عہدہ وزارت پر فائز ہوتے رہے۔ معتمد علی اللہ کا آخری وزیر عبیداللہ بن سلیمان تھا۔[3]

عہد خلافت کے متفرق واقعات[ترمیم]

256ھ[ترمیم]

257[ترمیم]

258ھ[ترمیم]

  • 20 ربیع الاول 258ھ کو خلیفہ معتمد نے اپنے بھائی ابو احمد کو مصر، قنسرین اور عواصم کا حاکم اعلیٰ مقرر کردیا اور اُسے خلعت عطاء کی۔[7]

259ھ[ترمیم]

260ھ[ترمیم]

وفات[ترمیم]

خلافت عباسیہ کے زوال میں حصہ[ترمیم]

معتمد 22 سال تک خلیفہ رہا لیکن اِس طویل دور حکومت میں ایک روز بھی اُسے حقیقی حکومت نصیب نہیں ہوئی اور نہ ہی اندرونی شورشوں اور ہنگاموں سے سکون میسر آسکا۔ ایک اہم تغیر یہ ہوا کہ ترک جو المعتصم باللہ کے دور سے حکومت پر حاوی ہوچکے تھے، اب اُن کی بجائے حکومت معتمد کے بھائی موفق باللہ کے ہاتھوں میں آگئی اور ترکوں کے اختیارات حکومتی سطح پر زوال پزیر ہوتے چلے گئے۔ معتمد برائے نام خلیفہ تھا اور حکومت کے تمام اختیارات و معاملات پر موفق باللہ حاوی تھا۔ کسی چھوٹے بڑے معاملے میں معتمد کا کوئی حکم نہ چلتا تھا اور نہ ہی خراج اُس کے پاس آتا تھا بلکہ نظامِ خراج موفق باللہ کے ہاتھوں میں تھا۔ معتمد اُس کے استبداد سے بہت نالاں تھا، نتہجتاً عاجز آ کر اُس نے احمد بن طولون کے دامن مصر میں پناہ لینی چاہی مگر اِس میں ناکام ہوا۔ معتمد کے زمانہ میں خلافت عباسیہ کی حالت ابتر ہوگئی تھی، سلطنت کے گوشہ گوشہ میں طوائف الملوکی اور ہنگامے عام ہوچکے تھے۔ سجستان، کرمان اور فارس کے صوبوں پر صفاری خاندان قابض ہوچکا تھا۔ خراسان بھی آل طاہر کے پاس تھا۔ طبرستان اور جرجان علویوں کی حکومت میں داخل ہوچکے تھے۔ مصر اوربلاد الشام دولت طولونیہ کا حصہ بن چکے تھے۔ ماوراء النہر میں دولت سامانیہ کی بنیاد پڑنے کے دن شروع ہوچکے تھے۔ افریقا میں اغالبہ برسر اقتدار آگئے تھے۔ بصرہ اور دریائے دجلہ کی حدود تک شورش صاحب الزنج آفت برپا کیے ہوئے تھے۔ مراکش سے لے کر مشرقی حدوو تک کوئی گوشہ یا صوبہ طوائف الملوکی سے خالی نہ تھا۔[2][8][9]

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 جلال الدین سیوطی: تاریخ الخلفاء، ص 401۔ تذکرہ المعتمد علی اللہ۔
  2. ^ 2.0 2.1 شاہ معین الدین احمد ندوی: تاریخ اسلام، جلد 2، ص 250۔
  3. ^ 3.0 3.1 مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی: تاریخ ملت، جلد 2، ص 398۔ مطبوعہ لاہور، 1991ء۔
  4. ابن کثیر: البدایہ والنہایۃ، جلد 11، ص 62۔ تذکرہ واقعات سنۃ 256ھ۔
  5. ابن کثیر: البدایہ والنہایۃ، جلد 11، ص 63/62۔ تذکرہ واقعات سنۃ 256ھ۔
  6. ابن کثیر: البدایہ والنہایۃ، جلد 11، ص 71۔ تذکرہ واقعات سنۃ 257ھ۔
  7. ابن کثیر: البدایہ والنہایۃ، جلد 11، ص 73۔ تذکرہ واقعات سنۃ 258ھ۔
  8. ابن خلدون: تاریخ ابن خلدون، جلد 3، ص 339۔
  9. ابن اثیر: الکامل فی التاریخ،  جلد 20، ص 131۔
المعتمد علی اللہ
پیدائش: 844ء وفات: 15 اکتوبر 892ء
مناصب سنت
پیشرو 
المہتدی باللہ
خلیفہ خلافت عباسیہ
20 جون 870ء15 اکتوبر 892ء
جانشین 
المعتضد باللہ